عورت، برصغیر اور سماج ۔۔۔۔ قسط 2 : حبیبہ طلعت

0
  • 194
    Shares

“عورت، برصغیر اور سماج” مضامین کے اس سلسلے کے ضمن میں، جس کا پچھلے مضمون میں ہم نے قارئین سے وعدہ کیا تھا، آج پھر دوستوں کے سامنے حاضر ہوں۔ آج ہم خصوصی طور پر تاریخ کے پس منظر میں سماج کے حوالے سے برّ صغیر کی عورت کی بات کریں گے۔

وکی پیڈیا کے مطابق؛
” معاشرہ افراد کے ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جس کی بنیادی ضروریات زندگی میں ایک دوسرے سے مشترکہ روابط موجود ہوں اور معاشرے کی تعریف کے لیے یہ لازم نہیں کہ ان کا تعلق ایک ہی قوم یا ایک ہی مذہب سے ہو۔”

عورت کے حوالے سے متعدد مختلف سلطنتوِں کے زیر تسلّط رہنے والے اور پے در پے حملے سہنے والے وسیع و عریض برصغیر کے معاشرتی خدو خال کا اندازہ لگانے کے لیے ہم یہی تعریف استعمال کریں گے. جی ہاں، ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے سے لے کر بحر ھند کے پانیوں میں واقع جزائر تک، دنیا کے دو بڑے دریاؤں گنگا اور سندھ کی زرخیز وادیوں کا دیس برصغیر پاک و ھند. قوموں کے مزاج جغرافیہ سے بنتے ہیں۔ موسم، زمین کی ہمواری یا اونچ نیچ، پانی کی فراوانی یا تنگی__  ان سے نباتات اور ان سے بننے والی زمین کی شکلیں اور ان کے ساتھ وابستہ حیوانی زندگی__ یہ سب قوموں کا مزاج مرتب کرنے میں نمایاں عمل دخل رکھتے ہیں. چنانچہ چاہے قدیم ہندو تہذیب ہو، 1192 سے لے کر 1857 تک مسلمانوں کی سلطنتوں کا زمانہ ہو یا برطانوی شہنشاہیت کے زیر نگیں برٹش انڈیا، اس خطے کی گنجلک تاریخ اور گوناگوں ثقافتی روایات میں عورت کا مقام و کردار بڑی حد تک یکساں ہی نظر آتا ہے.

(اب چونکہ پاکستانی سماج کی نمود و پرداخت برصغیر کے ہی رسوم و رواج سے ہوئی ہے تو ہمیں لامحالہ پاکستانی عورت کے مقام کا جائزہ برّصغیر کی تاریخ کے پس منظر میں ہی لینا ہوگا). اس علاقے میں عورت کا کردار ہمیشہ سے ثانوی ہی رہا ہے. شاید دراوڑوں کے زمانے میں حالات کچھ مختلف رہے ہوں، مگر آریا سماج کے بعد عورت گھر یا گھر کے آس پاس کے کاموں کے لیے ہی مخصوص کر دی گئی تھی. ذات پات سے بُنے ہوئے اس سماج میں ہر طبقے کی عورت کی حیثیت گو اپنے طبقے کے مطابق ہی رہی، مگر عورت کو برابری کی سطح پر کبھی بھی نہیں رکھا گیا. وجہ یہی تھی کہ علاقے کی معیشت زراعت کے گرد گھومتی تھی اور زراعت کی معیشت کو مرد کے جسم کی طاقت درکارتھی. پس بنیادی محنت کش مرد ہی تھا، بہ نسبت ان خطّوں کے جہاں معیشت مویشی پالنے کے گرد گھومتی تھی اور جہاں عورت بھی اس معیشت میں برابر کا کردار ادا کرتی تھی.

مذہب، تہذیب اور قانون کی ازلی تکون پاک و ہند میں بھی ویسے ہی اثر انداز ہوتی رہی جیسے دیگر معاشروں میں ہوتی تھی. لیکن ہندوستانی سرزمین کی ایک خاص بات یہاں کے معاشرے کی افقی اور عمودی تقسیم در تقسیم رہی. سر زمین عرب میں قبائل بہت تھے اور یہ عمودی تقسیم شدید مگر سادی تھی. ان کے قبائلی مفادات مختلف ہوتے تھے مگر ان کی تاریخ، زبان، مذہب، قوانین اور ثقافت بڑی حد تک یکساں تھی. اس کے مقابلے میں برّ صغیر میں مختلف علاقوں میں مختلف نسلیں آباد تھیں جن کی تاریخ اور زبان ایک دوسرے سے انتہائی مختلف، مذاہب مختلف، ثقافتیں مختلف، قوانین مختلف اور فکری انداز مختلف تھے. یہاں کی تاریخ دریائے سندھ کی مانند رہی جس میں جگہ جگہ مختلف دریا آکر ملتے ہیں اور دریا کے پانی کو ایک نئی شناخت دیتے ہیں. اسی طرح ہندوستان میں بھی مختلف ادوار میں مغرب، جنوب اور شمال سے لوگ آتے رہے اور اپنے ساتھ اپنے تہذیبی عناصر لاتے رہے. ایسے میں عورت کی حیثیت بدلتی رہی. کہیں وہ راجکماری بن کر سوئمبر رچاتی رہی، کہیں ودھوا ہو کر ستی ہوتی رہی، کہیں مندروں کی داسی رہی اور کہیں طوائف۔ کچھ طبقوں نے اسے گھروں میں قید کر دیا. کہیں وہ کنیزوں اور باندیوں کے روپ میں ظلم سہتی اور اپنے مالکوں کو تفریح فراہم کرتی رہی اور کہیں جانوروں کی دیکھ بھال، دودھ دوہنے، مویشی چرانے اور کھیتوں پر فصل کی کٹائی کا کام کرتی رہی تو کہیں پتھر کوٹتی اور اینٹیں بناتی نظر آتی تھی.

مذہب، تہذیب اور قانون کی ازلی تکون پاک و ہند میں بھی ویسے ہی اثر انداز ہوتی رہی جیسے دیگر معاشروں میں ہوتی تھی. لیکن ہندوستانی سرزمین کی ایک خاص بات یہاں کے معاشرے کی افقی اور عمودی تقسیم در تقسیم رہی.

مسلم حکمرانوں اور اشرافیہ نے جہاں حدود کو وسعت دینے، امن و امان اور رفاہ عام سے متعلق سلطنت کے انتظامات کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے، وہیں شہزادوں کے ساتھ ساتھ شہزادیوں کی تعلیم و تربیت کا بھی خاص انتظام رہا. تاہم امراء و نوابین کے ایک طبقے کے سوا عوام کے لیے، خصوصاً عورتوں کے لیے تعلیم و تدریس کا زیادہ اہتمام نہیں کیا گیا.  انگریز کی آمد کے بعد بھی عورت کے لیے تعلیم کے مواقع محدود رہے. عموما لڑکی کو تیسرے سے پانچویں درجے تک پڑھا کر بالغ ہوتے ہی یا اس سے بھی پہلے کسی طور بیاہ کر رخصت کر دیا جاتا تھا. اب کسی اکا دکا باذوق عورت کو سازگار ماحول ملا تو اس نے تھوڑا بہت ادب و تاریخ کا مطالعہ کر لیا ورنہ مجموعی طور پرعورت کو بس خانہ داری کے امور میں طاق ہونے اور سلیقہ مند ہونے کی ہی تلقین کی جاتی رہی. بجا کہ گھر کا میدان عورت کا اصل میدان کار ہے جس سے نبٹنے کی صلاحیت ہونا چاہیے مگر آج کے دور میں گھر سے باہر کی دنیا سے مقابل ہونے کے لیے اسے مناسب تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے، جس کا نہ ہونا اس کو گھر کے مردوں کا محتاج بنا دیتا ہے۔

ان مختلف ثقافتوں میں اگر کہیں عورت نے شناخت حاصل بھی کی تو اسے قدامت پرستی سے شدید مقابلہ درپیش رہا۔ خاص کر مسلمان عورت کو انگریز کے دور میں. اسے گھر سے باہر نکلنے اور مردوں کے شانہ بشانہ تعلیم حاصل کرنے پر اخلاق باختہ تک کہا گیا. مثبت تبدیلیوں کو بھی قبول کرنے میں مزاحمت کرنے کے لیے اسے مغرب کی آلہء کار اور یہودی ایجنٹ کہنا تو ہر قدامت پرست کے لیے بہت آسان تھا. انگریز کے آنے بعد جغرافیائی حالات میں تیز رفتار تبدیلیوں کی وجہ سے، جن میں نہری نظام، پٹری اور سڑک کے ذرائع مواصلات، بڑے شہروں کا وجود میں آنا وغیرہ شامل ہیں، اور عُمرانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی تبدیلیاں بھی وقوع پذیر ہوئیں. مگر پرانی ذہنیت کا آسیب جان چھوڑنے کو تیّار نہیں. یہ آسیب اب بھی عورت کو باندی اور کم حیثیت وجود دیکھنا چاہتا ہے اور اس کے لیے مذہب، رواج، فرسودہ اخلاقی روایات اور ظالمانہ قوانین کا سہارا بڑی شدّ و مد سے لیتا ہے. ہمارے سماج میں اب بھی ایسے واقعات بکثرت سامنے آتے ہیں، جن میں صدیوں پرانی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے عورت کی تحقیر و تذلیل کی جاتی ہے. عورت کے جسمانی اور شعوری وجود کو انسان تسلیم کرنے سے یکسر انکار کا یہ چلن آج اکیسویں صدی میں بھی پھنکار رہا ہے. عورت آج بھی پاؤں کی جوتی ہے. عورت آج بھی مرد کے لیے جائیداد تصور کی جاتی ہے. عورت کا شوہر کے ساتھ ستی ہونا تو انگریز نے زبردستی ختم کیا، لیکن مطلقہ یا بیوہ ہونے کی صورت میں اس کی دوسری شادی کو قباحت تصور کرنا اورعورت کو وراثت کا حق نہ دینا آج بھی عام ہے. ظاہر ہے یہ معاشرہ ایک پدرسری معاشرہ ہے،جہاں مرد کو سر کا تاج کہا جاتا ہے، مرد دینی اور اخلاقی روایات یا ضابطوں کو توڑے تب بھی اس کا مقام وہی رہتا ہے.

یہ بھی پڑھئے: اکیلی عورت، اکیلی کیوں ہے؟

برصغیر میں ذات پات کا تصور اتنا گہرا تھا اور اب بھی ہے کہ اسے بہشتی زیور جیسی مقبول کتاب میں بھی سند فراہم کی گئی اور فقہ کی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر یہاں تک کہا گیا کہ اگر کسی عورت نے اپنے میل یعنی برابر کی ذات اور سماجی حیثیت یا بالاتر سے نکاح نہیں کیا اور کم ذات سے نکاح کر لیا اور اس پہ اس کا ولی رضامند نہ ہوا تو فتوی یہ ہے کہ نکاح درست نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے یہ متعدد آراء میں سے ایک ہے مگر رائج الوقت معاشرتی نظام کو بچانے کے لیے ہر چیز روا رکھی گئی. اسی نسلی اور مذہبی تفاخر سے گردن اکڑا کر عورت کے اس اہم ترین حق یعنی مرضی کے نکاح پر قدغن لگائی گئی، جس کے نتیجے میں آج بھی غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں. تعلیم کے علاوہ بھی علاج معالجہ اور دیگر ضروریات زندگی کے لیے خاندان کے مردوں نے کوئی مستقل بندوبست رکھا ہی نہیں کیوں کہ گھر سے باہر اور بازاروں میں عورت کی عام چلت پھرت مشکوک گردانی جاتی تھی. آج معاشرے میں انقلابی تبدیلیوں کے نتیجے میں اس معاملے پر کسی حد تک توجّہ تو دی گئی ہے مگر اب بھی ایسے قدامت پرست موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ عورت کو علاج کے لیے گھر سے باہر لیجانے یا ڈاکٹر کو بلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. وہ بیماری سے یا زچگی میں مرجائے تو اس کا ثواب اسے ملے گا. یاد رہے کہ یہ ایک رخ ہے جبکہ دوسرا رخ وہ ہے جس میں مردوں نے اپنی تفریح طبع کے لیے محافل کا باقاعدہ بندوبست کیا ہوا تھا جسے عرف عام میں کوٹھا اور طوائف کا ڈیرہ کہا جاتا ہے. اس نظم کی اتنی پذیرائی ہوئی کہ ان مقامات سے شعر و ادب اور رقص موسیقی سے متعلق تمام فن کار وابستہ ہونے لگے اور جہاں اشرافیہ اپنی اولاد کو بھی تربیت حاصل کرنے بھیجنے لگی.

برصغیر میں ذات پات کا تصور اتنا گہرا تھا اور اب بھی ہے کہ اسے بہشتی زیور جیسی مقبول کتاب میں بھی سند فراہم کی گئی اور فقہ کی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر یہاں تک کہا گیا کہ اگر کسی عورت نے اپنے میل یعنی برابر کی ذات اور سماجی حیثیت یا بالاتر سے نکاح نہیں کیا اور کم ذات سے نکاح کر لیا اور اس پہ اس کا ولی رضامند نہ ہوا تو فتوی یہ ہے کہ نکاح درست نہیں ہوگا۔

ایک زیادتی جو بالعموم روا رکھی گئی وہ یہ اگر کوئی خاتون لکھنے پڑھنے کا ازحد شوق و ذوق رکھتی بھی تھی تو اسے اجازت نہیں تھی کہ اپنا کلام یا تحریر کسی محفل میں پیش کر سکے یا اپنے اصل نام سے کہیں شائع کروا سکے. سو شاہوں سے لے کر محنت کشوں تک اورنوابوِں جاگیرداروں سے لے کر عام افراد تک عورت کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے اور اسے اعتماد دینے سے کتراتے ہی رہے. کچھ تبدیلیاں تو بہر حال آئیں. انگریز کی تعلیمی پالیسی کے سبب تعلیم عام ہونے کے بعد کئی ریفارمز موومنٹ سامنے آئیں. مثلاً برہمو سماج موومنٹ نے مذہبی اصلاحات اور خواتین کے حقوق کا مطالبہ کیا. تاہم عمومی ناخواندگی اور پردہ کی بندش کی وجہ سے بہت سی ایسی خواتین ابھر کر سامنے نہ آسکیں جن میں اعلیٰ صلاحیتیں تھیں. انیسویں صدی کے آغاز میں مولوی سید ممتاز علی نے تحریک حقوق نسواِں کا آغاز کیا. جس نے ایک مدھم مگر پائیدار سوچ بیدار کی۔ اس کے بعد سرسید کی علی گڑھ تحریک نے برصغیر کے سماج میں ایک ہمہ گیر ہلچل پیدا کی. اس تعلیمی انقلاب نے خواتین کے لیے بھی تعلیمی مواقع پیدا کیے، یہی وجہ ہے کہ قدامت پسند لوگ آج بھی سر سیّد کی مخالفت کرتے ہیں. اس تحریک سے فیضیاب تعلیم یافتہ مردوں نے اپنے گھروں کی خواتین کو بھی گھر سے باہر سماج سے روشناس کرایا. ساتھ ہی مسلم پرسنل لاء کے تحت وراثت میں خواتین کا بھی حصہ تسلیم کیا گیا۔

تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین سماج کے دیگر شعبوں میں ابھر کر سامنے آنے لگیں۔ 1908 میں انجمن خواتین اسلام بنی جس نے باپردہ گھرانوں کی خواتین کی سیاسی اورسماجی حیثیت بحال کرنے میں کچھ کامیابی حاصل کی.  ساتھ ہی برصغیر کی نمائندہ جماعتوں کانگریس اور مسلم لیگ نے بھی سیاسی میدان میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا.

” فرانس سے سترہ برس پہلے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935کے تحت 66 لاکھ خواتین کو مردوں کے برابرحق رائے دہی ملا اور پہلی بار فیڈرل اسمبلی کی 250 میں سے  ِ9 نشستیں اور کونسل آف اسٹیٹ کی 150میں سے 06نشستیں خواتین کو حاصل ہوئیں.1937کے انتخابات میں صوبائی اور مرکزی پارلیمنٹ کے لیے 90خواتین منتخب ہوئین جو وزیر، پالیمانی سیکرٹریز، ڈپٹی اسپیکر اور ایوان بالا میں ڈپٹی پریزڈنٹ منتخب ہونے میں کامیاب ہوسکیں.”

تعلیم چونکہ اپنے وسیع تر مفہوم کے مطابق معشرتی زندگی کی تشکیل نو اور تجدید کا نام ہے. چنانچہ حقوق آگہی کی مختلف تحریکوں  کے ساتھ ساتھ مختلف طبقات، افراد نےخواتین کی تعلیم اور حقوق آگہی کے ضمن میں سماجی بہبود کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کیا.

 مختلف ہنگامہ خیز ادوار میں تحریک خلافت ہو یا مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد، سول نافرمانی ہو یا مسلم تشخص کی بحالی کے لیے قرارداد لاہور اور سے تحریک پاکستان میں حصہ لینے والی ممتاز خواتین کے نام حسب ذیل ہیں: محترمہ فاطمہ جناح، بیگم جہاں آرا شاہنواز، بیگم نواب اسماعیل خان، بیگم سلمی تصدق جیلانی، بیگم شائستہ اکرام اللہ،  بیگم مولانا محمد علی جوہرـ بیگم اقبال حسین ملک، بیگم پروفیسر سردار حسین جعفر، بیگم زری سرفراز، بیگم گیتی آرا، لیڈی ہارون، بی اماں، بیگم وقار النسا ءنون، بیگم شفیع احمد، بیگم جی اے خان، بیگم نذیر محمد، بیگم حمیدالنساء، بیگم خاور سلطانہ، بیگم اعزاز رسول، بیگم صاحبزادی محمودہ، بیگم امتہ العزیز، بیگم شمیم جالندھری، بیگم امتہ الحمید اور فاطمہ بیگم دختر منشی محبوب عالم وغیرہ وغیرہ  نے تعلیمی، سیاسی، اصلاحی، ادبی اور صحافتی میدان میں قابل فخر کردار ادا کیا.

محدود کامیابیوں کے پس منظر میں اس وقت بھی پاکستان میں آئینی اور مذہبی حدود میں رہتے ہوئے عورت کو بنیادی اسلامی حقوق دینے کی جدوجہد جاری ہے، اور ساتھ ہی قدامت پرستوں کی طرف سے اس جدوجہد کی مخالفت بھی. مگر تاریخ کے دریا کے دھارے کو روکنا کسی قدامت پرست گروہ کے بس کی بات نہیں. آج 23 مارچ 2018 کو 78 سال پہلے منظور کی جانے والی قرارداد کو یاد کرتے ہوئے آئیے ہم یہ عہد کریں کہ اس تاریخ ساز قرارداد کے نتیجے میں حاصل ہونے والی مملکت خدا داد کے تمام شہریوں کے، جن میں یہاں کی خواتین بدرجہء اتم شامل ہیں، دینی اور آئینی حقوق کے لیے جد و جہد جاری رکھیں گے.

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا  یہ وہ سحر تو نہیں
فیض


حوالہ جات؛

۱۔ مطالعہ تاریخ ایک فکری مغالطہ: ڈاکٹر محمد جاوید…  ہماری ویب

۲۔ عالمی یوم خواتین اور خواتین تحریکیں: مہناز رفیع….08.03.2016

۳۔ نسل، خاندان اور ذات پات: ڈاکٹر مبارک علی….نیاز نامہ22.03.2015

۴۔ خواتین کی تعلیم و تربیت: مفتی محمد تبریز عالم

۵۔ علی گڑھ تحریک؛ ایک مطالعہ: اردو لنکس ڈاٹ کام….0106.2016

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: