سٹیفن ہاکنگ کی موت اور نیم مولوی و نیم مارکسی کا فتنہ: پیرالطاف

0
  • 111
    Shares

پیر الطاف

برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی موت کے بعد مغرب کی سائنسی دنیا نے تو اظہار تاسف کے بعد اپنی تحقیق کا رابطہ وہیں سے دوبارہ جوڑ لیا ہے جہاں سے ٹوٹا تھا۔ بھلا کسی ایک انسان کے مرنے کا سوگ نوع انسانی کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے۔ مگر تیسری دنیا کے سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کے تبصرے اب بھی جاری ہیں جن میں ہاکنگ مرحوم کا اُخروی انجام، ان کا ملحد ہونا، ان کے اصلی یا نقلی ہونے کے پرانے سازشی قضیے اور ان کو ایک ایسا احمق قرار دینا جس کی ذات سے بنی نوع انسان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ کچھ اصحاب علم و قلم کے پیمانہ ہائے صبر بھی چھلکے۔ کل جب جناب عاصم بخشی صاحب اور جناب حاشر ابن ارشاد صاحب کی تحریریں دیکھیں تو ہاتھ بے اختیار قلم کی جانب لپکا۔ دل میں غبار کچھ عرصے سے جمع تو تھا ہی۔ ان دونوں اصحاب علم کے استدلال میں کچھ نکات تو ایسے ہیں کہ جن پر ہمارے بہت سے یارانِ نکتہ داں برسوں سے سینہ کوبی کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم اس گوشہ نشین میں لکھنے کی تحریک اس لیے پیدا ہوئی تاکہ کچھ ذہن میں ابھرنے والے چند خاکوں کو مزید واضح کیا جا سکے اور جو مقدمہ ان صاحبان نے پیش کیا ہے اسے آگے بڑھایا جا سکے۔

جیسا کہ عاصم بخشی صاحب نے اپنی تحریر میں اشارے کیے کہ اس بار جہاد کا یہ فریضہ ایک نہیں بلکہ دو محاذوں پر لڑا جا رہا پے۔ ایک اکھاڑے میں روایتی مذہب بمقابلہ سائنس کا معرکہ لڑا جا رہا ہے تو دوسرے میں فلسفہ بمقابلہ سائنس کے جتھے برسر پیکار ہیں۔ روایتی مذہبی سوچ سے تو ہمارا مکالمہ لگا ہی رہتا ہے اور اس پر بھی مضمون کے آخر میں بات ہوگی مگر سر دست ہماری توجہ کا مرکز اُس فلسفیانہ ذہن کا تجزیہ ہے جو سٹیفن ہاکنگ کو احمق گردانتا ہے۔ یہ ذہن صبح آنکھ کھلنے سے لے کر آنکھ لگنے تک سائنس کی لاتعداد مصنوعات کا استعمال کرتا ہے۔ مگر کارل مارکس کے کندھے پر مابعد الجدید فلسفے کی بندوق رکھ کر سائنس کو نشانہ بھی بناتا رہتا ہے۔ سائنس کو سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل اقدار کے کچھ تاریک گوشوں سے جوڑ کر اسے فلسفے کے مقابل ایک ناقص علم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عاصم بخشی صاحب نے ریاضیاتی استدلال کا سہارا لے کر سائنس اور فلسفے کے درمیان لکیر کھینچنے کی کوشش کی۔ راقم کچھ تاریخی اور کچھ معاصر مباحث کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہے۔

فی الوقت راقم الحروف یہ سمجھنے کی کوشش میں ہے کہ مذکورہ سوشل میڈیائی فلسسفی حضرات ان پرانے فلسفیوں کی کتابیں کھول کر آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں جو کہ اب ترقی یافتہ دنیا کے بنیادی نصاب میں بس ایک رسمی مطالعے کی سی حیثیت رکھتے ہیں؟ روایتی اور قیاسی فلسفے کی رسیلی گنڈیریوں کو مغرب کب کا چوس کر پھینک چکا ہے۔ اگر سائنس کے منہج اور منطق کو تسلیم کرنے کے بجائے فلسفلے کی بھول بھلیوں میں گھومنا ہی مقصود ہے تو ان چوسی ہوئی گنڈیریوں میں سے رس کشید کرنے کی خاطر جگالی کرنے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ تجزیاتی فلسفے کا وہ گاڑھا شربت نوش جان کیا جائے جو برٹرنڈ رسل، ویٹگنسٹائین، جارج ایڈورڈ موور اور فریگے جیسے لوگوں نے تیار کیا ہے۔ مگر تجزیاتی فلسفے (Analytical. Philosophy) اور سائنس کے مشترکہ قدر چونکہ ریاضیاتی ہے لہذا اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ یہ شربت ان صاحبان کے حلق سے اترے جو سائنس کی ریاضیاتی مشقت کا سن کر ہی بدک جاتے ہیں۔ ان حضرات کی مابعدالجدید فلسفے میں دلچسپی بھی شاید ریاضیاتی منہج سے فرار ہے۔ برائے نام مارکسیوں سے ہم اس ضمنی بحث کو ہی نہیں چھیڑتے کہ کارل مارکس ڈارون کے نظریات سے کتنا متاثر تھا اور اس نے داس کیپیٹل کی پہلی جلد ڈارون کو کیوں ارسال کی تھی بلکہ بنیادی موضوع کی طرف آتے ہیں۔

افلاطون کی تصنیف “ریاست” کی یوٹوپیائی فکر کے تحت شمالی کوریا اور مشرقی یورپ میں کمیونسٹوں نے جو گُل کھلائےاس کی وجہ سے معاصر یورپی دانشوروں کو اب اس سے خوف آتا ہے۔

جہاں تک روایتی اور قیاسی فلسفے کا تعلق ہے تو ھم مانتے ہیں کہ افلاطون کی تصنیف “ریاست” انیسویں صدی میں جرمن اور برطانوی سوچ پر اپنے نقوش چھوڑ چکی ہے۔ مگر اسی یوٹوپیائی فکر کے تحت شمالی کوریا اور مشرقی یورپ میں کمیونسٹوں نے جو گُل کھلائےاس کی وجہ سے معاصر یورپی دانشوروں کو اب اس سے خوف آتا ہے۔ عالمگیریت کے اس دور میں افلاطون کی “ریاست” کو فلسفے کے ایک طالبعلم کی نصاب کا بنیادی جزو تو سمجھا جا سکتا ہے مگر معاصر پولیٹکل سائنس میں اس کا کردار کتنا رہ گیا ہے؟ اس ضمن میں عاصم بخشی صاحب کارل پاپر کی جانب اشارہ کر چکے ہیں۔ راقم آئریس مرڈوک کی تصنیف ” آگ اور سورج” کی جانب بھی توجہ کرانا چاہے گا۔

ھم مانتے ہیں کہ ارسطو کی “منطق”، “سیاسیات” اور “اخلاقیات” پولیٹکل سائنس کی تاریخی مبادیات تھیں اور نظری فلسفے سے حقیقی دنیا کی جانب اہم سنگ میل بھی۔ اس فکر نے قرون وسطیٰ اور جدید مفکرین کو یقیناً متاثر کیا۔ کمپوٹر کے منطق کی ابتدا اور Capability.Aproach جیسے معاشی نظریے ارسطالیسی فکر سے ہی تو ممکن ہوئے۔ مگر کیا ارسطالیسی فکر کو جدید مفکرین کے چھان پھٹک کے بغیر آج کے دور میں جوں کا توں لاگو کیا جا سکتا ہے؟ الیسڈر میکنٹائر کی اخلاقیات، جل فرانک کی تنقید، ایسکومبے کی “اخلاقیاتِ فلسفائے جدید”، ایڈمنڈ برک کی فرانسیسی انقلاب پر خامہ فرسائی، جون رالز کا نظریہ انصاف اور اسی نظریہ انصاف پر مائیکل سینڈل کی تنقید کو نظر انداز کر کے ارسطو ہی کے گن گاتے رہنے سے کیا حاصل ہوگا۔

ھم یہ بھی مانتے ہیں کہ ھیگل نےما بعد کانٹ دنیا میں اپنا ایک منطق تخلیق کیا۔ مگر یہ اتنا پیچیدہ اور مبہم تھا کہ دائیں اور بائیں بازو نے اپنے اپنے قیاس کے مطابق نتائج اخذ کیے۔ ھیگل کی عظمت کے یقیناً گن گائے جا سکتے ہیں مگر کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ بیسویں صدی میں ھیگل کب کا متروک ہو چکا ہے۔ رسل اور موور جیسے اینگلو فون فلسفی ھیگل کے منطق کو مسترد کر چکے ہیں اور آج مغربی تعلیمی اداروں میں انہی حضرات کا طوطی بولتا ہے۔ آج کے اکادیمی مباحث میں اگر کسی کو ھیگل میں کوئی دلچسپی ہے تو وہ اس حد تک کہ 1991 میں کمیونزم کے انہدام کے بعد مارکسی نظریات کے مطالعے میں مدد لی جا سکے جو اپنی وقعت کھو چکے ہیں۔ یورپ میں ھیگل کی اگر کچھ باقیات ہیں تو اس کا سہرا مارٹن ھائیڈیگر کے سر جاتا ہے۔

Immanuel_Kant

بیسویں صدی کا فلسفہ ابہام سے نکل کر تعین کی راہ پر گامزن ہے اور یہ راہ کسی موڑ پر جا کر سائنسی منہج کی شاہراہ سے جا ملتی ہے۔ بشمول سائنس دیگر علوم پر صدیوں تک دعوے دار فلسفہ اب محض سوچ کو شفاف کرنے کا ایک فن بن کر رہ گیا ہے۔ طبیعات چونکہ تمام سائنسی علوم کی ماں کہلاتی ہے اور سٹیفن ہاکنگ جیسا ماہر طبیعات ایک ایسے نظریہ (TheoryOfEverything) کی تلاش میں تھا جو اب تک کے تمام سائنسی نظریات کی ماں ہو۔ ایک ایسے نظریہ کا وجود میں آنا فلسفے کے تابوت میں شائد آخری کیل ثابت ہوتا۔ فلسفہ و سائنس کے مغربی تحقیقی ادارےغالباً ایسے نظرئیے کو ہاتھوں ہاتھ لے لیتے۔ مگر تیسری دنیا کو ایسے کسی نظرئیے سے خطرے کی شدید بو آتی ہے جو کہ قابل فہم ہےکیونکہ ایسے کسی نظریے کے وجود سے، مذہب، اخلاقیات، اور تمام انسانی اقدار پر سوال اٹھتے۔ ہاکنگ پر کوئی تنقید اس بنیاد پر تو کی جاسکتی ہے مگر اسے احمق کہنا پھر بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔

بیسویں صدی کا فلسفہ ابہام سے نکل کر تعین کی راہ پر گامزن ہے اور یہ راہ کسی موڑ پر جا کر سائنسی منہج کی شاہراہ سے جا ملتی ہے۔ بشمول سائنس دیگر علوم پر صدیوں تک دعوے دار فلسفہ اب محض سوچ کو شفاف کرنے کا ایک فن بن کر رہ گیا ہے۔

معاصر دنیا میں متروک روایتی فلسفہ اور اس کی زوال پزیر وقعت کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر فی الوقت اس بحث کو سمیٹ کر دیگر نکات کی جانب بڑھنا چاہونگا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ سائنسی منہج اور معاصر اکادیمی مباحث سے نابلد یہ حضرات اپنی محرومیاں کیسے ختم کریں؟ اپنی ٹوپی سے کبھی خرگوش اور کبھی کبوتر نکال کر راہگیروں کو تحیر زدہ کرنے والے ان فلسفیانہ بازی گروں کو معلوم ہے کہ ان کی دال کسی تحقیقی یا تعلیمی ادارے میں گلنے والی نہیں۔ لہذا سوشل میڈیائی سڑک کے کنارے ڈگڈگی بجا کر ہجوم لگانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ جس طرح ایک مداری ہجوم کی کم فہمی سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور جدید علم طب کو ناقص قرار دے کر اپنے اطرفیل استخودوس یا افیمون ولایتی کے معجون کی پُڑیاں بیچتا ہے، اسی طرح یہ حضرات ماڈل ٹیسٹ پیپر سے امتحانات پاس کرنے والی نسل کو تخیلاتی دنیا کی مُسّکن دوا دیتے رہتے ہیں۔ اس سے مریض کا کام بھی چلتا رہتا ہے تاکہ اس کا سائنی منہج سے عاری شکست خوردہ ذہن علم کے زعم میں مبتلا رہے اور حکیم کے داد و تحسین کا چولہا بھی جلتا رہتا ہے۔ یوں بھی وکی پیڈیا اور گوگل کے دور میں کسی کو سطحی علم سے مرعوب کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ اور اگر ہاتھ ذرا بھاری رکھنا ہو تو روزانہ کسی دقیق کتاب کا پیرایا لے کر سوشل میڈیا پر لگائیں۔ چند ہی دنوں میں پرستاروں کا ہجوم لگ جائے گا۔

برٹینڈ رسل

سٹیفن ہاکنگ کی موت پر بچوں کی طرح چلّا چلّا کر اپنی جانب توجہ مبذول کرانے والوں کو ھمارے کچھ دوست متعصب قرار دیتے ہیں۔ میر ےخیال میں اس رویے کی اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ یا تو یہ حضرات نظریہ علم کی بنیادی مباحث تک سے نابلد ہیں اور یا کسی پیچیدہ نفسیاتی عارضے کا شکار ہیں۔ یہ فیصلہ ہم قاری پر چھوڑے دیتے ہیں کہ وہ تعصب، جہالت اور نفسیاتی عارضے کی وجوہات میں سے کس کا انتخاب کرتا ہے۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ ایک منطقی طریقے سے سوچنے کا دعوٰی کرنے والا ذہن جب کسی کو احمق کہےتو یہ فیصلہ کرنا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں۔

اپنی ٹوپی سے کبھی خرگوش اور کبھی کبوتر نکال کر راہگیروں کو تحیر زدہ کرنے والے ان فلسفیانہ بازی گروں کو معلوم ہے کہ ان کی دال کسی تحقیقی یا تعلیمی ادارے میں گلنے والی نہیں۔ لہذا سوشل میڈیائی سڑک کے کنارے ڈگڈگی بجا کر ہجوم لگانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔

اب آتے ہیں مذہب بمقابلہ سائنس والوں کی جانب۔ سائنس سے بے اعتنائی کو عاصم بخشی صاحب نے سماج میں ریاضیاتی منہج کی پسماندگی سے جوڑا۔ یقیناً ایسا ہی ہے۔ مگر راقم کچھ مزید عوامل کی جانب اشارہ کرنے کی بھی جسارت چاہے گا۔ ہمارے کچھ لبرل بھائی رجعت پسندوں کی سوچ پر طنز کے نشتر تو برساتے رہتے ہیں۔ لیکن ان سوالات پر مغز کھپانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ اس مخصوص طرزِ فکر کا منبع کیا ہے؟ یا اس فکر کی اختراع میں کن تاریخی اور سماجی عوامل نے کردار ادا کیا ہے؟ میرا خیال ہے کہ اگر نو آبادیاتی زخموں کی مرہم پٹی کر بھی لی جائے تو پھر بھی اسلامی دنیا اپنی فکری ساخت میں گزشتہ تین صدیوں سے سائنس کے بارے میں ایک ایسے اندرونی ابہام کا شکار ہے جس کے ہوتے ہوئے سائنسی منہج پنپ ہی نہیں سکتا۔ ایک ایسے سماج کو چشم تصور میں لائیے جہاں مذہبی تعبیرات کی کشید کسی منظم مرکزی مذہبی ادارے سے نہ ہو رہی ہو اور تنقیدی سوچ اپنی پسماندہ ترین حالت میں بھی موجود نہ ہو۔ ایک ایسا سماج جو تیس سال جہاد لڑنے کے بعد اس خواب غفلت سے اچانک بیدار ہوتا ہو کہ یہ سب اس کے ہاتھوں ایک استعماری طاقت نے کروایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جدید فزکس الحاد کو کیوں رد کرتی ہے؟ سکاٹ ینگرن کی تحقیق: اسامہ مشتاق

 

ایک ایسا سماج جہاں پانی سے چلنے والی گاڑی کی خبر قومی سطح پر تھرتھلی مچا دے اور چوٹی کے سائنسدان ایک مسخرے سے مباحثہ کرنے بیٹھ جائیں۔ اگر ایسے سماج میں مذہب شعبہ ہائے زندگی کے ہر پہلو پر مقدم سمجھا جاتا ہو تو وہاں کسی متصادم سائنسی نظریے کی پرداخت مزید مشکل ہوجاتی ہے۔ نتیجتاً اسلامی دنیا میں سائنس کی ترقی تو کُجا بنیادی سائنسی قضیوں پر اب تک کوئی حتمی رائے نہیں پائی جاتی۔ اس ابہام کا علاج یہ کیا جاتا ہے کہ مغرب سے درآمد کردہ سائنسی نظریات کے پان مسالے کو چنیدہ مذہبی تعبیرات کا تمباکو لگا کر امت مسلمہ کے پتے میں لپیٹ کر سائنس کے طالب علم کے منہ میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ یہ طالب علم جب پان کے نشے سے حِظ اٹھا چکتا ہے تو اسی پان کی پچکاری اپنی سائنسی تحقیق کے مقالے میں دے مارتا ہے۔ لہذا جب کسی ملک کے اعلٰی سائنسی تعلیمی اداروں سے ایسے مقالے نکلنا شروع ہو جائیں جن میں آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت اور الہامی متون کو ملا کر جنّت اور زمین کے مابین فاصلے کی پیمائش نوری سال میں کی جائے یا قرآنی آیات کو ریاضیاتی مساوات میں تبدیل کر کے زمین اور کائنات کی عمر معلوم کی جائے تواس پر حیرت کیسی؟ دنیا کی چوٹی کے پانچ سو یونیورسٹیوں کی اگر فہرست بنائی جائے تو ان میں کتنی یونیورسٹیاں مسلمان ممالک یا او آئی سی سے ہونگیں؟ دنیا میں سالانہ جتنے تحقیقی مقالے نکلتے ہیں ان کا کتنے فی صد مسلمان ممالک سے شائع ہوتے ہیں؟ مگر یہ تو شائد بہت کٹھن سوالات ہیں۔ اس سے بھی بنیادی سوالات کی جانب آتے ہیں کہ نظریہ علم کیا ہے؟ حقیقت کو کیسے جانچا جائے ؟ انسانی تجربہ کیا ہے؟ انسانی عقل کی ماہیت کیا ہے؟ اسلامی دنیا تو ان بنیادی سوالات پر ہی ابہام کا شکار ہے۔

دلچسپ صورتحال مگر یہ ہے کہ انہیں اسلامی معاشروں میں سائنس کے مظاہر ہر کوچے و قریے میں اپنی پوری آب و تاب سے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کھیتوں میں کام کرنے والا دہقان، بس کے دروازے سے نیم لٹکتا کنڈیکٹر اور منبر پر پر جلوہ افروز امام اپنی روز مرہ زندگی میں سائنسی ایجادات کا استعمال عمومی طور پر کرنے لگیں تو مغرب کی سائنسی ترقی سے مرعوب ہونا لازمی ہے۔ ایسے میں سائنس کے اصل دعوے دار جب اپنی محنت شاقہ یاد دلائیں تو امت مسلمہ اپنی احساس کمتری کے زیر اثر جھٹ سے الہامی متون کھول کر بتانے بیٹھ جاتی ہے کہ ان باتوں کا علم تو ہمیں چودہ سو سال سے ہے۔

maurice-bucaille

اسلامی دنیا میں سائنس کی پرداخت پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ الہامی متون کے بارے میں محولہ بالا دلائل کا آغاز کیسے ہوا۔ 1976 میں ایک فرانسیسی طبیب مورس بوکائی (Maurice. Bucaille) نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا “بائبل، قرآن اور سائنس”۔ اس کتاب میں بوکائی نے یہ دعوی کیا کہ قرآن کی کوئی بھی آیت جدید سائنس کے کسی بھی دعوے سے متصادم نہیں۔ یہ کتاب تیس سال تک خوب بکی۔ مگر اس دوران بوکائی کی تحریروں کو سائنس سے عاری مگر مغلوب اذہان نے کچھ مبلّغانہ مسالے لگا کر اسلام کے دفاع میں استعمال کیا اور اس نے اسلامی دنیا میں باقاعدہ ایک رجحان کو جنم دیا جسے “بوکائزم “کہا جاتا ہے۔ بوکائزم کے زیر اثر “ایجاز لٹریچر” عرب پاپولر کلچر میں نہایت مقبول ہوا اور عرب دنیا کے تعلیمی ادارے، جریدے، ٹی وی شوز اور انٹرنیٹ ایسی تحاریر، تقریروں اور ویڈیوز سے بھری پڑیں ہیں جن میں معجزوں کی سائنسی تاویلیں پیش کی جاتی ہیں۔ یوں قرآن کے آفاقی پیغام کو چھوڑ کر جدید سائنسی نظریات کو آیات کی مدد سے ثابت کرنے کا سلسلہ چلا، جو کہ قرآن کا بنیادی موضوع ہی نہیں تھے۔ ایجاز لٹریچر کی مقبولیت نےایک ایسے منافع بخش صنعت کو جنم دیا جس کے مخصوص پبلشرز نے اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔ اس خرد دشمن تحریک کو مقبول کرنے والے دانستہ یا نادانستہ مسلمانوں کو ایک ایسی ذہنی پستی میں مسلسل دھکیل رہے ہیں جہاں سے واپسی تقریباً ناممکن ہے۔ مبصرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب سارا سائنس قرآن میں موجود ہے تو مسلمانوں کو سائنس پڑھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ پرویز ھودبائی اور ندھال گوسوم جیسی شخصیات انہیں تحریکوں کا براہ راست رد عمل ہیں۔

ترکی کے ماہر طبیعات تانر ادیس (Taner Edis) نے کئی سال قبل بی بی سی کے ایک پرگرام میں کہا تھا کہ اگر دنیا کے سارے مسلمان یکایک کرہ ارض سے غائب ہو جائیں تو سائنس کی دنیا کو محسوس تک نہیں ہوگا۔ آخر ان کو محسوس بھی کیوں ہو۔ بقولِ اقبال؛

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا ہے وہ ایک عارضی شے ہے
نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارہ

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: