منظور پشتین اور ریاستی بیانیہ؟ ظفرا للہ

0
  • 38
    Shares

منظور پشتین کون ہے؟ یہ اچانک کہاں سے نمودار ہوا؟ کیا وہ ریاست اور ریاستی اداروں کو للکار رہاہے؟ کیا اس کو بیرونی قوتیں استعمال کررہی ہیں؟ ٹویٹر میں اس کے حوالےسے جو سپورٹنگ ٹرینڈ شروع کیا گیا ہے۔ کیا اس سے نہیں لگتا کہ وہ ملک میں انارکی کو دوبارہ فروغ دے رہاہے؟ یہ اور اس جیسے کئی اور سوالات سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ سردست اس پر رائے دینا ممکن نہیں۔

یہ 2014 کے اوائل کی بات ہے ہمیں ایک ٹیم کے ساتھ ایک این جی از کے توسط سے دورے پر بنوں جانا تھا۔ ان دنوں آپریشن ضرب عضب کی وجہہ سے آئی ڈی پیز کا ایک بحران بپا تھا۔ ایسے ایسے المناک واقعات سننے اور پڑھنے کو مل رہے تھے کہ 47 دہائی کی لہو لہاں یادیں پھر سے تازہ ہو رہی تھیں۔ مختلف آئی ڈی پیز کیمپ کا دورہ اور ان کے ساتھ وقت بتانا ہمارے پروگرام کا حصہ تھا۔ یقین مانیں یہ ایک دن مجھے ایسا بوجھ دے گیا کہ میں آج بھی اس دھچکے سے خود کو باہر نہیں نکال سکا ہوں۔ وہاں کیمپوں میں آئی ڈی پیز کو جس کسمپرسی کی حالت میں دیکھا۔ جو بے بسی ان کے چہروں سے ہویدا تھی۔ وہ بیان سے باہر ہے۔ ہمیں چونکہ دو تین کیمپوں میں جانا تھا تو راستے میں ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ہماری بس پھنس گئی۔ اسی اثنا میں کچھ ایسے بچے جن کا بدن چھیتڑوں میں سے صاف دیکھائی دے رہے تھے ہماری بس کی طرف لپکے اور پشتو میں کچھ طلب کرنے لگے۔۔

مجھے سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیا مانگ رہے ہیں۔ البتہ اتنا اندازہ ہوا کہ یہ آئی ڈی پیز والے ہیں۔ ہماری بس جہاں بھی رکتی بچوں کا غول کچھ طلب کرنے نمودار ہوتے اور دھول میں نہا کے خالی ہاتھ واپس ہولیتے۔ ہر جگہ ہم نے یہی دیکھا۔ میں سوچنے لگا کہ ان کی اس حالت کا ذمہ دار کون ہے؟ کون ہے جو اس قوم کو بھکاری بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ کیمپوں کے دورے میں جو حالت دیکھنے کو ملی۔ وہ الگ ایک کہانی ہے۔ وہ مٹی آلود ضرور تھے۔ مگر ان کی آنکھوں میں ہم نے کوئی یاسیت نہیں پائی۔ غم دوراں کے ستائے ہوئے ان لوگوں کے سنگ کبھی ایسا لمحہ نہیں آیا کہ ہم نے کسی کی زبانی ریاست اور ریاستی اداروں کی برائی سنی ہو۔ ہمارے کافی کریدنے پہ بھی وہ خاموش ہی رہے۔ مجھے وہ اس ارض پاک میں سب سے ذیادہ محب وطن لگے۔

سوشل میڈیا میں کچھ حضرات منظور پشتین کو برا بھلا کہتے ہوئے پورے وزیرستان والوں کو غدار اور نجانے کیا کچھ کہہ رہے ہیں۔ اس پر دلی افسوس ہوا۔ پہلا تو یہ کہ منظور پشتین کے مطالبے میں ایسا کیا ہے کہ لوگوں کو جس سے بغاوت کی بو آنے لگی۔ کبھی اس کو قوم پرستوں اور سرحد پار قوتوں سے نتھی کی جاتی ہے۔ کیا ہماری ریاست اتنی کمزور ہے کیا ہمارے ریاستی ادارے اتنے پھسپھسے ہیں کہ ایک شخص کے آگے ٹِک نہیں سکتے۔ کیا اس کا کوئی سیاسی مقصد ہے؟ کیا وہ واقعی ملک میں انارکی کا باعث بن رہا ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ پھر اس کی کردار کشی کیوں۔ کیونکر اس کو شیخ مجیب کے مماثل ٹھیرایا جا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ میں جب اس شخص کو اور ان کے مطالبات کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ ایک محب وطن اور اور اس سرزمین کے باشندوں سے پیار کرنے والا لگتا ہے۔ ریاست اور ریاستی اداروں کو اس کی شنوائی کرنی چاھئے۔ وہ ان کے زخموں پر پھاہا رکھے تاکہ پھر کوئی ایسی نوبت ہی نہ آئے کہ کسی کو اپنی عزت اور بنیادی حقوق کے لئے منظور پشتین بن جانا پڑے۔ ریاست کو ایک ماں کی طرح اس کو گود لینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ آواز محبتوں کی نوید بن کر گونجتی رہے۔ یہاں ہر اٹھنے والی آواز کو مشکوک قرار دینے کی روایت اب ختم ہونی چاھئے۔ ریاست ایک مشفق ماں جیسی ہوتی ہے اس کو ایسی ہی رہنے دیا جائے۔ اس ملک میں پائیدار امن کا یہی واحد راستہ بچا ہے۔ ریاست اور منظور پشتین کو چاھئے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: