هالا کی چنری، حیدرآباد کی چوڑیاں: مطربہ شیخ

0
  • 145
    Shares

بارن اینڈ نوبلز امریکہ کا کتابوں کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو 1873 سے قائم ہے، نسل در نسل چلنے والا یہ ادراہ کتب سے متعلقہ تمام امور سے وابستہ ہے۔ کتابوں کی خرید و فروخت، چھپائی، بچوں کے تعلیمی نظام سے متعلق کتب بھی شائع کرتا ہے۔ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق آڈیو، ویڈیو کیسٹ سی ڈیز بھی اس ادارے کا اہم خاصہ ہے۔ امریکہ میں سب سے پہلے اس ادارے نے اپنا اشتہار ٹی وی چینلز پر پیش کیا، پورے امریکہ سے کتب کے شوقین صارفین آن لائن کتب اس ادارے سے خریدتے ہیں۔ ادارے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ ہر سال کچھ کتب کا اسپیشل ایڈیشن شائع کرتا ہے اور دنیا بھر سے کتب کے شائقین پری آرڈر کر کے کتب منگواتے ہیں۔ ادارے کے خاص اور باذوق صارف سال ہا سال سے اسپیشل ایڈیشن کتابوں کے خریدار ہیں۔ اکثر اسپیشل ایڈیشنز کی قیمت خاصی ہوتی ہے لیکن شوق کا کوئی مول نہیں ہے اور نہ ہی کاروبار کی کوئی حد ہے۔

اب آتے ہیں ہم اپنے ملک کی طرف۔ گو کہ ہم امریکہ سے دو سو سال پیچھے ہیں لیکن ہمارے پاس بھی با صلاحیت افراد کی کمی نہیں ہے اور نہ تھی۔ ہمارے چاروں صوبوں، شمالی علاقہ جات میں بھی بہت سے ہنر مند خاندان موجود تھے، موجود ہیں لیکن ہم اپنے تعصبات اپنے مفادات کی وجہ سے توجہ نہیں دیتے۔ ہم صرف سیاست کرنا جانتے ہیں اور وہی کرنا چاہتے ہیں۔ سندھ میں مختلف اقسام کی چنریاں (ایک خاص ڈیزائن اور رنگوں کے امتزاج والا کپڑا) تیار کی جاتی ہیں، اور ہر علاقے کی چنری کا ڈیزائن اور رنگ مختلف ہوتا ہے۔ تقریباً چالیس سال پہلے میری والدہ مرحومہ کو ہالا کی چنری کا ایک سوٹ تحفتاً پیش کیا گیا تھا جب وہ والد صاحب کے ساتھ ایک سرکاری دورے پر اندرون سندھ گئ تھیں۔ جن خاتون نے ان کو یہ تحفہ دیا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ یہ ہمارے ہالا کاخاص ڈیزائن ہے اور بھی بہت سارے صنعتی اور ہنر مندی کے کاموں کے علاوہ یہ ایک خاص تحفہ ہے جو بس چند خواتین ہی بناتی ہیں۔ والدہ محترمہ نے وہ سوٹ کراچی آکر سلوایا اور پہنا سب نے بہت تعریف کی، مزید سوٹ منگوائے گئے۔

میری بد قسمتی کہ والدہ کا انتقال ہو گیا جب میں صرف آٹھ سال کی تھی۔ کئ سالوں کے بعد جب شادی ہوئی تو میں حیدرآباد آگئی۔ اتفاق سے میرا سکھر جانا ہوا وہاں والدین کے کچھ احباب سے میری ملاقات ہوئی تو ذکر نکلا ہماری ثقافتی صنعتوں کا۔ اپنی والدہ کی ایک سہیلی کے ساتھ میں چنری کا وہ ڈیزائن ڈھونڈتی پھری لیکن معلوم ہوا کہ ہنر مند لوگ مر کھپ گئے۔ اولادوں کو روزگار نہیں ملا تو انہوں نے پیٹ پالنے کے لئے دوسرے کام کاج شروع کر دیئے۔ چنری بنتی ہے، کھاڈی بنی جاتی ہے لیکن وہ ڈیزائن نہیں بنتے جو خاصہ تھے کچھ ہنر مند افراد کا۔ ہمارے غیر ذمہ دارانہ رویئے نے اپنے ہنر مند افراد کو کھو دیا۔ افسوس تو یہ ہے کہ ان علاقوں میں رہنے والے با اثر افراد بھی ان ہنر مند افراد کو باعزت روزگار فراہم نہ کر سکے اور بہت سی گھریلو اور چھوٹی صنعتیں دم توڑ گئیں۔ سندھی اجرک کے اتنے مردانہ اور زنانہ ڈیزائن موجود ہیں کہ کاریگروں کی مہارت کی داد دینی پڑتی ہے لیکن بنانے والے بہت سے ہنر مند بھی غربت اور کسمپرسی کا شکار ہیں۔ حتیٰ کہ سندھی ٹوپی جو کہ کلچر کا اہم جزو ہے، اسکے بنانے والے بھی بہت کم رہ گئے ہیں۔

ایسا ہی کچھ حیدرآباد کی چوڑیوں کے ساتھ ہوا۔ انواع و اقسام کی چوڑیاں بنائی جاتی تھیں اور بنائی بھی جاتی ہیں۔ ایک زمانے میں خواتین کے نام لکھی ہوئی چوڑیاں بنتی تھیں اور بہت شوق سے خریدی جاتی تھیں، لیکن اب ناپید ہیں۔ نامناسب ملکی صورتحال، مزدور اور کاروباری طبقے کے مسائل نے اس صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے چند ہی خاندانی کاریگر بچے ہیں۔

قالین بافی، ظروف سازی، چاقو چھریاں ڈھالنا، مختلف جانوروں کی کھال سے لیمپس اور مختلف سامان آرائش بنانا، قیمتی پتھروں اور موتیوں سے آرائشی اشیاء اور زیورات بنانا، لکڑی سے برتن اور اعلی اقسام کا فرنیچر تخلیق کرنا، کپڑوں پر کڑھائی، ٹوپیاں، پنجاب کی اجرک کے اپنے ڈیزائن اور رنگ ہیں، کھیلوں کے سامان، فٹ بال بنانے جیسی صنعت، کھسے اور تلے والے کام دار جوتے بنانے والی اور بہت سی چھوٹی گھریلو صنعتیں ہمارے پنجاب اور سرحد کے علاقوں کا خاصہ تھیں لیکن نسل در نسل منتقل ہونے والی ان ثقافتی اور جداگانہ اہمیت کے حامل افراد کو محنت کا مناسب معاوضہ نہ ملنے پر اور نامساعد حالات کی بنا پر اپنے کام روکنے پڑے۔

ایک سب سے بڑا اہم مسئلہ جو ان سارے معاملات کی جڑ ہے وہ ہے چائلڈ لیبر۔ غیر سرکاری و نیم سرکاری تنظیموں نے اس ضمن میں بچوں کی مزدوری کرنے کے خلاف آواز بلند کی اور اسطرح بہت سے خاندانوں نے اپنے بچوں کو اس لگے بندھے روزگار اور ہنر سے اٹھا دیا اور اسطرح جو مہارت اور ہنر نسل در نسل منتقل ہوتے تھے وہ ہونے بند ہو گئے، تنظیموں کے نگران افراد کو چاہیے تھا کہ بچوں کی مناسب تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مندی سیکھنے کا سلسلہ جاری رہنے دیتے لیکن بد قسمتی سے اسکول تو کھولے نہیں گئے اور بچوں کو بھی ایک ثقافتی ورثہ سے علاحدہ کر دیا۔ بے شک وہ غربت کی زندگی بسر کر رہے تھے لیکن کچھ سیکھ تو رہے تھے۔ ایک این جی او کے اعداد و شمار کے مطابق بہت سے بچوں کو کارخانوں اور چھوٹے کاروبار سے اٹھا دیا گیا لیکن نہ ہی انکو مناسب تعلیم فراہم کی گئ کہ وہ معاشرے کے باعزت شہری بن سکیں نہ ہی ایسا کوئی کاروبار دیا گیا کہ وہ روزی کما کر اپنے گھرانے کے ذمہ دار افراد بن سکیں، بیچ راہ میں چھوڑ دیئے گئے، لاتعداد تنظیموں میں سے صرف چند ہی اس ضمن میں مناسب کام کر سکیں۔ جنہوں نے کام کرنا چاہا وہ علاقائی سیاست اور جاگیردانہ نظام کی وجہ سے کھٹائی میں پڑا رہ گیا اور ہمارے معاشرے میں بے روزگاری بڑھی۔ ہماری صنعتیں تباہ حالی کو پہنچ گئیں۔

اس تحریر کے لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے ملک سے بہت سے افراد بیرون ملک روزگار کے لئے جاتے ہیں لیکن وہ باہر ہی رہنے بسنے لگتے ہیں اور اگر ملک واپس آ بھی جائیں تو اپنے ساتھ چائلڈ لیبر اور انسانی حقوق کا ڈنڈا لے آتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کی مثالیں دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یورپ کے تمام بڑے کھانے پینے اور پہننے کی اشیاء کے برینڈز اٹھارویں صدی سے نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں اور بچوں کو شروع ہی سے تعلیم کے ساتھ ساتھ کاروبار کی تربیت بھی دی جاتی ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ مغرب میں تو بچوں کو بچپن ہی سے سخت ترین ٹریننگ کھیلوں کے لئے دی جاتی ہے جیسے کہ جمناسٹک اور بیلیرینا ڈانس، کھیلوں کے حوالے سے تربیت دینے والے افراد کا رویہ ایک سخت گیر جلاد کا سا ہوتا ہے جو بچوں کو انکے پسند کے کھانے تک نہیں کھانے دیتا ظاہر ہے کہ یہ احتیاط بہت ضروری ہوتی ہے۔

ہم سب کو بھی اپنے ملک میں ایسے رواج کو فروغ دینا چاہیے جہاں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر انکا خاندان کسی چھوٹے کاروبار سے منسلک ہے تو بچے کو اسی حساب سے تربیت دی جائے۔ اکثر اوقات بچوں کا دل تعلیم سے زیادہ اپنے فن کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس بچے کو اسی ہنر و فن میں طاق کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ چائلڈ لیبر کے خلاف آواز اٹھانے والے تو بہت ہیں لیکن جو بچہ مزدوری کر کے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہا ہے اس کی بھوک مٹانے کے لئے کوئ آواز نہیں اٹھتی ہے، بلکہ جو کام وہ کر رہا ہے اس میں بھی اسکے لئے مشکلات کھڑی کر دی جاتی ہیں، پڑھے لکھے افراد کی اکثریت اس کے خلاف اندھا دھند کام کرنا چاہتی ہے، مغرب کی مثال دینے والے لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہاں ہر کام باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے ہم کو بھی اگر اپنے پاکستان میں ایک اچھا نظام لانا ہے، تو جو افراد ملک سے باہر بس گئے ہیں انکو اپنے شہر وں اور قصبوں میں واپس آ کر اپنے ملک کے مسائل کے حل کے لئے کام کرنا چاہیے۔ ملک سے باہر بیٹھ کر صرف باتیں بنانے اور تنقید کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا اگر ہم کو اپنے ملک کے لئے کام کرنا ہے، تو مکمل منصوبہ بندی اور باہمی مشاورت و رضامندی سے یہ ممکن ہو سکے گا۔ نمود و نمائش اور خانہ پری کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ محنت، خلوص اور لگن سے کام کرنا پڑتا ہے جیسے امریکن اور یورپین افراد کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: