سفاک قاتل سے ترجیحی سلوک کیوں: انوار احمد

0
  • 53
    Shares

قیاس ہے کہ رائو انوار باقاعدہ ڈیل کے بعد آیا ہے گرفتار کرکے نہیں لایا گیا اگر رائو صاحب کی پیشی کی ویڈیو دیکھیں کہ کس طرع اسی کے پیٹی بھائی اسے کمرہ عدالت لیجا رہے ہیں اور پھر عدالت کا رویہ ملاحظہ ہو۔۔۔۔ملک کی اعلی ترین عدالت نے رائو صاحب کے اکائونٹ بھی جاری کردئیے ,ہتھکڑی بھی نہیں لگ اور وہ کس شان سے رونما ہوا ….

چیف جسٹس نے مجرم سے شکوہ کیا کہ آپ نے عدالت کو خط لکھنے کا جو طریقہ کار اپنایا وہ ٹھیک نہیں، آپ نے عدالت پر اعتبار کیوں نہیں کیا، آپ تو خود مجرموں کو گرفتار کرنے والوں میں سے تھے۔

نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کے حکم سے پہلے چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ 10 منٹ بعد ہم جے آئی ٹی کا اعلان کریں گے، ’’آپس میں مشورہ کرنے جا رہے ہیں تاہم مت سوچیں ہم نے کسی اور سے مشورہ کرنا ہے‘‘۔ (معلوم نہیں انہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی)۔
۔۔۔ عدالت سے فارغ ہوکر پیٹی بھائیوں کے جلو میں سفارتی انکلیو میں کھانا کھایا۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے وہاں وہ کس سے ملا ؟؟؟؟ اور پھر ایرپورٹ پر وی آئی پی لائونج کی سہولت مہیا کی گئی جبکہ کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک مخصوص جماعت کے پارلیمینٹیرنز کو محض شک کی بنیاد پر اٹھا لیا جاتا ہے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہاتھ پشت پر رسی سے باندھ کر عدالت لایا جاتا ہے جیسے کہ وہ جنگی قیدی ہوں۔۔۔ کیا یہی انصاف کے تقاضے ہیں۔

شنید ہے عدالت نے نقیب کے والد سے بیان بھی لیا کہ رائو کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائیگا۔۔۔ کیا کبھی پہلے کبھی کسی ملزم کے ساتھ ایسا کیا گیا ؟؟؟؟
اب اگر کوئی اور دل جلا محسود اسکا حساب برابر کردے تو الگ بات ہے ورنہ مجھے تو لگتا ہے کہ ” قانون دیت ” کے تحت ڈیل ہوجائیگی اور بس۔ رہے باقی کیس وہ تو چلتے ہی رہتے ہیں۔۔۔۔۔ کون گواہی دیگا کون ثبوت دیگا اور پولیس کیا ثابت کرپائے گی اور ایک مرتبہ پھر ناکافی شواہد اور گواہوں کی عدم دستیابی کا عذر سزا میں مانع ہوگا۔ اور معاملہ ٹائیں ٹائیں فش۔۔۔ دولت کی رائو صاحب اور انکے “سہولتکاروں ” کے پاس کمی نہیں کہیں نہ کہیں بات بن ہی جائیگی اور ایک بار پھر رائو صاحب پہلے سے زیادہ طاقتور ہوکر نازل ہوجائینگے۔۔۔۔

ہر شہری جانتا ہے کہ یہ قانون اور عدالتیں وغیرہ بیچارے عام آدمی کے لئیے ہوتی ہے۔۔۔ رائو صاحب کے خلاف ثبوت مہیا کرنے اور تفشیش کے لئے مجوزہ جے آئ ٹی بھی انہی کی پسند کے مطابق بنائی جائیگی۔ ذرا لاڈ تو ملاحظہ فرمائیں کیا کبھی اس سے پہلے کسی کی ایسی بھی نازبرداریاں کی گئی ہیں۔۔۔۔
ابھی دیکھتے ہیں آگے آگے کیا ہوتا ہے لیکن رائو صاحب کی” گمشدگی” سے “رونمائی” تک ہمارا تفشیشی،عدالتی، قانونی، سماجی اور سیاسی سسٹم بری طرع ایکسپوز ہوا۔۔۔۔۔

دامن پے کوئی چھینٹ نہ خنجر پے کوئی داغ۔۔
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: