جہاں آراء ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 5
    Shares

وہی ناک کی سیدھ میں دو لکیروں کے نقطے پر ایک ہوجانے والی ریل کی پٹری میرے بچپن کی یادوں کا حاشیہ تھی۔ میری یادیں گاڑی کی سیٹی سے شروع ہوتیں اور چھکاچھک چھکا چھک کرتی اپنے پیچھے لکیرسی چھوڑ جاتیں۔ کنک پور ریلوے جنکشن پر رک کر میرے قدم پلیٹ فارم کی جانب بڑھے تو لگا، یادوں کے بھنور میں کسی نے کنکر پھینکا ہے۔

آج سے پچیس سال پہلے یہ پلیٹ فارم آباد تھا۔ بائیں جانب دو کمروں کے کوارٹر میں سٹیشن ماسٹر ایاز علی کی رہائش تھی۔ یہ سٹیشن ماسٹر میرا باپ تھا جو شاید اب اس دنیا میں نہیں، لیکن یہ گھر اب بھی موجود ہے جہاں ویرانی ڈیرے ڈال چکی ہے۔ پلیٹ فارم پر اترتے ہی میرے قدم میکانکی انداز میں اپنے باپ کے مکان کی جانب اٹھتے چلے گئے۔ میں پلیٹ فارم کی سیڑھیاں اتر گیا۔ جہاں کبھی کچے فرش پر میں قینچے کھیلتا تھا ، اب وہاں گھاس پھونس اور جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ میں ہاتھ سے یہ جھاڑیاں اکھاڑتا آگے بڑھ رہا تھا۔ مکان کے دروازے کے دونوں پٹ کھائے گئے تھے ، صحن اور برآمدہ دیکھ کر میرے قدم ڈگمگا گئے۔ اتنی ویرانی، خاموشی اور ڈراؤنا پن آسیب کی طرح مکان سے چپکا پڑا تھا کہ اندر داخل ہونے کے لیے میری ہمت جواب دے گئی۔

میں یادوں کی پٹاری زمین پر رکھ کر بیٹھ گیا جس میں میری زندگی کے سارے کرتب کرینے سے رکھے ہوئے تھے۔ یہی وہی صحن تھا جہاں میرے باپ نے بڑی رعونت سے اس عورت کا تعارف کروایا تھا جو اس کی بغل میں سکڑی سمیٹی ، ڈری سہمی کھڑی کچے فرش کو تکے جا رہی تھی۔ وہ میرے باپ کی دوسری بیوی تھی۔ عام سے نقوش والی اس لڑکی میں نجانے ابا کو کیا نظر آیا کہ ایک دن اس کا ہاتھ پکڑے گھر میں داخل ہوئے اور ماں پر بجلی گرا دی۔ اس کی تو حالت دیکھنے والی تھی۔ وہ بٹرِ بٹرِ اپنی سوتن کو تکے جا رہی تھی۔ ابا شاید حالات کی نزاکت بھانپ چکے تھے لہٰذا اپنی نئی نویلی دلہن کا ہاتھ تھام کر کمرے میں لے گئے۔ میں الٹے قدموں اپنے کمرے کے دروازے تک پہنچا تو ابا نے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ ’’ کاکے! یہ تمہاری نئی امی ہیں، سلام کرو انہیں۔‘‘ میں نے میکانکی انداز میں ہاتھ آگے بڑھایا۔ پتلے پتلے نازک سے ہاتھوں میں میرا صحت مند ہاتھ ایسے ہی تھا جیسے ٹوکے کے پٹو ں کے درمیان نرم نرم پٹھوں کا بنڈل رکھ کر پہیہ چلا دیا گیا ہو۔

اس سے زیادہ مجھ سے کمرے میں ٹھہرا نہیں گیا۔ ماں اپنی بے بسی پر آنسو بہاتی، ابا کو کوسنے دیتی اور اپنی سوتن کو گالیاں نکالتی کمرے میں چلی گئی۔ اس دن کے بعد سے تو جیسے گھر کا ماحول ہی بدل گیا۔ اب ابا کام سے آتے ہی نئی ماں کے کمرے میں گھس جاتے۔ ماں کی سسکیاں رات بھر میرے کانوں میں ٹرین کی چھکا چھک کی طرح بجتی رہتیں۔ منحنی سی، شلجمی رنگت والی نئی ماں کے لیے ابا کی چاہت اور وارفتگی میری سمجھ سے باہر تھی۔ ابا میری نئی ماں کو گوبھی کہہ کر پکارتے تھے۔ اصل میں تو اس کا نام جہاں آرا ء تھا لیکن وہ اسے گوبھی کیوں پکارتے یہ سوال میرے لیے ایسا ہی تھا جیسے ماں کے لیے ابا کی دوسری شادی۔

جہاں آراء میری ماں کے گلے میں نوالے کی طرح پھنس گئی تھی۔ ابا کے کام اور میرے سکول چلے جانے کے بعد اماں جہاں آراء سے کیسے پیش آتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیںہے۔ میں روز سکول سے جلدی گھر بھاگ کرآنے کی خواہش میں لگا رہتا۔ گھر کا دروازہ جہاں آراء کھولتی ، اس کے لبوں کی مسکراہٹ ہلالی چاند کی طرح پھیل کر مجھے خوش آمدید کہتی۔ پھر وہ مجھے کھانا دے کر اپنے کمرے کی جانب لوٹ جاتی اور میری ماں صحن میں بچھے تخت پوش پر بیٹھی اسے صلواتیں سنانے لگتی : ’’فاحشہ، بدکار، رنڈی ۔۔۔۔۔۔۔۔ آ گئی میرا کھسم کھانے۔‘‘

جیسے کسی نومولود کو انگوٹھا چوسنے کی عادت پڑ جاتی ہے ویسے ہی اسے میری ماں کے طعنوں کا لعاب اپنے اندر کھینچنے کا چسکا لگ گیا تھا۔ مجال ہے جو اس نفرت بھری آندھی میں اس کے پاؤں اکھڑے ہوں۔ میرے لیے تو ان دنوں گھر کا ماحول دیسی شراب کے نشے کی طرح تھا۔ بڑی ترشی تھی اس کیفیت میں ، جب میں ماں کی سرخ انگارہ آنکھوں سے نکل کر دیکھتا تو ابا کی محبت کا جھکڑ مجھے پکڑ لیتا وہاں سے بھاگتا تو جہاں آراء کی بے نیازی مدہوش کردیتی۔ میں کسی شرابی کی طرح اندر ہی اندر پگھلتا رہتا۔ رات کو ابا گھر آتے توکاغذی لفافے میں لپٹے گجروں کی سوندھی سوندھی خوشبو میرے نتھنوں کی لوؤں میں گھسنے لگتی۔ ابا ان دنوں بہت خوش رہنے لگے تھے۔ ہماری زندگی بھی گاڑی کی چھکاچھک کرتی اورسیٹی بجاتی گزرتی جارہی تھی۔ میں دس سال کا تھا جب ابا جہاں آرا کو اپنے ساتھ گھر لائے اور وہ یہی کوئی چوبیس پچیس سال کے قریب ہو گی۔ مگر دیکھنے میں اپنی عمر سے بھی ایک دو سال چھوٹی لگتی تھی۔ یہ وہی سیڑھیاں ہیں جہاں وہ اکثر شام کے وقت بیٹھ کر پلیٹ فارم سے گزرنے والی گاڑیوں کو ٹکٹکی باندھے دیکھا کرتی تھی۔ میں نے بوسیدہ اورگرد سے اٹی پہلی سیڑھی پر پاؤں رکھتے ہوئے سوچا۔

تو آج یہ گھر میرے لیے اجنبی بن گیا ہے۔ جس گھرمیں میری ماں کا جلاپا تندور کی طرح دہکتا تھا، میرے باپ کی محبت کسی اور کے سرہانے دئیے جلا کے سوتی تھی اورجہاں آراء بلیوں کی طرح اس مکان کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں چکر لگاتی رہتی ۔یہ خاموش بلی ہمیشہ چپ چاپ مجھے تکا کرتی اور میں کتے کی طرح اس کی بو سونگھتا پھرتا۔ میرا جی چاہتا وہ میرے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلے، ہم چورسپاہی کا کھیل رچائیں، میں اس کے ساتھ پٹری کے پار لگے ٹیوب ویل پر پانی کے چھینٹے اڑاؤں لیکن وہ بیمار مرغی کی طرح مجھے دیکھ کر گردن ڈھلکانے کے سوا کچھ نہ کرتی۔ میرے باپ کے چہرے پر جتنی محبت، چاشنی، خلوص اور والہانہ پن ہوتا اس کے چہرے پر اتنی ہی خاموشی، ٹھنڈک اور ویرانی نظر آتی۔ مگر ابا کو نجانے یہ خاموشی کیوں نظر نہیں آتی تھی۔ میرا باپ مجھے گود میں اٹھا کر پیار کرتا لیکن نظریں جہاں آرا کا طواف کرتی رہتیں ایسے میں وہ کہتا: ’’کاکے پتر، یہ بھی تیری ماں ہے، اس کا بھی اپنی بے بے کی طرح خیال رکھا کر۔ بڑی کراماتی ہے یہ۔ ہاں۔‘‘

ایسے میں میرا جی چاہتا چیخ چیخ کر ابا کو کہوں کہ اب میں کاکا نہیں رہا۔ پر میرے باپ کو میرے جذبات کی کیا پروا ہوسکتی تھی وہ توخود ان دنوں ہواؤں میں اڑا پھرتا تھا مگر ایک بات تووہ سچ ہی کہتا تھا کہ جہاں آراء کراماتی ہے۔ کچھ ایسا تو تھا اس میں جس نے میرے باپ کو مداری کے بندر کی طرح نچایا۔ ڈُگ ڈُگ ڈُگ ڈُگ ۔۔۔ ڈررررررر ۔۔۔ یہ ڈگڈگی بجتی رہی اور میرا باپ ہاتھ پیچھے باندھے ، سرجھکائے گلے میں پڑی رسی سے جھولتا رہا۔ جہاں آراء سات سال میرے باپ کی گردن میں سونے کی زنجیر کی طرح پڑی رہی۔ وہ ماں نہیں بنی۔ شاید اسے بچے پسند ہی نہیں تھے یا شایداسے کچھ بھی پسند نہیں تھا۔ میں نے خود کلامی کرتے ہوئے برآمدے کے ستون سے ٹیک لگا لی۔ میری ماں عام سی عورت تھی۔ اس نے کوئی درگاہ کوئی پیرا ور کوئی تعویز نہیں چھوڑا تھا جو اسے اس جوان سوتن سے نجات دلا دے۔ وہ روز سیڑھیوں کی منڈیر پر مرشد پاک کے نام کا دیا جلاتی۔ کمروں میں دھونی دیتی ، لہسن کی تریاں ابا کے سرہانے چھپا کے رکھتی، جہاں آراء کو دیکھتے ہی آل تو جلال تو پڑھنے لگتی، کبھی اسے چینی پھونک کر کھلاتی اور کبھی اس کی چارپائی کے گرد سات چکر لگاتی۔

ایک وہ تھی جو یہ سب دیکھ کرٹال دیتی اس کی ہنسی بھی اس کی طرح خاموش تھی ، وہ بے فکری کی جھاگ سے بلبلے بناتی رہی ۔ اپنے تعویزوں کے بے اثر ہونے کا دکھ ماں کے اندربلڈ پریشر بن کے اترنے لگا۔ جہاں آراء ان سات برسوں میں کسی سے گھل مل نہیں سکی تھی۔ شہد میں پڑی مکھی کی طرح وہ بھی میرے باپ کے گھرمیں اوپری سطح پر تیرتی رہی۔ وہ سارا دن گھرمیں بولائے بولائے پھرتی، منہ میں نجانے کیا بڑبڑاتی تھی ، میں کان لگا کر سننے کی کوشش کرتا اور وہ چپ ہوجاتی۔ پھر ایک دن میں نے اسے اپنے باپ سے جھگڑا کرتے دیکھا ۔ کیا یہ وہی جہاں آراء تھی جس کے ہونٹوں پر ہمیشہ چپ کی بکل رہتی تھی۔ نہیں نہیں یہ کوئی اور ہی تھی۔ معلوم نہیں وہ اس دن کیوں اتنا جھگڑتی رہی۔ میرا باپ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا اور وہ تیز آنچ پر رکھے سالن میں بننے والی پھٹکیوں کی طرح اچھل رہی تھی۔ ’’مجھے چھوڑ دو ، میں تھک گئی ہوں، اڑنے دومجھے ، اڑنے دو۔‘‘ جہاں آرا ہیجانی کیفیت میں چلائی۔

’’گوبھی، تجھے کیا ہو گیا ہے ، کس چیز کی کمی ہے یہاں، میرے جیسا چاہنے والا ملے گا تجھے کہیں۔‘‘ اپنے باپ کے اس بھونڈے اندازِمحبت پرمیری ہنسی چھوٹ گئی۔

’’میں تنگ آگئی ہوں، میرا دم گھٹتا ہے یہاں، ایاز علی بیوی اورچاہت میں بڑافرق ہوتاہے۔ تم دورسے اچھے لگتے تھے اور اب پاس سے بھی بڑے اوپرے اوپرے لگتے ہو۔‘‘ جہاں آراکی آنکھیں بجھے ہوئے دئیے کی طرح دھواں دے رہی تھیں۔ جھگڑے کی اگلی صبح جہاں آرا گھر میں نہیں تھی۔ میرا باپ دیوانوں کی طرح اسے آوازیں دیتا گھر کے کونے چھانے لگا۔ اس دن میں نے اپنی ماں کے چہرے پر سکون کی پرچھائیاں دیکھیں۔ میرا حال بھی اپنے باپ سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ میں بھی جہاں آرا کو ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا۔ ایک طرف اباکو تسلیاں دیتا :’’نہ فکر کر مل جائے گی، کہاں جائے گی وہ ۔۔۔‘‘ یہ سوال شاید میں خود سے پوچھنے لگا تھا۔

جہاں آرا کو گھر سے نکلے پہلے دو دن ہوئے، پھر دو ماہ اور ہوتے ہوتے دو سال گزر گئے۔ میرے باپ کی ذہنی حالت بگڑنے لگی تھی ۔ پتہ نہیں وہ اسے کیا نشہ لگا گئی تھی کہ میرا باپ مجذوبوں جیسی حرکتیں کرنے لگا تھا۔ نہ وہ کام پر جاتا اور نہ ہی کسی سے ملتا۔ وہ ہرصبح گلی گلی اسے ڈھونڈتا اور رات کو کمرے میں ٹہلتا۔ اس کی صحت گرنے لگی تھی، میری ماں اب پھر جہاں آرا کو کوسنے دیتی: ’’ہائے فاحشہ عورت۔ نامراد کہاں مرگئی، میرا کھسم کھانے والی پتہ نہیں کس یار کے ساتھ دوڑ گئی ۔یہیں رہتی کم از کم تیرے باپ کی تو ایسی حالت نہ ہوتی ‘‘۔ میں نے کچھ دن جہاں آرا کے جانے کا سوگ منایا اور پھر اپنے اندر کے شور کو مار کر پڑھائی میں جت گیا۔ ابا نے وقت سے پہلے ریٹارمنٹ لے لی۔ جس کی وجہ سے کنک پور کا یہ کوارٹر ہم سے چھن گیا۔ اب ہم لاہور جیسے پرہنگام شہرمیں منتقل ہوگئے۔ پھرایک دن ابا بھی گھرسے ایسے غائب ہوا جیسے جہاں آراء ہوئی تھی۔ میری ماں نے چھاتی پیٹتے ہوئے دہائی دی کہ لوگو !میرے سر کار سائیں جہاں آرا ء نامی چڑیل راتوں رات کھا گئی۔ کھا تو وہ میرے باپ کو بہت پہلے ہی گئی تھی۔ اب تو شاید وہ شکاری بلی کی طرح کہیں بیٹھی اپنے پنجے چاٹ رہی ہو گی۔ ایسی سوچیں میرے دماغ کو سن کردیتیں۔ آہستہ آہستہ اباکے جانے کا دکھ بھی درختوں کی چھال کی طرح دل سے اترنے لگا۔ روزگار نے میرے بھی پاؤں باندھ دئیے۔ میںبھی شہرکے ایک سرکاری دفترمیں کلرک بھرتی ہو گیا۔ پھر گاڑی کی چھکا چھک کی بجائے ٹائپ رائٹرکی کھٹا کھٹ میرے کانوں میں گونجنے لگی۔

شاید مجھے اب سے پہلے کنک پور یاد نہ آتا لیکن پھر یوں ہوا کہ میری زندگی میں بھی ایک جہاں آراء آگئی۔ زندگی کا ٹائپ رائٹر کھٹا کھٹ کرنے لگا اور وقت نے مجھے تین بچوں کا باپ بنا دیا، ایسے میں حمیرا میری زندگی میں آئی۔ اس کی کرسی میری کرسی کے برابر تھی۔ پتہ نہیں کب ہم دونوں اس برابری کے ترازو میں بیٹھے اورجھولنے لگے۔ وہ مجھے اچھی لگنے لگی اور جانے کب میں اس کے خواب دیکھنے لگا۔ میں نعیم اظہر عرف کاکا اب سٹیشن ماسٹر ایاز علی بن چکا تھا اور حمیرا جہاں آراء بن گئی تھی۔ یا شاید وہ جہاں آراء جیسی لگنے لگی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ میں شادی شدہ اور بال بچے دار آدمی ہوں وہ جانتی تھی کہ میری زندگی میں انقلاب برپا کرنا آسان نہیں لیکن یہ عورت ذات چیز ہی ایسی ہے۔ پھٹی اور ادھڑی ہوئی کتاب سے گوند کی طرح چمٹ جاتی ہے۔ ہم روز دفتر کے بعد باہرملنے لگے ۔ میں اسے اپنے ویسپا پر بٹھا کر گھر چھوڑتا وہ میرے کان میں سرگوشی کرتی تو لگتا ہوائیں سرسرا رہی ہوں۔

حمیرا اپنے نام کے ساتھ نعیم کا سابقہ لگانا چاہتی تھی ۔ بس یہی ایک الجھن تھی جس نے میری راتوں کی نیند اڑا دی، پھر حمیرا کی جانب سے شادی کے تقاضے بڑھنے لگے۔ اسے میری چپ نے بہت رنجیدہ کیا اور بالآخر میرے ویسپا کی آخری سیٹ خالی ہو گئی۔ حمیرا کو تو جانا ہی تھا کیونکہ وہ جہاں آراء کی طرح نہیں تھی ، اس کے اندر کوئی خلا نہیں تھا ، وہ بہت شور مچاتی تھی۔ میں بھی تو سٹیشن ماسٹر ولایت علی نہیں تھا جو اس کے عشق میں دیوانوں کی طرح سب کچھ تیاگ دیتا۔ ماں اب بھی اپنے سر کے سائیں کے آنے کی راہ تک رہی ہے جب سے وہ گیا ہے تب سے وہ بھی سو نہیں سکی اورمیری تو آنکھ لگتے ہی کھل جاتی ہے۔

دور سے گاڑی کی چھکا چھک کی آواز سنائی دی اور گھوںںںںکے شور نے جیسے مجھے چونکا دیا۔ میں نے ستون سے ٹیک ہٹا کر آخری نظر اپنے باپ کے مکان پر ڈالی اور باہر نکل آیا۔ ٹوٹا ہوا زنگ آلود تالہ ویسے ہی دروازے میں اڑا کر میں جھاڑیاں پھلانگتا ہوا پلیٹ فارم کی سیڑھیوں کی جانب بڑھا۔ گاڑی سبک خرامی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ میں نے کپڑے جھاڑتے ہوئے پیچھے مڑ کردیکھا تو لگا جیسے جہاں آرا خاموش کھڑی مجھے ٹکر ٹکر تک رہی ہے۔ ’’بڑی جادوگر عورت ہو تم، پہلے میرے باپ کو کھا گئیں اور اب مجھے۔ پر دیکھو میں واپس گھر کو لوٹ رہا ہوں۔ جانتی ہو کیوں ۔۔۔ کیوں کہ میرے باپ کا جنون تم سے تھا اس لیے وہ نکل گیا اور میں، ہا ۔۔۔۔ مجھے کوئی جہاں آراء ملی ہی نہیں۔ سنا تم نے ۔۔۔‘‘ نجانے مجھے کیا ہو گیا تھا کہ دیوانوں کی طرح بولتا جھکتا دوڑ کر ٹرین میں سوار ہوگیا۔ اتنے میں گاڑی نے ہوکا بھرا اور چھکا چھک چھکا چھک کی آواز کانوں میں سیٹیاں بجانے لگی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: