“بابو” ——- ایک غیر سیاسی کہانی : نبیلہ کامرانی

1
  • 118
    Shares

آج ہم آپ سب کو اندرون شہر کی مختصر سی کہانی سنائیں گے۔

کراچی کے پرانے علاقے گولی مار کی کہانی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد یہ خاندان پہلے مہاجر کیمپ، پھر لیاری اور انیس سو پچاس کے اوائل میں گولی مار میں اپنا گھر بنا کے منتقل ہوا۔ یہ ایک روایتی گھرانہ تھا، جہاں دو بھائیوں کے اٹھارہ بچے آباد تھے، دونوں برادران سرکاری ملازمت کرتے تھے اس لیے آمدنی بہت محدود تھی، سادگی کا زمانہ تھا۔ گھر کا نقشہ بڑے ابا نے خود ہی بنایا تھا، نقشے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کچھ بھی خاص نہ تھا، سب کچھ سادہ سے سادہ ایوریج سے بھی ایوریج تھا۔

ایک کوٹھری نما کمرے سے دوسرے کا کمرے کا راستہ، چھوٹے چھوٹے پانچ چھ کمرے، زرد روشنی والے بلب اور فیروزی رنگ سے رنگی ہوئی دیواریں، جن پے جا بجا بچوں کی تحریر ہوا کرتی تھی۔ گھر میں چوبیس گھنٹے بیس، بائیس افراد ہونے کی وجہ سے کھانا تیار ہو تے ہی چھوٹی کٹوریوں میں تقسیم کر دیا جاتا تاکہ سب کو ایک برابر مقدار میں کھانا مل سکے۔

گھر کے سب سے چھوٹے بچے کو بابو کے نام سے پکارا جاتا۔ ابا، بڑے ابا اور دادا ابا سب ہی بابو کو خصوصی اہمیت دیتے، گھر میں موجود تمام خواتین بھی بابو سے خصوصی محبت اور شفقت سے پیش آتیں۔ کچھ خاص تو تھا، جو سب کی توجہ کا مرکز بابو تھا۔

ہر گھر میں گھریلو سیاست ہوتی ہے یہ گھر بھی اس سے محفوظ نہیں تھا۔ دادی اپنی بہواور بیٹوں کی ساری رپورٹ اپنے پوتے پوتیوں سے حاصل کرتی تھیں۔ اسی طرح گھر کے دیگر افراد بھی اپنا اپنا جاسوسی نظام چلاتے تھے، اس سیاسی ڈرامے میں بھی بابو نمبر 1 تھا۔

جب بھی ابا کو بڑے ابا پے غصا آتا تو بابو ماوتھ پیس کے طور پے استعمال میں آتا۔

مثلاً، بڑے ابا کبھی بھی بلب اپنے پیسوں کا نہیں لاتے تھے، اور جب کبھی انکے کمرے کا بلب گل ہوتا تو وہ خاموشی سے برآمدے کا بلب اتارتے اور اپنے کمرے کا خراب بلب برآمدے میں لگا دیتے۔ پھر بابو ابا کی آواز بن کے برآمدے میں چنگھاڑتا!!

یہ کیا بد تمیزی ہے، مجھے معلوم ہے یہ کس کی حرکت ہے۔ دوسرے دن ایک دم سے خراب بلب کی جگہ نیا بلب اجاتا۔

آہستہ آہستہ بابو نے چنگھاڑنے میں اپنا ایک مقام پیدا کر لیا۔ سب گھر والے با وقت ضرورت بابو کو چونی تھما کے اپنا پیغام اپنے نشانے پے پہنچا دیتے۔

ایک روز دادی اماں کو دادا ابا پے بے حساب غصہ آیا، لیکن اس زمانے میں خواتین کا منہ پے گالی دینے کا رواج عام نہ تھا نہ ہی دھرنے یا پلے کارڈز ہوا کرتے تھے، دادی اماں نے بابو کو چونی کی لالچ دی، بابو نے برامدے میں کھڑے ہو کر با آواز بلند دادی کے دل کی باتیں نشر کر دیں۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہوائی فائرنگ نشانے پے ہی لگی۔

ظاہر ہے دادا کو بھی اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بابو کو ہی استعمال کرنا تھا سو انہوں نے بھی وہی کیا، ایک دم اپنی نشست سے اٹھے لنگی کسی اور بابو کو زوردار تماچہ لگایا ابھی وہ اس صدمے سے نکل بھی نہ پایا تھا کہ وہ اسے کان سے گھسیٹتے اپنے کمرے سے متصل کوٹھری میں لے گئے اور دروازہ باہر سے بند کر دیا، راستے میں بابو نے غیر مشروط معافی کی بڑی درخواست کی لیکن دادا نے ایک نہ سنی۔

اٹھائیس روز بعد بابو آزاد ہوا، آزادی ملتے ہی دادی، امی اور بڑی اماں نے بہت لاڈ پیار سے بابو کو دادا کے خلاف پہلے سے زیادہ بھر دیا، اس مرتبہ بابو نے دادی اماں کی گود میں بیٹھ کے دادا کو با آواز بلند برا بھلا کہا، اس بار کچھ گالیوں کا اصافہ بھی تھا۔

جیسے ہی غریب ماوتھ پیس جو اس مرتبہ دادی اماں کی اٹھنی سے لاؤڈ اسپیکر بنا تھا، گود سے اترا تو دادا نے گرجدار آواز میں کہا میں سب سن رہا ہوں۔۔

اسے لمحے بابونے اپنی اصلی کمزور سی آواز میں کہا
میں تو ایکٹنگ کررھا تھا، مائی باپ، غریب ہوں، معاف کردو
I am joking, I am a joker
میں بہت ٹینشن میں تھا
میں تو مذاق کر رہا تھا، ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔۔

لیکن یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ آج تک دادا کے غضب سے کوئی کہاں بچ سکا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: