پاکستان کی وال اسٹریٹ اور اخبار مارکیٹ : سید مظفر الحق

0
  • 24
    Shares

مصنف

کراچی میں کھارادر نامی علاقہ جو قائد اعظم کی جائے پیدائش ہے اس کے عقب میں ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ کے سنگم پہ سربلند پتھریلا میری ویدر ٹاور ہے۔ یہی چندریگر روڈ کا اختتام ہے جو یہاں سے ایم اے جناح روڈ میں ضم ہوجاتی ہے ۔ اس سڑک کا دوسرا سرا سرا شاہین کمپلکس اور مورننگ نیوز کے دفتر کے پاس سے کئی حصّوں میں تقسیم ہو کر گورنر ہاؤس، پی آئی ڈی سی ہاؤس، برنس روڈ اور صدر کی طرف جانے والی ذیلی سڑکوں میں بٹ جاتا ہے یہ سڑک جو صرف چند فرلانگ یا شاید میل بھر لمبی ہے مگر اس کا اختصار اتنا کچھ سمیٹے ہوئے ہے کہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

بقول غالب اس طرہ پر پیچ و خم کے پیچ و خم بہت ہیں ۔ اسی سڑک پہ پاکستان کے ان تمام معروف اور معیشت کی رگوں میں لہو دوڑانے والے بنکوں کے صدر دفاتر کے علاوہ اسٹاک اکسچینج اور کاٹن اکسچینج کی عمارات ہیں یہ نامی گرامی بنک جن کی کوکھ سے BCCI اور حبیب اے جی زیورچ جیسے بنکوں نے جنم لیا اور جن کی شاخیں اندرون ملک سے لے کر غیر ممالک تک پھیلی ہویی ہیں ۔ ان میں ملکی اور غیر ملکی دونوں بنک شامل ہیں اسی لئے اگر لوگ اسے پاکستان کی وال سٹریٹ کہتے ہیں تو شاید ایسا کچھ بے جا بھی نہیں ۔ گرمی کے موسم میں اس کا کولتار پگھلتا ہے تو برکھا رت میں اس پہ ایک دریا رواں ہوتا ہے اور بنک کےسفید پوش بابو دریا پار بھی پھول کھلے ہیں آجاؤ گنگناتے ہوئے پتلون کے پائنچے اوپر چڑھائے چھپا چھپ کرتے نظر آتے ہیں۔

ٹاور سے شاہین کمپلکس کی طرف چلنا شروع کریں تو سب سے پہلے بنک دولت پاکستان ہے جسے زاہد حسین جیسے با کمال انسان سے غلام اسحاق خان جیسے کھرے انسان بحیثیت گورنر اپنے اپنے دور اقتدار و منزلت میں تمام تر صلاحیتوں سے توانائی بخش گئے۔

چند ہی قدم کے فاصلے پہ مسلم کمرشل بنک کا صدر دفتر ہے وہ بنک جسے آدم جی گروپ نے خون سے سینچا اور قومی ملکیت کے نام پہ غصب کر کے بعد اشاں حسبِ منشا میں منشاء کو سونپ دیا گیا ۔اسی مسلم کمرشیل بینک کی انجمن ملازمین کے صدر عثمان غنی تھے جن کے صاحبزادے سینیٹر سعید غنی ہیں۔

ذرا اور آگے نیشنل بنک ہے جس کی عمارت کے کسی کمرے میں ممتاز صاحب، جمیل الدین عالی، ابو صالح اصلاحی اور جمیل نشتر جیسے صاحبان علم و فن بنکاری کے ساتھ علم و ادب کی جوت جگائے رکھتے تھے – نیشنل بینک کے پہلو میں جوبلی انشورنس اور اسٹیٹ لائف کی عمارات میں یونائٹڈ بنک ہے جس میں ابن حسن برنی جن کا ذکر شہاب نامہ میں اور زرگزشت میں ہے وہ اور آغا حسن عابدی پھر ان کے بعد مشتاق احمد یوسفی جیسے گنجہائے گرانمایہ اپنی چمک دمک دکھاتے تھے۔

آغا صاحب نے پاکستان کے لئے بہت کچھ کیا لیکن جس مقام اور اعزاز کے مستحق تھے وہ ہم انہیں نہ دے سکے ۔ جی ہاں وہ ہی آغا حسن عابدی جس نےیونائٹڈ بنک کی ٻناء ڈالی، بی سی سی آئی جیسا عالمی بنک تشکیل دیا، جس کی ادب نوازی اور فن کی سرپرستی سے صادقین، جوش، گل جی ، افتخار عارف سب فیضیاب ہوئے ۔ جس نے پاکستان کے سائنسی اور اسلامی تحقیقات اداروں کو گراں قدر عطیات سے نوازا، لندن میں الطاف گوہر کے ذريعے تھرڈ ورلڈ میڈیا قائم کر کے یہودیوں کی اجارہ داری کو چلنج کیا اور اس کی سزا بھی ملی، جس کے لئے بڑے بڑے قدآور اور نامور لوگ ائرپورٹ پہ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار فدویانہ انداز میں استقبال کرنے کے منتظر ہوتے تھے ۔ کہتے ہیں جب وہ مرا تو کراچی میں اس کے جنازے میں ایک بس بھر کر بھی لوگ نہ تھے۔

عبدالکریم عابد

بنکوں کی یہ لمبی قطار پشاور سے چلنے والی ریل کے آخری پڑاؤ یعنی سٹی اسٹیشن کے آس پاس تمام ہوتی ہے۔ سٹی اسٹشن کہ ساتھ ہی وہ پتھریلی عمارت ہے وہ بنک ہے جس سے مشتاق یوسفی نے اپنی بنکنگ کا آغاز کیا اور اپنی شہکار تصنیف “زرگزشت” میں تفصیل سے بیان کیا ہے ۔جسے پڑھتے ہوئے کبھی آنکھوں کے گوشے نمناک محسوس ہوتے ہیں کبھی ہونٹوں پہ وہ ہلکی سی لکیر کھینچ جاتی ہے جسے مسکراہٹ سے موسوم کرتے ہیں پر وہ کبھی کھلکھلاہٹ اور دندان نمائی تک نہیں پہنچ پاتی، یہ ہی یوسفی صاحب کا کمال ہے۔

جب یہ بنکوں کی صف بندی اور سربلندی ختم ہوتی ہے تو نیو چالی سے وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے، جسے یار لوگ اخبار مارکیٹ سے موسوم کرتے ہیں یہیں روزنامہ مساوات تھا جس کی ایک تنگ سی میز پہ آج کے ٹی وی پرسن اینکر پرسن اور ہمارے ہم مکتب مرزا ناصر بیگ چغتائی پاؤں پسارے سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ملتے تھے اور اس کے قریب ہی ہفت روزہ تکبیر کا دفتر تھا جس کے درویش صفت عبقری مدیر سید صلاح الدین کو اس کے دفتر میں اختلاف رائے کی پاداش میں حکیم سعید کے قاتلوں والے دہشت گرد گروہ نے خون میں نہلا دیا ۔صلاح الدین صاحب دبئی آئے تو انہیں کچھ دوستوں کے ساتھ آبشار ہوٹل میں لنچ پہ مدعو کیا جہاں ان سے بہت سی باتیں تا دیر رہیں اور یہ ان سے آخری ملاقات تھی۔

بھولو برادران کے دار الصحت اور پاکستان پوسٹ آفس کی دیواروں کے ختم ہوتے ہی روزنامہ جنگ اور جنگ گروپ کا آفس ہے جس کے سامنے ایک سال خوردہ نیم پختہ سا ریستوران ہوا کرتا تھا جو شاید اب بھی ہو وہاں اس وقت کے بڑے بڑے صحافی اور لکھاری تازہ دم ہونے اور چائے کی چسکی کے ساتھ گپ شپ کرنے آتے تھے ۔ جنگ کے برابر روزنامہ آغاز اور جسارت کے دفتر تھے- اس سے ذرا ہی آگے دائیں ہاتھ کی جانب مارننگ نیوز کا دفتر اور پھر ڈان گروپ کے اخبارات کہ عمارت تھی جہاں روزنامہ حریت کے دفتر میں اے آر ممتاز، رضاعلی عابدی اور دیگر نامور صحافی پائے جاتے تھے۔

بحیثیت طالب علم اور انجمن مصنفین طلبہ کے جنرل سیکریٹری کے ہماری تگ و تاز کا محور یہ ہی گلیاں اور عمارات تھیں ۔
روزنامہ جنگ کا صفحہ طلبہ بڑا معتبر اور مقبول تھا جس کے ایڈیٹر تب نثار زبیری تھے جو بعد میں اخبار جہاں کےایڈیٹر ہوئے لیکن ہمارا ان سے رشتہ ویسا ہی رہا جیسا صفحہ طلبہ کے زمانے میں تھا ۔ یہ مشہور تھا کہ جو اس صفحے پہ کالم لکھے گا وہ ہی کراچی يونيورسٹى کی طلبہ انجمن کے انتخابات میں جیتے گا۔ صفحہ طلبہ کے اس زمانے کے لکھنے والوں میں گیلپ والے ڈاکٹر اعجاز شفيع گیلانی، بی بی سی کے شفيع نقی جامعی، پروین شاکر، جلیس سلاسل، نقاش کاظمی، اشرف شاد، پروفیسر زاہد حسین صدیقی، یوسف علی، عرفان علی یوسف، عفٽ گل اعزاز، راشدہ افضال اور عبد الملک مجاہد، صوبائی محتسب اسد اشرف ملک، عقیل عباس جعفری، سہیل برکاتی اور اس وقت کے بہت سے با صلاحیت طلبہ شامل تھے جو عملی زندگی میں مشہور و مقبول ہوئے۔

شفیع نقی جامعی

کبھی کبھی ان دفاتر کے سامنے جماعت اسلامی کراچی کے سابقہ امیرجناب محمّد حسین محنتی اور امّت پبلیکشنز کے نصیر احمد سلیمی جلوسوں میں بازو لہرا لہرا کر اور گلے کا پورا زور لگا کر نعرہ زن نظر آتے تھے۔ روزنامہ جنگ کی عمارت میں پہلی منزل پہ نثار زبیری، سید محمّد تقی، شفيع عقیل، انعام دررانی (جنہیں سب ڈیڈی کہتے تھے) ظہور بھوپالی شہید، محمود احمد مدنی، عارف اسحاق مرحوم اور ہمایوں عزیز ہوتے تھے یہ ہی یہی عمارت گاہے گاہے ہنگامہ ہائے ہو کا بھی نشانہ ہوتی اور اسی عمل کا شاخسانہ تھا کہ اپنے خلاف ایک اشتعال انگیز اور پرتشدد مظاہرے کے بعد جنگ کے اس وقت کے ایڈیٹر سید محمد تقی ایسے خوفزدہ ہوئے کہ راست سے پلٹ کر گئے تو استعفیٰ دے کے گھر بیٹھ گئے اور پھر واپس اس دفتر میں کبھی نہیں آئے۔

دراصل جنگ کی کثیرالاشاعتی کے سبب ہر سیاسی مزدور اور طلبہ جماعت کی یہ کوشش اور مطالبہ ہوتا تھا کہ اس کی خبر کو اولیت اور مناسب جگی دی جائے، اب جس کی بھی خبر شائع ہونے سے رہ جاتی تھی وہ یہیں دھاوا بولتا تھا۔ ان دنوں لوہے کی جالیاں اور مسلح دربان نہیں تھے۔ پھر جب ہمارے ممدوح اور مہربان نثار زبیری جو اب ڈاکٹر اور جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے استاد ہیں۔ اخبار جہاں کے اڈیٹر ہو کر تیسری منزل کے کمرے میں منتقل ہو گئے تو ہمارا آنا جانا وہاں زیادہ ہو گیا۔

نثار زبیری

نثار زبیری کے برابر والے کمرے میں مجیب الرحمن شامی اور اس کے مقابل اطہر بھائی کا کمرہ تھا جنہیں لوگ اطہر نفیس کے نام سے جانتے ہیں اور ان سے زیادہ فریدہ خانم کی گائی ہوئی ان کی غزلیں “وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا” اور “اطہر تم نے عشق کیا تھا کچھ تو کہو ۔۔۔” مشہور ہیں ۔
اطہر بھائی نے شادی نہیں کی تھی اور بقول عبید اللہ علیم۔
“کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو ہم نے جیون ہار دیا”
اطہر بھائی اب نہیں رہے جب تھے تو اکثر نثار زبیری کے کمرے سے پکڑ کر لے جاتے اور اپنے تجربات کی روشنی میں وہ پند و نصائح سناتے جو اب جا کر سمجھ میں آتے ہیں

اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیش عشق

مجیب شامی جو ان دنوں غالباً ان دنوں موسٹ eligible بیچلر تھے اور ایس ایم کالج کے ہوسٹل میں ان کا قیام تھا انہیں اب ٹی وی پہ دیکھو تو لگتا ہے زبان حال سے کہہ رہے ہیں، تم جیسا دیکھتے ہو میں ایسا نہ تھا کبھی- جنگ کےدفتر سے نکلتے تو جسارت کی چھتر چھایا ہوتی اور ہم جہاں عبد الکریم عابد، سید صلاح الدین، ثروت جمال اصمعئ اور دیگر لوگوں سے اکتساب فیض کے ساتھ اپنے اور دوسرے احباب کے مضامین کی اشاعت کی کوشش کرتے کہ تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے۔

اب بھی وہ ہی چندریگر روڈ، وہ ہی بنکوں کی عمارات اوراخبارات کے دفاتر ہیں لیکن وہ لوگ نہیں، نہ آغا حسن عابدی، ابن حسن برنی، جمیل نشتر اور غلام اسحاق بنکوں میں ہیں نہ ہی عارف اسحاق، عبد الکریم عابد، سید صلاح الدین، انعام دررانی، سید محمّد تقی، اطہر نفیس اور بہت سے دوسرے ان اخبارات میں اور نہ ہی اس دنیا میں رہے ۔ پھر بھی وہاں سے گزرتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے یہ سالخوردہ عمارتیں ان مکینوں کو یاد کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: