جملوں کا مزاح کیوں بنتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مبارک انجم

0
  • 15
    Shares

’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ آجکل یہ نعرہ یا فارمولا یا اصول، سوشل میڈیا پر کافی ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ کہیں اس کے حق میں بات ہو رہی ہے کہیں اس کی مخالفت میں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ آجکل یہ جملہ شدید تنقید کی زد میں اور اسکا مزاح بن چکا ہے۔ میں نے خود اس کے رد میں ایک لطیفہ تخلیق کیا ہے حلانکہ میں جانتا بھی ہوں کہ جنہوں نے یہ نعرہ لگایا ہے اور جس تناظر میں لگایا ہے وہ کسی حد تک درست بھی ہے۔ اسکو لکھنے والوں نے اسکو ایک مخصوص معنی میں لیا ہے یعنی وہ خواتین اپنے اس حق کا مطالبہ کر رہی ہیں کہ مرد حضرات کو تو اپنے جسموں کو تو کسی بھی اخلاقی قانون کا پابند نہ رکھتے ہوئے جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ انکے لئے کوئی رکاوٹ نہیں تو پھر خواتین کے لئے کیوں؟؟ ھونا تو یہ چاہئے نا کہ اور اس معنی کو دیکھیں تو یہ ہمیں زیادہ غلط بھی نہیں لگے گا۔ مگر اسکے باوجود اسکا زبردست مزاح بن گیا۔

’’دراصل ہوتا یوں ہے کہ، قرآن و حدیث کے علاوہ کسی بات کو اصول، فارمولا یا ضرب المثل تب ہی بنایا جا سکتا ہے جب اس بات کا ایک ہی درست اور مکمل معنی نکلتا ہو اور وہ ہر حال میں یکساں لاگو ہو سکتی ہو۔ اسکے علاوہ اگر کسی بھی بات کو آپ فارمولا اصول بنانے کی کوشش کریں گے تو اسکا یقیناً بہت مزاح بھی بنے گا اور اس پر دوسرے معنی کے ساتھ تنقید بھی ضرور ہی ہوگی۔ ایسا ہی اس جملہ کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ سب ہی جانتے ہیں کہ ہمارے جسموں پر بہت ہی کم ہمارے اپنے اختیار ہوتے ہیں، جیسے باب العلم حضرت علی رضی الله عنہ سے کسی نے پوچھا کہ

’’ انسان کو اپنے جسم پر کتنا اختیار ہے؟ تو آپ نے اسے فرمایا کہ اپنی ایک ٹانگ اٹھائو۔ اس نے اٹھا لی، تو فرمایا، اب دوسری بھی اٹھائو! تو وہ نہ اٹھا سکا اور بولا حضرت یہ تو ممکن نہیں ہے، میں گر جائونگا، ، تو آپ نے فرمایا، کہ بس اتنا ہی اختیار ہے انسان کو اپنے جسم پر۔‘‘

یہ عین اور مطلق بات ہے کہ ہم سب ہی جسمانی لحاظ سے بھی مظاہر فطرت کے پابند ہیں، ہماری پیدائش سے لے کر، ساری نشو نما، عمر کا بڑھنا، عمر کے ساتھ ہونے والی تبدیلیاں، بالوں کا اگنا اور سفید ہونا، ناخن بڑھنا، جھریاں پڑنا، قوت کا بڑھنا اور کم ہونا اور آخر کار فوت ہو جانے تک کی یہ سب چیزیں ہمارے اختیار سے باہر ہیں۔ اسی طرح معاشرتی زندگی میں بھی سکولز، دفاتر، افواج اور ایسے بہت سارے مواقع پر ہمارے جسم کسی دوسرے کے قانون کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سکول یونیفارم، لنچ بریک کی پابندی، اونچا بولنے پر پابندی، ٹریفک سگنلز کی پابندی، ایسے ہی سیکڑوں مواقع ہیں جب ہمارے جسم پر کسی ریاست یا ادارے کی مرضی چل رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی یہ نعرہ لگاتا ہے یا اصول پیش کرتا ہے کہ

’’ہمارا جسم، ہماری مرضی‘‘ تو یقیناً مزاح تو بنے گا ہی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بات کا مزاح نہ بنے اور آپکی بات ایک اصول اور فارمولہ کا درجہ پائے تو آپ کو لازم ٹھہرتا ہے کہ اپنی بات ان الفاظ میں بیان کریں جن میں اس بات کا ایک ہی ٹھوس اور راسخ معنی نکلتا ہو، اسے جھٹلایا نہ جا سکتا ہو اور اسکے معنی بدل کر کچھ مزاح نہ بن سکتا ہو۔ یہ اگر چہ آساں نہیں ہوتا، مگر یہ ضروری ہے۔ مولانا مودودیؒ نے ایک جگہ ایک اعتراض کے جواب میں لکھا ہے:

’’ہمارے جملوں کا وہی معنی و مطلب جو ہم نے لے کر لکھے ہیں، پڑہیں گے تو اعتراض پیدا نہیں ہوگا اور اپنی من مرضی کے معانی نکالیں گے تو پھر اس پر اعتراض ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگا‘‘

مولانا بہت بڑے اور جید عالم اور سکالر تھے۔ مجھ جیسے لوگ ان کی گرد بھی پانے کے اہل نہیں ہیں مگر اس جملہ میں، مجھے مولانا سے بھی اختلاف رہا ہے کہ بات جب نکل جاتی ہے تو وہ قاری یا سامعہ کی ہو جاتی ہے اور وہ زیادہ تر اپنے زوق اور سمجھ کے مطابق ہی معنی نکالتا ہے۔ کسی طویل تحریر یا مضمون میں تو یہ اصول لگتا ہے کہ لکھاری کی پوری بات اسکی سوچ اور مرضی کے مطابق سمجھی جاتی ہے کہ وہ کہنا کیا چاہ رہا ہے؟ اور پیغام کیا دے رہا ہے اور بین السطور کیا ہے؟۔ مگر کسی مقولہ میں یہ بات قاری یا سامعہ پر بالکل نہیں چھوڑی جا سکتی۔ تعارف، مقولہ یا فارمولہ میں اسکے خالق ہی کو بات الفاظ کو مکمل جامع انداز میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ ایک نیوٹرل اور بے لاگ قاری دو منٹ میں آپکی دانشوری کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ اور بات کا مزاح بن جاتا ہے۔

اسکی میں کچھ مزید مثالیں دینا چاہوں گا۔ ابھی چند دن قبل ہی ہمارے ایک بہت اچھے سکالر دوست نے پوسٹ لگائی ’’ہر چیز کی ایک روح ہوتی ہے، چراغ کی روح روشنی ہے اور انسان کی روح شعور‘‘ اب یہ بات انکے معنی میں تو درست ہے، مگر چونکہ اسکو ایک مقولہ کی طرز پر فلسفہ بیان کیا ہے، تو اس میں جس چیز کو بات کا نکتہ کہا۔ جس سے تشبہہ دی ہے، وہ روح ہے اور انسانی روح ایک بالکل الگ چیز ہے۔ تو کمنٹس میں یہ جملہ لگ گیا ’’گویا ہم پاگل کے لئے کہہ سکتے ہیں کہ اس میں روح نہیں ہے یا کم عقل کے لئے کہہ سکتے ہیں کہ اس میں آدھی روح ہے‘‘ اور یہ مزاح اس لئے بنا کہ روح عملی طور پر الگ چیز ہے جو پاگل یا جانور اور کم عقل میں بھی یکساں ہوتی ہے۔ اس لئے باقی سب چیزوں کے تو یہ روح انکے افعال کی بنیاد پر کہی جا سکتی ہے مگر زندہ اجسام کے لئے مطلق نہیں کہی جا سکتی۔

اسی طرح ایک اور مثال ہے۔ طفیل ہاشمی صاحب، ایک معروف اسکالر مانے جاتے ہیں۔ انہوں ایک بار ایک جملہ کہا ’’ہر مولوی اندر سے لبرل اور ہر لبرل اندر سے مولوی ہوتا ہے‘‘ اب یہاں انکا مطلب جو بھی تھا مگر ایک دل جلے نے کمنٹ میں ایک طرف اسامہ بن لادن اور دوسری طرف سنی لیون کی تصاویر ایڈیٹ کر کے لگائیں اور اسامہ کی تصویر پر لکھ دیا یہ اندر سے لبرل ہے اور سنی کی تصویر پر لکھ دیا یہ اندر سے مولوی ہے‘‘ اس سے اتنا مزاح بنا کہ کیا ہی بتائوں۔

اب یہاں ہاشمی صاحب نے یہ غلطی کی کہ جو بات اپنے عقیدت مندوں میں ہی کہنے کی تھی۔ جسکا مطلب بھی انکو سمجھا کر داد سمیٹ سکتے تھے۔ وہ بات انہوں نے عام پبلک میں ایک اصول کے طور پر کہہ دی اور چونکہ بات کے الفاظ اس فارمولے کی پیغام کے اہل نہ تھے تو نتیجہ یہ نکلا کہ فوراً ہی گرفت میں آگئے اور مزاح بن گیا۔ اس لئے اہل قلم ہوں یا پالیسی ساز موضوع کوئی بھی ہو، مشن جو بھی ہو، اگر آپ نے کوئی نعرہ، کوئی مقولہ، کوئی اصول، کوئی فارمولا بیان کرنا ہے تو اسکی لازمی شرط یہی ہے کہ وہ ان لفظوں میں بیان کریں جو آپکی بات کا مکمل احاطہ کر سکیں اور جو ہر وقت ہر حال میں یکساں، قابل عمل اور یکساں اثر رکھتے ہوں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: