آبِ حیات — آبیناز جان علی کا افسانہ

0
  • 43
    Shares

بارش کی بوندوں کی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے؟ بارش اپنے ساتھ سکون لاتی ہے، خوشحالی لاتی ہے۔ بارش ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔ گرمی کے مشکل دنوں کی کڑوی یادوں کو دور بھگاتی ہے۔ میری اس ویران زندگی کو اپنی منزل تک پہنچانے میں تو اسی انمول بارش نے مدد کی تھی۔ وہ دن میرے دماغ میں نقش کرگئے ہیں۔

اگست کا مہینہ تھا۔ دہلی میں گرمی اتنی کہ دن میں چار پانچ بار نہانے کے بعد بھی کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ باہر نکلو تو دو منٹ میں سارا بدن پسینہ پسینہ ہو جائے۔ پیاس اتنی کہ جتنا پانی پیو مٹتی ہی نہیں۔ میری زندگی کے کچھ ایسے ہی حالات تھے، سخت مشکل اور پریشانیوں سے گھری ہوئی۔ میں اس وقت صرف بیس سال کی تھی۔ ان دنوں اچانک ذمہ داریوں کا احساس ہونے لگا تھا۔ ڈگری ایک مہینے پہلے ہاتھ میں آگئی تھی۔ میں نے انٹریئر ڈکوریشن میں ڈگری حاصل کی تھی۔ آگے پڑھنے کی خواہش تو دل میں روشن تھی لیکن پیسے کہاں سے آتے؟ ابو تو ریٹائر ہو چکے تھے اور اب تو وہ اکثر بیمار رہتے تھے اور امی سارا دن ان کی دیکھ بھال کرتی رہتی تھی۔ ابو کی پنشن سے تو کسی نہ کسی طرح گھر کا خرچہ نکل آتا تھا اور جو ان کی کچھ جمع کی ہوئی رقم تھی ان کی دوائی میں صرف ہو رہی تھی۔ اس صورتِ حال میں میرا مزید پڑھنا نا ممکن تھا۔ میں نے نوکری کرنے کی ٹھان لی۔ لیکن نوکری ملنی اتنی آسان نہیں تھی۔ یہ بات پورے ایک مہینے ٹھوکریں کھا کھا کر معلوم ہوئی۔ جس کمپنی کا دروازہ کھٹکھٹاتی مجھے ناکامی، مایوسی اور ناامیدی کے علاوہ کچھ نہ ملتا۔ میں زندگی سے مایوس ہونے لگی۔ اگر مجھے نوکری نہ ملی تو کیا ہوگا؟ یہ بات سوچ سوچ کرمیری آنکھوں کی نیند حرام ہو جاتی۔ کیا کیا جائے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اوپر سے یہ گرمی جلے پر نمک ڈالنے کا کام کر رہی تھی۔ اس سال تو بالکل بھی بارش نہیں ہوئی تھی۔ سب لوگ اس بے کار موسم کو کوس رہے تھے اور دعا کر رہے تھے کہ کب بارش ہو۔ میں بھی منتظر تھی۔ مجھے اپنی قسمت کے چمکنے کا بھی انتظار تھا۔

اس دن کی تصویر میرے ذہن میں اس قدر رچ بس گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کل کی بات ہے۔ میں حسبِ معمول گھر سے تلاشِ معاش کو نکلی۔ تب اچانک چاروں طرف اندھیرا نظر آیا۔ آسماں کی جانب دیکھا تو کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ میرے دل کی دھڑکنیں ایک لمحہ کے لئے رک سی گئیں۔ جو بات دماغ میں آرہی تھی اسے بیان کرنے میں زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ پھر بجلی چمکی، بادل گرجا اور بارش کی پہلی بوندیں آسمان سے اتر کر زمین میں جذب ہوگئیں۔ اس کے بعد اتنی زور سے بارش ہوئی کہ سڑکوں پر پانی بھر آیا۔ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر سڑک اور چھت پر خوشی سے ناچ رہے تھے۔ کہیں سے کسی ننھے سے بچے نے دعا مانگی:
’ا ﷲمیاں اور پانی دو‘

میں بھی اپنے اردگرد کے ماحول میں مست ہو گئی۔ اس عالم میں بغیر کوئی خاص توجہ دئے روڈ پار کرنے لگی۔ بیچ سڑک میں اچانک میرا پیر پھسلا۔ اتنے میں ایک لال رنگ کی ماروٹی گاڑی مجھ سے ٹکرا گئی۔

جب ہوش آیا تو اپنے آپ کو ہسپتال میں پایا اور پھر ایک اجنبی نے میرا نام لیا!
’’مس عارفہ۔۔۔ آپ ہسپتال میں ہیں۔ میں آپ کو یہاں لایا ہوں۔ آپ کا میری گاڑی کے ساتھ حادثہ ہوا ہے۔ میں نے آپ کے پرس سے آپ کا نام اور پتہ ڈھونڈا تاکہ آپ کے گھر والوں کو اطلاع دے سکوں۔‘‘

یہ سن کر وہ سڑک والا حادثہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ اسی وقت پورے بدن میں شدید درد کا احساس ہونے لگا۔ میرے سر، ہاتھ، پیر اور گھٹنے میں پٹیاں تھیں۔ کافی گہری چوٹیں آئی تھیں لیکن خدا کا فضل و کرم تھا کہ کوئی فراکچر نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے پورے ایک مہینے مکمل آرام کی سخت تاکید کی۔ دو ہفتے بعد میں گھر جاپائی۔ پھر بھی کمزور ہو گئی۔ مدد کے بغیر اٹھ نہیں سکتی۔ بے چاری امی کو ایک کے ساتھ دو دو مریضوں کو دیکھنا پڑ ا۔

اسپتال والے اجنبی کا نام عنایت تھا۔ وہ مجھ سے ملنے اور خیر خیریت پوچھنے اکثر آتے۔ پھرگھر پر بھی ایک دو دن ملنے آئے۔ کبھی خالی ہاتھ نہ آتے۔ کبھی پھولوں کا گلدستہ یا پھلوں کی ٹوکری ان کے ہاتھ میں ضرور ہوتی۔ میری نگاہیں ہمیشہ دروازے پر انہی کی آمد کی منتظر رہتیں اور جب وہ آتے تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں۔ چہرہ پر مسکراہٹ آجاتی۔ میرا مرجھایا ہوا چہرہ کھل اٹھتا۔ پھر ہم گھنٹوں باتیں کرتے رہتے۔

ایک دن عنایت صاحب میرے گھر آئے اور کہنے لگے:

عارفہ میں چاہتا ہوں کہ تم میری کمپنی میں کام کرو۔ میں تم کو انٹیئر ڈیزائنر کا آفر دے رہا ہوں۔ میں نے تمہارے خاکے دیکھے۔ مجھے بہت اچھے لگے۔ تم بہت ہنرمند ہو، کریئیٹو ہو۔ میری کمپنی کو تم جیسی قابل ڈیکوریٹر کی ضرورت ہے۔ کیا تمہیں منظور ہے؟

عنایت کی کمپنی بہت اچھی تھی۔ وہاں کے ماحول سے مجھے کام میں رات دن ایک کرنے کی حوصلہ افزائی ملتی۔ کمپنی کے باقی ملازم بھی ایک ساتھ مل جل کر کام کرتے تھے۔ اس کمپنی میں کام کرنے کا تجربہ بہت انوکھا اور نہایت ہی مفید رہا۔ کمپنی میں کئی لوگ میرے کافی اچھے دوست ہوگئے۔ ان میں سے ایک روزی تھی۔ روزی مجھ سے عمر میں پندرہ سال بڑی ہوگی۔ پھر بھی وہ ہمیشہ کھل کے بات کرتی۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی۔ ایک دن ہم دونوں کینٹین میں ساتھ لنچ کر رہے تھے۔ تب اچانک بات چیت کا رخ عنایت کی طرف مڑ گیا۔ روزی کی زبان اپنے عنایت سر کی تعریف کرتے تھکتی نہ تھی اور کیوں نہ کرے عنایت سب کے ساتھ نیک برتائو کرتے۔ میرا یہ حال تھا کہ عنایت کا نام سنتے ہی میرا دل مضطر ب ہو جاتا۔ گالوں پر سرخی آجاتی۔ روزی خوشی خوشی اپنے سر کی تعریفوں کے پل باندھتی جا رہی تھی:
’’عنایت سر کی بدولت آج ہماری کمپنی کا شمار ہندوستان کے گنے چنے کمپنیوں میں آتا ہے۔ عنایت سر کتنی محنت سے کام کرتے ہیں ہرکام تکمیل کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ عاطرہ کتنی خوش نصیب ہے۔۔۔ ویسے دونوں کی جوڑی بہت پیاری ہے نا؟۔۔۔‘‘
’’عاطرہ۔۔عاطرہ کون؟‘‘ میں نے گھبرا کر پوچھا۔
’’ارے تمہیں ہمارے ساتھ کام کرتے ہوئے سال بھر ہونے کو آرہا ہے اور تم عاطرہ کو نہیں جانتیں؟ وہ عنایت سر کی ہونے والی بیوی ہے۔ دفتر میں ایک دو بار آچکی ہے۔ تم نے دھیان نہیں دیا ہوگا۔ عاطرہ کا جیسا نام ویسا ہی گن۔ مجھے پورا یقین ہے عنایت سر کے گھر کو خوشیوں سے مہکا دیگی۔‘‘

روضی عاطرہ کے گن گا رہی تھی اور مجھے اپنے دل کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ میرے دماغ میں طرح طرح کے سوالات اٹھنے لگے۔ عنایت نے مجھے عاطرہ کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔ عنایت اور میری دوستی اس ایک سال میں اور گہری اور پختہ ہو گئی۔ پھر مجھے عاطرہ کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟ کیا وہ مجھے غیر سمجھتے؟ کیا میں ان کی ہم راز بننے کے لائق نہ تھی؟ میرا دم گھٹنے لگا۔ اس وقت کوئی میرے بدن کے پرزے پرزے کر دیتا تب بھی شاید ایک قطرہ خون نہ نکلتا۔ میں عنایت کو نہ صرف اپنا دوست مانتی تھی بلکہ وہ میرا ہمدرد بھی تھا۔ اب اچانک ایسا لگنے لگا کہ میں دنیا میں بالکل اکیلی ہوں۔ میرا کوئی نہیں تھا۔ گرمی کے دن واپس آگئے تھے اور گرمی کے ساتھ پھر سے وہی پریشانیاں واپس آگئی تھیں۔ میری زندگی ایک بار پھر دردانگیز بن گئی۔

“عارفہ آج رات کا پریزنٹیشن تیار ہے نا؟ ” میں نے چونک کر عنایت کو دیکھا۔
“جی سر، بالکل تیار ہے۔ ” میں نے جواب دیا۔
“ارے، چونک کیوں گئیں؟” عنایت نے پوچھا۔
“کچھ نہیں۔۔۔ یونہی۔”

روزی سے میری بات چیت ایک مہینے پہلے ہوئی تھی۔ وہ دن تھااور آج کا دن۔ تب سے سب کچھ بدل گیا۔ میرا کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا۔ مجھے یہ محسوس ہواکہ میری زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ جب سے روزی نے مجھے عاطرہ کے بارے میں بتایا میری راتوں کی نیند حرام ہو گئی، میں روتی رہی۔

آج رات عنایت اور میں کمپنی کے ایک انگریز کلائنٹ کے ساتھ نوائڈہ میں شام کا کھانا کھانے والے تھے۔ یہ کلائنٹ نوائڈہ میں ہماری کمپنی کی مدد سے ایک بہت بڑا شاپنگ مال بنوا رہا تھا۔ اس کا ڈیکوریشن میرے سپرد تھا۔ اس سلسلے میں گفت و شنید کرنے کے لئے عنایت مجھے اپنے ساتھ لے جارہے تھے۔ میرا پریزنٹیشن تیار تھا۔ میں نے اس پر بہت محنت کی اور مجھے پورا یقین تھا کہ سب کو پسند آئے گا۔

’’اتنی چپ کیوں ہو؟‘‘عنایت نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔۔۔ یونہی۔‘‘
’’کچھ نہیں یونہی۔‘‘ عنایت نے میری آواز کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔ اس پر مجھے ہنسی آئی اور میں زور سے ہنسنے لگی۔
’’بس ہمیشہ ایسا ہی ہنستی رہنا۔ تمہاری ہنسی موسیقی کی طرح ہے۔‘‘ عنایت نے میری طرف سنجیدگی سے کہا۔
’’کیا؟۔۔۔‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔۔۔یونہی۔‘‘ عنایت نے جواب دیا۔

ہم لوگ عنایت کی گاڑی میں نوائڈہ جارہے تھے۔ دہلی سے ایک گھنٹے کا راستہ تھا اور ہم دونوں چپ تھے۔ عنایت نے ایک بار پھر ٹوکا:
’’کافی دنوں سے تم کو دیکھ رہا ہوں۔ اتنی گم سم کیوں ہو؟ ایسا لگتاہے عارفہ عارفہ نہیں ہے۔ کوئی پرابلم ہے؟ مجھے بتائو۔ میں ہمیشہ تمہاری مدد کے لئے حاضر ہوں۔‘‘
’’ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ بس یہی پرابلم ہے۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں کہا لیکن عنایت کو دیکھ کر میں نے صرف اتنا کہا:
’’کچھ نہیں بس ایسے ہی۔‘‘
عنایت نے ایک لمبی سسانس لی پھر موضوع بدلتے ہوئے کہا:
’’آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے موسم بدلنے والا ہے۔‘‘
’’کاش ایسا ہو، گرمی بہت پریشان کر رہی ہے۔‘‘
اتنے میں ہم ہوٹل پہنچ گئے۔

ڈنر اچھا ہوا۔ کالائنٹ کو میرا پریزنٹیشن پسند آیا۔ اب تو بس کام شروع ہونے کی دیر تھی۔ اچانک موسلادھار بارش ہونے لگی اور دیکھتے دیکھتے ہر جگہ پانی ہی پانی نظر آنے لگا۔ عنایت اور میں ڈنر کے بعد خوشی خوشی دہلی لوٹ رہے تھے۔ پانی کی وجہ سے گاڑی چلانی مشکل تھی۔ ہوا بھی کافی تیز چل رہی تھی۔ کچھ دوری پر ایک پولیس والے نے گاڑی روکی اور ہمیں بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے سڑک پر درخت گڑ گئے ہیں جس سے راستے بند کرادئے گئے ہیں۔ ہمیں مجبوراً گاڑی میں ہی صبح کا انتظار کرنا پڑرہا تھا۔ باہر اتناپانی تھاکہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے گھر فون کر کے والدین کو سارا حال بیان کیا اور انہیں اطمینان دلایا کہ میں صحیح سلامت ہوں۔

’’بارش ہو تو مشکل، نہ ہو تو مشکل۔۔۔‘‘ عنایت نے کہا۔ ’’آج رات کا پریزنٹیشن بہت اچھا رہا۔ تم ہر چیز میں اچھی ہو۔ جب تمہارے ساتھ ہوتا ہوں تو ہر شے اچھی لگتی ہے۔ میں اسی طرح تمہارے ساتھ ساری زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ عارفہ میری شریکِ حیات بنو گی؟ عنایت کے ہاتھوں میں ایک انگوٹھی تھی جو انہوں نے میری طرف بڑھا ئی۔
’’لیکن عاطرہ؟ تمہاری شادی تواس سے ہونے والی ہے۔ آفس میں سب کو پتہ ہے۔‘‘

’’یہ بات سچ ہے کہ ہمارے گھر والے ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور اس دوستی کو رشتے داری میں بدلنا چاہتے ہیں۔ لیکن میں تم سے پیار کرتا ہوں عارفہ۔ جب سے میں نے تم کو دیکھا ہے میری آنکھوں میں تم ہی تم سمائی ہوئی ہو۔ میں نے اپنے والدین کو تمہارے بارے میں بتایا دیا اور وہ راضی بھی ہیں۔ رہا عاطرہ کا سوال وہ تو ایک اچھی دوست ہے اور اسے تمہارے بارے میں پتہ ہے۔۔۔ تم نے ابھی بھی میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔۔۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘

میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلکنے لگے۔ لیکن میں فوراً ہاں نہ کر سکی، میرے کانوں میں عاطرہ کے گن روزی کی آواز میں گونج رہے تھے۔ میں تذبذب کی حالت میں عنایت کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی چلی جا رہی تھی۔۔۔ کہ ان کی باتوں کا اعتبار کروں یا نہ کروں لیکن عنایت کے چہرے کی نورانی چمک یقین کا احساس دلانے کے لئے کافی تھی۔ پھر نہ جانے کب میرے ہاتھ اقرار میں عنایت کے ہاتھوں میں چلے گئے۔ اس نے لمس کے احساس سے مجھے چونکا دیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: