سیاسی قیادت کی ”مظلومیت“ کا بیانیہ ۔۔۔۔۔۔۔ محمد عثمان

0
  • 138
    Shares

عمر چیمہ پاکستان کے ایک نامور تحقیقاتی صحافی ہیں۔ حال ہی میں ان کا ایک ٹویٹ نظر سے گزرا جس کے الفاظ درج ذیل ہیں۔

”سویلین بالادستی خود احتسابی کے بغیر ممکن نہیں تاہم یہ غیر سیاسی قوتوں کے تسلط کا بھی جواز نہیں جب تک سیاسی حکومت کو کام کرنے کی آزادی نہیں ہوگی وہ ایکسپوز نہیں ہوگی اور عوام کی نظر میں مظلوم رہے گی۔“

چیمہ صاحب کا صحافتی اور علمی مقام اپنی جگہ لیکن ان کی ٹویٹ پڑھ کر ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے جو خیالات ذہن میں آئے وہ قارئین کے پیش خدمت ہیں۔

عمر چیمہ صاحب سے مؤدبانہ التماس ہے کہ جب بھی وقت ملے تو ملک کے کسی بھی شہر یا دیہی آبادی کا چکر لگائیں۔ وہاں شاید یہی منظر نظر آئے کہ قبضہ گروپ سے لے کر بھتّہ مافیا تک، گلیاں پکی کروانے سے لے کر سکولوں میں کمرے بنوانے اور پھر اس پر اپنے نام اور تصویروں کی تختیاں لگوانے تک، یونیورسٹیوں میں لیکچرار سے لے کر وائس چانسلروں اور ہسپتالوںمیں میڈيکل سپرانٹنڈنٹس کی تعیناتی تک، بجلی مہیا کرنے والی کمپنیوں سے لے کر پانی مہیا کرنے والے اداروں کو اپنے بالواسطہ یا بلا واسطہ دباؤ میں لانے تک، تھانہ کچہری سے لے کر منبر و محراب اور درباروں میں دھونس دھاندلی کی سرپرستی تک ، فیکٹریوں اور جاگیروں میں مزدوروں اور کسانوں کا خون چوسنے سے لے کر بڑی بڑی ہاؤسنگ کالونیاں کاٹنے تک، عورتوں کی عصمت دری سے لے کر بچوں سے زیادتی کےواقعات تک آپ کو ہر جگہ اپنی اِسی سیاسی کلاس کی حاکمیت اور بے مہار آزادی ہی نظر آئے گی۔ اور کتنی آزادی چاہیے ہے انہیں؟ عجیب آزادی کی کمی ہے کہ ایک طرف تو ان کو کام نہیں کرنے دیا جاتا لیکن اس کے باوجود چند سالوں میں ان کی دولت کروڑوں سے اربوں اور معمولی کاروبار سے بڑے بڑے کاروباروں اور بڑے بڑے محلات تک جاپہنچتی ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آزادی کا رونا صرف تب رویا جاتا ہے جب بات اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے ہونے والی سرگرمیوں کے نتائج کی آتی ہے؟

جہاں تک بات ایکسپوز ہونے کی ہے تو میرے بھائی اور کتنا ایکسپوز ہونا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں سیاست اور سیاستدان کا لفظ ایک گالی اور جھوٹ، منافقت، دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی کا مترادف بن چکا ہے! سیاسی عمل میں کروڑوں (بعض اوقات اربوں) روپے خرچ کرنے، لوگوں کی ضروریات اور مسائل کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور تھانہ کچہری، روزگار، گیس کنکشن، نالیاں اور گلیاں پکی کروانے کے وعدوں پر انہیں بلیک میل کرنے کے بعد بھی عوام کی اکثریت اس دکھاوے اور فراڈ میں شریک ہونے سے انکاری ہے۔

رہی بات عوام کی نظر میں مظلوم رہنے کی تو یہ بات بھی شاید حقیقت کے کم ہی قریب ہو۔ اگر عوام کی نظر میں یہ اتنے ہی مظلوم ہوں تو میڈیا اور عوامی اجتماعات میں عوام سے لوٹا ہوا اربوں روپے کا سرمایہ نہ لگایا جائے، صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کی بولی نہ لگانی پڑے، مالی مفادات یا اعزازات حاصل کرنے والے بکاؤ دانشوروں اور (خوش فہمی یا غلط فہمی کا شکار) مخلص اہل دانش کو دن رات اپنی توانائیاں انہیں مظلوم ثابت کرنے پر صرف نہ کرنی پڑیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: