’’اینکر‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد تیمور کا تبصرہ

0
  • 25
    Shares

’’اینکر‘‘ ناول میں نوجوان صحافی وقاص عزیز نے سچائی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے صحافیوں کے جھوٹ کو بےنقاب کیا ہے۔ صحافیوں کی کرتوتوں، ذاتی مفادات اور عورتوں کے جنسی استحصال کے مناظر کو بڑی عمدگی سے ابھارا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وقاص عزیز نے صحافیوں کے ا س رویہ کو بھی سامنے رکھا کہ کیسے حق بولنے والے اور مثبت بغاوت کرنے والے کو سبق سکھایا جاتا ہے۔ سفارشی اور تندرست صحافی کس طرح قابل اور اہل صحافیوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حکومتی افراد ،عوام کے پیسے سے کس طرح صحافیوں کو خریدتے ہیں اور اپنی حمایت میں خبریں نشر کرواتے ہیں۔

اس طرح دیکھیں تو وقاص عزیز نے صحافت کے موجودہ منظرنامہ پرخاصا طنزکیا ہے۔ صفحہ نمبر 39، مس رحمیہ میرے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت مختلف ہو گا آپ کا، میں دشمنوں کو بھی دوست بنانے کا قائل ہوں اور یہی میری کامیابی کاراز ہے اور خوبصورت خواتین کی دوستی میرے لہو کی سرخی میں مزید اضافہ کر دیتی ہے، آپ کے بارے میں جو سنا تھا ایسا ہی پایا لیکن میرے ساتھ کام میری شرائط پر میرے مزاج کے مطابق لفظ مزاج پر زور دیتے ہوئے آفندی کے چہرے کا رنگ مزید گہرا ہو گیا تھا۔ رحمیہ کو ایسا لگا جیسے اسے کسی نے پہلی بار گاڑی میں بیٹھنے کی نہیں پوری گاڑی کی ہی آفر کی جا رہی ہے۔ آفندی نے یہیں بس نہیں کیا مس رحمیہ کتنی تنخواہ لے رہی ہیں آپ؟ میری تنخواہ سے اس ساری گفتگو کا کیا تعلق ہوا؟ تعلق ہے بہت گہرا ذرا آپ بتاہیے آپ کنٹریکٹ پر ہیں یا مستقل ہیں۔ سر میں کنٹریکٹ پر ہوں اور ساٹھ ہزار لے رہی ہوں الحمدلله، رحمہ نے جواب دیا۔ اتنی خوبصورت لڑکی اور اتنی تھوڑی تنخواہ۔ میری طرف سے اپ کو ایک آفر ہے آپ کی نوکری بھی مستقل ہو جائے گی اور تنخواہ بھی 500000 ماہانہ اور صرف میرا پروگرام کرنا ہو گا یہ آفر سن کر رحمیہ نے پوچھا سر اس عنایت کا مقصد جان سکتی ہوں؟ ہاں۔ بالکل آپ میری دوست ہیں اور میں دوستوں کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتا۔ اور اگر میں یہ آفر نہ قبول کروں؟ تو پھر آپ اپنے مستقبل کی فکر کیجیے گا آفندی نے معنی خیز لہجے میں کہا۔

نوجوان ادیب نے اس ناول میں سیاست اور صحافت جیسے موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے اپنی فکری شعور سے آگہی دی ہے۔ ناول میں جذبات واحساسات مسرتوں اور خواہشوں ناکامیوں اور نامرادیوں، خوابوں اور خوف کو بڑے جاندار طریقے سے بیان کیا ہے میڈیا میں انسانیت کی تذلیل کو بیان کیا ہے۔ ظاہر ہے یہ ناول اینکر کی طرح اہم رول ادا کرتے ہوئے بہت سی چھپی ہوئی حقیقتوں کو سامنے لائے گا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وقاص عزیز نے جس طرح صحافت کو جس طرح اپنے مطالعہ کا حصہ بنایا ہے اس سے نہ صرف پاکستانی میڈیا کا چہرہ سامنے آیا ہے بلکہ کم وبیش پوری دنیا کے صحافی برادریوں کا رویہ ایسا ہی ہے۔ کردار نگاری ناول میں کرداروں کی پیش کش دلچسپ ہے ہر کردار اپنی ذہنی سطح کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے ناول کا مرکزی کردار طاہرہ ہے جس کا تعلق مڈل کلاس گھرانے سے ہے۔ جہاں آج بھی اقدار کو اہمیت دی جاتی ہے۔

ناول کا بیشتر حصہ طاہرہ نفیس، اشعر اور آفندی کے درمیان ہونے والی مکالماتی بحث پر مبنی ہے۔ اس ناول میں بہت ساری خوبیوں کے ساتھ کچھ خامیاں بھی ہیں۔ اس کا پلاٹ نہایت کمزور ہے ناول کے آغاز سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اپنا روز نامچہ لکھ رہا ہے۔ صفہ ممبر 5: میرا تعلق اس نسل سے ہے جس نے لہو کی گود میں جنم لیا ہے۔ ہم آنکھ کھولنے کے بعد آمریت کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسل کو پاکستان کی شہ رگ کو مسلسل کا ٹتے دیکھا ہے۔ اس تماشے میں سیاستدان کیا اور عام شہری کیا سب ہی شریک تھے۔ ابھی یہ تماشہ تھما نہ تھا کہ مشرف کے آمرانہ دور میں دہشت گردی کے عفریت نے اس دھرتی کو جکڑ لیا۔ ان گنت جانوں کا نذرانہ اس ملک کو بناتے وقت دیا تھا اور لاکھوں جانیں اب اس کی بقا کی نذر ہو چکی ہیں۔

ناول کے تمام کردار جاندار ہیں جو اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ کچھ کردار ایسے ہیں جو اول تا آخر موجود ہیں۔ اور کچھ موقع بہ موقع آتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں۔ اس کا اسلوب نہایت سادہ ہے۔

144 صفحات پر مشتمل یہ تحریر ناول کے مقابلے میں مختصر کہانی یا ناولٹ ہے۔ اردو ادب میں اس ناول کا مرتبہ اور مقام طے کرنا میرے لیے مشکل ہے تاہم ناول اپنے موضوع اور بیانیے پراپنی گرفت کےاعتبار سے قائرین کو متاثر ضرور کرے گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: