بین االاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا ’’راجہ‘‘ —– آصف محمود

0
  • 31
    Shares

استاذ گرامی راجہ بشیر احمد صاحب انتقال فرما گئے۔ اسلام آباد کے علمی اور قانونی حلقوں میں کون ہے جو ان سے واقف نہ ہو۔ جو انہیں جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کون شجر سایہ دار تھا جو نہ رہا۔ اور جو نہیں جانتے وہ جان لیں، پرانے زمانے کی شرافت اور صرف کتابوں میں پائے جانے والے کردار کی ایک نشانی تھی ہم جس سے محروم ہو گئے۔ مسیح ابن مریم ؑ کے الفاظ مستعار لوں تو ’ زمین کا نمک‘، میرے استاد، میرے محسن، میرے باپ۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اگر ایک قبیلہ تصور کی جائے تو راجہ صاحب مرحوم اس قبیلے کا فخر اور اس کی آنکھ کا تارا تھے۔

مادیت کے اس دور میں جب تعلیم ایک کاروبار بن چکی ہے، لیکچرار اور پروفیسرز تو ایک اینٹ اکھیڑو درجنوں نکل آتے ہیں لیکن وہ استاد ناپید ہے جس کا تذکرہ ہمیں اپنی تہذیبی اقدار میں ملتا ہے۔ راجہ بشیر احمد وہی استاد تھے۔

سب کے لیے مہربان۔ سب کے لیے سراپا شفقت۔ یونیورسٹی میں ان کا کمرہ طلباء کا آستانہ تھا جہاں طلباء کسی رنگ، نسل، تنظیم کے تعصب کے بغیر حاضر ہوتے اور اپنی مراد پاتے۔ کتنے طلباء کی فیس راجہ بشیر دیا کرتے تھے اورکتنی بچیوں کے جہیز انہوں نے تیار کروا ئے کسی روز اگر ان کی ایک فہرست مرتب کر دی جائے تو پڑھنے والوں پر حیرتوں کا جہاں کھل جائے۔ لیکن کیا مجال اس آستانے سے کبھی اس کی تشہیر ہوئی ہو۔ جو ہوا خاموشی سے ہوا۔ برسوں بعد جب طالب علم عملی زندگی میں چلے جاتے تو دوستوں کی کسی محفل میں کوئی انکشاف کرتا میرا فلاں مسئلہ تھا جو راجہ صاحب نے حل کیا تھا، تب جا کر معلوم ہوتا اس آستانے سے کون کون فیض یاب ہوا۔

اطہر رانا اب ایک اعلی عہدے پر فائز ہے خود بتاتا ہے کہ اس نے فلم دیکھنا تھی اور دوستوں کو ہاری ہوئی شرط کھلانا تھی۔ پیسے نہیں تھے۔ اسے اور کچھ نہ سوجھا راجہ صاحب کے آستانے پر گیا، کہا ہیپا ٹائٹس کی ویکسین لگوانی ہے پیسے نہیں۔ مبلغ دو ہزار روپے کر وہاں سے نکلا۔ بیوروکریسی میں گیا، پہلی تنخواہ ملی تو اس نے نصف ماں کو دی اور نصف جا کر راجہ صاحب کے قدموں میں رکھ دی۔ ہیپا ٹائٹس والا جھوٹ سنایا، معافی مانگی اور کہا کوئی اور ضرورت مند ہو گا اس کے لیے یہ قبول فرما لیں۔ راجہ صاحب مسکرا دیے۔ یہ جمعہ کی شب تھی اور ایک یتیم لڑکی کی بارات ہفتے کی شب کہییں آنا تھی۔ ہیپاٹائٹس کی ویکسین کے یہ پیسے اس بیٹی کے جہیز میں شامل ہو گئے۔ آستانے کا فیض جاری رہا۔

ایک روز ملک معراج خالد نے کہا: زندگی کا حاصل صرف ایک فقرہ ہے اور وہ یہ کہ لوگ ااپ کے مرنے کی خبر سن کر آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں، اگر وہ کہہ دیں بندہ اچھا تھا تو سمجھو بیڑا پار ہے۔

روسی مظالم سے تنگ شیشان سے ایک سال کافی طلباء آئے اور یہاں داخلہ لیا۔ یہ لڑکے بہت وجیہہ اور لڑکیاں انتہائی خوبصورت تھیں۔ ایک صاحب کے جذبہ اخوت نے انگڑائی لی کہ اسلامی انقلاب کو اب شیشان تک پہنچایا جانا چاہیے۔ وہ راجہ صاحب کے پاس گئے اور عرض کی کہ میں اسلامی جذبے کے تحت خود کو وقف کرتا ہوں۔ اگر شیشان کی کوئی لڑکی شادی کرنے کو تیار ہو تو مجھ سے کروا دیجیے۔ مجھے کوئی جہیز وغیرہ نہیں چاہیے۔ میں صرف اسلامی جذبے کے تحت ان کا سہارا بننا چاہتا ہوں۔ راجہ صاحب نے کہا بیٹا تمہارا جذبہ قابل قدر ہے۔ شیشان کی تو کوئی بچی اتنی مجبور نہیں ہے۔ البتہ صومالیہ کی ایک بیٹی کو واقعی سہارے کی ضرورت ہے۔ آپ شادی کی تیاری کیجیے۔ ہفتے بعد راجہ صاحب نے ان صاحب سے پوچھا کوئی تاریخ طے کی آپ نے۔ وہ کہنے لگے، سر بڑی مجبوری ہے، والدہ نہیں مان رہیں۔

راجہ صاحب آئین پڑھایا کرتے تھے۔ آئین کیا ہے، اس کی حرمت کیا ہے، آمریت کا آزار کیا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ساری چیزیں میں نے راجہ بشیر صاحب سے سیکھیں۔ مضمون پاس کرنے کے لیے وہ آئین نہیں پڑھاتے تھے وہ آئین کا احترام وجود کی گہرائیوں میں اتار دیتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ جس نے راجہ بشیر صاحب سے آئین کی دو چار کلاسیں پڑھ رکھی ہوں اس کے لیے کسی آمر کے حق میں کلمہ خیر کہنا ممکن نہیں۔

ایک بار تو بہت مزے کا واقعہ ہوا، یہ مشرف کا دور تھا۔ ہم راہداری میں بیٹھے مدٹرم ایگزام دے رہے تھے۔ ایک باوردی افسر راہداری میں آیا۔ وہ قریب آیا مگر راجہ صاحب شعوری طور پر لاتعلق سے ہو کر دوسری طرف دیکھنے لگ گئے۔ آئین کے استاد کی طرف سے یہ مشرف آمریت سے بے زاری کا عملی نمونہ تھا۔ وہ افسر مگر خاصا ڈھیٹ واقع ہوا۔ سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ سیلوٹ کیا، ٹوپی اتاری اور دائیں ہاتھ سے ان کے گھٹنوں کو چھو لیا۔ کسی زمانے میں انہی کا شاگرد رہا تھا اور اپنے استاد کو خوب جانتا تھا۔ استاد نے اٹھ کر اسے گلے لگا لیا۔ یہ واقعہ ایک دن میں نے علی احمد کرد کو سنایا کہ کرد صاحب لوگ سائنس کے مضمون میں پریکٹیکل کرتے ہوں گے ہم نے ایل ایل بی میں آئین کا پریکٹیکل دیکھا تھا۔

اجہ صاحب اکثر سمجھاتے کہ دیکھو آئین کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ اشرافیہ سے متعلق ہے ایک حصہ عوام سے۔ جو حصہ میں یہاں نصاب میں آپ کو پڑھا رہا ہوں یہ بھی بہت محترم ہے مگر یاد رکھو کہ اس کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔ حکومت کیسے بنے گی، وزیر اعظم کیسے بنے گا، آرٹیکل چھ کیا کہتا ہے، آئین میں تبدیلی کا طریقہ کار کیاہے، یہ سب چیزیں بہت ہی محترم ہیں مگر یہ اشرافیہ سے متعلق ہیں۔ عوام کو سب سے پہلے آئین کا باب دوم پڑھنا چاہیے۔ یہ آپ سے متعلق ہے۔ یہ بتاتا ہے آپ کے حقوق کیا ہیں؟ تعلیم، صحت، انصاف، بنیادی ضروریات کی فراہمی، جان اور مال کا تحفظ یہ سب حقوق آئین عام آدمی کو دے رہا ہے۔ مجھے اکثر کہتے کہ آئین کا باب دوم پڑھا کرو، یہ کالم لکھنے میں تمہاری رہنمائی کرے گا اور تمہیں درست سمت میں رکھے گا۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ آئین کا بنیادی انسانی حقوق سے متعلق یہ باب پرائمری سکول ہی سے بچوں کے نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ اکثر کڑھتے اور کہتے اگر قوم کو نصاب تعلیم میں ان حقوق کے بارے میں بتایا جاتا تو یہ نالیوں اور گلیوں کو پختہ کرانے پر اراکین اسمبلی کی تعریفوں میں بینرز آویزاں نہ ہوتے بلکہ وہان ان اراکین کے گریبانوں کی دھجیاں پڑی ہوتیں۔

راجہ صاحب کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا لیکن اسلامی جمعیت طلبہ کا کوئی لڑکا ان سے اس فکری وابستگی کی بنیاد پر امتحان میں ایک نمبر بھی لے لے، یہ ممکن ہی نہیں تھا۔ ان کی دیانت مسلمہ تھی۔ بڑی بڑی غلطیوں کو نظر اندازکر دیتے تھے۔ سراپا شفقت تھے۔ ابو بن ادھم کا ہم نے صرف تذکرہ پڑھا ہے دیکھا نہیں۔ لیکن شاید وہ بھی راجہ صاحب جیسا ہی ہو۔ ملک معراج خالد کے بعد یہ راجہ بشیر احمد تھے جو سراپا محبت تھے۔

ایک روز ملک معراج خالد نے کہا: زندگی کا حاصل صرف ایک فقرہ ہے اور وہ یہ کہ لوگ ااپ کے مرنے کی خبر سن کر آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں، اگر وہ کہہ دیں بندہ اچھا تھا تو سمجھو بیڑا پار ہے۔ میں محمد آصف محمود گواہی دیتا ہوں کہ راجہ بشیر بندہ بہت اچھا تھا۔ وقت کم ہے، دوست انتظار کر رہے ہیں اور ہمیں اپنے استاد کے جنازے میں پہنچنا ہے، ہمیں گوجر خان جانا ہے، ہمیں اپنے باپ کی قبر پر پھول رکھنے ہیں اور بتانا ہے کہ وہ ایسے موسم میں جدا ہوئے ہیں جب درختوں کے ہاتھ خالی نہیں ہیں، پھولوں سے بھرے ہیں۔ آپ سب سے درخواست ہے، ہمارے استاد، ہمارے باپ کے لیے اللہ کے حضور دعا کریں۔ استاد اگر واقعی استاد ہو تو یہ اللہ کا انعام ہوتا ہے۔ ہم اللہ کا یہ انعام، اللہ کی یہ امانت اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: