پاکستان کیوں وجود میں آیا؟ —– خرم علی شفیق

0
  • 16
    Shares

پاکستان کی بنیاد کیا ہے؟ اِس سوال کے مختلف جوابات دیے جاتے ہیں لیکن قائداعظم محمد علی جناح کے تمام بیانات کی روشنی میں اس کا صرف ایک درست جواب ہے۔ دو نہیں، تین نہیں بلکہ صرف ایک جواب۔

ایک برطانوی صحافی بیورلے نکلس نے ۱۹۴۳ء میں قائد کا انٹرویو کیا جو بیحد مشہور ہوا۔ نکلس کی انگریزی تصنیف ورڈکٹ آن انڈیا میں شامل یہ انٹرویو تحریکِ پاکستان کی اہم دستاویزات میں شمار ہوتا ہے۔ نکلس نے جب قائد سے کہا کہ وہ پاکستان کے بنیادی اصول کو کیسے بیان کریں گے تو قائد نے جواب دیا، “پانچ لفظوں میں۔ دی مسلمز آر اے نیشن۔” یعنی مسلمان ایک قوم ہیں۔

یہ ایک واضح بیان ہے جس میں الفاظ کی تعداد تک گنوا دی گئی ہے تاکہ نہ کسی ابہام کی ضرورت رہے نہ اس کی متنازعہ تشریحات ہو سکیں۔ پوری تحریکِ پاکستان کے دوران قائد نے کبھی کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس سے شبہ پیدا ہو کہ پاکستان کا بنیادی اصول کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔

یہ بات اس حد تک واضح تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد ۱۵ اگست کی صبح پہلی بار قوم سے خطاب کرتے ہوئے بھی قائد نے کہا، “ہندوستان کے مسلمانوں نے دنیا پر ظاہر کر دیا ہے کہ اُن کا مطالبہ جائز تھا اور وہ ایک متحد قوم ہیں۔” گویا پوری جدوجہد کی بنیاد یہی تھی اور جدوجہد مکمل ہونے پر دوبارہ یاد دلانا ضروری ہوا۔

یہ سیدھی سی بات اُلجھ گئی ہے تو دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ قائدِاعظم اور قائدِملت کی وفات کے بعد حکمرانوں نے مسلم قومیت کی تعریف بدل دی اور وہی بدلی ہوئی تعریف آج تک نقل در نقل چلی آ رہی ہے۔ آج ہم مسلمانوں کو جس طرح ایک قوم سمجھتے ہیں، قائد اُس طرح نہیں بلکہ کسی اور طرح سمجھتے تھے۔ اور ہم جانتے ہی نہیں کہ اُن کے نزدیک مسلمان قوم کا مفہوم کیا تھا۔ اس لیے ہم اپنے بنائے ہوئے مفہوم کو اُن کے اقوال میں بھرتی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کامیاب نہیں ہوتی۔ نتیجہ میں اعتراضات کرنے والوں کو موقع ملتا ہے۔

دوسری مشکل اُن اعتراض کرنے والوں کی پیدا کی ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ اِس بات سے متفق نہیں ہیں کہ مسلمان ایک قوم ہیں۔ اُن لوگوں کو حق ہے کہ وہ جیسا چاہیں سمجھیں لیکن بدقسمی سے اُن میں سے بعض لوگ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قائداعظم کے نزدیک بھی پاکستان کی بنیاد کچھ اور تھی۔ یہاں سے علمی بددیانتی شروع ہوتی ہے۔

ان دوستوں کی خدمت میں صرف یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ نکلس والے انٹرویو میں قائداعظم نے یہ کہنے کے بعد کہ پاکستان کے مطالبے کا جواز پانچ لفظوں میں بیان ہوتا ہے، یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ مسلمان ایک قوم ہیں اور اگر آپ ایک ایماندار شخص ہیں تو پاکستان کا مطلب واضح ہو جائے گا۔ لیکن اگر آپ یہی نہیں مانتے تو پھر بات ختم۔ گویا اگر کوئی یہی تسلیم نہ کرے کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو اُس کے ساتھ پاکستان کے موضوع پر گفتگو ہی نہیں ہو سکتی۔
یہ درست ہے کہ ہمیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ قائد کے نزدیک مسلمانوں کے ایک قوم ہونے کا مطلب کیا تھا اور وہ اُس مفہوم سے کیسے مختلف تھا جو آج رائج ہے۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ اگر قارئین نے دلچسپی ظاہر کی تو اِس موضوع پر بھی بلاگ پر کچھ پیش کر دیا جائے گا۔ ویسے میری انگریزی تصنیف حیاتِ اقبال اور ہمارا عہد (Iqbal: His Life and Our Times) میں اِس کی تفصیل موجود ہے۔

قوم کیا چیز ہے؟
گزشتہ پوسٹ میں عرض کیا تھا کہ قائدِاعظم کے لحاظ سے پاکستان کی بنیاد صرف ایک چیز تھی اور وہ یہ کہ مسلمان ایک قوم ہیں۔ جب انگریزصحافی بیورلی نکلس نے اُن سے پوچھا تب بھی انہوں نے یہی جواب دیا اور دوسرے ہر موقع پر بھی یہی بات دہرائی۔
نکلس نے اُن سے پوچھا کہ جب وہ مسلمانوں کو ایک قوم کہتے ہیں تو کیا وہ مذہب کے حوالے سے سوچ رہے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آج ہم شاید صرف ایک “ہاں” کی صورت میں دیں گے اور یہیں سے ہماری اور قائد کی سوچ کا اختلاف شروع ہوتا ہے۔

قائد نے کہا

“کسی حد تک لیکن صرف اسی حوالے سے ہرگز نہیں۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام صرف ایک مذہب نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل ضابطہء عمل ہے۔ میں زندگی کے حوالے سے سوچ رہا ہوں،ہر اُس چیز کے حوالے سے جو زندگی میں اہم ہے۔ میں اپنی تاریخ کے حوالے سے سوچ رہا ہوں، اپنے ہیروز، اپنے آرٹ، اپنے فنِ تعمیر، اپنی موسیقی، اپنے قوانین، اپنے اصولِ قانون کے حوالے سے۔”

یہی بات قائد نے مختلف مواقع پر کہی۔ ہم نے اُن کے اس قسم کے متعدد اقوال مطالعہء پاکستان کی کتابوں وغیرہ میں پڑھے ہیں جن میں ایک فہرست ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی یہ مندرجہ چیزیں دوسروں سے جدا ہیں اس لیے وہ ایک قوم ہیں۔ اب غور کیجیے کہ قائد نے اس فہرست میں موسیقی بھی شامل کی ہے۔ کیا ہم بھی مسلم قومیت کی تعریف میں اپنی موسیقی کو شامل کرتے ہیں؟

یہ مسلم قومیت کی وہ تعریف تھی جسے اُس زمانے کے عام مسلمان بھی سمجھتے تھے اور جسے عالمانہ طور پر علامہ اقبال نے ۱۹۱۱ء میں ایک انگریزی لیکچر میں بھی بیان کیا تھا۔ لیکچر کا ترجمہ “ملتِ بیضا پر عمرانی نظر” کے عنوان سے بیحد مقبول ہوا تھا۔

علامہ نے کہا تھا کہ ایک قوم کے طور پر ملتِ اسلامیہ کا وجود تین اجزاء سے بنتا ہے۔ عقیدہ، سیاسی نظریہ اور یکرنگ ثقافت۔
قائداعظم نے مسلم قومیت کے حوالے سے جن چیزوں کے نام لیے وہ انہی تین شعبوں کی تفصیلات ہیں: عقیدہ، سیاسی نظریہ اور یکرنگ ثقافت۔
ہم نے مسلم قومیت کا جو مفہوم سمجھا ہے اُس میں ان تینوں کی نفی ہو جاتی ہے۔ ہم یہ مطلب نکالتے ہیں کہ جو لوگ سچے مسلمان بن جائیں گے صرف وہی مسلمان کہلانے کے حقدار ہوں گے۔ پھر ہم سچے مسلمان کی کوئی ایسی تعریف کرتے ہیں جو ہماری سمجھ کے مطابق ہوتی ہے لیکن مسلمانوں کی اکثریت ایمان کی خوشبو سے محروم قرار پاتی ہے۔

یہ گویا عقیدے کی آڑ میں مسلم قومیت کی نفی کرنے کے مترادف ہے۔ اصل میں ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان فی الحال ایک قوم نہیں ہیں اور جب ہماری دعوت قبول کریں گے اُس کے بعد وہ ایک قوم، ایک ملت یا ایک اُمت بن جائیں گے۔
درحقیقت یہ ایک مخالف نظریہ ہے۔ اس پر تحریکِ پاکستان کے رہنماوں نے کُھل کر تنقید کی تھی جو محفوظ ہے۔ اُس پر کبھی آیندہ بات ہو گی۔ فی الحال ہم دوسرے عنصر کی طرف آتے ہیں یعنی مسلمانوں کا سیاسی نظریہ۔

مسلمانوں کے پاس ایک واضح سیاسی نظریہ موجود ہے جس میں مسلسل ارتقا ہوتا رہا ہے۔ اس پر تحقیقی مقالہ علامہ اقبال نے ۱۹۰۸ء میں انگریزی میں لکھا جس کا اُردو ترجمہ “خلافتِ اسلامیہ” کے نام سے بار بار شائع ہوتا رہا۔ یہ نظریہ مسلمانوں نے صدیوں سے قبول کر رکھا تھا جس میں مزید ارتقاء ہو رہا تھا۔ سنی، شیعہ اور خوارج تینوں بعض اختلافات کے ساتھ اس نظریے کے بنیادی اصولوں پر متفق تھے۔

اس نظریے میں اس بات کی مکمل گنجایش تھی کہ مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ مل کر کوئی ایسی ریاست تخلیق کریں جس میں تمام شہریوں کے برابر حقوق ہوں یہاں تک کہ ایک غیرمسلم اس ریاست کا وزیرِ اعظم بھی بن سکتا ہو۔ علامہ نے یہ بات “خلافتِ اسلامیہ” والے مقالے میں بالکل واضح کر دی تھی اور پھر خطبہء الٰہ آباد میں اِس کی طرف دوبارہ اشارہ کیا تھا۔

اگر مزید کوئی شہادت درکار ہو تو قائدِ ملت لیاقت علی خاں نے ۱۹۴۹ء میں اکستان کی دستورساز اسمبلی میں قراردادِ مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا، “ایک اسلامی ریاست میں ایک غیرمسلم بھی انتظامیہ کا سربراہ ہو سکتا ہے جس کے پاس وہ اختیارات ہوں گے جو ریاست کے دستور میں متعین کیے گئے ہوں۔” مزید تفصیلات کے لیے میری مختصر کتاب ملاحظہ کیجیے، ” سیاسی نظریہ: علامہ اقبال کی فکر کی روشنی میں”۔

۱۹۲۳ء کے بعد جو نئے مسلم مفکرین سامنے آئے، اُن کی اکثریت نے اس سیاسی نظریے کو مسترد کیا یا پھر اِس کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔ اس کی بجائے انہوں نے اپنے اپنے سیاسی نظریات پیش کیے۔ اگرچہ انہوں نے اس کے حق میں قرآن و سنت سے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق دلائل فراہم کیے، لیکن یہ تمام سیاسی نظریے درحقیقت ان محترم مفکرین کی ذاتی آراء ہیں جن کی قدر کی جا سکتی ہے لیکن انہیں “اسلامی سیاسی نظریہ” اُس وقت تک نہیں کہا جا سکتا جب تک مسلمان اسے قبول نہ کر لیں۔ مسلمانوں نے ابھی تک ایسے کسی متبادل نظریے کو قبول نہیں کیا ہے خواہ وہ مودوی صاحب کا نظریہ ہو یا پھر محمد اسد، غلام احمد پرویز، ڈاکٹر اسرار احمد، جاوید احمد غامدی یا کسی اور بزرگ کا نظریہ ہو۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ ان میں کسی بزرگ کے معتدین یہ کہیں کہ جو لوگ اس نظریے کو قبول نہیں کرتے وہ مسلم قوم سے خارج ہیں۔

مسلم قومیت کا تیسرا عنصر “یکرنگ ثقافت” ہے۔ یعنی ادب اور فنونِ لطیفہ کے وہ شہپارے جو بیک وقت عوام اور خواص دونوں میں مقبول ہوں۔ یہ ایک وسیع موضوع ہے جس پر گفتگو کبھی آیندہ۔ لیکن یہ اتنا اہم موضوع ہے کہ علامہ نے “ملتِ بیضا” والے لیکچر میں کہا تھا کہ عقیدہ خواہ کتنا ہی اہم سہی، ملت کا کوئی فرد اُس وقت تک ملت کے لیے کارآمد نہیں ہوتا جب تک اُس کا باطن یکرنگ ثقافت کا رنگ قبول نہیں کر لیتا۔

علامہ کی بات درست نکلی کیونکہ درحقیقت اِسی یکرنگ ثقافت کے اثر سے محروم ہونے کی وجہ سے ہم مسلم قومیت کے بقیہ دونوں عناصر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم منزل پر پہنچ کر راستے کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: