تیل کی معیشت: یوآن کی فتح، ڈالر کی شکست؟ عمیر فاروق

0
  • 56
    Shares

آج کا دن ۲۶ مارچ سن۲۰۱۸ عالمی معیشت اور تجارتی جنگوں میں ایک تاریخ ساز دن کے طور پہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن ہے جب چین مشرق وسطی سے اپنے پٹرولیم کی تجارت باقاعدہ طور پہ یوآن میں کرنا شروع ہے اس کے بعد تمام چینی پٹرولیم درآمدات ڈالر نہیں بلکہ یوآن میں ہوں گی۔ اس طرح ۱۹۷۴ میں نکسن اور کسنجر کی طرف سے سعودیہ اور مشرق وسطی کی تیل کی تجارت ڈالر میں کرنے کا معاہدہ، جو پیٹرو ڈالر کا نقطہ آغاز تھا عملاً ختم ہوجائے گا۔ اب تک یہ ممالک اپنا پٹرولیم صرف ڈالر میں فروخت کرتے تھے اور اسی نے ڈالر کو عالمی کرنسی کی حیثیت دی ہوئی تھی۔ چونکہ دنیا کا ہر ملک پٹرولیم کی خریدو فروخت میں حصہ دار تھا تو ڈالر ریزرو رکھنا اس کی مجبوری تھی۔

اب سے یہ سسٹم ختم ہونے جارہا ہے۔ اس کے دور رس نتائج تو بہت انقلابی نوعیت کے ہونگے لیکن محتاط انداز میں یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہین کہ عالمی سیاست پہ اس کے کیا اثرات برآمد ہونے جارہیں۔

پہلا اور فوری اثر تو یہ ہوگا کہ جس طرح کبھی پیٹروڈالر کی برآمد ہوئی تھی اسی طرح پیٹرو یوان کی برآمد شروع ہوگی۔ چین دنیا میں پٹرولیم کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے عرب ممالک اس کی برآمد سے حاصل شدہ کھروبوں یوآن کو اپنی درآمدات میں استعمال کرنا شروع کرینگے جس سے یوآن عالمی کرنسی بن جائے گا۔

پاکستان سمیت چین دنیا کے بے شمار ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے لئے یوآن یا مقامی کرنسی کو استعمال کرنے کے معاہدہ جات پہلے ہی کرچکا ہے۔ تازہ ترین اضافہ سوئیٹزرلینڈ کا ہے۔ اس سے یوآن عالمی تجارت کی ڈالر کے ساتھ متوازی کرنسی بن جائے گا۔

دوسری سیاسی تبدیلی امریکی تجارتی پابندیوں کی ہے۔ اب تک چونکہ عالمی تجارت صرف ڈالر میں ہوتی تھی تو امریکی تجارتی پابندیاں بہت موثر ہتھیار تھیں۔ پابندیوں کے شکار ملک کو وصولی یا ادائیگی کے لئے کہیں امریکی بینکوں کے ڈالر ریلیز کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی جو یہ بینکس پابندیوں کے باعث کرنے سے انکار کردیتے تھے اور وصولی رک جاتی تھی۔ ایران کے اربوں ڈالر انڈیا یا دوسرے ممالک کے پاس اسی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد امریکی تجارتی پابندیوں کا اثر دہرا ہوگا بلکہ پابندی کا شکار ملک چینی کرنسی میں لین دین کرلے گا لیکن پابندی امریکی ڈالر کی قبولیت کو اور گھٹا دے گی۔ جس کا نقصان امریکہ کو ہوگا۔

ایسی پابندیوں کے نتیجہ میں متوازی معاشی بلاکس جنم لینا شروع ہونگے۔ مثلاً ایران اور وینیزویلا دو ایسے اہم پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک ہیں جن کی معیشت امریکی پابندیوں کے باعث جمود کا شکار تھی اب ان کے پاس چوائس موجود ہوگی کہ یوآن کی بطور متبادل عالمی کرنسی کی موجودگی میں اپنی تیل کی برآمد اور ضروریات کی درآمد اس کرنسی میں کرسکیں۔

ڈالر کی ضرورت کم ہونے پہ عالمی منڈی میں ڈالر زائد ہوجائے گا اس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت گرنا شروع ہوجائے گی۔

امریکہ کو اپنے بجٹ کا خسارہ تیزی سے کم کرنا ہوگا اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ اسی کوشش میں مصروف ہے لیکن ان کوششوں کی موجودہ سطح ناکافی ثابت ہوگی۔

اسی طرح امریکی تجارتی خسارہ کا مسئلہ ہے۔ موجودہ سطح پہ امریکہ ڈالر چھاپ کر یہ خسارہ ساری دنیا پہ تقسیم کردیتا تھا لیکن آنے والے دنوں میں یہ چوائس محدود سے محدود تر ہوتی جائے گی اور کوئی جلدبازی ڈالر کو کریش بھی کرسکتی ہے۔

طویل المدت نتائج میں تو ظاہر ہے کہ ڈالر ایک محدود ہوتی کرنسی نظرآتی ہے لیکن آج کے دن سے ایک محدود ڈالر کے سفر کی رفتار دو عوامل پہ مبنی ہے۔ اوّل یہ کہ دیگر ممالک کتنے عرصہ تک محض عادتاً ڈالر کو بطور زرمبادلہ استعمال کرتے رہیں ۔

اور یہ کہ عالمی معیشت میں درآمدات و برآمدات میں چین کا اپنا حصہ کتنا ہے؟؟

فی الحال اتنا کہنا کافی کہ چینی شعوری طور پہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ ڈالر کا کردار تیزی سے محدود ہو اسی لئے وہ زیادہ تر ممالک کے ساتھ یوآن کے بدلے مقامی کرنسی میں بھی تجارت کے معاہدے کررہے ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ کسی بھی ملک کے لئے اس کی اپنی کرنسی ڈالر کا آسان متبادل ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: