پاکستان سے محبت کی بنیادیں: عامر منیر

0
  • 12
    Shares

دو یا دو سے زیادہ مختلف اوصاف attributes کا کسی تفاعل interaction میں ایک دوسرے کے مقابل ہونا شناخت کے phenomenon کو جنم دیتا ہے۔ کھیل میں دو مختلف ٹیموں کی فتح کے خواہشمند سپورٹرز کے دل لگی اور تفریح پر مبنیٰ شناختی تنوع سے لے کر رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے مابین سنجیدہ اور گھمبیر اثرات رکھنے والے شناختی فرق تک اس phenomenon کی لاتعداد انسانی جہات ممکن ہیں جن کا دورانیہ ایک سپورٹس سیریز تک محدود بھی ہو سکتا ہے اور پوری انسانی تاریخ پر محیط بھی۔۔۔ شناخت، سیاسی عمل کی ایک پراڈکٹ بھی ہے اور اس عمل کی بنیادی جہت بھی، جو شناختی پہلو سیاسی عمل میں در آئے، وہ از خود سماج کی نمایاں ترین شناختی جہت بن جاتا ہے۔

زمانہ ماقبل تاریخ کی سیاست قبائلی شناخت کی بنیادوں پر استوار تھی، قبائلی شناخت اس دور کی اہم ترین شناخت تھی اور معیشت، ثقافت، جنگ و جدل سب اسی کے زیراثر انجام پاتے تھے۔ ادوار سلاطین میں کسی شاہی خاندان کی اطاعت نے سیاسی شناخت کی شکل اختیار کر لی، بنی اسرائیل سے لے کر سلطنت روم، خلافت عباسیہ سے دولت عثمانیہ اور سکندر اعظم کی یونانی سلطنت سے لے کر چنگیز خان کی منگول سلطنت تک شاہی خانوادوں نے کتنی ہی قبائلی شناختوں کو ایک وسیع تر سلطانی شناخت کے پرچم تلے اکٹھا کیا لیکن بادشاہوں اور خانوادوں کو زوال آ کر رہتا ہے، سلاطین کے عصر تاریخ عالم پر بہت گہرے لیکن ان سے وابستہ شناختیں ناپائیدار رہی ہیں، حتیٰ کہ جدید ریاست نے ایک غیرشخصی سلطان کی صورت میں جنم لیا اور ریاستی شناخت کی بنیاد پڑی جو اپنی تشکیل سماجی، ثقافتی اور معاشی عوامل سے کرتی ہے، اس لئے نسبتاً پائیدار اور دیرپا ہے۔ عصرحاضر میں سیاسی عمل تمام تر ریاستی میکانزم کے ذریعے انجام پاتا ہے اور قبائلی شناختوں کی اہمیت عملی سے زیادہ ثقافتی اور علامتی بنتی جارہی ہے۔

پاکستانی شناخت ایک ریاستی شناخت ہے، یہ تاج برطانیہ کے زیرنگیں ہندوستان کی بدلتی سیاسی حرکیات میں ہندو دھرم اور اسلام کے ایک حریفانہ تفاعل interaction کے نتیجے میں نمودار ہوئی، یہ سیاسی عوامل سے جنم لینے والی ایک شناخت ہے لیکن یہ محض ایک سیاسی شناخت نہیں ہے۔ یہ دنیا کو نسل، زبان اور جغرافیے کی بنیاد پر تقسیم کرتی دنیا میں ایک وسیع تر تہذیبی شناخت کی موجودگی کا اعلان کرتا ایک امکان ہے۔ پاکستان، اسلامی تہذیب کی عصرحاضر کے چیلنجز سے نپٹنے کی موثرترین کاوش ہے۔ جمیعت اقوام سے جمعیت آدم کی طرف انسانی ضمیر کے سفر کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ریاستوں کی شکل میں نوع انسانی کی fragmentation کےہنگام، جدید ریاست کوایک سیاسی حقیقت تسلیم کرتے ہوئے ریاست سے بالا تر سطح پر unification کی بنیادیں فراہم کرنے والا ایسا انقلابی تصور ہے جس کا وقت اب آیا ہے۔ بیسویں صدی میں جب قومی ریاستوں (نیشن سٹیٹس) کو انسانی امور پر حتمی اجارہ دار مان لیا گیا تھا، فرمودہ خدا کے ریاستی میکانزم سے بالاتر ہونے کا اعلان لے کر نمودار ہونے والی یہ عجیب و غریب ریاست وجود میں آنے سے پہلے بھی محض اپنے امکان سے ہی سیاست پر غور و فکر کرنے والوں کے حواس مختل کر دیتی تھی اور وجود میں آنے کے بعد بھی بڑے بڑے اذہان کے لئے ایک معمہ بنی رہی ہے، لیکن اب جب کہ انسانی ضمیر ریاستی اجارہ داری کے خلاف صف بندی کرنے میں مصروف ہے اور ریاستی میکانزم کو ایک عملی ضرورت کی حیثیت تک محدود رکھتے ہوئے اپنے تہذیبی ممکنات کی نمود کے لئے وسیع تر شناخت کا جویا ہے، کچھ عجب نہیں کہ پاکستان کو تشکیل دینے والے تصورات اکیسویں صدی میں ریاست اور فرد کے مابین ایک نئے عمرانی معاہدے کا template ٹھہریں۔ اس کے نئے اور انوکھے پن کو سمجھ نہ پانے والے مفکر جب اسے روایتی اور فرسودہ نظریات کے چوکھٹوں میں ٹھونسنے کی ہر ممکن سعی کے بعد بھی ناکام رہتے ہیں تو اسے کوسنے دینے پر اتر آتے ہیں اور اس کی تعمیر میں مضمر خرابی کی صورتیں گنوانے لگتے ہیں، لیکن پاکستان مفکر کے فہم کی حدود سے بےنیاز، زمانے کی رو سے نبردآزما، تاریخ کی شاہراہ پر بڑھتا چلا جا رہا ہے، بڑھتا چلا جاتا رہے گا اور کوئی وقت آتا ہے کہ مفکر کا فہم پاکستان کو تشکیل دینے والی سیاسی حرکیات کو معیار مان کر اپنے تصورات اور نظریات کو تشکیل دینے پر مجبور ہوگا۔

اگرچہ تمام محبت اپنی بنیاد میں غیرمنطقی irrational ہوتی ہے، لیکن عملی حقائق کے مابین اپنی نمود اور استحکام کے لئے محبت کو بھی کسی reason، کسی جواز کا دامن تھامنا ہی پڑتا ہے۔ سو مجھ سے پوچھا جائے کہ تمہیں اپنی پاکستانی شناخت پر کیوں ناز ہے تو بلا کسی جھجھک کے میرا جواب ہو گا کہ ایک ایسے ملک سے اپنے تعلق پر کیوں نہ نازاں ہوں جس کی بنت میں نوع انسانی کے لئے اتنے ان گنت ممکنات پوشیدہ ہیں، ایک ایسے وطن سے کیوں نہ محبت ہو جس کی بنیاد مدینہ سے قونیہ اور قونیہ سے لاہور تک جلنے والی شمعوں کی صدیوں پر محیط ایک قطارکی روشنی میں رکھی گئی ہو، چترال کی وادیوں سے بلوچستان کے ساحلوں تک بکھرے پڑے حسن کو جانے بھی دیجئے، اس ثقافتی تنوع اور حسن کو بھی بے شک مت گنیے جو اس کے دامن میں پڑے ہیں، اس جرات اور عزم سے کیوں نہ محبت کیجئے جو اخلاقیات کو بوجھ بتانے والے خداوندان سرمایہ کی خدائی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے، اپنے اخلاقی سرمائے پر سمجھوتہ کئے بغیر عصرحاضر کے تقاضے نبھانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان میری پہلی محبت ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: