ہم چشت بہشت کے میزباں : نادیہ ندیم

0
  • 32
    Shares

مسلم امہ میں روحانی سلسلے رسول ﷲ ﷺ کا روحانی راز ہیں یہ سلسلے اسلام کے تنوع کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ چشتی سلسلہ دراصل حضرت علی وجہہ الکریم کے اوصاف کا عکس ہے رسول ﷲ ﷺ نے حضرت علی وجہہ الکریم کو باطنی نعمت دیتے ہوئے دریافت کیا کہ اگر آپ کو کوئی نعمت تفویض ہو تو آپ کیا کریں گے حضرت علی وجہہ الکریم نے رسول ﷲ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی کہ “بندگانِ خدا کی پردہ پوشی کروں گا”

خدا اور اسکی مخلوق سے محبت اسکی پردہ پوشی ہی روحانی سلسلوں کا مطمع نظر ہے۔

انسانیت سے محبت کے اسی احساس کو ﷲ پاک نے انسانی شکل میں ہندوستان بھیجا جسے غیر مسلموں نے دیوتا جانا۔وہ تاجدارعلم ومعرفت، آفتاب ِ طریقت، ماہتابِ شریعت، پاسبانِ رشدوہدایت، قطب المشائخ، سلطان الہند،نائب رسول فی الہند غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو طویل مدت تک مشارق ومغارب میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لئے کوشاں رہے۔

حسب نسب اور نسبت بلاشبہ انسان کی پہچان ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے بذاتِ خود اپنے کردارو عمل کی اس طرح تشکیل کی جائے کہ خود نسبت اور حسب نسب کو ہم پر ناز ہو اسکے لئے ہمیں اپنے مشائخ کی تعلیمات انکے روزوشب انکے کرداروعمل کو اپنی ذات بنانا ہوگا کہ یہی محبت و عقیدت کا مظہر ہے قول سے نکل کر عمل میں ڈھلنا ہی موجودہ معاشرے کی ضرورت ہے۔

حضرت معین الدین چشتی رحمتہ ﷲ علیہ کی ولادت و وصال مبارک کے حوالے سے رجب المرجب کو خاص اہمیت حاصل ہے اس موقع کی مناسبت سے اس تحریر میں انکی حیاتِ مبارکہ کے کچھ پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے تاکہ فی زمانہ انکے اخلاق و کردار کو نئی نسل سے روشناس کرایا جاسکے۔

ولادت و سلسلہ نسب
،سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ 14 رجب المرجب536ھ/1141ء کوپیرکے دن قصبہ ’’سجستان‘‘ میں متولد ہوئے۔آپ کے والدمحترم حضرت سیدناخواجہ غیاث الدین رحمۃ اللہ علیہ علم ظاہری وباطنی میں یکتائے روزگار،اپنے عہدکے بہت برگزیدہ اورکامل ولی اللہ تھے۔جب کہ آپ کی والدۂ محترمہ حضرت بی بی ماہِ نوررحمۃ اللہ علیہابھی اپنے وقت کی بڑی عابدہ وزاہدہ خاتون اورولیۂ کاملہ تھیں۔
سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ والدکی طرف سے ’’حسینی‘‘اور والدہ کی طرف سے’’حسنی‘‘سید یعنی آپ ’’ نجیب الطرفین سید‘‘ ہیں۔آپ کاسلسلہ نسب تیرھویں پشت میں خلیفہ چہارم اور دامادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم امیرالمؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے جاملتاہے۔

بچپن
جب آپ کی عمر صرف 15 سال تھی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ایسے لمحات میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی نور نے بڑی استقامت کا ثبوت دیا اور بڑے حوصلے کے ساتھ بیٹے کو سمجھایاکہ” تمہارے والد کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کرے۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول کے لیے ہی صرف کر دینی چاہئیں“۔

مادر گرامی کی تسلیوں سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سے علم حاصل کرنے لگے۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سے ایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور بھی خالق حقیقی سے جاملیں۔ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس دنیا میں اکیلے رہ گئے۔
والد گرامی کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنے والی چکی آپ کو ورثے میں ملی۔ والدین کی جدائی کے بعد باغبانی کا پیشہ آپ نے اختیار کیا۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ ایک دن خواجہ معین الدین چشتی اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ ادھر سے مشہور بزرگ ابراہیم قندوزی کا گزر ہوا۔ آپ نے بزرگ کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے پاس گئے اور ابراہیم قندوزی کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ ابراہیم قندوزی ایک نوجوان کے اس جوش عقیدت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے شفقت سے آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگے جانے لگے تو آپ نے ابراہیم قندوزی کا دامن تھام لیا۔ حضرت ابراہیم نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا:
اے نوجوان! ”آپ کیا چاہتے ہیں؟“
خواجہ معین الدین چشتی نے عرض کی کہ
”آپ چند لمحے اور میرے باغ میں قیام فرمائیے۔ کون جانتا ہے کہ یہ سعادت مجھے دوبارہ نصیب ہوگی کہ نہیں“۔
آپ کا لہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ ابراہیم قندوزی سے انکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئے۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سے بھرے ہوئے دو طباق معین الدین چشتی نے ابراہیم قندوزی کے سامنے رکھ دیے اور خود دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ ابراہیم قندوزی نے اپنے پیرہن میں ہاتھ ڈال کر جیب سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر معین الدین کی طرف بڑھایا اور فرمایا
”وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے“۔ اس ٹکڑے کا حلق سے نیچے اترنا ہی تھا کہ معین الدین چشتی کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے کائنات کی ہر شے بے معنی ہے۔

علوم ظاہری وباطنی کا حصول اورشرفِ بیعت
سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے مقتدائے زمانہ ہستیوں سے علومِ دینیہ یعنی علم قرآن،علم حدیث،علم تفسیر،علم فقہ، علم منطق اورعلم فلسفہ جیسے علوم کی تحصیل کے لیے خراساں کو خیرباد کہہ دیا اورثمر قند بخارا کا رُخ کیا جو اس وقت علوم و فنون کے اہم مراکز تصور کیے جاتے تھے۔ یہاں پہلے آپ نے قرآن پاک حفظ کیا اور جملہ علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد علمِ معرفت وسلوک کی تحصیل کے لیے آپ نے مرشد کامل کی تلاش میں عراقِ عجم(ایران) کا رخ کیا وہ گوہر مقصودبالآخر آپ کو نیشاپورکے قصبہ ’’ہاروَن‘‘میں مل گیا۔جہاں آپ حضرت خواجہ شیخ عثمان ہاروَنی رحمۃ اللہ علیہ ایسے عظیم المرتبت اورجلیل القدربزرگ کی خدمت میں حاضرہوئے اورآپ کے دست مبارک پرشرف ِبیعت سے فیض یاب ہوئے۔حضرت شیخ عثمان ہارونی علیہ الرحمۃ نے نہ صرف آپ کودولت بیعت سے نوازابلکہ آپ کوخرقۂ خلافت بھی عنایت فرمایااورآپ کواپناخاص مصلّٰی(جائے نماز)، عصااورپاپوش مبارک بھی عنایت فرمایا۔

بارگاہِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیرو مرشد کے ہمراہ بیس سال تک رہے اور بغداد شریف سے اپنے شیخ طریقت کے ہمراہ زیارتِ حرمین شریفین کا مبارک سفر اختیار فر ما یا۔ چنانچہ اس مقدس سفر میں اسلامی علوم و فنون کے عظیم مراکز مثلاً بُخارا، سمر قند، بلخ، بد خشاں وغیرہ کی سیرو سیاحت کی۔ بعد ازاں مکہ مکرمہ پہنچ کر مناسکِ حج ادا کر کے حضرت خواجہ شیخ عثمان ہا روَنی رحمۃ اللہ علیہ نے حضر ت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑ ا اور میزابِ رحمت کے نیچے کھڑے ہو کر با رگاہِ خداوندی میں اپنے ہاتھ پھیلا کر یوں دُعا فرمائی :
’’اے میرے پروردگار! میرے معین الدین حسن کو اپنی با ر گاہ میں قبول فر ما‘‘!
اسی وقت غیب سے آوازآئی:
’’معین الدین !ہمارا دوست ہے ہم نے اسے قبول فرمایا اور عزت و عظمت عطا کی ‘‘۔
یہاں سے فراغت کے بعد حضرت خواجہ عثمان ہارونی،خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر مدینہ منورہ میں بار گاہِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بار گاہِ مقدسہ میں حضرت عثمان ہارونی نے خواجہ معین الدین چشتی کو حکم دیا۔
”معین الدین! آقائے کائنات کے حضور سلام پیش کرو۔
خواجہ معین الدین چشتی نے گداز قلب کے ساتھ لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
” الصلوٰ ۃ والسلام علیکم یا سید المرسلین و خاتم النبین۔روضۂ اقدس سے یوں جواب عنایت ہوا وعلیکم السلام یا قطب المشائخ
وہاں موجود تمام لوگوں نے سنا۔ روضہ رسول سے جواب آیا۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمۃ با ر گاہ ِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کا جواب پاکر تسکینِ قلبی کا حاصل ہوئی۔
حضورسیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کے پاس کئی دنوں تک عبادت و ریاضت اورذکروفکرمیں مشغول رہے۔ایک دن اسی طرح عبادت اورذکرو فکر میں مستغرق تھے کہ روضہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سعادت افروزآوازآئی:
’’اے معین الدین!توہمارے دین کامعین ومددگار ہے، ہم نے تمھیں ہندوستان کی ولایت پر فائز کیا ہے، لہٰذا اجمیرجاکر اپنا قیام کرو کیوں کہ وہاں کفرو شرک اورگمراہی وضلالت کی تاریکیاں پھیلی ہوئی ہیں اور تمھارے وہاں ٹھہرنے سے کفر و شرک کا اندھیرادور ہوگااوراسلام وہدایت کے سورج کی روشنی چہارسوپھیلے گی‘‘۔

لاہورو ملتان آمداورمزارِداتاگنج پرحاضری
چنا نچہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمۃ سیروسیاحت کرتے کرتے مختلف شہروں سے ہو تے ہوئے اور اولیاءِ کرام کی زیا رت و صحبت کا فیض حاصل کر تے ہوئے جب لا ہور تشریف لا ئے تو یہاں حضور دا تا گنج بخش سید علی ہجویری علیہ الرحمۃ کے مزار شریف پر حاضری دی اور چالیس دن تک معتکف بھی رہے اور یہاں بے بہا انوارو تجلیات سے فیضیاب ہو ئے تو رخصت ہو تے وقت یہ شعر بہ طورِ نذرانۂ عقیدت حضور داتا صاحب کی شان میں پیش کیا۔

گنج بخش، فیض عالم، مظہر نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل، کا ملاں را راہنما

حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمۃ کو جو فیوض برکا ت اور انوار و تجلیات یہاں سے حاصل ہوئیں، اس کا اظہار و اعلان اس شعر کی صورت میں کر دیا۔ اس شعر کو اتنی شہرت ہو ئی کہ اس کے بعد حضور داتا گنج بخش سید علی ہجویری علیہ الرحمۃ کو لوگوں نے ’’داتا گنج بخش‘‘کے نام سے مو سوم اور مشہور کر دیا۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی انقلاب آفرین شخصیت ہندوستان کی تاریخ میں ایک نہایت ہی زریں با ب کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کے اس دور میں جہاں ایک طرف آپ کی توجہ اور تبلیغی مسا عی سے ظلمت کدہ ہند میں شمع ِ اسلام کی روشنی پھیل رہی تھی، دلوں کی تاریکیاں ایمان و یقین کی روشنی میں تبدیل ہو رہی تھیں، لو گ جو ق در جوق حلقہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ تودوسری طرف ہندوستان میں مسلمانوں کا سیاسی غلبہ بھی بڑھ رہاتھا۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مندوں اور مریدوں میں شامل سلطان شہاب الدین غوری اوراُن کے بعدسلطان قطب الدین ایبک اور سلطان شمس الدین التمش ایسے با لغ نظر، بلند ہمت اور عادل حکمران سیاسی اقتدار کو مستحکم کر رہے تھے۔ آپ کے حکم پر سلطان شہاب الدین غوری نے پرتھوی راج کو شکست دی اور آپ کا فرمان کہ:
’’میں نے پرتھوی راج کوزندہ سلامت لشکراسلام کے سپردکردیا‘‘۔ سچ ثابت ہوا۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے تبلیغ اسلام، احیائے دین و ملت، نفاذِ شریعت اور تزکیۂ قلوب واذہان کا اہم ترین فریضہ جس موثر اور دل نشین انداز میں انجام دیا، وہ اسلامی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ آپ کی تشریف آوری کے بعد تو اس ملک کی کا یا ہی پلٹ گئی۔ ایک روایت کے مطابق کم وبیش 90 لا کھ غیر مسلم آپ کے دست مبارک پر اسلام لائے۔

انتہائی قلیل مدت میں اجمیر شریف اسلامی آبادی کا عظیم مر کز بن گیا اور آپ کے حسنِ اخلاق سے آپ کی غریب نو ازی کا ڈنکا چہار دا نگِ عالم بجنے لگا۔ یہ تھا ایمان ویقین اور علم و عمل کا وہ کرشمہ اور کرامت جو ایک مر د ِ مو من نے سر زمینِ ہند پر دکھا ئی اور جس کی بدولت اس ملک میں جہاں پہلے ’’نا قوس ‘‘ بجا کر تے تھے، اب وہاں جگہ جگہ ’’صدائے اللہ اکبر‘‘ گونجنے لگی۔

نامورخلفاء کرام:
حضرت خواجہ خواجگان، قطب الاقطاب، سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ سے حسب ِ ذیل جلیل القدر ہستیوں کو بھی خلافت حاصل ہوئی:
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، حضرت بابا فرید گنج شکر، حضرت علاءو الدین علی بن احمد صابر کُلیری، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب ِالٰہی، حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی ؒ شامل ہیں۔۔۔یہ برگزیدہ اور عظیم المرتبت بزرگ اپنے وقت کے ولیٔ کامل اور باکرامت اولیاء اللہ ہوئے۔ ان حضرات نے حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی جلائی ہوئی شمعِ توحید سے نہ صرف خود روشنی حاصل کی بلکہ کروڑوں لوگوں کو اس شمعِ توحید کی ضیاء پاشیوں سے فیض یاب کیا۔

سیرت و کردار
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ قرآن و سنت کا قابل رشک نمونہ تھی۔آپ کی تمام زندگی تبلیغ اسلام، عبادت و ریاضت اور سادگی و قناعت سے عبارت تھی۔ آپ ہمیشہ دن کو روزہ رکھتے اور رات کو قیام میں گزارتے تھے۔ آپ مکارمِ اخلاق اور محاسن اخلاق کے عظیم پیکر اوراخلاقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکمل نمونہ تھے۔

حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ غرباء اور مساکین کے لیے سرا پا ر حمت و شفقت کا مجسمہ تھے ۔دنیا سے بے رغبتی اورزہد و قناعت کا یہ عالم تھا کہ آپ کی خدمت عالیہ میں جو نذرانے پیش کیے جا تے وہ آپ اسی وقت فقراء اور غرباء میں تقسیم فر ما دیتے تھے۔ سخاوت و غریب نوازی کا یہ حال تھا کہ کبھی کوئی سائل آپ کے در سے خالی ہا تھ نہ جا تا تھا۔ آپ بڑے حلیم و برد بار، منکسر المزاج اور بڑے متوا ضع تھے۔ ایک مرتبہ ایک شودر عورت کے لائے ہوئے میٹھے بیر اس رغبت سے نوش فرمائے کہ عاجزی کی مثال بن گئی۔

آپ کے پیش نظر زندگی کا اصل مقصد تبلیغ اسلام اور خدمت خلق تھا۔آپ کے بعض ملفوظاتِ عالیہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ بڑے صاحب دل،وسیع المشرب اور نہایت دردمند انسان تھے۔ آپ عمیق جذبہ انسانیت کے علمبردار تھے۔

ایک روز آپ کے مرشد نے حکم دیا کہ کل صبح ہمارا دیدار کرنا جنتی ہوجاؤگے آپ مضطرب رہے اور ایک جمِ غفیر کو اکٹھا کرلیا تاکہ سب اس فیض سے مستفید ہوسکیں مرشد کے استفسار پر فرمایا کہ میں چاہتا تھا کہ” آقاپاک کے امتی بھی جنت میں میرے ساتھ داخل ہوجائیں میں تنہا اس نعمت سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتا ہوں اس روز سے آپ کا لقب “غریب نواز” مشہور ہوگیا”۔

خواجہ چشت کا وصال باکمال:
صاحب سیر الاقطاب مروی ہیں کہ جس شب عظیم پیکرعلم وعرفاں، حامل سنت وقرآں، محبوبِ یزداں،محب سروروکون ومکاں، شریعت وطریقت کے نیرتاباں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اِس جہان پر ملال سے انتقال فرمایا بعد از نماز عشاء حجرہ شریف بند کر کے ہمدموں کو ممانعت فرمائی کہ کوئی اِس جگہ نہ آئے۔خاصان حضور عالی گرد حجرہ کے موجود تھے۔ انہوں نے تمام شب حجرہ میں سے آدمیوں کے پیروں کی آہٹ سُنی کہ جیسے عاشقانِ خدا وجد کرتے ہیں آخر شب وہ آواز بند ہو گئی۔ جس وقت نماز صبح مریدوں نے ہر چند دستکیں دیں، آوازیں دیں، جواب کچھ نہ ملا، ناچار دروازہ کھولا دیکھا کہ خواجہ ٔ خواجگان کا وصال با کمال اور سیمائے نورانی پر یہ عبارت بخط جلی دیکھی ھٰذا حبیب اللّٰہ مافی حب اللّٰہ۔ تاجدار اجمیری رحمۃ اﷲ علیہ کا وصال شریف بتاریخ دوشنبہ 6تاریخ ماہ رجب 633ھ 1236ء میں بہ عہدِ سلطان شمس الدین التمش کو ہوا۔ روضہ مطہرہ دارالخیر اجمیر شریف میں زیارت گاہ خلائق ہے (تذکرہ اولیاء برصغیر)

حکمت و دانش کا خزینہ:
آپ مریدین، معتقدین اور متوسلین کو تعلیم دیتے

* کہ ’’چار چیزیں گوہر نایاب ہیں۔ ان کا برابر خیال رکھو، درویشی میں اظہار دولت مندی، بھوک میں اظہار سیری، غم میں اظہارِ خوشی اور دشمن سے اظہارِ دوستی۔ ‘‘

* انسانیت کی خدمت کا درس دیتے ہوئے خواجہ صاحبؒ نے فرمایا کہ ’’بھوکے کو کھانا کھلانا، غریب کی فریاد سننا اور حاجت پوری کرنا اور بھٹکے ہوئے کی مدد کرنا، دوزخ کی آگ سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ‘‘

* انسانوں کی عزت و احترام کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ’’گناہ اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا اپنے بھائی کو ذلیل کرنا۔‘‘

* اللہ کے دوست اور ولی کی پہچان یہ بیان فرمائی کہ اللہ کا دوست وہ ہے جس میں تین خوبیاں ہوں۔ ’’دریا جیسی سخاوت، آفتاب جیسی شفقت اور زمین جیسی عاجزی‘‘

* فرمایا!’’ ذخیرہ اندوز اور منافع خور لوگ اپنی قوم کے جسم کو مہلک مرض بن کر دکھائے چلے جاتے ہیں۔ ان کو نیست و نابود کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ ‘‘

* والدین کے چہروں پر محبت سے نظرڈالنابھی خُدا کی خوشنودی کا موجب ہے۔

* عارف ایک قدم اُٹھا کر عرش پر پہنچ جاتا ہے اور دوسرا اُٹھا کر واپس آ جاتا ہے۔

* کائنات میں صرف ایک چیز موجود ہے یعنی نُور خدا اور باقی سب کچھ غیر موجود ہے۔

* کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اُس قوم کے شانہ بشانہ عورتیں بھی آگے نہ بڑھیں۔

* یقین محکم، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں کو اپنا لیجیے۔ آپ دُنیا میں معتبر بن جائیں گے۔

* اپنی ملت کو اقتصادی، سیاسی، تعلیمی اور معاشرتی طور پر منظم کرو، پھر تم دیکھو گے کہ تم یقیناً ایک ایسی قوم بن جاؤ گے جسے ہر شخص تسلیم کرے گا۔

* آزادی کا مطلب بے لگام ہو جانا نہیں۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ جو رویہ چاہیں اختیار کریں اور جو دل میں آئے کہہ گزریں بلکہ آزادی ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ جسے سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہوتا ہے۔

* نوجوانو! اگر تم اپنی قوتوں کو فضول کاموں میں ضائع کرو گے تو بعد میں ہمیشہ افسوس کرتے رہو گے۔

* خُدا اور انسان کے درمیان ایک ہی حجاب حائل ہے جس کا نام نفس ہے۔

* کائنات کی کثرت سے فریب مت کھاؤ۔

* اگر عشق خود کار رہبر نہ ہو تو وہ کبھی منزل کو نہیں پا سکتا۔

* اللہ خیر مجسم ہے اور اُس کی تقدیرات ہمہ خیر۔

*اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ : ’’جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنا دوست بناتا ہے تو اس کو اپنی محبت عطا فرماتا ہے اور وہ بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن اور ہمہ وقت اس کی رضا وخوشنودی کے لیے وقف کر دیتا ہے تو خداوند قدوس اس کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا مظہر بن جائے‘‘۔

بلا شبہ اپنے مشائخ کی تعلیمات پر عمل ہی دراصل ان کی بارگاہ میں اصل خراجِ عقیدت ومحبت ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: