سر سید اور علی گڑھ تحریک: ایک تنقیدی جائزہ — وقاص احمد

0
  • 138
    Shares

سرسید اورعلی گڑھ تحریک کے تنقیدی جائزے سے پہلےان حالات پہ ایک نظر ڈالنا بہت ضروری ہےجن میں سرسید نے اپنے اس تعلیمی اور فکری کام کا آغاز کیا۔ جسے برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی علمی اور سیاسی بیداری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا ہے۔ علی گڑھ تحریک سے ماقبل حالات سے تاریخی واقفیت ہمیں اس دعوے کی حقیقت کو جاننے میں بہت حد تک مدد فراہم کر سکتی ہے جس کے مطابق مسلمانان برصغیر علمی اور سیاسی حیات نوکے لئے سر سید کی تحریک کو اساس مانتے ہیں۔

برصغیر میں مسلمانوں کے حوالے سے تعلیم اور علم و ہنر کی سرپرستی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ محمود غزنوی سے لے کر شاہ عالم تک مسلمان حکمرانوں نے عوام کی تعلیم و تربیت کو ریاستی ذمہ داری سمجھااور بھرپور طریقے سے سرکاری خزانے سے فروغ علم کے لئے روپیہ صرف کیا۔ فیروز شاہ تغلق نے اپنے دور میں متعلمین اور مدرسین کے لئے تنخواہوں، انعامات اور پنشن کے سلسلے کو یقینی بنایا اور مدارس اور مکاتیب کے طالب علموں کے لئے اسکالرشپس جاری کیے۔ اکبر کے دور میں ایک شاہی عبادت خانہ قائم تھا جس میں تمام مذھب اور عقائد کے علما اور فضلا کو دعوت عام تھی اور باقاعدہ مباحث کو فروغ دیا جاتا تھا۔ نیز پورے برصغیر میں مکاتیب کا نظام آخری دور تک موجود رہا جہاں بنیادی سطح کی تعلیم کے لئے مذہب و ملت یا خاص و عام کی کوئی تخصیص نہیں تھی اور ہر چار ہزار نفوس پہ ایک مکتب موجود تھا۔ اعلی مذہبی تعلیم کے لئے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لئے الگ الگ مدارس موجود تھے۔ اس کے علاوہ نجی طور پہ انفرادی سطح پر گھروں کے اندر جا کر بھی تعلیم دینے کا رواج موجود تھا۔ سیاسی نظام کے زوال کے بعدکمپنی بہادر اپنے استحصالی نظام کے ساتھ ساتھ اپنا تعلیمی ایجنڈا بھی لے کر آئی۔ دہائیوں تک کمپنی کی طرف سے تعلیم کے فروغ میں کسی بھی قسم کی دلچسپی سرے سے دکھائی ہی نہیں گئی کیونکہ کمپنی کو ڈر تھا کہ محض رسمی تعلیم کی ترقی سے بھی عوام میں استحصال اور غلامی کے تصورات کے خلاف شعور اور حریت کے خوابیدہ جذبات ابھر سکتے ہیں۔ آخرکار ایک لمبے عرصے بعد جب انتظامی دشواریوں کی بنیاد پر منتظمہ کو چلانے کے لئے مقامی افرادی قوت کی ضرورت محسوس ہوئی تو مدرسہ عالیہ کلکتہ ١٧٨١ میں قائم کیا گیا جس کا مقصد گورنمنٹ مشینری کے لئے جج پیدا کرنا تھا۔ اسی طرح ایک دوسرا سنسکرت اسکول بنایا گیا جو ہندووں کے اشراف کے لئے مخصوص تھا۔

١٨١٣ میں برطانوی حکومت کی جانب سے کچھ روپیہ سالانہ بنیادوں پر ہندوستانی عوام کی رسمی تعلیم کے لئے وقف کیا گیا مگر کمپنی کے اہلکاروں نے صرف سنسکرت اسکول کو فنڈز کا کچھ حصّہ دیا مگر بعد میں وہ پیسا بھی محض انگریزی زبان کے فروغ میں مصروف کار اداروں پر صرف کرنے کا فرمان جاری کر دیا گیا۔

ان اقدامات کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ برطانوی حکومت پورا ادراک رکھتی تھی کہ مقامی زبانوں میں تعلیم سے برصغیر کے لوگوں کے لسانی اور تہذیبی تشخص کو برقرار رکھنے میں مدد ملنے کا امکان ہے۔ اسی لئے انہوں نے ایسی تمام کوششوں کی حوصلہ شکنی کی اور بدیسی زبان کو بطور پالیسی ہندوستان پر مسلط کیا۔

وہ ایسا نظام تعلیم چاہتے تھے جو برصغیر کے عوام میں غلامی کو راسخ کرتا اور ان میں کسی بھی قسم کی خودمختاری کے خیال کو جڑ سے ختم کر دیتا جو صرف اسی صورت میں ممکن تھا اگر مغرب اپنے تہذیبی غلبے کو قائم رکھ پاتا اور دھرتی سے جڑی ثقافت اور لسانیات کو متروک قرار دے کر ترک کر دیا جاتا۔ یہاں تک کہ انگریزی زبان میں تعلیم کے بہانے کوشش کی گئی کہ مسیحیت کو بھی علم کے پردے میں نو آبادیاتی ہندوستان میں پھیلانے کی کوشش کی جائے جس کا اعتراف خود کمپنی بہادر کے ایک سول سرونٹ سر چارلس ٹراولین نے ایجوکیشن کمیشن کے ممبر کے طور پہ ان الفاظ میں کیا۔

“ہندوستان میں برطانوی حکومت کا بنیادی رول نا صرف تعلیم کے فروغ سے تہذیب کا پھیلاؤ ہے بلکہ مشنری اداروں کے زریعے مسیحیت کا فروغ بھی ہے۔ یہ یقینا دو الگ الگ مقاصد ہیں مگر کسی بھی طرح ایک دوسرے کے متضاد نہیں۔”

ان حالات میں مسلمانوں کی طرف سے انگریزی زبان میں تعلیم کی مخالفت ایک فطری ردعمل تھا جس کی ٹھوس بنیادیں موجود تھیں۔ ١٨٥٤ میں برطانوی گورنمنٹ نے حکم جاری کیا کہ تمام اضلاع میں چھوٹے بڑے اسکول کھولیں جائیں اور عام عوام کو تعلیم کی سہولت بہم پہنچائی جائے۔ یہ شاید برطانوی حکومت کی طرف سے ہندوستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے پہلا سنجیدہ اقدام تھا مگر ہندوستان میں موجود نو آبادیاتی اسٹیبلشمنٹ نے برطانیہ سے آنے والے احکامات پہ چنداں توجہ نہ دی اور بنیادی تعلیم کے پھیلاؤ کے لئے مقرر کردہ فنڈ اعلی تعلیم کے اداروں پر استعمال کر لیا اور تعلیم کے سماج کی نچلی پرتوں تک رسائی کی کوششوں سے احتزاز برتا۔ یقینا یہ سوچی سمجھی حکمت عملی تھی جس کی پست پہ یہی نفسیات کام فرما تھی جو ریاستی مشینری کو چلانے کے لئے اعلی طبقات سے پڑھی لکھی افرادی قوت کے حصول کو ہی اپنا مطمح نظر سمجھتی تھی۔

اسی نفسیات نے مادری یا مقامی زبان میں تعلیم کے فروغ میں بار بار مشکلات پیدا کیں۔ اعلی تعلیمی اداروں میں شعبہ جاتی پھیلاؤ کو محدود رکھ کر اپنے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ وہ بچے کچے ادارے جو مادری زبانوں میں تعلیم دے رہے تھے، ان کے بالمقابل انگریزی زبان کے نئے ادارے بنائے گئے جنہوں نے پرانے اداروں کی شکشت و ریخت میں بھرپور حصّہ ڈالا۔ اسی طرح مسلمانوں کے لئے قائم قدیم مدارس سے وقف کی زمیںیں بھی چھین لی گئیں جو ان کی آمدنی کا مستقل ذریعہ تھیں۔ یعنی باقاعدہ منصوبہ بندی سے ایسے اداروں کو ختم کیا گیا۔

ان حالات میں سر سید کے فکر و نظریہ پہ قائم تحریک کا آغاز ہوا۔ سر سید جس ماحول میں پروان چڑھے۔ وہاں ہمیشہ سے انگریز کے اثر و رسوخ کا وسیع حلقہ موجود رہا۔ سر سید کے نانا اور والد دونوں مغلیہ عہد کے درباروں میں بڑی اہمیت رکھتے تھے اور کمپنی بہادر اور مقامی اشرافیہ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہتے تھے۔ اسی بنیاد پہ سر سید بہت جلد انگریز اداروں میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد ترقی کر کے منصفی کے درجے پہ فائز ہوئے۔

سر سید کی اپنی قوم کی بدحالی اور بے توقیری پہ تشویش سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر سر سید کی تربیت ایسے ماحول میں ہوئی تھی کہ سر سید کو اس بات کا پختہ یقین ہو چلا تھا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے بجز اس کے کوئی چارہ نہیں کہ برطانوی ہندوستان کے حوالے سے جو بھی پالیسی وضع کر چکے ہیں۔ اس پر عمل درآمد کی سعی کر کے اسی ماحول سے بہتری کی گنجائش نکالی جائے۔ (یہ حسن ظن کا تقاضا ہے کہ سر سید کے متعلق ایسا گمان رکھا جائے ورنہ لوگ سر سید کی شخصیت کے منفی پہلووں کے بارے میں بھی طویل دلیلیں رکھتے ہیں)

ان حالات میں سر سید نے اس کفیت کا حل یہ ڈھونڈا کہ تعلیم کے راستے مسلمانوں کو ایسی سمت لگایا جائے جہاں بغیر کسی ٹکراؤ کے وہ نا صرف نئے علوم و فنون سے واقفیت حاصل کر سکیں بلکہ اس تعلیم کے نتیجہ میں برطانوی منتظمہ میں اعلی عہدوں پر فائز ہوں جس کے نتیجہ میں ان کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات بہتر ہوں۔

یہ وہ خاکہ تھا جو سر سید نے اپنے تئیں مسلمانان برصغیر کی ترقی کے لئے تجویز کیا مگر سر سید احمد خان اس مقصد کے حصول کے لئے ایسے اصول و ضوابط پر سمجھوتہ کرنے پہ تیار ہو گئے جن سے دستبردار ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنی فکر سے مغلوب افراد اور پیروکاروں کو حریت فکر سے نا آشنا محض دفتری کام سرانجام دینے والا کل پرزہ اور اس خطہ زمین میں انگریز کے مفادات کو فروغ دینے والا آلہ کار بنانے کے علاوہ کچھ حاصل نہ کر سکے۔

چند نا گزیر وجوہات کے سبب ایک اور بدقسمتی یہ ہوئی کہ محمّڈن اینگلو اورینٹل کالج محض سر سید کے تصورات کی مکمل تصویر نہ بن سکا بلکہ زیادہ تر سر سید کے خیالات اور زمینی حقائق کا ایسا عجیب و غریب مرکب ثابت ہوا جو اپنی افادیت کو مسلمانان برصغیر کے حق میں مجموعی طور پہ ویسے نہ ڈھال سکا جیسے شاید سر سید اس ادارے سے امید رکھتے تھے۔ ایسا کیوں کر ممکن ہو سکا، ان محرکات کی ہلکی سی تفصیل اگے بیان کی جائے گی۔

ان سب باتوں کے باوجود اس میں شک نہیں کہ سر سید کے اپنے نظریات کے پیچیدہ بہاؤ نے بھی تحریک علی گڑھ کے دھارے کو متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بقول ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری:

“بلاشبہ اگر ان (سر سید) کے مذہبی عقائد کو اختیار کر لیا جاتا تو مذہبی عقائد اور ایمانیات کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے۔ اگر ان کے سیاسی افکار کو بیسویں صدی میں بھی مسلمان اپنا نصب العین قرار دے لیتے تو آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکتا تھا، اگر ان کی دعائیں شرف قبولیت حاصل کر لیتیں تو آج بھی اہل وطن کے سروں پر برٹش استعمار کا سورج چمک رہا ہوتا اور اگر ان کے تعلیمی افکار کو مطمح نظر قرار دے دیا جاتا تو برطانوی دفتری نظام کو چلانےاور اسے مستحکم کرنے والی مسلمان نام کی ایک غلام قوم محکومانہ زندگی گزار رہی ہوتی-“

سرسید کے جن افکار پر تحریک علی گڑھ کا خاکہ تعمیر ہوا اس کے چند اجزا ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ ان اساسی امور کا احاطہ ہو سکے جن پر تحریک علی گڑھ کی بنیادیں تعمیر کی گئیں۔

١۔ سرسید ابتدائی طور پہ مقامی یا ورنیکولر زبانوں میں رسمی تعلیم کے شدید حامی تھے مگر نا معلوم وجوہات کی بنا پر بعد میں اپنے ان نظریات سے تائب ہو کر ہندوستان کے تمام لسانی تہذیبی اثاثوں سے جان چھڑانے پہ تیار ہو گئے۔ یہاں تک کہ علی گڑھ میں بھی اورئینٹل ڈیپارٹمنٹ محض تین سال بعد بند کر دیا گیا۔
٢۔ جنگ آزادی ١٨٥٧ میں سر سید نے انگریزوں کے حق میں جو مساعانہ کردار ادا کیا وہ علی گڑھ تحریک کے لئے رول ماڈل ثابت ہوا اور اس پالیسی نے حاکم اور محکوم کے رشتے کو مضبوط تر کیا۔
٣۔ سر سید نے علی گڑھ کے قیام کے مقاصد میں انگریزوں کی غیر مشروط اطاعت و فرماں برداری کو واضح اصول کے طور پہ شامل کیا۔ جس کے اثرات یقیننا علی گڑھ سے فارغ التحصیل طلبہ کے اذہان پہ تادیر موجود رہے۔
٤۔ سر سید نے کانگریس کے پلیٹ فارم اور اس کے نتیجہ میں خود مختاری یا سیاسی اور معاشی حقوق کی آوازوں کی بھرپور مخالفت کی اور اس بارے میں آپ کے بہت سے بیانات زیب قرطاس ہیں۔
٥۔ سر سید نے برٹش گورنمنٹ کے خلاف مزاحمت کی ہر قانونی شکل کی بھی پرزور مخالفت کی۔ کانگریس کے خلاف باقاعدہ محاذ کھولے رکھا۔
٦۔ سر سید کے زیر اثر سائنٹفک سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا جس کا بنیادی مقصد انگریزی علوم و فنون کے مقامی زبانوں میں تراجم کرنا اور ان کے زریعے ان فنون کو سوسائٹی میں فروغ دینا تھا۔ مگر بعد میں سر سید نے خود ہی اس سوسائٹی کے کام کو بے فائدہ اور غیر اہم قرار دے کر انگریزی زبان کو ہی مغربی علوم و فنون کے حصول کے واحد زریعہ کے طور پہ پیش کرنا شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: گڈ بائی ٹو سر سیّد —— سلیم احمد

٧۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے بھی سر سید کے نادر خیالات حیران کن ہیں۔ سر سید خواتین کو جدید علوم سکھانے کے سخت مخالف تھے اور ان کے لئے محض بنیادی مذہبی اور اخلاقی علوم کے حصول کو کافی سمجھتے تھے۔ یہاں آکر سر سید کی جدیدیت رجعت پسندی کا لبادہ کیوں اوڑھ لیتی تھی۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے۔
٨۔ سر سید کو کل مسلمان طبقے کے مصلح و تعلیم کے حامی کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے مگر سر سید کے بیانات سے واضح طور پہ ظاہر ہوتا ہے کہ سر سید کی توجہ صرف مسلم اشرافیہ کے طبقات کو انگریزی علوم و فنون کی تعلیم دینے پہ مرکوز تھی اور عام عوام کی تعلیم کو انہوں نے بالا دست اشرافیہ کے طبقے کی تعلیم سے مشروط کر دیا تھا اور عام عوام میں تعلیم کے فروغ کے حوالے سے کوئی خاص کوشش نہیں کی۔
٩۔ اس کے علاوہ سر سید جمہوری نظام حکومت کو بھی ہندوستان کے لئے نہایت غیر موزوں سمجھتے تھے اور آپ نے ہندوستان کے مقامی باشندوں کی ایک نیم خود مختار نمائندہ حکومت کی کانگریس کی تجویز کی بھی سخت مخالفت کی۔
١٠۔ سر سید آزادی صحافت کے بھی اتنا ہی قائل تھے جہاں تک حکومت برطانیہ کے مفاد پہ زد نہ پڑتی ہو۔ آپ ان تمام رسائل و جرائد کو قابل ضبطی سمجھتے تھے جو برٹش گورنمنٹ کی ایذا رسانیوں کے خلاف لکھنے کی جرات کرے اور ایسی کوششوں کی بیخ کنی کے لئے جرمانے اور قید کی سزاؤں کو برحق جانتے تھے۔
١١۔ قومیت کے تصور کے اعتبار سے بھی سر سید کے ہاں شدید ابہام پایا جاتا تھا ایک طرف آپ مذہب کی بنیاد پہ ہندو اور مسلم کو دو الگ اقوام تسلیم کرتے تھے دوسری طرف انہی اقوام کو جغرافیائی وحدت کی بنیاد پر ایک قوم بھی گردانتے تھے۔ آپ کے نظریات کی اس دو رنگی کے نتائج علی گڑھ تحریک پہ شدت سے مرتب ہوئے۔

ان مختلف النوع خیالات و نظریات کے عمیق مطالعے سے پتا چلایا جا سکتا ہے کہ سرسید کی علی گڑھ تحریک نے ہندوستان کی سوسائٹی میں کیسے اثرات پیدا کیے ہوں گے۔ دوسری طرف یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی تاسیسی انتظامی کمیٹی میں چھبیس میں سے اٹھارہ ممبران گورنمنٹ برطانیہ کے نمائندے اور باقی امیر زمیندار اور نواب زادے تھے اور علی گڑھ میں صرف اشرافیہ کے بچوں کی تعلیم و تربیت کو فوقیت دینے میں اس کمیٹی کی رائے نے اہم کردار ادا کیا۔ ہو سکتا ہے کہ سر سید کا ابتدائی ویژن اس حکمت عملی کے خلاف ہو مگر آپ کے بعد کے ارشادات ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے ان آراء کو قبول کر لیا تھا یا آپ کی رائے بھی پہلے دن سے یہی تھی۔
اس کے علاوہ علی گڑھ نے برٹش حکومت اور ہندوستانی اشرافیہ میں موجود مخیر حضرات سے مالی امداد کا حصول لگاتار جاری رکھا اور گورنمنٹ سے مالیاتی تقاضوں کے حصول نے بھی ادارہ کو ایک آزاد و خود مختار پالیسی کے اطلاق سے باز رکھا۔

ڈیوڈ لیولی جو کولمبیا یونیورسٹی میں سابقہ پروفیسر ہیں اور سر سید اور آپ کی تحریک پہ کئی مقالوں کے مصنف ہیں۔ اپنی کتاب “علی گڑھ کی پہلی نسل” میں رقم زار ہیں۔

“گورنمنٹ کی کسی بھی مخالفانہ روش کے امکان کو زائل کرنے کے لئے علی گڑھ نے برطانوی ایجوکیشن سسٹم کے تمام خدوخال کو قبول کر لیا جس کے نتیجے میں سر سید کے کسی (آزادانہ) سیاسی کردار یا برٹش نظریات سے الگ کسی آزادانہ تعلیمی تحریک کی امید ختم ہو گئی”

ان تمام حالات و واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علی گڑھ کی تحریک جن افکار و نظریات کے زیر سایہ پروان چڑھی ۔ اس کے نتیجہ میں محض دفتری ضروریات کے لئے نو آبادیات کے آلہ کار ہنر مند افراد پیدا کرنے کے علاوہ کسی بھی مثبت پیش رفت کی امید عبث تھی اور علی گڑھ نے اپنے استعماری اہداف کامیابی سے حاصل کیے۔ علی گڑھ سے فارغ التحصیل افراد میں سے گنتی کی چند استثنائی صورتیں چھوڑ کر زیادہ تر افراد اسی قبیل کا حصّہ بنے۔ یہ درست ہے کہ علی گڑھ کے پلیٹ فارم سے کچھ ایسے افراد بھی ہندوستانی سیاست کو میسر ائے جنہوں نے آگے آکر اس ملک میں برطانوی استعمار کے خلاف قائدانہ سیاسی کردار ادا کیا مگر اس کا سہرا بھی ملکی سیاست میں کانگریس کے رسوخ اور دیوبند کی انقلابی تحریک کے اثر کے سر باندھا جائے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ سر سید کی تحریک کو اگر اس دور کی واحد فکری اٹھان سمجھا جائے جو مسلمانوں کی پست حالی اور مشکلات کے باعث کھڑی ہوئی تو یقیناً بہت سارے سمجھوتوں کے باوجود اس کی اہمیت برقرار رہتی ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ سر سید کے مقابل ایک اور تحریک اس دور میں موجود تھی جس کا فکر شاہ ولی اللہ سے لے کر شیخ الہند مولانا محمود الحسن تک پہنچتا ہے۔ اس دوسری تحریک نے انگریزی علوم و فنون کی کس حد تک مخالفت کی تھی اور اس کے نتائج کیا ہوئے نیز اس تحریک کے خلاف انگریز کا پروپیگنڈا کیسے کامیاب ہوا۔ یہ موضوع ایک علیحدہ بحث کا متقاضی ہےمگر یہ جاننا ضروری ہے کہ سر سید کی تحریک مسلمانوں کی نشاط نو کے لئے سعی کرتی اس دور کی واحد تحریک نہیں تھی۔ اس لئے یہ سمجھوتے جو تاج برطانیہ کا حلف اٹھا کر صرف سرکاری ملازمتوں میں مسلم اشرافیہ کی شرکت کے لئے کیے گئے، غیر درست اور کل سماج کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ٢٠١٨ میں ہندوستان و پاکستان میں سرحد کے دونوں جانب مسلمان جس تعلیمی، سیاسی اور سماجی پستی کا شکار ہیں اور نیوکلونیل ازم کے تسلسل کا حصّہ ہیں۔ اس بدحالی میں سر سید کے رفقا کی کوششوں کا بہت بڑا حصّہ ہے۔

سر سید کی تحریک سے منسلک چند بڑے ناموں کی تشہیر سے ہرگز یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ تحریک مسلمانوں میں کوئی تعلیمی یا سیاسی انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ورنہ ناموں تک خود کو محدود کیا جائے تو یہ جاننا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ایوب خان اور گورنر جنرل غلام محمّد بھی اسی ادارے کی پیداوار تھے۔ تو پھر کیا اسی نظریے کے مطابق ان افراد کی نسبت سے علی گڑھ کے ادارے پہ تبرا کیا جانا درست ٹھہرے گا؟

حمزہ علوی صاحب علی گڑھ کے فارغ التحصیل اور تحقیقی دنیا کا بڑا نام ہیں۔ اس ادارے کے سابقہ طالب علم ہونے کی وجہ سے سر سید اور ان کی تحریک پر حمزہ صاحب کی رائے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں۔

“۔ ۔ ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دسمبر ١٩٠٦ میں نواب سلیم اللہ خان کی طرف سے مسلم لیگ کے ڈھاکہ اجلاس کو اس مسلمان تنخواہ دار طبقے نے اغوا (اچک) کرلیا تھا۔ جس کی جڑیں علی گڑھ میں تھیں اور جن کا فلسفی سر سید تھا جس نے مسلمانوں کو انگریزی زبان کے حصول کی طرف مائل کیا تاکہ وہ سرکاری ملازمتیں حاصل کر سکیں۔ وہ (سر سید) اس وقت منظر عام پر آیا جب یوپی کا مسلمان اشرافیہ واضح اقلیت ہونے کے باوجود انتہائی مراعات یافتہ طبقہ تھا لیکن دھیرے دھیرے اس کا اثر و رسوخ کم ہوتا جا رہا تھا۔ “

اس تحریر کا بنیادی مقصد علی گڑھ تحریک کے ان تاریک گوشوں کو آشکار کرنا تھا جو کسی بھی وجہ سے مین سٹریم مباحث میں جگہ نہیں بنا سکے اور عوامی ذہن کی فکر و سوچ سے دور رہے۔ یہ درست ہے کہ سر سید کی تحریک نے چند مثبت اثرات بھی مرتب کیے اور سر سید کے اٹھائے گئے سوالات کو بعد میں مسلمانوں کے خواص و عوام کے بہت سے حلقوں نے سنجیدگی سے لیا اور ان پر عملی اقدامات کا مختلف تناظر میں آغاز ہوا مگر نتائج کے اعتبار سے یہ تلخ جملہ لکھنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ سر سید کی تحریک مسلمانوں سے زیادہ سامراج کے حق میں استعمال ہوئی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: