الطاف حسین اور ہمارا پیلا اسکول — سید مظفر الحق

0
  • 73
    Shares

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین اپنی اکثر تقاریر اور ماضی کی یادوں کے حوالے سے “پیلے اسکول” کا تذکرہ کرتے ہیں تو یادوں کے دریچے وا ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی چہرے ماضی کے دھندلے افق سے طلوع ہو کر پوری تابناکی سےنظروں کے سامنے آجاتے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہ پیلے اسکول “سرکاری اسکول” کہلاتے تھے تب نجی اسکولوں میں صرف وہ لوگ جاتے تھے جنہیں میرٹ پہ پورا نہ اترنے کی وجہ سے ان اسکولز میں داخلہ نہیں ملتا تھا اور گورنر سردار عبد الرب نشتر کے صاحبزادہ جمیل نشتر سے لے کر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کے بیٹے تک ان ہی اسکولوں میں پڑھتے تھے وہ لمبی لمبی کاروں میں نہیں بلکہ بائی سائکل پر اسکول آتے تھے۔

کراچی میں سبیل مسجد سے شروع ہونے والی سڑک جہاں تین ہٹی کے پل پہ ختم ہوتی ہے وہیں سے ایک سڑک داہنے جانب مڑ کر کراچی سنٹرل جیل کی دیوار تک جاتی ہے۔ سڑک کے اختتام سے ذرا ہی پہلے جہاں بایئں طرف پیرالہی بخش کالونی اور اس کے مقابل سڑک کی دوسری جانب پیلے رنگ کے سرکاری کوارٹرز ہیں ان ہی کے درمیان وہ پیلا اسکول تھا جو شاید اب بھی ہوگا، جسے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول جیل روڈ کہا جاتا ہے۔ جس کا نام ذہن میں آتے ہی کتنے ہی روشن چہروں سے جیسے ذہن چکا چوند ہونے لگتا ہے۔ اسی اسکول میں PIA کے سابق اسٹیشن منیجر سبطین اور سابق پاکستانی سفیر کرامت الله خان غوری پڑھتے تھے۔

Class 1975 Badshahi Masjid Thatta Visit …Teacher Sir Moazziz

یہ ساٹھ کی دہائی کے آخری سالوں کی بات ہے تب اس اسکول میں جہاں حبیب بنک کےجنرل منیجر انور سعید، ثناء الله وولن مل کے مالکان جنید نواب اور طارق نواب زیر تعلیم تھے تو جامعہ کراچی کے پروفیسرز جناب غلام سرور کے صاحبزادے سعید ،ڈاکٹر امام کے بیٹے اور ہمارے یار ڈاکٹر مسرور امام، ڈاکٹر افضال قادری کے بیٹے جمال قادری اور جیو ٹیلیویزن کے مرزا ناصربیگ بھی تھے ایک کہکشاں بکھری ہوئی تھی روشن چہروں کی۔

میں، انورسعید، مسرور امام، مرزا ناصر بیگ، جنید نواب، سید رفعت علی اور عمران الحق وغیرہ اسکول کی بزم ادب اور مقررین کی انجمن کا رکن ہونے کے ناطے طلبہ میں خاصے سرگرم اور جانے پہچانے تھے۔ اسی زمانے میں ہم سے دو سال جونئیر ایک سانولے رنگ اور اکہرے بدن کا سوچ میں ڈوبا لڑکا بھی یاد آتا ہے جو بعد میں مہاجر اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا بانی اور آج کی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے نام سے ملک گیر سطح پہ جانا جاتا ہے اور طاقت وار سیاسی لیڈر ہے۔ جب اسکول میں وقفہ ہوتا اور طلبا باہر نکلتے تو خرّم جاہ مراد کے بھائی اسامہ اسماعیل مراد اسلامی جمعیت طلبہ کے کتابچے لئے گھیرنے کے لئے مستعد نظر آتے۔

یہ بھی پڑھیئے:  غزالاں تم تو واقف ہو۔۔۔۔۔۔ کراچی کا علمی بحران 1۔ رعایت اللہ فاروقی

 

اسکول چاروں طرف سے سرکاری کواٹروں میں گھرا ہوا تھا اور ان ہی پیلے پیلے گھروں میں، سلیم احمد، قاضی واجد مقبول علی، وحیدہ نسیم، نسیم اعجاز اور سڑک کے اس پار پیر الہی بخش کالونی میں پروفیسر امام، سعید رضوی، ایف سلطانہ مہر ، پروفیسر غلام سرور، ابراہیم جلیس، ابراہیم نفیس، اور مولا عبد الحامد بدایونی جیسے روشن اور سنہرے چہرے جلوہ گر تھے۔

سڑک پار کرتے ہی جو پہلا گھر تھا وہ میری زندگی اور یادوں میں شاید اہم ترین ہے لیکن اب وہاں ایک آئیل پمپ ہے۔ یادش بخیر کبھی اس مکان کے مکینوں میں MQM کی ممبر قومی اسمبلی کشور زہرہ اور عابدہ باجی بھی تھیں کہ جن کا بھائی غلام السیدین کل بھی میرا یار تھا اور آج بھی ہے۔ تب کشور باجی ہماری ذہنی اور فکری تربیت کی کاوش کرتیں، ادبی اور سماجی محفلوں میں سااتھ لے جاتی تھیں، تہماری طالب علمانہ تنگ دستی کا خیال کرتے ہوئے مختلف حیلوں بہانوں سے ہماری جیب بھی گرم کرتی رہتی تھیں۔میرا جتنا وقت اس گھر میں گزرا اور ان کی والدہ مرحومہ کے ہاتھ کا پکا جتنا کھانا میں نے کھایا اس کا ذائقہ آج بھی نوک زبان پہ اور ان کی محبت دل کی گہرائیوں میں آج بھی اسی طرح تازہ ہے ۔ ہم انہیں آپا کہتے تھے اور پچھلے سال اپنے انتقال سے پہلے وہ جب دبئی آی تھیں بے پناہ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاص طور پہ مجھ سے ملنے گھر آئ تھیں۔ تب پتہ نہ تھا کہ اب کے بچھڑے تو مل نہ پائیں گے۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم – تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے

بات نکلی تھی الطاف بھائی اور پیلے اسکول سے اور پہنچ گئی کہیں سے کہیں، وہ جو کہتے ہیں نا،

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا بات پہنچی تیری جوانی تک

شاید یہ وہ ہی کیفیت ہے جسے ناسٹلجیا سے تعبیر کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کیرانچی کا جوغرافیہ —- لالہ صحرائی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: