چُلبُلی — بشری انصاری : شکور پٹھان کی تحریر

0
  • 199
    Shares

“آپ جانیں اور آپ کا کام جانے۔ میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا” میں اٹھ کھڑا ہوا۔
میٹنگ روم سے باہر آکر بھی میں سخت جِھلّایا ہوا تھا۔ اپنی میز پر آکر چابی لی اور بیگ اٹھا کر دفتر سے باہر آگیا۔گاڑی چلاتے ہوئے بھی طبیعت سخت بد مزہ تھی۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بہت کوشش کی کہ خیالات کو سر سے جھٹک دوں لیکن جس قدر کوشش کرتا طبیعت میں مزید کوفت پیدا ہوتی۔
آج دفتر میں ایک برا دن گذرا تھا۔راستے بھر انہی خیالات سے لڑتا رہا۔
“آپ منہ ہاتھ دھولیں، میں کھانا نکالتی ہوں” بیوی نے کہا تو میں مشینی انداز میں منہ دھو کر کھانے کی میز پر آبیٹھا۔ کھانے کی ذرہ بر بھی خواہش نہ تھی۔ بھوک جیسے تھی ہی نہیں۔ بیگم نے کھانا سامنے رکھا اور ٹی وی آن کردیا۔

اسے میری عادت کا پتہ تھا۔ میں صرف کھانے کے دوران ٹی وی دیکھتا ہوں۔ کوئی ٹاک شو آرہا تھا۔ ٹی وی پر طلال چوہدری، فواد چوہدری اور شہلا رضا کی شکلیں نظر آرہی تھیں۔ تینوں ایک ساتھ اور زور زور سے بول رہے تھے۔ بیچ بیچ کیں کہیں میزبان کی آواز سنائی دیتی، چوہدری صاحب پلیز، !!شہلا صاحبہ پلیز، !!!ایک منٹ، طلال صاحب ذرا خاموش ہوجائیں!!!.
“ہٹاؤ اسے! ” میری کوفت اور بڑھ گئی تھی۔
بیگم نے چینل بدل کر ڈرامے کا چینل لگادیا۔
“نا کیا کرو اینیاں گلاں چوئی ساب”
“نی ڈولی، وے ڈولی۔۔۔میں جُتّی لا لینی اے”
اوہ یہ آرہا ے۔ بیگم کھل کھلائیں۔ میں نے پہلی بار کھانے پر توجہ دی۔ اوہو آج تو میرا پسندیدہ “قیمہ آلو” ہے۔ میں نے ادرک قیمے پر چھڑکی اور ٹی وی کی طرف متوجہ ہوا۔
“میرا ناں صیمہ چوہدری ہے، فیصل آباد کی مشہور فیشن ڈیزائنر”۔۔۔میں اب پوری طرح ڈرامے کی طرف متوجہ تھا۔ کچھ ہی دیر میں میرے اور بیگم کے قہقہے کھانے کے کمرے میں گونج رہے تھے۔
“کیا مزے کی آرٹسٹ ہے” بیگم بشریٰ انصاری کے بارے میں کہہ رہی تھیں۔
ہم کھانا کھاتے ہوئے ڈرامے پر تبصرہ کرتے جاتے تھے۔ میں دفتر کی کوفت بھول چکا تھا اور طبیعت میں بشاشت لوٹ آئی تھی۔

گناہ، ثواب، جنت، دوزخ مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتہ کہ کس کو کیا ملے گا۔ اچھے برے انسانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے اور اسی کو علم ہے اور اسے ہی قدرت حاصل ہے کہ کس کے ساتھ کیا کیا جائے۔
میرا صرف اتنا خیال ہے کہ جو اللہ کے بندوں میں خوشیاں بانٹتے ہیں اور دُکھی چہروں پر مسکان لاتے ہیں وہ بڑا کام.کرتےہیں، اللہ ان سے کیونکر ناراض ہوسکتا ہے۔

اور میرے دیس میں جہاں ہنسنا بولنا گناہ سمجھا جاتا ہو، وہاں اگر کوئی ہمارے دلوں میں پھلجڑیاں سی چھوڑدے اور ہم کچھ دیر کے لئے ہی سہی اپنی مشکلوں اور تکلیفوں کو بھول جائیں، تو ایسے کام کرنے والے تو ہمارے محسن ہیں۔
بشریٰ انصاری ایسا ہی ایک نام ہے۔ زندگی سے بھرپور، جہاں موجود ہو وہاں اپنی باتوں اور کھلکھلاتی ہنسی سے پورے ماحول کو زعفران زار بنا دینے والی۔ اور وہ جب کسی کھیل، شو یا گفتگو میں موجود ہو تو پھر آس پاس کوئی کتنا ہی بڑا فنکار بیٹھا ہو، آپ صرف بشرٰی کو ہی دیکھتے اور سنتے ہیں۔ یہ قدرت کا احسان ہے کہ وہ آپ کے درمیان ایسے لوگوں کو بھیج دیتی ہے جو آپ کے دکھوں کا درماں بنتے ہیں۔

بشریٰ کتنی بڑی فنکارہ ہے اس بارے میں آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہوں گے۔ مجھے تو اس کا چلبلا پن، زندگی سے بھر پور قہقہے، شریر سی مسکراہٹ، اپنی باتوں سے محفل کو مہکا دینا اور اپنے وجود سے اپنے آس پاس کو روشن کر دینا، اسکے فن سے بڑھ کر متاثر کرتا ہے۔

اور جب ساٹھ سال کے بوڑھے کہتے ہیں کہ ہم بشریٰ انصاری کو بچپن سے پسند کرتے آئے ہیں تو کچھ غلط نہیں کہتے۔ آپ کو شاید یاد بھی نہ ہو کہ آپ اسے کب سے جانتے ہیں۔ اگر کوئی اسے نہیں جانتا تو یقیناً شدید آدم بیزار شخص ہوگا یا انتہائی بد ذوق ہوگا جس نے زندگی سے لطف لینا نہ سیکھا ہو۔ زندگی جو اللہ کی نعمت ہے۔

آج سے باسٹھ سال قبل کراچی کے لیڈی ڈفرن ہسپتال میں محمودہ بیگم نے ایک بچی کو جنم دیا۔ ان کے میاں احمد بشیر، ایک بیباک اور نڈر صحافی اور قلمکار، کے ہاں نیلم اور سنبل کی صورت دو بیٹیاں پہلے ہی موجود تھیں۔ بشریٰ کے بعداسماء یعنی چوتھی بھی بیٹی ہی پیدا ہوئی لیکن شاید بیٹے بھی اس قدر نام نہ کماتے جس قدر ان بیٹیوں نے کمائے، نیلم نے افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں نام پیدا کیا، سنبل نے بشریٰ کی طرح اداکاری اور گلوکاری میں رنگ جمایا اور یہی حال اسماء کا تھا، لیکن بشری کے آگے ان سب بہنوں کے رنگ پھیکے پڑجاتے ہیں۔ اور آج شاید ہی کوئی کہتا ہو کہ بشری احمد بشیر کی بیٹی ہے۔ احمد بشیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ وہ بشریٰ انصاری کے والد تھے۔

پاکستان میں ٹیلیویژن کی آمد ہوئی اور اس کے اگلے ہی سال یعنی 1965میں بچوں کے پروگرام “کلیوں کی مالا” میں ایک بچی نے پری کا روپ دھارا اور گانا بھی گایا۔
تب سے لیکر اب تک بشریٰ لاکھوں دلوں میں بسی ہے۔

بشریٰ لاہور میں کالج میں پڑھ رہی تھی ساتھ ہی غیر نصابی سرگرمیاں بھی جاری تھیں۔ 1976 میں اسلام آباد ٹی وی سے فاروق قیصر نے بچوں کا شاید اب تک سب سے مقبول پروگرام “کلیاں” شروع کیا اور کلیاں کی “ماسی مصیبتے” آج بھی لوگوں کی یادوں میں زندہ ہے۔ کلیاں میں بشریٰ نے صداکاری اور اداکاری سے فن کے ناقدوں کو بتلایا کہ بشری انصاری ہونے کے کیا معنی ہیں۔ یہ اعلان تھا کہ پاکستان کے فن اداکاری کے افق پر سب سے زیادہ چمکدار ستارہ ظاہر ہوچکا ہے۔
سن اٹھہتر میں اس نے پہلا کھیل “رشتے اور راستے” کیا اور اسی سال اس کھیل کے ہدایتکار اقبال انصاری سے رشتے کی ڈور میں بھی بندھ گئی۔

اسی کی دہائی میں کچھ اسٹیج ڈرامے کئے، طلعت اقبال اور جاوید شیخ جیسے فنکاروں کے ساتھ یہ اسٹیج ڈرامے ہمارے تھیٹر کے چند بہترین اور سنجیدہ کھیلوں میں سے ایک ہیں۔ انہی میں حسینہ معین کا لکھا ہوا کھیل “چلتے چلتے” بھی شامل ہے۔

اور جب کراچی ٹیلیویژن کا لازوال مزاحیہ اور طنزیہ پروگرام “ففٹی ففٹی” شروع ہوا تو اس میں گلوکاری اور اداکاری کے جو کمالات اس فنکارہ نہ دکھائے انہیں شاید ہی کوئی بھول سکے۔ “پیار کی آس میں من ڈولے” جیسے خوبصورت گیت، ‘ ہائے میری انگوٹھیاں” جیسی پیروڈی، بشیرا ان ٹیبل میں پنجابی نما انگریزی، ًمسمات بے بےً میں پنجابی ملی لکھنوی اردو” واسطہ ای رب دا تسی جائیے گا کبوترا” جیسے گیت، یہ سب آج بھی ہماری یادوں کو شگفتہ بناتے ہیں۔

۔
اور ففٹی ففٹی میں ہی دو چٹیاں باندھی ہوئی، پہل دوج کھیلتی وہ چھوٹی سی لڑکی کسے بھول سکتی ہےجس کی معصومیت سے بھر پور اداکاری کا شاید ہی کوئی پاسنگ ہو۔
انور مقصود، معین اختر اور بشری انصاری کی ٹیم نے نجانے کتنے شگوفے کھلائے ہونگے۔ “شوشا” کی’ بجلی’ تو شاید بشریٰ کی پہچان ہی بن گئی ہے، وہ ہے بھی بجلی’ جیسی ہی جو اپنے وجود سے ہمارے اندر خوشیوں کی توانائی منتقل کردیتی ہے۔

بشری لیکن مزاحیہ فنکارہ ہی نہیں۔ اس کے سنجیدہ ڈرامے اسے برصغیر کے بڑے سے بڑے فنکاروں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ اسی کی دہائی میں ” ایمرجنسی وارڈ” جیسا کھیل کیا۔

اقبال انصاری اور بشری نے 1980میں امریکہ کا قصد کیا اور وہیں جا بسنے کی ٹھانی لیکن دو ہی ماہ بعد وطن لوٹ آئے اور یہ میرے دیس پر رب کا احسان تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔

جتنی اچھی اور ور سٹائل وہ اداکارہ ہے اتنی ہی اچھی اور خوبصورت آواز کی بھی مالک ہے، جسے سر، تال، لے اور تان پر مکمل عبور ہے۔ ‘ رنگ ترنگ” جیسے پروگرام میں اس نے سہیل رعنا، نثار بزمی، خلیل احمد، وزیر افضل، نیاز احمد اور مجاہد حسین جیسے بڑے موسیقاروں کی موسیقی میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ کئی گیت ایسے تھے جو اس نے دوسرے گلوکاروں کے گائے لیکن بشریٰ کے گیت اصل گلوکاروں سے زیادہ مقبول ہوئے۔
کیا آپ یقین کریں گے کہ ” آنگن ٹیڑھا” جیسا لافانی کھیل آج سے تینتیس سال پہلے نشر ہوتا تھا۔ آج بھی اس میں وہی تازگی ملے گی اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہم بچپن سے بشری انصاری کو دیکھتے آئے ہیں تو واقعی کیا غلط کہتے ہیں؟۔ مقبول اور کلاسیکل ڈرامہ اورکسے کہتے ہیں؟

ایمرجنسی وارڈ کے بعد اقبال انصاری کی ہدایت میں “کارواں” میں اخباری رپورٹر کا سنجیدہ کردار کیا لیکن ان کی سنجیدہ ادا کاری کو حقیقی معنوں میں ٹیلی پلے”رات گئے” میں تسلیم کیا گیا۔ اس کھیل میں ثروت عتیق جیسی منجھی ہوئی فنکارہ ان کے ساتھ تھیں لیکن بہترین اداکاری کا پی ٹی وی ایوارڈ بشری کے نام ہوا۔

لیکن بشری کبھی ایک گھر بند نہیں رہیں۔ مزاحیہ، سنجیدہ اداکاری، گلوکاری، پیروڈی، میزبانی، کوکنگ کے پروگرام سب ساتھ ساتھ ہی چلتے رہتے ہیں اور ہر ایک میں وہ اپنے فن کا لوہا منواتی آئی ہیں۔

نورجہاں، مسرت نذیر، طاہرہ سید اور سلمی آغا کی پیروڈی جس طرح بشریٰ نے کی ہے شاید ہی کوئی اس کمال کے ساتھ کرسکے۔ میں نے سلمٰی آغا کا گیت “اک بار ملو ہم سے” نہیں سنا تھا۔ جاوید میانداد کے شارجہ والے مشہور چھکے پر بشری کی پیروڈی “ایک چھکے کے جاوید کو سو لاکھ ملیں گے۔۔۔۔ توصیف بچارے کو درہم آٹھ ملیں گے” البتہ ضرور سنا تھا اور جب سلمیٰ کا گیت سنا تو کچھ خاص مزہ نہیں آیا۔ ایسے ہی ‘ میرا نوا تماشہ’ پہلے سنا اور ” مسرت نذیر کا” میرا لونگ گواچا” بعد میں سنا اور اس بار بھی تقریباً یہی تاثر تھا۔

بشریٰ اور معین اختر کی ٹیم شاید پاکستان کے فن کی دنیا کے لئے قدرت کا سب سے بڑا انعام ہے، مزاح میں شائستگی، نفاست اور برجستگی کی جو روایت ان تینوں ( انور مقصود سمیت) نے قائم کی اس کی مثال برصغیر کی فن کی دنیا میں کہیں نہیں ملے گی۔
احمد بشیر کی بیٹیوں کو شاید لکھنے کے لئے کسی ترغیب کی ضرورت نہیں کہ یہ ان کے خون میں شامل ہے۔ نیلم تو قلمکاری میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں لیکن بشریٰ بھی کم نہیں۔ ان کا پہلا تحریر کردہ کھیل “اماوس” تھا جس میں مرکزی کردار بھی انہوں نے ہی ادا کیا تھا۔
معین کے علاوہ بھی بشریٰ نے دوسرے فنکاروں کے ساتھ شوز کئے جس میں راحت کاظمی کے ساتھ “کامیڈی کامیڈی’ بھی شامل ہے۔
سن نواسی میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اسے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا لیکن بشریٰ کا فن ان اعزازات سے کہیں بڑھ کر ہے۔

اس نے ایک جانب حسام قاضی کے سات” سنگچور” جیسا سنجیدہ کھیل کیا تو دوسری طرف عمر شریف کے ساتھ اسٹیج ڈرامے بھی کئے۔ 1983میں اس نے شفیع محمد اور بہروز سبزواری کے ساتھ “ذرا سی عورت” جیسا کلاسیکل ڈرامہ کیا۔ اور اس کے اگلے سال ” نیلی دھوپ” کا اسکرپٹ لکھا۔

سن دو ہزار کے الیکشن کی نشریات “چن چناؤ” کو معین اختر، انور مقصود اور بشریٰ انصاری نے یادگار بنا دیا۔ اور شاید اسی سال انور مقصود نے اپنا لافانی سلسلہ، “لوز ٹاک” شروع کیا جو بہرحال صرف اور صرف معین اختر کی بے مثال اور لاجواب اداکاری کی وجہ سے ہی مشہور ہوا۔ اس میں بھی بشریٰ نے چند ایک پروگراموں میں کام کیا۔
بشریٰ نے جو سنجیدہ ڈرامے لکھے اس میں اہم نفسیاتی، سماجی اور خاندانی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ڈرامہ سیریل، راج ہنس، مکان اور کچھ دل نے کہا اس کی مثال ہیں۔ کچھ دل نے کہا میں بشریٰ کے ساتھ منجھے ہوئے ہندوستانی فنکار، کنول جیت” بھی تھے۔ اس میں بشریٰ نے اپنی گلوکاری کے جوہر بھی خوب دکھائے اور اس کھیل کا ٹائٹل سانگ” کچھ دل نے کہا” بہت خوبصورتی سے گایا۔ ( اصل گیت لتا نے گایا ہے)

بشرٰ نے بہت سے چینلز پر پروگراموں کی میزبانی اور انٹرویوز بھی کئے ان میں “برنچ ود بشریٰ” بہت مقبول ہوا۔

ماسی مصیبتے کا سفر “صائمہ چوہدری’ تک اسی طرح تروتازہ ہے اور بشریٰ نجانے کتنی اور منزلیں طے کرے گی۔ آذر کی آئے گی، بارات، ڈولی کی، تا کے کی اور عینی کی آئے گی بارات میں ثمینہ احمد، جاوید شیخ، صبا حمید اور دوسرے فنکاروں کی بے ساختہ اداکاری کے درمیان بشریٰ نے جی بھر کے ‘اوور ایکٹنگ’ کی ہے لیکن یہ سلسلہ اگر مقبول ہوا ہے تو صرف اور صرف ” صائمہ چوئی” کی وجہ سے۔ اور اگر وہ اس میں کُھل کر یہ اداکاری نہ کرتیں تو شاید یہ مزہ نہ آتا۔
یہ ہنستی کھلکھلاتی فنکارہ جب سنجیدہ کردار کرتی ہے تو اس کی گمبھیر تا سے خوف آتا ہے۔ “بلقیس کور” کی سخت گیر ساس کا کردار، اور سکھوں والی پنجابی، ایسے کردار بشریٰ ہی کرسکتی ہے۔

پھر “میرے درد کو جو زباں ملے” میں گونگے بہرے بچے کی ماں کی کردار۔ سیتا باگڑی” اور “اڈاری” جیسے ڈرامے۔۔۔کتنے فنکار ہیں جو ایسے کردار اس کمال کے ساتھ کرسکتے ہوں۔
اور جیسا میں نے پہلے کہا وہ ایک گھر بند نہیں۔ نئے فنکاروں کی تلاش کا پروگرام ‘ Pakistan Idle’ میں جج بھی بنیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ پہلی بار مجھے وہ بالکل اچھی نہیں لگیں۔ اس پروگرام میں بعض اوقات نئے اور شوقیہ فنکاروں کے ساتھ ان کا اور علی عظمت کا رویہ ناقابل برداشت ہوتا۔

بشری نے فلم بھی کی .2015 میں “جوانی پھر نہیں آنی” اور 2016 میں “ہو من جہاں” میں نمودار ہوئیں۔ چونکہ میں اب فلمیں نہیں دیکھتا، مجھے علم نہیں کہ فلموں میں انہوں نے کیا رنگ جمایا۔
کچھ عرصہ قبل ‘ہم ٹی وی’ کے کھیل ‘مٹھو اور آپا” کا ٹائٹل سانگ “اٹکے گا، کھٹکے گا، دل ایسے بھٹکے گا” اپنی شریر آواز میں گایا جسے سننے کا اپنا مزہ ہے۔
بشری کے فن کا سفر اسی توانائی اور تازگی کے ساتھ جاری ہے۔ وہ کچھ نہ بھی کرے تو اتنا کچھ کر چکی ہے کے شاید ہی کسی نے فن کی دنیا میں اتنا کیا ہو۔ میں اسے برصغیر کی سب سے بڑی فنکارہ مانتا ہوں کہ اس جیسی ہمہ صفت، ہمہ جہت شاید ہی کوئی اور ہو۔
لیکن میں فنکارہ بشریٰ انصاری کا احسان مند ہوں کہ اس نے اپنی زندگی فن کو دیدی اور پاکستان کے گھٹن سے بھر پور معاشرے میں، جہاں لوگ ہنسنا بولنا گناہ جانتے ہوں، وہاں ہماری زندگیوں میں خوشیوں اور مسکراہٹوں کے رنگ بکھیرتی رہی ہے۔ بشریٰ زندگی کی علامت ہے۔

اس کا نام سن کر ہی فرحت محسوس ہوتی ہے، اسے دیکھ کر راحت ملتی ہے اور اسے سن کر مسرت ہوتی ہے۔
شکریہ بشریٰ۔۔۔تم سلامت رہو ہزار برس اور یونہی مسکراہٹیں بانٹتی رہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: