منفی نفسیات: اس طرح بھی اصلاح ہوسکتی ہے —– محمد زبیر

1
  • 49
    Shares

ہمارے معاشرے میں کچھ لوگوں نے ٹھیکہ لے لیا ہے کہ وہ یہ ثابت کرکے رہیں گے کہ مسلمان، خاص طور پر پاکستانی مسلمان حد سے زیادہ ناکارہ، ناکام اور ذلیل لوگ ہیں۔ یہ ٹھیکیدار جہاں بیٹھتے ہیں، ہمارے اخلاق و کردار کی اس طرح تشریح کرتے ہیں کہ سننے والوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں، شرمندگی سے نظریں نہیں اٹھ پاتیں۔ اس شرمندگی کا اظہار ہم بہت تخلیقی انداز میں کرتے ہیں۔ جن صاحب نے ہمارے اخلاقی زوال کی شرمناک انداز میں تشریح کی ہوتی ہے، ہم حسبِ توفیق یا حسبِ لیاقت چند جملوں کا اضافہ کر کے سوشل میڈیا پر آگے بڑھادیتے ہیں۔ پھر ہم نجی محفلوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم، ہمارے والدین، ہماری بہنیں، ہمارے بھائی، بیوی بچے، ہمارے اساتذہ، ہمارے دانشور، ہمارے معاشرے کے تمام طبقات اُس پستی کا شکار ہیں، جس سے نکلنا اب ممکن نہیں۔

یہ بحث چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ معاشرتی ’’حقائق‘‘ بیان کیے جانے چاہییں یا نہیں! سوچنا اس بات پر مقصود ہے کہ “حقیقت” سے کیا مراد ہے۔ میرا مسئلہ تو بہت سادہ ہے۔ اور وہ یہ کہ کس قسم کی گفتگو کسی فرد یا معاشرے کے اخلاق و کردار کو سنوارنے، نکھارنے اور کامیابی سے ہمکنار کرنے کا سبب بنے گی؟

۔
جس طرح کی منفی باتیں ہمارے معاشرے میں بڑھتی جارہی ہیں، اگر یہ باتیں اچھا معاشرہ قائم کرنے کا سبب بن سکتی ہیں تو ضرور کی جانی چاہئیں، اگر ایسا نہیں ہے تو موثر طریقہ دریافت کیا جائے۔

وہ موثر طریقہ کیا ہوسکتاہے؟
چلیں تھوڑی دیر کے لئے کسی ایسے گھر کا تصور کریں جسے آپ آئیڈیل گھر سمجھتے ہیں۔ کیا یہ وہ گھر ہے جہاں ماں باپ بچوں کی بات بات پر تذلیل کرتے ہیں یا پھر محبت سے سمجھاتے ہیں، ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کیا یہ وہ گھر ہے جہاں میاں بیوی ایک دوسرے سے لڑتے اور ایک دوسرے کی غیبتیں کرتے ہیں یا ایک دوسرے کو سراہتے ہیں، حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

گھر کو چھوڑیں، کسی آئیڈیل دفتر کا جائزہ لیں۔ کیا اس دفتر میں سب ایک دوسرے کو غلط، کمتر اور نااہل ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے یا ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔
۔
تنقید اور برائیاں کرنے والوں کی ایک طویل فہرست آپ کے سامنے ہوگی۔ ان لوگوں کے گھروں کے حالات دیکھ لیں، دفاترکے حالات دیکھ لیں۔ ڈرا سہما خوف زدہ ماحول ہوگا یا کوئی کسی کی عزت نہیں کرتا ہوگا۔
۔
اگرآپ کو لگتا ہے کہ زہراگل کراور کیچڑاچھال کر ایک صحتمند اور شفاف معاشرہ تشکیل دیا جاسکتاہے تو آپ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔
جہاں کہیں سچی تعریف دل کی گہرائیوں سے کی جاتی ہےوہاں ہر شخص اعتماد اور خوشی سے لبریز نظر آتا ہے۔
۔
اگر اب تک آپ نے منفی انداز سے چیزوں کو سدھارنے کی کوشش کی ہے تو کچھ عرصہ تعریف اور حوصلہ افزائی سے بھی اصلاح کی کوشش کریں۔
بس ایک غلطی مت کیجئے گا،جو عموما کی جاتی ہے۔ ہم برسوں سے منفی انداز سے چیزوں کو سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں، نہیں ہوتٰیں، پھر کچھ عرصہ مثبت طریقے اپناتے ہیں، فوری نتائج پیدا نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ پرانی روش پر چل پڑتے ہیں کہ “یہ قوم محبت کی زبان نہیں سمجھتی۔”

۔
تھوڑا وقت دیں۔تبدیلی ایسے ہی آتی ہے، اور ایسے ہی آئے گی۔
۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے اہم کردار کن افراد کا ہوتاہے؟
ایک وہ جو ذہین ہوتے ہیں
دوسرے وہ جو ان ذہین افراد کی قدردانی کرتے ہیں
۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپین بزنس ایڈمنسٹریشن کے مطابق دنیا کے 120 ذہین ممالک میں پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ جی ہاں چوتھا۔ یہ خبرکچھ عرصہ سے پوری دنیا میں آگ کی طرح پھیلی ہوئی ہے، مگر ہم اس خبر سے بے خبر ہیں۔ کیوں؟ ہمارے دانشور اگر اس طرح کی خبروں پر تبصرے شروع کردیں گے تو ان کا خوف، نفرت اور مایوسی کا کاروبار ٹھپ نہیں ہوجائے گا؟
۔
ہمیں اب ذہین لوگوں سے زیادہ ان کی ضرورت ہے جو پوری قوم کو احساس دلائیں کہ تم کوئی حقیرکیڑے نہیں ہو، انسان ہو۔ تم نے پہلے بھی دنیا بھر میں نام روشن کیا ہے، تم آج بھی نام روشن کر رہے ہو اور کل بھی کروگے۔
۔
ہم میں اور ترقی یافتہ ممالک میں یہی توفرق یہ ہے کہ وہ ہماری ذہانت اور نمایاں کارکردگی پر پوری نظر رکھتے ہیں، اور پھر ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، ہماری قدر کرتے ہیں۔


محمد زبیر میڈیا سے منسلک رہے، اسی شعبے میں تحیققی کام بھی کررہے ہیں۔
تعمیر شخصیت ان کا پسندیدہ موضوع ہے، شکرگزاری کی اہمیت پر اپنی اہلیہ کے ساتھ ملکر ’’شکریہ‘‘ کے نام سے کتاب کے مصنف ہیں۔
بچوں کی تربیت پر ان کی ایک کتاب تیاری کے مراحل میں ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ہمیں اب ذہین لوگوں سے زیادہ ان کی ضرورت ہے جو پوری قوم کو احساس دلائیں کہ تم کوئی حقیرکیڑے نہیں ہو، انسان ہو۔ تم نے پہلے بھی دنیا بھر میں نام روشن کیا ہے، تم آج بھی نام روشن کر رہے ہو اور کل بھی کروگے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: