ای میل محمد علی جناح بنام محمد جبران‎

0
  • 19
    Shares

قارئین کرام! کل رات ہمارے بابائے قوم قائد اعظم کی ایک 23 مارچ کے حوالے سے ایک ای میل موصول ہونے کی سعادت پائی ہے جسے ملت کے وسیع تر مفادات کے پیش نظر شائع کیا جا رہا ہے۔

مسٹر جبران،
عالمِ برزخ سے محمد علی جناح مخاطب ہوں،
’’مملکتِ نظریہ‘‘ کی لمحہ بہ لمحہ خبر پہنچ رہی ہے۔
سہولت کیلئے انتظامیہ برزِخ نے کچھ ’’خفیہ زرائع‘‘ مقرر رکھے ہیں جو ہمیں ’’مملکت نظریہ‘‘ کی ہر ’’اندرونی خبر‘‘ سے بھی باخبر رکھتے ہیں۔

مسٹر جبران!
تمھیں مخاطب کرنے کا اصل مدعا یہ تھا کہ تئیس مارچ کا دن ہے اور ’’خفیہ ذرائع‘‘ کے مطابق تم نے بھی پاکستان کے نامعقول دانشوروں کی اندھی تقلید میں اپنے قلم میں ’’دو قومی نظریہ‘‘ کا بارود اور ’’عزم نو‘‘ کی ’’خشک سیاہی‘‘ انڈیل دی ہے سن کر افسوس ہوا۔

خاص کر قومی دنوں میں ڈاکٹر اقبال اور مجھے سخت ندامت ہوتی ہے جب ہماری مدح سرائی میں تم اور تمھارے ساتھی ’’ افسانچے‘‘ گھڑتے ہیں اور ہمارے ہم عصر ’’حسرت‘‘ سے ہمیں تکتے ہیں۔

چونکہ عالمِ برزخ میں کسی نئے ملک کے بنانے کا بکھیڑا نہی تو فرصت کے اوقات کچھ زیادہ ہی ہیں۔ میں اکثر اپنی ذاتی زندگی کی خودنوشت تحریر کرنے میں مصروف رہتا ہوں۔
عجب اتفاق ہے خودنوشت اپنی لکھتا ہوں مکمل پاکستان ہو رہا ہے۔

یہ ایک حقیت ہے برصغیر کو آزادیِ ہند کے وہ سنسنی خیز دن اور ہیجان انگیز واقعات نہ کبھی میسر ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے۔
ایسا ہی ایک دن 23مارچ 1940 کا تھا جب آزادیِ ہند کی جہدوجہد نے تقسیم ہند کا نیا موڑ لے لیا۔ اب جبکہ ذکر چِھیڑ ہی گیا ہے تو عالم برزخ میں لکھی گئی اپنی خود نوشت میں سے ایک اقتباس تمھیں عنایت کرتا ہوں تاکہ سند رہے بوقت ریفرنس تمھیں کام آئے۔

’’ورکنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا اس بار آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس مسلم اکثریتی صوبہ پہنجاب کے دارالخلافہ لاہور کے منٹو پارک میں منعقد کیا جائے گا کیونکہ ایک انتہائی اہم ڈرافٹ منظور کروانا ہے۔

مگر لاہور شہر تین دن پہلے ہی بدامنی کا شکار ہو گیا۔
چند ماہ پہلے سکندر حیات خان نےحریت پسند خاکسار تحریک پر پابندی لگای اور انیس مارچ کو خاکساروں کے ایک جلوس پر گولی چلانے کا حکم دے دیا اندازً دو سو خاکسار کارکن شہید ہو گے۔ دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا، ایمرجنسی الرٹ تھا، سارے شہر پر پولیس اور فوج کے دستوں کے پہرے تھے۔ جلسہ مشکل دکھائی دیتا تھا۔ ویسے بھی سکندر حیات ناقابل بھروسہ ساتھی تھا۔

لیکن پھر قدرت اپنی موج میں آی، دیکھا دیکھی دو دنوں میں نقص امن دور ہوا دفعہ 144 واپس لیا گیا اور دستوں کے پہرے اٹھے۔ لاہور کے لیگی کارکنوں کی تگ و دو سے 22 مارچ کو جلسہ کا انعقاد ممکن ہو سکا۔

22 مارچ کو جب میں اور دیگر ورکنگ کمیٹی کے اراکین منٹو پارک تشریف لائے تو جسلہ گاہ مسلم لیگ زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔

میں نے اپنی تقریر میں یہ واضح کیا یہ اجلاس محض ایک رسمی کاروائی یا پاور شو ہر گز نہی بلکہ ایک تلخ حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کی پہلی منظم کوشش ہے اور وہ تلخ حقیقت ہے ’’ہندو مسلم‘‘۔

اگلی دن 23 مارچ کو جب جسلہ اپنے عروج پر تھا طے شدہ منصوبے کے تحت مولوی فضل الحق نے صوبہ بنگال سے اپنی نمائمندگی کرتے ہوئے ایک ڈرافٹ پیش کیا جسے مطالعہ پاکستان کی اصطلاح میں قرداد پاکستان کہا جاتا ہے۔
اسی وقت پاکستان نہی بن گیا ابھی ایک امتحان باقی تھا سادہ لوح مسلمانانِ ہند کو اس کا اصل مقصد سمجھانا۔

بہرحال ہند کی تہذیب ہمیشہ چڑھتے سورج کی پجاری رہی۔ صرف ایک کوشش انگریزی میں کی میرے فرمودات کو یوں زہن نشین کر لیا گیا کہ آج تیسری نسل جوان ہو رہی ہے اور ان کے شعور میں دو باتیں پختہ ہیں اولاً انگریزی، دوم 23 مارچ مگر غالباً چھٹی۔

چوبیس مارچ کو وہ مبارک لمحہ آیا جس کی حقیت کا اعتراف سرسید نے، خاکہ اقبال نے اور اس میں رنگ میرے ناتواں ہاتھوں نے بھرا۔

جب ڈرافٹ کو صوبہ سرحد کے اورنگزیب خان سے لے کر بنگال کے فضل الحق تک تمام مسلم اکثریتی و اقلیتی صوبوں کے مسلم رہنماوں نے منظور کر لیا۔

رحمتیں ہوں برصغیر کے پریس پر جس کا پیٹ ہمیشہ سے افواہوں اور پرپیگنڈوں پر پلتا ہے۔ انھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اس ڈرافٹ پر بھی ’’پاکستان پاکستان‘‘ کا شور مچانا شروع کر دیا اور ہم نے اسے غنیمت جانا۔

آگے تم باخبر ہو کیسے پہنجاب میں ہم نے یونینسٹ کو ٹوپی پہنا کر سیاست سے اوجھل کیا، سرحد میں خودساختہ سرحدی گاندھی کے متحدہ ہندوستان کے پروپیگنڈہ کو توڑا۔
برٹش سرکار اور کانگریس کبھی پیار سے سمجھاتے تو کبھی آنکھیں دکھاتے پھر بھی جرت مندانہ مقابلہ کیا۔

تمھیں خبر ہے آخری بڑی آفر متحدہ ہندوستان کے مشترکہ وزیر اعظم کی تھی۔

بیتے ماضی کے یہ سنہری دن جب کبھی یاد آ جائیں تو عالمِ برزخ کی ہر آسائش پاوں میں بیڑی نظر آتی ہے۔

افسوس یہاں مسلم لیگ اور میں تو موجود ہیں مگر کانگریسی رہنما نہی۔ مسٹر گاندھی اور ان کے ہم نواوں کا شمار عالمِ دوزخ کی اشرافیہ کلاس میں ہوتا ہے۔

کبھی کبھار ازراہِ مذاق ابوالکلام آزاد فرماتے ہیں (یہ کانگریسی بھاری سفارش کے بل بوتے پر برزخ کے مزے لوٹ رہے ہیں برعکس کہ ہم نے نعرہ تو لگوایا تھا مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ) خدا کی نعمت ہے وگرنہ جناح نے عالمِ برزخ کو بھی ہندوستان بنا دینا تھا اور انتظامیہِ برزخ کو عالم برزخ تقسیم کر کے نکلنا پڑتا۔

گھبرا تو گے ہو گے یہ محمد علی جناح نے قومی دن پر کیسی بہکی بہکی باتیں لکھ بھیجی ہیں۔

تو سنو! میں آج بھی تقسیم ہند کا قائل ہوں مگر اِس مملکت نظریہ کا ہر گز نہی جسے تم خود ساختہ دانشوروں نے ’’جاہلستان‘‘، سیاستدانوں ’’کرپشنستان‘‘ اشرافیہ نے ’’دولتستان‘‘، مذہبی علماوں نے ’’شریعستان‘‘ سیکولروں نت ’’یورپستان‘‘ اور قوم نے ’’جگاڑستان‘‘ کی تجربہ گاہ بنا رکھا ہے۔

میرے نوجوان اس پاکستان کو ’’مثالثستان‘‘ بنانا تھا، مسلم دنیا کے سامنے جدید اور روایت کی آمیزش کی ایک خوبصورت تصویر ’’جدیدیستان‘‘ کا تجربہ کرنا تھا۔
۔ مگر میرے پاس تو اب کف و افسوس کے علاوہ کچھ اختیار نہی۔

اب اگر کچھ باقی ہے تو وہ اکلوتی امید ہے جو ’’نوجوانِ پاکستان‘‘ سے وابستہ ہے۔
کیا اب یہ توقع رکھوں کہ اب کی بار تم قلم کا سائلنسر نکالنے سے پہلے ضرور تم قلم کا سائلنسر نکالنے سے پہلے ضرور سوچو گے لکھنا کیا تھا اور لکھا کیا گیا، پڑھنا کیا تھا پڑھایا کیا گیا، بننا کیا تھا بنایا کیا گیا۔

بہر حال آج کے قومی دن کی ڈاکٹر اقبال کا تمھارے نام اہم پیغام
نہی ہو نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

والسلام
محمد علی جناح
الجناح باغ قصرِ فاطمہ نزد آبِ کوثر عالمِ برزخ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: