گلابی رقص — عابد آفریدی کی قہقہہ بار تحریر

0
  • 41
    Shares

ایک دوست نے اپنی شادی میں شرکت کی دعوت دی۔ بچپن کی یادوں کا واسطہ دیا، وہ تمام احسانات یاد دلائے جو اس نے مجھ پر کئے تھے۔

انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ کیوں کہ ہم نے برسوں پہلے یہ سوچ کر شادی میں شرکت کا یقینی وعدہ کیا تھا کہ اس کو کون بیٹی دیگا۔

رخت سفر باندھ کر گھر سے شمالی علاقہ جات کی جانب نکل پڑا، اسلام آباد تک تو سفر نہایت بورنگ تھا۔ مگر اس کے بعد جب ایک نئی نویلی گاڑی کو اپنے منتظر پایا تو انکھوں پر یقین نہ آیا۔ دھڑ سے وہ شعر یاد آیا۔

” کبھی ہم اس گاڑی کو تو کبھی اپنے اس تھوبڑے کو دیکھتے ہیں ”

ہم پچھلی نشست پر بیٹھ گئے۔ کیونکہ ہم نے سنا تھا امیر لوگ ہمیشہ پیچھے بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ گاڑی ہمیں حسین وادیوں میں لے گئی جن کے نظاروں نے روح کو معطر کردیا، طبیعت نے ان حسین نظاروں کو دیکھ کر ایسی انگڑائی لی کہ سفری تھکان و ہیجان ایک خوشگوار احساس میں بدل گئے۔

سرسبز پہاڑوں پر سانپ کی طرح رینگتی ہوئی سڑک نے اپنےجادوئی سحر میں ایسا جکڑ لیا کہ گاڑی میخانہ بن گئی اور ہم رند جبکہ ڈرائیور ساقی اور مئے کا کام ہم نے نسوار کی اس پڑیا سے لیا جسے ہم وقفے وقفے سے ایک دوسرے کو پیش کرتے تھے۔

ہر اس جگہ گاڑی رکواتے جہاں لوگوں کی بھیڑ قدرت کے ان حسین نظاروں کو کچرے میں تبدیل کرتی نظر آتی۔ ہم بھی آدھ کٹا چڈا پہنے گاڑی سے اتر کر ان کے بیچ اپنی پھنسی زدہ ٹانگیں لئے کھڑے ہوجاتے۔

موبائل فون سے اردگرد کی عکس کشی کا بھرپور مظاہرہ کرتے۔ جب پتہ چلتا کہ لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں تو فورا پرے کھڑی گاڑی کے ڈرائیور کو آواز دے کر ٹھینگا دکھاتے تاکہ معلوم پڑے کہ ہم ایک عدد کار بھی رکھتے ہیں۔

بہتے پانی کا چلو بھرتے اور اس احتیاط سے منہ میں ڈالتے جیسے ہم کراچی اورنگی ٹاون سے نہیں بلکہ سوئیٹزرلینڈ سے آئے ہوں۔
۔
حالانکہ کراچی میں جب بھی ہم پانی پینے سے پہلے گلاس میں جھانکتے ہیں تو لازمی اس عجیب الخلقت باریک سے کیڑے کو لچکدار کرتب دکھاتے ہوئے پایا ہے۔ ہم اس وقت ہی گھونٹ لیتے جب وہ لپکتے پنپتے سمٹتے سطح سے نیچے چلا جاتا تھا۔

جب ہم اپنے منزل مقصود پر پہنچ گئے تو میری نظر میرے دوست پر پڑی جو مع اپنے والد اور کچھ اور رشتے داروں کے ہمارے استقبال کے لئے موجود تھا۔ سب باری باری اس جاندار انداز میں ہم سے بغلگیر ہوئے کہ ہمیں محسوس ہونے لگا جیسے اس عمل کے بعد بارود سے بھری گاڑی میں بٹھا کر کہیں خودکش حملے کے لئے بھیج دیا جاؤنگا ۔

سب سے ہاتھ ملایا اور ساتھ ہی ایک نامعلوم زبان میں احوال کا یکطرفہ تبادلہ ہوا۔ کیونکہ میں صرف ان کے جواب میں بس سر کو ہی جنبش دیتا اور ساتھ ہی لفظ ” آہو” غیر شعوری طور پر ادا کرتا۔ مگر جب ہم دیکھتے کے سامنے والے پر ہمارا “آہو” اثر انداز نہیں ہورہا تو yea yea کہتے، جس سے مخالف مغلوب ہوکر سائڈ پکڑ لیتا۔

نجانے کیوں ان (رام گڑھ) کے باسیوں نے ہمیں بھی مقامی سمجھ لیا تھا شائد رنگت کی وجہ سے۔ ٹہلتے پھرتے جدھر جس باغ کھیت کھلیان و نہر کی جانب جاتا لوگ مقامی زبان مین سوال کرتے اور میں معذوری کے عالم میں اپنے میزبان دولھے کو دیکھتا۔ وہ بیچارا لگ بھگ پچاس لوگوں کو میرے متعلق بتا چکا تھا، کہ میں کراچی کا برائے نام پٹھان ہوں، مجھے صرف پشتو آتی ہے اور کچھ پشتو نژاد اردو و انگریزی بھی۔ مگر ان سب کے باوجود بھی لوگ اپنی روش پر قائم رہے۔

بلآخر میرا میزبان تنگ آگیا اب جو بھی مجھ سے مقامی زبان میں بات کرتا تو وہ بیزار ہوکر غصے میں ایک زوردار قسم کی تقریر شروع کرتا، یوں جیسے کہہ رہا ہو “تم لوگ کو کتنی بار بتا چکا ہوں کہ اس خبیث کو ہماری زبان سمجھ نہیں آتی، نہیں آتی، نہیں آتی مت تنگ کرو اسے۔‘‘ پھر شہادت کی انگلی اٹھا کر ہلاتے ہوئے کہتا “اب اگر کسی نے اس دھرتی کے بوجھ سے مقامی زبان میں بات کی تو واللہ اس کو میں پاس والے دریا میں پھینک آوں گا”۔

بات ختم کرتے ہی مجھے ان نظروں سے دیکھتا جیسے میں دسویں بار گاؤں کی مسجد سے چپل چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہوں اور آپ جناب میری آخری بار ضمانت لے رہے ہوں۔
۔
شادی کی رات ایک ہال یا صحن میں مخلوط گھریلو محفل کا انعقاد ہوا۔ جس میں ہمیں بھی شرکت شرف عطا ہوا۔ دریوں پر بیٹھے ہوئے ایک جانب مردوں کا حلقہ تھا جبکہ کچھ فاصلے پر خواتین کا۔ بیچ کی خالی جگہ میں مقامی لوک فنکار قدرے دھیمی آواز میں اپنے فن سے شرکاء کو محظوظ کرنے میں مصروف تھے۔

بزرگان محفل جو اگلی نشستوں پر براجمان تھے وقتافوقتا داد و تحسین کی مد میں فنکاروں کو خاموشی سے دس کا نوٹ پکڑاتے۔ کافی دیر جاری رہنے کے بعد وقفہ ہوا۔ اس دوران ایک گلابی رنگ کا شربت ہمیں اور کچھ اور مہمانوں کو پیش کیا ساتھ ہی نشستوں میں رد و بدل بھی ہوئی، بزرگان محفل پیچھے آگئے اور ملت کے پاسبان یعنی ہم جوان فنکاروں کے روبرو بٹھا دیئے گئے۔ اب کی بار سنگیت مختلف، آواز بھی اونچی، انداز بھی مست، ساتھ کچھ لوگ نے جوش میں آکر رقص بے سروپا شروع کردیا، جس پر مجھے بھی کھنچتے ہوئے رقص پیش کرنے کا کہتے۔ کراچی میں تو ہم نے کبھی کسی موقع پر ڈانس کا مظاہرہ نہیں کیا مگر یہاں نجانے کیوں دل میں شوق اٹھا کہ ایک ایک ہاتھ ہوجائے۔ وہ بھی اس صورت کہ میزبان خوب اصرار کرے تاکہ لوگ یہ سمجھے کہ میزبان کے بے حد اصرار پر بندہ ناچ رہا ہے۔ ورنہ ناچ سے ان کا دور دور تک تعلق نہیں ہے۔

ابھی میں اس کشمکش میں تھا کہ خواتیں کے درمیان سے ایک لاغر عمررسیدہ عورت پنڈال کے عین بیچ و بیچ کھڑی ہوئی، ٹانگوں کو زرا فاصلہ دیکر ہاتھ اس مخصوص انداز سے پھیلائے جیسے صلیب پر کوئی مصلوب کردیا گیا ہو۔ محو رقص بوڑھی عورت نے جھومتے ہوئے لب و چشمان سے پراسرار قسم کے اشارے شروع کردئے۔ ہتھیلیوں سے پرے ہٹانے کے اشارے شروع کئے۔ جیسے جنات یا خبیث ارواح کو دور ہٹنے کا کہہ رہی ہو، ان کے اس رقص نے ہم پر غائبانہ سا رعب طاری کردیا مگر اس کے باوجود مجھے اچھا لگا۔

میرے دولھے دوست نے مجھے بھی زبردستی اٹھا لیا جس میں کچھ کچھ میری رضا بھی شامل تھی۔ میں نے بجائے کوئی دوسرا آئٹم پیش کرنے کے بوڑھی اماں کا ساتھ ہی دینے کا فیصلہ کیا۔ ہاتھ پھیلا کر ان کے روبرو کھڑے ہوکر جنات و دیگر مخلوقات کو دور ہٹنے کے اشارے شروع کردیئے۔ بس ایک اسٹیپ کا مزید اضافہ کیا کہ ہاتھ پھیلا کر گول گول گھومنا بھی شروع کیا تاکہ یہ غیبی مخلوق جہاں کہیں کسی کونے کھدرے سوراخ میں بھی چھپی ہو تو ہمارے رقصانہ عملیات کا نشانہ بن جائے، اور حاضرین محفل کی جان بخشی ہو۔

صبح جب میں دیر سے اٹھا تو میرا دوست چائے کی کیتلی اور پراٹھوں کی چھاپڑی اٹھائے مسکرا رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتایا رات کو تمھیں بھنگ نہیں پینی چاہئے تھی، پوری رات تم نے ادھم مچائے رکھا، سب گاوں والے حیران ہو رہے تھے۔

وہ مشروب جو میں گلاب کا شربت سمجھ کر پی گیا تھا وہ بھنگ تھی۔ آہ یہ کیا کیا میں نے۔

افسوس و شرمندگی کے احساسات لئے سب سے رخصت چاہی اور نکل آیا۔ اڈے تک مجھے میرے میزبانوں نے چھوڑا۔ اس دوران گاؤں کا کوئی فرد بھی مجھے دیکھتا تو ایک بار ضرور گول گول گھوم لیتا تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: