کراچی کا نیا سفرنامہ: خوابوں کا شہر —- عابد آفریدی کی کھٹی میٹھی تحریر

0
  • 18
    Shares

کراچی کا نیا سفرنامہ ایک ایسے نوجوان کا تذکرہ ہے جو زندگی میں پہلی بار اپنے والد کے دکھائے گئے خوابوں کے شہر میں وارد ہوتا ہے۔ پھر اس شہر میں جو کچھ اسے پیش آتا ہے اسکا تذکرہ اپنے مخصوص کھٹے میٹھے انداز میں عابد آفریدی کی اس سلسلہ وار تحریر میں دانش کے قارئین ملاحظہ کرسکیں گے۔ پہلا حصہ پیش خدمت ہے۔


ابا مرحوم ایک کامل ادیب تھے۔ یہ میرا اور ابا جان کا مشترکہ ماننا تھا۔ مگر امی جان اکثر اوقات جب وہ کسی مشاعرے میں جانے سے پہلے تیار ہوتے تو ان کی چگی داڑھی و کسے ہوئے پاجامے کو کوستے، انھیں نذرانے کا سوکھا بکرا قرار دیتیں۔

عابد آفریدی

بعض اوقات تو اماں کی اس لعن طعن میں اسقدر مطابقت پائی جاتی تھی کہ ہم بھی منہ پہلو میں کرکے دو لہریں تبسم کی ذرا دھیمی آواز میں خارج کردیا کرتے۔

والد محترم پانچ سال کے تھے جب ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ شعور آیا تو زیادہ وقت ادبی سرگرمیوں و مشاغل میں صرف کرنے لگے۔ اس وقت ان کا ایک ہی خواب تھا کہ وہ ادب کی دنیا میں نام کما کر ایک روشن ستارہ بن جائیں۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر شہر میں جہاں کہیں کسی مشاعرے یا ادبی سرگرمی کا علم ہوتا، شمولیت فرض عین سمجھتے۔

دادا جان نے ان کو سارا سارا دن مشاعروں میں شعرا کے کلام پر یوں مفت کی واہ واہ کرتے دیکھا تو ایک دوست کو ہجرت کے سبب پیدا ہونے والی محرومیوں کا واسطہ دے کر محکمہ تعلیم میں بطور اسکول ماسٹر بھرتی کروا دیا۔ اس نوکری پر سب خوش ہوئے مگر والد صاحب قطعا خوش نہ تھے کیونکہ اس نوکری کے لئے اب انھیں کراچی چھوڑ کر لاہور جانا تھا۔

لاہور کی اس مستقل نوکری کو ابا جان نے بے حد مجبوری کے عالم میں قبول کیا۔ کراچی کی ادبی جنت سے یوں زبردستی بے دخلی کا نوحہ دل و زبان پہ ساتھ لے گئے جس کا ریاض گھر میں ہر روز کرتے۔

————–

“ابا جان کی شادی”

بقول ابا جان اس زمانے میں سرکاری اسکول ماسٹر کی زبردست عزت ہوا کرتی تھی۔ لوگ بہت ادب سے پیش آتے۔ محلے کے بچے اساتذہ کو دیکھ کر بھاگ جاتے۔ اسی جاہ و جلال کو دیکھ کر نانا حضور نے، جو علاقہ مسجد میں امام تھے، اپنی بیٹی کا ہاتھ مع تین تولہ سونے کے ابا جان کے ہاتھ میں دے دیا۔ جسے بعد میں ہر بار کی لڑائی پر امی جان گاڑی بھر بھر کر سونا لانے سے تعبیر کرتیں۔

روایت کے مطابق لڑائیوں کا آغاز تو شادی کے پہلے سال سے ہی ہوا۔ خدا کی قدرت!!! کہ باوجود ان تمام جنگی و کشیدہ حالات کے، ہم بہ سلامت اپنی کامل حالت میں بنا کسی ٹوٹ پھوٹ، کمی کوتاہی کے اپنے متعین وقت پر پیدا ہوئے۔

ابا جان نے جب ہماری صورت دیکھی تو اس وثوق سے ہمارے ادیب ہونے کی نوید سنائی جیسے ہمارے چہرے پر ننھی سی چگی داڑھی اور سر پر چھوٹی سی قراقلی ٹوپی دیکھ لی ہو۔ انہوں نے ہمارا نام کرم دین دہلوی رکھا جسے لگے ہاتھوں والدہ صاحبہ نے مسترد کردیا۔

فرمایا “بچہ مینار پاکستان کی گود میں پیدا ہوا ہے۔ اور آپ چلیں اسے قطب مینار پر بٹھانے”

نام پر اختلاف کئی روز تک برقرار رہا۔ اس دوران ہم بھی بے نامی کے عالم میں خوب ہاتھ پاوں مارتے رہے۔ اپنی اس بے نامی کے شکایت چندا ماما اور ان سے ملحقہ دیگر بیبیوں، پریوں اور ستاروں سے کرتے رہے۔ بلآخر نانا جان کی مداخلت کے باعث فریقین کے درمیان رضامندی پیدا کی گئی، کچھ لے دے کر ہمارا نام کرم دین لاہوری رکھا گیا۔

گھر میں نہایت نفیس اردو بولی جاتی تھی۔ حتی الامکان شرفا کی وضعداری اپنائی جاتی۔ آداب گفتگو کا مکمل پاس رکھا جاتا تھا۔ ابا حضور کوئی ایسا لفظ سنتے جس کا تلفظ درست نہ ہوتا تو سرزنش کرتے، درست الفاظ کے استعمال پر زور دیتے۔ ابا جان کراچی میں گزرے وقت کو اپنا سرمایہ حیات سمجھتے۔ اردو ادب کو زندگی کا مقصد جانتے تھے۔ اپنے شعر گوئی کے اس فن کو کراچی کی ہی عطا کہتے۔ جبکہ تاحال ان کا یہ فن دیدہ وران فن و جملہ مداحین ہنر کو قریب لانے میں ناکام رہا تھا۔

اپنے اشعار چھپوانے کے لئے بارہا پبلشر حضرات کی خدمت میں پیش ہوئے۔ ۔ ۔ اشعار کو جانچنے کے بعد جواب دیا جاتا تھا۔
”محترم اس شاعری کی جگہ کتابوں میں نہیں پبلک ٹرانسپورٹ کی پشت پر بنتی ہے، آپ اپنی یہ کلیات ہمیں نہیں کسی با ذوق ڈرائیور کو دکھائیے ”

والد محترم نے بچپن ہی سے ہم پر محنت شروع کردی تھی۔ ہم سے میر و غالب کا کلام پڑھواتے۔ روک روک کر قافیہ ردیف کے اسرار و رموز، ان کے جوڑ اور توڑ پر درس دیتے۔

اوائل میں تو امی جان کو گھر میں جاری اس گھریلو اردو یونیورسٹی پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ مگر جیسے جیسے والد صاحب عمر کی اس سرحد سے اگے نکل گئے جہاں پہنچنے کے بعد انسان سے گاڑی بنگلہ کمانے کی مزید امید ختم ہوجاتی ہے۔ تو امی جان کو اردو ادب و کتب سے نفرت ہونے لگی۔

شام کو جیسے ہی گھر میں حلقہ درس و تدریس کا آغاز ہوتا تو امی صاحبہ اپنی قسمت کو کوسنا شروع کردیتی۔ جب دیکھتی کہ والد صاحب پر کوئی اثر نہیں ہورہا تو گالیوں کا پرنالہ میر و غالب کی جانب موڑلیتیں۔ اشتعال دلانے کی اس آخری تدبیر پر بلآخر والد صاحب بھی آگ بگولہ ہوجاتے۔ کہتے ہمارے آباو اجداد کو کوس لیں پر میر غالب کانام زبان پر آیا تو زبان کھینچ لیں گے۔ خوب دوطرفہ نانا اور دادا کے خاندان پر منفی روشنی پڑتی۔ ہم سے ابا جان کتاب جھٹک کر چھین لیتے اور کہتے:

”اب آگے اس صورت ہی پڑھائے گے جب آپ اپنی والدہ صاحبہ کی زبان بندی کرلیں”۔ یہ دیکھ کر امی جان بھی دور سے بیلن دیکھا کر کہتی خبردار اگر تمھیں دوبارہ ان کتابوں کے آس پاس دیکھا۔

میرے مستقبل کو لیکر تشویش کا اظہار کرتی کہ ایک کتابی نیولے کو میں سہہ رہی ہوں یہ کافی ہے ”میری بہو بھی اس اذیت سے گزرے ایسا میں ہونے نہیں دوں گی۔ میں اپنی بہو کو ”ایک ہنستا کماتا انسان دینا چاہتی ہوں”

امی کی ساری ڈانٹ فضول تھی۔ کیونکہ ادب و کتب بینی نے ہمیں ایسا جکڑ لیا کہ اب کوئی ڈانٹ و گالی ہمیں اس سے آزاد کرنے کے اہل نا تھی۔

معاملہ اس وقت اور بھی سنگین ہوجایا کرتا تھا۔ جب کراچی سے انکل ستار تشریف لاکر ہمارے گھر مہمان ہوجاتے۔

ایک شام دروازے پر دستک ہوئی۔ دیکھا تو انکل ستار بانہیں پھیلائے کھڑے ہیں۔ ان کی آواز گھر میں داخل ہوئی تو ابا جان بہ آواز بلند خوش آمدید “خوش آمدید” کے کلمات ادا کرتے ہوئے دروازے پر آگئے۔ خوب جم کر گلے ملے۔

ان کی آمد پر ابا جان کی خوشی اس لئے بھی قابل فہم تھی کہ انکل ستار آپ کے اکلوتے پرستار اور سامع تھے۔ انھیں بھی ادب سے شغف تھا۔ مگر ادب کی جس صنف میں ان کو ملکہ حاصل تھا۔ ۔ وہ تھا صنف داد رسی۔ اشعار پر اس فلک شگاف انداز میں داد دیتے کہ ابا جان کی انکھیں نم ہوجاتیں۔ آنسو پونچھتے ہوئے تمام پبلشر کو بدعائیں دیتے، حاسدین قرار دیتے۔

ایک دن جب آپ کے کسی شعر پر انکل ستار کی داد کی موجیں تھمنے میں نہیں ارہی تھی تو آپ نے انھیں روک کر کہا:
”میاں ستار ہمارے یہ ادا شدہ اشعار جن پر آپ کی داد سمٹ نہیں پارہی۔ ۔ ۔ ۔ اگر شائع ہوگئے تو سوچا کیسی تباہی مچائے گے؟ عصر حاضر کے تمام بڑے شعرا ہمارے ان تہہ در تہہ پرت در پرت شعروں کے بھنور میں ڈوب جائیں گے۔ ۔ ۔ بس یہی وجہ ہے کہ کوئی پبلشر ہماری آواز کو کتابی شکل دینے پر تیار نہیں”

جس دن انکل ستار تشریف لائے اس دن سرشام گھر میں مشاعرے کا انعقاد ہوا۔ رات بھر یکطرفہ شعر گوئی اور تنقید نگاری کا دور چلا، ہر آدھے گھنٹے کی داد رسی کے بعد انکل ستار “چائے پکوڑے کی فرمائش کرتے، آلو پراٹھے بنوائے جاتے۔ ہم سے حقہ لگوانے کا کہتے۔ سویرے ابا اسکول چلے جاتے اور انکل ستار اپنے کام نمٹانے نکل جاتے۔ شام کو محفل کا آغاز اسی جگہ سے ہوتا جہاں رات کو برخواست ہوتی۔

کچھ دن تک تو خیریت رہی مگر ایک دن جب ابا کی چھٹی تھی امی جان کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر عین اس وقت باورچی خانے سے ان کی للکار برآمد ہوئی جب ابا جان اپنے تازہ فرمودات کھول کر انکل ستار کے سامنے بچھانے میں مصروف تھے۔

پہلے تو ابا جان کو معمول کے مطابق بنا سینگوں والا مالا گوری بکرا کہا۔ دوئم میر و غالب کو کوسا۔ ۔ سوئم انکل ستار کو ایسی کامل دیسی پنجابی گالیوں سے نوازا کہ چہروں کے رنگ پھیکے پڑگئے۔

باورچی خانے سے باہر آکر بولیں۔
یہ لونڈا ستار!!!!! یہ ہوٹل کا کرایہ بچانے کے لئے تمھاری ان بکواسات پر واہ واہ کرتا ہے۔ کسی دن کراچی جاکر اس کے گھر میں اپنا یہ دکھڑا کھول کے دیکھ تو لینا۔ تمھیں سمندر کے راستے ہندوستان نہ پہنچایا تومیرا نام زلیخہ صضیر سے بدل کر شفقت چیمہ رکھ لینا (ان وقتوں میں شفقت چیمہ خواتین میں انتہائی ناپسندیدہ تھے)۔

بجائے ابا جان اپنے اور انکل ستار کے دفاع میں کچھ کہتے۔ خود انکل ستار میدان میں کود گئے۔ اس ڈھٹائی سے مہمانوں کے حقوق پر تقریر شروع کردی جیسے ہم سب مہمان ہو اور آپ میزبان۔
ہاتھ ہلا ہلا کر مہمانوں کے حق میں دلائل دئے، مہمانوں سے متعلق شعر کہے، ان کی برکات گنوائیں۔

امی بھی چپ نہ رہیں۔ دونوں کی آوازیں اونچی ہوئیں۔ انکل ستار کے مہذب و مودب دلائل امی جان کی ساگ و پالک سے کشیدہ تازہ خوشبو دار گالیوں کا مقابلہ نہیں کرسکے۔

یہ بھی پڑھئے: کیرانچی کا جوغرافیہ —- لالہ صحرائی

 

آخر میں انکل ستار میدان سے اپنا سامان یعنی دل پسند سویٹ والوں کے شاپر میں پڑے اپنے کپڑے اٹھا کر روانہ ہوگئے۔ دروازے سے ایک قدم باہر رکھ فلمی انداز میں چہرہ گھمایا۔
والد صاحب کو مخاطب کیا۔
انھیں کمزور خاوند ہونے کا ایک طعنہ دیا۔ کہا اگر ہماری منکوحہ کسی سے ایسی بدتمیزی سے پیش آتی تو ان کا ٹھکانہ ہمارا گھر نہیں ایدھی فاونڈیشن والوں کا پاگل خانہ ہوتا۔ مزید اور کچھ بولتے امی جان اپنی چپل کی جانب جھک گئیں اور آپ نکل گئے۔

انکل ستار بھی اعلی پائے کے ڈھیٹ تھے۔
شام ہوتے ہی درجن ایک کیلے اور کلودو شکر و دودھ لیکر دروازے پر حاضر ہوگئے۔ فورا امی جان کو چادر اوڑھائی، آپا بول کر ان سے معافی مانگ لی۔ یہ ایک بار کا واقعہ نہیں تھا وہ ایسا متعدد بار کرچکے تھے۔

یوں صرف بہ عوض “واہ واہ” اور “کیا کہنے” کے بدلے پانچ دن کا راشن اور رہائش کمالیتے۔ جاتے ہوئے ہم سب سے کہتے خدارا ایک بار کراچی آکر خدمت کا موقع تو دیجے۔
والد محترم جو پہلے ہی کراچی کی یادوں کے سہارے جیتے تھے۔ انکل ستار کے دورے کے بعد مزید گھائل ہوجاتے۔ ہر وقت ان کی ز بان پر کراچی کا ہی ذکر رہتا، کراچی دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے۔
کہتے ارٹس کونسل میں روز شام کو ادبا و فنکاروں کا جمگھٹا لگتا ہے، اردو بازار میں چلتے پھرتے بڑے بڑے ادیبوں سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ اور تو اور غالب لایبریری کا بتاتے کہ وہاں ہر وقت دیوان غالب کا غلبہ رہتا ہے۔

مشاعروں کا احوال، ادبا کے کمال، اہل زبان کی شفافیت یہ سب بیان کرتے ہوئے اکثر غش کھا کر خود تو بیہوش ہوجاتے اور ہمیں کراچی دیکھنے کی چاہت میں رات بھر تڑپتا چھوڑ دیتے۔

“وفات”

ریٹائرمنٹ کے کچھ ہی عرصے بعد آپ کی طبعیت خراب ہوئی۔ سارا سارا دن لیٹے رہتے۔ دوائیوں اور پرہیز کے وجہ سے جسم کمزور ہوا لکھنے کی کوشش کرتے تو قلم ڈگمگانے لگتا۔ کچھ نیا زہن میں آتا تو ہم سے لکھواتے۔

عورت بیشک ایک پہیلی ہے۔ اسے سمجھنا کسی کے بس کا روگ نہیں۔ امی جان ان کی حالت بھانپ گئیں۔ وہ دن کا ڈھیر سارا وقت ان کے ساتھ بتانے لگیں۔ ان کی پسندیدہ کتابیں و اشعار انھیں پڑھ کر سناتیں۔ خوب داد بھی دیتیں۔

ایک دن ہم دنوں کو پاس بیٹھا کر کہا۔ ۔ ۔ کہ میں زندگی کے اس میدان میں دنیا داری کا ہنر سیکھ نہ سکا۔ جہاں لین دین حساب و جواب سے رشتہ جوڑنا تھا وہاں میں نے الفاظ و کتاب کو گلے لگایا۔ آج میرے پاس چند صفحات و الفاظ کے سوا کچھ نہیں بچا۔ مجھے نصحیت کی کہ میں نے ادب کو دنیا داری پر فوقیت دی مگر بیٹا تم ایسامت کرنا۔ ادب کو بس مشغلہ رکھنا جنون بننے نہیں دینا۔
کچھ یاد کرتے ہوئے چھت سے لٹکے پنکھے کو دیکھا اور پھر ہاں ہاں یاد آیا کہتے ہوئے بولے “ہر اس بڑے کی طرح جو جاتے جاتے بھی اپنے پسماندگان کو ایک ایسا کام کرنے کا بول دیتے ہیں۔ جسے کرنے سے بہتر پسماندگان مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنا روئے سخن میری جانب موڑ کر کہا کہ بیٹا تم نے ہر حال اپنی خالہ کی بیٹی جمیلہ سے شادی کرنی ہے”

یہ ان کے آخری الفاظ تھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: