ووٹ کی حقیقی عزت کیا ہے؟ سراج احمد تنولی

0
  • 13
    Shares

آج کل پاکستان میں ووٹ کی عزت لے کر ایک بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے ہر طر ف جا بجا ووٹ کو عزت دو کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ نواز شریف سپریم کورٹ سے نا اہل ہونے کے بعد یہ فلک شگا ف نعرے ہر جگہ اپنے کارکنوں سے لگوا رہے ہیں گویا پاکستان کا مسئلہ یہی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگوانے والے خود ووٹ کی کتنی عزت و تکریم کرتے ہیں؟ کیا جمہوریت کے نام لیوا اپنی آمرانہ پالیسیوں سے ووٹ کی توہین تو نہیں کر رہے؟ کیا شہباز شریف کو نواز شریف کی جگہ بلا مقابلہ منتخب کروانا ووٹ کی تو ہین نہیں ہے؟ او! اچھا میں سوال کر رہا ہوں۔ بھائی میں کون ہوا سوال کرنے والا ؟ معذرت بھئی میں بھول گیا، میں سمجھا یہاں جمہوریت رائج ہے اور مجھے تنقید کرنے کا حق حاصل ہے۔

قارئین پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کے نصف دورانیے میں جمہوری حکومت ہی تو تھی۔ جس میں حکمرانوں نے ووٹ کی بھر پور عزت کی۔ تمام انسانی مسائل حل کئے۔ مثال کے طور پر ان چار سالوں کو ہی لے لیتے ہیں۔ کیا اب مہنگائی ہے؟ نہیں جی وہ تو لیگی حکومت نے ختم کر دی۔ کیا بے روزگاری ہے؟ نہیں بھئی حکمرانوں نے ووٹ کی عزت وتکریم کرتے ہوئے بے روزگاری کا خاتمہ کر دیا ہے محترم نواز شریف صاحب کچھ خدا کا خوف کریں۔ ووٹ کی حقیقی عزت عوامی مسائل حل کر کے ہی ہو گی۔ یہ جو لاکھوں نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، ان کو میرٹ پر روزگار دینے سے ووٹ کی عزت بڑھے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر محکمے میں میرٹ پر آنے والے لوگ دھکے کھا رہے ہوتے ہیں اور نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں ملک کا مستقبل آجاتا ہے ۔ ملک بھر میں انتظامی سطح پر ہر طرف افراتفری اور نا انصافی کا دور دورہ ہے۔ رشوت نچلی سطح سے اعلیٰ سطح تک طاعون کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ جناب محترم اس وقت کا سب سے بڑا مسلۂ ووٹ کی عزت کا نہیں ہے بلکہ بڑا مسئلہ تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی، رہنے کے لئے مکان اور میرٹ کا ہے۔ جب حکمران طبقہ عربوں کھربوں روپے لگا کر غیر ضروری اور غیر اہم مسائل کو حل کر کہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ عوام کے مسائل حل کئے جا رہے ہیں تو قارئین گرامی یہ ہمارے مسائل ہر گز نہیں ہیں۔

ہمارا اصل مسئلہ یہ کہ ملک میں انسانی فضلہ ملا پانی عوام کو سپلائی جا رہا ہے۔ ملاوٹی اشیاء جگہ جگہ فروخت کی جارہی ہیں۔ ہماری بنیادی ضرورتیں یہ ہیں جن کے حل کے لئے ہم عوام اشرافیہ کو ووٹ دیتے ہیں اور ان ضرورتوں کی تکمیل سے ہی ہمارے ووٹوں کا تقدس برقرار رہتا ہے۔ اگر حکمران منی لانڈرنگ جیسے گھناؤنے ناسور میں ملوث نہ ہوتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ اس تمام بد ترین کار کردگی کے باوجود احتسابی ادارو ں کے وقار کی جس طرح پامالی کی جا رہی ہے یہ عدلیہ ہی کی نہیں بلکہ جج صاحبان کی بھی بری طرح تذلیل کی جا رہی ہے ۔ پاکستان کی تاریخ کیا دنیا کی تاریخ میں اس طرح اپنے ادارروں کی تذلیل کی کوئی مثل نہیں ملتی۔ 20کروڑ سے زائد کی آبادی میں سے مخض چند ہزار لوگوں سے اپنی انا کی تسکین کے لئے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانا اور بے مقصد نعرے لگوانا دانشمندی تصور نہیں کی جاتی۔جب ملک میں غربت، بھوک و افلاس ننگے پاؤں دوڑ رہی ہوتی ہے تو وہاں قیمے والے نان اور بریانیاں چل جاتی ہیں لوگ بھوکے پیٹ کی خاطر جمع ہو جاتے ہیں۔ خدارا غریب عوام کے ساتھ کھلواڑ مت کیجئے ۔ بس کریئے پاکستان پر رحم کیجئے، عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیجئے، تا کہ وہ پر سکون، خوشحال اور آزاد زندگی جی سکیں۔ اب آئندہ انتخابات میں عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اس اشرافیہ کا ساتھ دیں گے جس نے 70سالوں سے ان کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا ہے۔
پاکستان زندہ باد۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: