اباجی کا جرمن ریڈیو ! عبدالغفار چینہ

0
  • 79
    Shares

ہمارے بچپن اور ابا جی کے پچپن کا قصہ ہے، ان کے پاس ایک جرمن ریڈیو ہوا کرتا تھا۔ مذکورہ ڈبہ واقعی ریڈیو ہی تھا۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن خدا لگتی کہوں تو اس چیز نے حلئیے بشرے سے کبھی اپنی اصلیت نہ کھلنے دی تھی جسے اباجی “بزوردلائل” ریڈیو ثابت کرنے پر مصر رہتے۔

جب مذکورہ “لمیٹڈ ایڈیشن” “ریڈیو” اپنی طبعی عمر پوری کر چکا تو “کنس” پہ سجا دیا گیا۔ کچا ہونے کے باعث چوہوں کا ڈیرا بھی اسی کمرے میں تھا جو کنس کو بطور “اکنامک کوریڈور” استعمال کیا کرتے۔ مبینہ ریڈیو نقل و حرکت میں حائل ہوا تو انجنئیر چوہوں نے نوکیلے دانتوں سے آر پار راستہ بنا ڈالا۔ شب بھر ریلوں کے ریلے آر پار گزرتے رہتے۔ جو زیادہ تھک جاتے، پل بھر کو وہیں “ریڈیو” کے اندر قیام کرتے اور پھر سے راہی منزل ہو جاتے۔ ان کی نقل و حرکت سے کھٹر پٹر اور کھٹ کھٹاک کی بے ہنگم آوازیں رات بھر سونے نہ دیتیں جیسے عسکری مشقیں چل رہی ہوں۔ گو ابا جی کے ہاتھوں سے پٹنے کا تجربہ چن بار ہی نصیب ہوا تھا، پھر بھی بلا جواز خوف تھا کہیں کہہ ہی نہ دیں “تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر”۔

چند سال مزید گزرے تو ریڈیو اور ابا جی مزید بوڑھے ہو گئے اور ہم قدرے جوان۔ ان کی جلالی طبیعت میں کافی حد تک ٹھہراؤ آچکا تھا جبکہ ہماری جراءت رندانہ گستاخی کی حدوں کو چھونے لگی تھی۔ ایک رات موقع پا کر ہم نے وہ چیز (جسے ابا جی ریڈیو بتاتے تھے) وہاں سے اٹھا کے کام میں لانے کا پختہ ارادہ کر لیا کہ صحتمند ہوا تو جھاڑ پھونک کے اور ابا جی سے نظر بچا کے چالو کریں گے اور رات بھر فرمائشی گانوں سے لطف اندوز ہوا کریں گے۔ پسندیدہ گلوکاروں کے کانوں میں رس گھولتے نغموں کی آواز سے جھوم جھوم جائیں گے۔ جب دل کیا، ڈیرہ ملتان یا لاہور اسلام آباد کا ’’سٹیشن‘‘ پکڑلیں گے۔ لتا، رفیع اور اودت کی طلب ہوئی تو ڈائل گھما کے بارڈر پھلانگ لیں گے۔ ایسے ہی کئی سہانے خواب سوچ کے خود سے ہی شرما شرما گئے۔ ساتھ میں احساس گناہ بھی ہاتھ دھو کے پیچھے پڑا رہا کہ موسیقی سننا بڑا جرم ہے، نامحرم انائونسرز کی آواز سننا بھی گناہ ہی ہے۔

ارادے کمزور پڑتے دیکھ کے شاعر نے چڑھایا
“ارادے جن کے پختہ ہوں۔۔۔”
بالآخر ایسے تمام خیالوں کو جھٹک کے”حد سے گزر جانے کا” فیصلہ کر لیا۔ تیزی سے دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ بزرگ ریڈیو کوبالآخر کنس سے اتار ہی لیا۔ لیکن نروس ایسے کہ چاند پر پہلا قدم رکھتے سمے نیل آرمسٹرانگ بھی نہیں رہا ہو گا۔ اعصاب بحال ہو چکنے کے بعد تھوڑا سا جھٹکا تو بے شمار ننھے ننھے کرسٹل ریڈیو کے سوراخوں سے بستر پر پھیل گئے۔ کھڑکی سے آنے والی روشنی کی مدد سے جھانک کے دیکھا تو کوئی پاؤ بھر کالے رنگ کے “چاول” رضائی کے  اوپر نیچے بکھرے بلکہ بپھرے نظر آئے شاید پوچھ رہے تھے” ہمیں کیوں نکالا “۔ سٹیل کے پیچ کپاس میں بدل چکے تھے سو کیسنگ کھولنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ اندر موہنجوداڑو کا سا منظر تھا۔ پرزے , ٹانکے اپنی اصل حالت برقرار رکھنے میں ناکام رہے تھے۔ مزید جھانک کے دیکھا تو لگا جیسے نئی نویلی سڑک پر تارکول کا سپرے کیا پڑا ہو۔مسیحائی کی تاثیر کا امکان صفر پاکر سخت مایوسی ہوئی۔ سو گناہ کے کفارے کا پکا ارادہ کر لیا۔ اگلی صبح پہلی فرصت میں کمال سعادت مندی سے مال مسروقہ ابا جی کے حضور پیش کر دیا۔

” آپ کی متاع گم گشتہ کے ساتھ دشمن نے کیا کیا کھلواڑ کئیے ہیں۔ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں”۔

اپنے پرانے ساتھی کی خستہ حالت دیکھ کے اباجی نے ٹھنڈی آہ بھری۔ ریڈیو سے جڑی یادوں پر چند فلیش بیک مارے اور کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آثار قدیمہ کا وہ شاہکار دوست کے بیٹے کو بطور تحفہ دان کر دیا۔ تحفہ پاکر لونڈا خوشی سے اچھل اچھل پڑا۔ لیکن ہمیں اس کی قسمت پہ ذرا سا بھی رشک نہ آیا، آ بھی کیسے سکتا تھا؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: