ہیرا منڈی سے منٹو پارک تک : فاروق بھٹی

0
  • 282
    Shares

لاہور کے ٹیکسالی دروازہ سے داخل ہو کر ناولٹی چوک سے اگر بھاٹی گیٹ کا رُخ کریں تو ہیرامنڈی کے عین بیچ میں بائیں طرف ٹِبیّ تھانہ موجود ہے۔ تھانے کے ساتھ بھاٹی جاتی سڑک ایک لمبی ڈھلوان کی صورت تحصیل بازار تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وہ سڑک ہے جو جلیانوالہ باغ سے بھی بڑے سانحہ کی جائے واردات ہے۔

فاروق بھٹی

یہ 28 فروری 1940ء ہے۔۔۔ پورے برصغیر میں مسلم لیگ کی پکار پر مسلمان جوق در جوق لبیک کہہ رہے ہیں۔ ایسے میں ایک پکار ”اخوت“ کی بھی ہے جس کی قیادت علامہ عنایت اللہ مشرقی کر رہے ہیں اس پکار پر لبیک کہنے والے خاکی وردی پہنے بیلچہ اُٹھائے چَپ راس چپ راس کرتے چالیس لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔ آزادی کی تحاریک زوروں پر ہے۔ آج گورنر پنجاب Sir Henry Duffiled Craik اور مسلم لیگی وزیر اعلیٰ سکندر حیات نے خطرے کی بُو محسوس کرتے ہوئے خاکسار تحریک پر ملفوف پابندی لگا دی ہے۔ خاکسار سخت ناراض ہیں مگر امیر کے حکم پر خاموش۔ نظم و ضبط ان کی تربیت کا بنیادی وصف جو ٹھہرا۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح سے ملاقات کرتے ہیں، دونوں اکابر فرماتے ہیں “سکندر ہمارا بندہ نہیں” مشرقی دہلی روانہ ہوتے ہیں کہ وائسرائے ہند Lord Linlithgow کو پابندی ختم کرنے پر قائل کر سکیں۔

آج ہے 19 مارچ 1940ء، منگل کا دن ہے۔ پنجاب اور سرحد سمیت کئی مقامات سے 313 خاکسار بھاٹی گیٹ کے باہر جمع ہوتے ہیں۔ صفیں ترتیب دیتے، دفعہ 144 کی پابندی کو ہوا میں اڑاتے چَپ راس چَپ راس کرتے بھاٹی سے بادشاہی مسجد کی طرف چل پڑتے ہیں۔ عوام پھولوں کی پتیوں سے استقبال کر رہے ہیں۔ بچے، عورتیں گھروں کی بالکونیوں سے ”اللہ اکبر“ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ قیادت عنایت شاہ نامی خاکسار کر رہا ہے۔ جلوس اونچی مسجد کے قریب پہنچ کر کچھ دیر رُکتا ہے۔ خاکسار پانی وغیرہ پیتے ہیں اور پھر بادشاہی مسجد کی طرف سفر شروع کر دیتے ہیں۔

اُدھر برطانوی حکومت کے گماشتے بھی حرکت میں ہیں۔ DIG پولیس Mr Wace اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس D.gainsford ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ F.C Bourne بھاری نفری کے ساتھ ٹِبیّ تھانے کے عین سامنے مورچہ بند ہو جاتے ہیں۔ ایس پی Morgan بھی 335 پولیس والے لے کر پہنچ جاتا ہے۔ انسپکٹر Disney اور پی سی Beaty بھی 155 کی اضافی نفری مع آتشیں اسلحہ ٹِبیّ پہنچ چکے ہیں۔ دن گیارہ بجے کا وقت ہو چلا ہے اور خاکسار مارچ کرتے حویلی فقیر خانہ کے قریب پہنچ کر تازہ صف بندی کر رہے ہیں۔ نماز ظہر بادشاہی مسجد میں پڑھنے کا عزم نو کرتے ہیں۔ ادھر ٹِبیّ تھانے کے دہانے پر توپیں بھی گاڑھ دی گئیں ہیں۔ خاکسار پُرامن مارچ کرتے تحصیل بازار کو عبور کر کے ڈھلوان سے اوپر چڑھتے چَپ راس چَپ راس کرتے بڑھ رہے ہیں۔ عنایت شاہ جیش کی قیادت کرتا گورا فورس کی صف بندی کے عین سامنے آ کر رُک جاتا ہے۔ وہ بادشاہی مسجد پہنچ کر نماز ظہر ادا کرنے کی اجازت دینے کی بات کرتا ہے۔ ایس ایس پی D.gainsford عنایت شاہ سے بحث کرتا ہے، ایک مرحلے پر وہ عنایت شاہ کو گالی دیتا ہے اور پھر اس کے منہ پر تھوک دیتا ہے۔ خاکسار بیلچے تان لیتے ہیں۔ لیکن عنایت شاہ تحمل کا اشارہ کرتا ہے اور ایک مرتبہ پھر گورے ایس ایس پی کو کہتا ہے کہ ہمارا مارچ پُرامن ہے، ہمیں بادشاہی مسجد تک جانے دیا جائے۔ اس پر D.gainsford عنایت شاہ کے منہ پر تھپڑ رسید کرتا ہے اور ساتھ ہی ”مارو، فائر کرو“ کا نعرہ لگاتا ہے۔ بندوقوں اور توپوں سے نہتے خاکساروں پر آگ برسنی شروع ہو جاتی ہے۔ خاکسار امیر جیش کے حکم کے منتظر کھڑے گولیوں کھا رہے ہیں، لاشیں گرنے لگتی ہیں۔ پہلے ایک، پھر ایک اور پھر ایک اور۔۔۔ 313 میں سے بیس خاکسار جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ لاشوں کے درمیان زخمی حالت میں کراہتے عنایت شاہ خاکساروں کو منتشر ہونے کا حکم دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گھوڑوں پر سوار مسلح پولیس بندوقوں اور لاٹھیوں سے اُن کے پیچھے بھاگتی ہے۔ زخمی کراہتے ہوئے خاکساروں کو گھوڑوں کی ٹاپوں تلے کچلا جاتا ہے اور سر اٹھانے والے زخمی کے سر میں 8 فٹی لوہے کے سر والے لاٹھی مار کر ہمیشہ کے لئے چُپ کروا دیا جاتا ہے۔ خاکسار علاقے کی تنگ و تاریک بند گلیوں میں گھس جاتے ہیں لیکن گھوڑوں پر سوار پولیس ان کے تعاقب میں تنگ گلیوں میں جا جا کر اُن کو قتل کر رہی ہے۔ ہر طرف آہ و پکار ہے۔ آگ اور خون ہے۔ جن گھروں نے زخمیوں کے لئے اپنے دروازے کھولے تھے، اُن کو توڑ کر خاکساروں کو گھسیٹ کر باہر نکال کر شہید کیا جا رہا ہے۔ پناہ دینے والوں پر بھی تشدد کیا جا رہا ہے۔ پولیس والے خاکساروں کو بالکونیوں اور چھتوں سے نیچے گرا رہے ہیں۔ سورج غروب ہو رہا ہے اور ہر گلی ہر محلے میں لاشوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ ظہر عصر اور مغرب گزر چکی ہے، مساجد میں اذان دینے والا کوئی نہیں۔ کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی صورت میں گولی مار دینے کا حکم ہوا ہے۔ اپنے دروازوں کے آگے کراہتے زخمیوں کو پانی تک پلانے کی اجازت نہیں ہے۔ 211 خاکسار شہید ہو چکے ہیں۔ زخمیوں کو اٹھانے کی اجازت نہیں۔ سید مٹھا بازار، ہیرا منڈی، نوگزہ پیر اور تحصیل بازار کے گلی کوچوں میں خون کی بدبو پھیل رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔

Sir Henry Craik

جی ہاں یہ 19 مارچ 1940ءہے۔ جس کا ہماری تاریخ میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ شاید میرے لئے بھی یہ ایک افسانہ ہی ہوتا اگر اس واقعہ کا راوی محمد یعقوب بھٹی مجھے خود یہ سب نہ بتاتا۔ وہ سترہ سالہ نوجوان جالندھر سے اپنے خاکسار دوستوں کے ہمراہ جلوس میں شریک ہونے آیا تھا۔ برطانوی پولیس کے مظالم سے بچنے کے لئے وہ تین دن تک اونچی مسجد کی چھت پر بیٹھے رہے۔ اس دوران نہ اذان ہوئی نہ جماعت۔ اردگرد کے مکانوں سے لوگ روٹی سالن رومال میں لپیٹ کر مسجد کے صحن میں پھینک دیتے۔

۔۔۔ آج لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید 23 مارچ ایسے ہی آ گیا تھا۔ اس 23 مارچ کو لانے کے لئے اہلِ لاہور 19 مارچ سے گزرے تھے۔ دو قومی نظریہ چھوٹی قومیتوں کے تصور کے گرد ہوتا تو پھر خاکساروں کو اور پھر 3 جون 1947ءکے اعلان کے بعد مہاجرین مشرقی پنجاب کو خون کی ندیوں سے گزرنے کی ضرورت نہ تھی۔ یوپی، سی پی کے مسلمان ہزاروں میل پیدل چل کر پاکستان نہ پہنچتے۔ ہمیں کسی نے نہیں بتایا کہ اہل لاہور جوق در جوق مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں صرف قراداد لاہور کے لئے جمع نہ ہوئے تھے وہ سکندر حیات خان کو مسلم لیگ سے نکلوانے آئے تھے جو وہاں سٹیج پر موجود تھا۔ (ہماری بدنصیبی دیکھئے یہی بدبخت سکندر حیات خان کو ہماری نوکرشاہی کے طفیل بادشاہی مسجد کے پہلو میں دائیں طرف دفن کیا گیا جو اس مقدس مقام کی توہین کے مترادف ہے، اندازہ کیجئے ایک طرف شاعر مشرق جیسی محسن ہستی کا مزار ہے جو مرجع خلائق ہے جبکہ دوسری طرف غدار سکندر کی قبر پر آوارہ کتے اور نشئی قیام کرتے ہیں ) 22 مارچ کو شروع ہونے والے اجلاس میں حاضرین تین دن پہلے ہونے والے قتل عام پر بات کرنا چاہتے تھے۔ وہ شہداء کے لئے فاتحہ خوانی چاہتے تھے۔ نواب بہادر یار جنگ، لیاقت علیخان حتیٰ کہ قائداعظم خود کئی مرتبہ حاضرین سے مخاطب ہوئے۔ سانحہ خاکسار نے قوم کو متحد کر دیا تھا چنانچہ اس دن ایک نہیں دو قرادادیں منظور ہوئیں تھی ایک قراداد لاہور اور ایک قراداد سانحہ خاکسار۔ ہماری تاریخ کے بدیانت مورخ نے سانحہ خاکسار تاریخ سے ہی مٹا دیا۔

آج 23 مارچ 2018ءہے۔ ہر طرف نغمے ہیں، جشن ہیں، محفلیں ہیں، سرکاری عمارات پر چراغاں ہے، جلسے اور اجتماعات ہو رہے ہیں…. لیکن عنایت شاہ شہید کا ذکر کہیں نہیں۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی جن کا نوعمر بیٹا احسان اللہ اسلم اس جرم بیگناہی میں مارا گیا اُن کا ذکر نہیں۔ شہدائے بدر کی نسبت سے 313 کا لشکر لے کر نکلنے والے 211 شہداءکا ذکر کوئی نہیں کرتا۔

2013 میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے انڈیا دورے پر عوام کے اصرار پر جلیانوالہ قتل عام کی معافی مانگی تھی۔ ہم نے آج تک ”گورا صاب“ کو خاکساروں کے قتل عام کا ملزم ہی نہیں ٹھہرایا تو معافی کیسی…. پاکستان کے محسنوں کو فراموش کرنے والے، تاریخ سے بدیانتی کے مرتکب ہونے والے، کب چین لے سکیں گے۔

گمنام شہداء۔۔۔ بقول فیض

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: