نیم کا پیڑ اور کچّا آنگن : سید مظفر الحق

0
  • 52
    Shares

یہ اس زمانے کا ذکر ہے جو زیادہ قدیم تو نہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ جیسے اسے بچھڑے ہوئے کتنے جگ بیت چکے ہوں۔ تب گھر چھوٹے تھے لیکن ان میں بسنے والے لوگ بڑے تھے۔ آج کی طرح بڑے اور وسیع رقبوں کو گھیرے ہوئے گھروں کے مکینوں کی طرح چھوٹے اور تنگ دل نہیں تھے۔

تب ہر گھر کے آگے سورج مکھی، رواسن، ڈوڈنیا یا مہندی کی باڑ ہوتی تھی جو پردے کا کام بھی دیتی تھیں اور تپتی گرم دوپہر میں ٹھنڈک کا ذریعہ بھی تھیں۔ ریت کے جھکڑ اور بگولوں کو روکنے کی فصیل بھی یہی باڑ تھی۔

تب ہر گھر میں ایک کچّا آنگن بھی ہوتا تھا جس میں نیم، جامن، امرود، پپیتے یا آم کے پیڑ اور ترئی یا لوکی کی بیلیں لگی ہوتی تھیں۔ ان سرسبز و شاداب درختوں کے پتّے دستِ دعا کی طرح پھیلتے تو رحمت خداوندی جوش میں آجاتی اور یوں ٹوٹ کر مینہ برستا کہ ہفتوں کی جھڑی لگتی، گلی کوچے اور میدان جل تھل ہوجاتے۔ بچّے بالے مٹیالے پانی میں چھپا چھپ کرتے اور کاغذ کی کشتیاں کشتیاں تیراتے اور ایک دوسرے پہ گیلی مٹی کے گولے برساتے، رات کو مینڈکوں کی ٹرٹر اور جھینگروں کی جھائیں جھائیں سنائی دیتی، تو کہیں اولتی اور ٹپکے کی آوازیں سکوتِ شب کا سینہ چیرتی رہتی تھیں۔

ان ہی گھروں میں سے ایک کےآنگن میں اور پیڑوں کے ساتھ لگا وہ نیم کا پیڑ مجھے بہت یاد آتا ہے گو کہ وہ نہ ہی اتنا قدیم تھا کہ اسے پرکھوں کی یاد گار سمجھا جاتا اور نہ ہی اتنا گھنیرا کہ اس کی چھاؤں تلے سب کچھ آ جائے۔ پھر بھی اس کی رفاقت میں بڑی ٹھنڈک تھی اور اس کی بلند ترین ٹہنی تک پہنچنے کی دل میں چاہت رہتی تھی چھوٹی چھوٹی معصوم خواہشوں میں عظیم مسرتیں پنہا تھیں۔ تب خواہشیں بے لگام تھیں نہ ہی ضرورتیں بے پناہ، ہوس نے دلوں میں جا نہیں کی تھی اور آنکھوں میں خواب ضرور سجے تھے پر تعبیر کے لئے سب کچھ روند نے کی سوچوں نے جنم نہیں لیا تھا۔ اس طرح چھوٹے چھوٹے گھروں کی دیواروں کی طرح اس کے مکینوں کے دل بھی جڑے ہوئے تھے۔ چھوٹوں کے لئے ہر پڑوسی مرد چچا یا خالو اور ہر عورت چچی اور خالہ ہوتی تھی، فکر و نظر میں پاکیزگی تھی اس لئے اٹھتا شباب ہو یا ڈھلتی جوانی، سراپا نگاہوں کی شکار گاہ اور تنہائیاں گناہوں کی آماجگاہ نہیں تھیں۔ یہ سن ساٹھ اور ستّر تک کا کراچی تھا جس میں متوسط طبقے کی آبادیاں ناظم آباد، پیر الہی بخش کالونی اور لیاقت آباد باہم پیوست اور یکساں مزاج و مسائل کی حامل تھیں۔ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا زمانے کا چلن تھا اور خود داری و دیانت کو شخصیت کا بانکپن سمجھا جاتا تھا۔

گھر کا سربراہ مرد اور منتظم عورت ہوتی تھی۔ محدود آمدنی میں مہینہ گزارنا کار دارد تھا اس لئے کوئی مہمان آ جاتا تو مائیں بچوں سے کہتیں کہ ” بیٹا ذرا پڑوس کی خالہ سے ایک کپ چینی لے آؤ اور کہنا کہ پہلی تاریخ کو واپس کر دیں گے ” اور ایسا ہی کچھ بوقت ضرورت پڑوس والے کرتے۔ کوئی اچھی چیز گھر میں پکتی تو پہلے ہمسائے کے گھر بھیجی جاتی جو عام طور پر اس وقت برتن خالی کر کے واپس نہ کرتے بلکہ بعد میں اسی برتن میں اپنے گھرمیں پکی ہوئی کوئی چیز بھر کر بھیجتے۔ کسی گھر میں خوشی کی کوئی تقریب ہوتی یا افسوسناک واقعہ ہمسائے مہمانوں کے لئے اپنے گھر کا در وا کردیتے اور پڑوس کی تنگئی مکان کا مداوا ہو جاتا۔ ائر کنڈیشنر اور فریج کو کوئی جانتا تھا نہ اس کا رواج تھا، کچن باورچی خانہ کہلاتا تھا جس میں ایک چھوٹی سی جالی لگی الماری نما چیز ہوتی جو نعمت خانہ کہلاتی تھی اور کھانے پینے کی اشیا چوہوں اور بلیوں کی دست برد سے محفوظ کرنے کے لئے اس میں مقید کردی جاتیں، جن چیزوں کو شریر بچوں کی رسائی سے محفوظ کرنا ہوتا اسے چھت کے سااتھ شہتیر یا بلّی میں لٹکے چھینکے میں رکھ دیتے جو ہمارے سامنے تو بلی کے بھاگوں ٹوٹا نہ ہمارے نصیب یاور ہوئے۔ ٹھنڈے پانی کے لئے مٹی کی کوری صراحی اور گھڑے ہوتے تھے۔ مکانوں کا عمودی پھیلاؤ اور ان میں لوٹ مار کا رواج بھی شروع نہیں ہوا تھا اس لئے دروازے کھلے رہتے جن میں سے جانفزا سمندری ہوا بے روک ٹوک سرسراتی ہوئی گزرتی، راتوں کو بھی چوری کا کھٹکا اور جان کا خوف نہ تھا۔ گرمی کا علاج شب بھر کھڑکی دروازوں کو کھلا رکھ کر خواب خرگوش کے مزے لینا تھا۔

عقائد کا اختلاف اس وقت بھی تھا مگر اعتقادات نفرت میں ڈھل کر سر کی جگہ دل میں نہیں اترے تھے۔ شیعہ اور سنی، بریلوی اور وہابی، سرخے اور اسلام پسند تب بھی تھے لیکن پہلے وہ انسان اور مسلمان تھے۔ پہلو بہ پہلو رہتے، دھواں دار مباحثے ہوتے، جلسے جلوس اور نعرے بازی ہوتی پھر ایک ہی میز پہ بیٹھے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہوتے۔ یوں لگتا جیسے برکھا برس گئی اور وہ سب گرد و غبار تھا جو بارش کے سااتھ بہہ گیا، مطلع صاف اور گرد کدورت دھل گئی۔ اپنے نظریات پہ سمجھوتہ کیا نہ ہی دوسرے کے خیالات پر نفرین۔ لیکن مراسم ویسے ہی رہے بقول جوش ملیح آبادی ” اے دوست دل میں گرد کدورت نہ چاہیے – اچھے تو کیا بروں سے بھی نفرت نہ چاہیے ۔

بات چلی تھی کچّے آنگنوں اور نیم کے پیڑ سے اور پہنچ گئی عقائد اور رویوں تک، اکثر یوں ہی ہوتا ہے

” ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا -بات پہنچی تیری جوانی تک “

نیم کا وہ پیڑجو ہم بچوں کا رفیق اور بڑوں کا اثاثہ تھا کہ اس کی ٹہنیوں پہ پڑے جھولے بہت بڑی ان ڈور تفریح تھے اور بلند ترین شاخوں تک پہنچنا دل پسند مشغلہ، اسی پہ لٹک کر ورزش کی جاتی اور اسی کی نرم شاخیں مسواک کے طور پہ استعمال ہوتی تھیں۔ اسی نیم کے پیڑ کی سینکیں / تنکے لڑکیاں ناک کان چھدوا کے بطور بالی یا لونگ استعمال کر لیتی تھیں۔ مچھر ہو جاتے تو نیم کے پتے جلا کر اس کا دھواں دیتے اور کھٹملوں کا علاج نیم کے پتے ابال کر گرم پانی سے چارپائیوں کو غسل دے کر کیا جاتا۔ کوئی زخم ہوا تو اسی کی چھال کو گھس کر زخم کا مرہم بنا لیا جاتا اور اس کی نبولیوں سے دروازے پہ آموں کی دوکان سجا کر ہم عمر بچوں میں ایک احساس تفاخر ہوتا کیوں کہ ان کے آنگن میں نیم کا پیڑ تھا نہ ہی نبولیوں کی فصل۔ اسی پیڑ کے تنے اور شاخوں سے نکلنے والا گوند اسکول کی کاپیاں اور کتابیں جوڑنے اور تصویریں چپکانے کے کام آتا تھا۔ اور آخری یاد باپ کی میّت کو اسی پیڑ کے نیچے غسل دینے کی ہے۔

پھر یوں ہوا کہ کچّے آنگن پکّے ہوئے تو ان درختوں کی جڑیں کلہاڑیوں کی زد میں آگئیں۔ اور اس کے ساتھ وہ رشتوں کی جڑیں بھی کٹنے لگیں۔ مشترکہ دیواریں بٹ گئں۔ گیلریاں بننے لگیں تو گھروں کے سامنے کی باڑیں کٹنے لگیں۔ اور اب گھروں کی جگہ مکان ہیں سب پکّے اور علیحدہ علیحدہ، سیمنٹ کے جنگل اور پتھر دل لوگ۔
آج ممجھے اپنا ہم عمر اور ہمجولی نیم کا وہ پیڑ بہت یاد آ رہا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: