سینٹ کے بعد عبوری حکومت کے لیے توڑ جوڑ ٭ رئیس احمد صمدانی

0
  • 23
    Shares

سینٹ کے انتخابات 2018ء میں واضح ہوچکا تھا کہ ایوان بالا میں سیاست کا رنگ ڈھنگ کیا ہے۔ 70سال بعد بھی ہم نے سبق نہیں سیکھا۔ جو کچھ سینٹ اراکین کے انتخاب میں ہوا وہ کوئی نیا نہیں تھا۔ ایوان بالا کے الیکشن کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ، یہاں بکنے اور خریدنے کی روایت چلی آرہی ہے۔ سینٹ کے انتخابات میں ہونے والی خرید و فروخت یہ اشارہ نہیں کر رہی تھی کہ اب اگلے مرحلے میں جب چیرٔمین اورڈپٹی چیرٔمین کا انتخاب ہوگا تو اس وقت بھی منڈی سجے تھی، دام لگیں گے، خریدار وہی ہوں گے، بکنے والے بھی وہی ہوں گے۔ بکاؤ مال کا اندازہ ہوچکا تھا ، کون کون کہا ں کہاں بکا۔ سب واضح ہوچکا تھا۔ اس کے باوجود سیاسی قوتوں نے جنہوری کے بہی خواہوں نے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی کہ منڈی نہ لگے، اراکین کی خرید و فروخت نہ ہو۔ سب خاموشی سے وقت کا انتظار کرتے رہے۔ اندرون خانہ خریدار خاموشی بکنے والوں کی قیمت لگارہے تھے،کوئی پوشیدہ قوت یہ کام کر رہی تھی، جوڑ توڑ جاری تھا لیکن اس طرح کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ گویا ہارس ٹریڈنگ کا کھیل کھیلا جاچکا تھا اور ودوسرے مرحلے میں بھی اس بات کے قوی امکانات محسوس کیے جارہے تھے کہ چیرٔ مین اور ڈپٹی چیرٔمین کے انتخاب میں بھی ایسا ہی ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔ یہ ہارس ٹریڈنگ کے تانے بانے تو اسی وقت نظر آنے لگے تھے جب بلوچستان کی حکومت نے نون لیگ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اعلان بغاوت اور زہری کی حکومت کاخاتما کردیا تھا ۔ موجودہ دور کی سیاست میں یہ اجتماعی بغاوت تھی جو بلوچستان میں ہوئی، انفرادی طور پر کئی سیاست داں ادھر سے ادھر جاچکے، کچھ وقت کا انتظار کررہے تھے کہ جیسے ہی سینٹ کے انتخابات قریب آئیں وہ ٹکٹ ہولڈر بن کر ایک تالاب سے دوسرے تالاب میں چھلانگ لگالیں۔ بعض ایسے بھی ہیں جنہیں ٹکٹ تو سینیٹر کا مل گیا،وہ سینیٹر بھی بن گئے لیکن سینٹ کا چیرٔمین بننے کی حسرت دل ہی میں رہ گئی۔ بکنے کی کئی صورتیں ہیں، صرف پیشہ ہی نہیں، کسی کو لاکھو ں یا کروڑوں کی رقم دے کر خرید لیا جائے اوریہ بھی بکنے کی ایک صورت ہے کہ مراعات حاصل کر لی جائیں یا مستقبل میں مراعات حاصل ہونے کے وعدہ پر اپنے آپ کو بیچ دیا جائے۔ سووہ سینیٹر بھی اس زمرہ میں آتے ہیں جنہوں نے ایک پارٹی کو چھوڑا اس شرط پر کہ انہیں سینیٹر کا ٹکٹ دے دیاجائے۔ مستقبل میں وزیر، سفیر، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دے دیا جائے گا، مختلف پارلیمانی کمیٹیوں کا رکن یا چیرٔ مین بنا دیا جائے گا، پلاٹ پرمنٹ، ٹھیکے، لائسنس، پرمٹ، ملازمتیں غرض یہ مراعات حاصل کر لینا یا مستقبل میں مراعات کے حصول کے لیے وعدہ لے لینا بکنے کے زمرہ میں ہی آتا ہے۔

چیرٔمین اور ڈپٹی چیرٔمین کے انتخاب سے قبل ہی منتخب نمائندوں کی خرید و فروخت کی صورت سامنے آچکی تھی جس کا اعتراف بعض سیاسی جماعتوں کے رہنما از خود میڈیا پر کر چکے۔ بلکہ قیمت بھی بتادی میڈیا پر۔ چیرٔ مین کے انتخاب میں ڈرٹی سیاست کا آغاز میری نظر میں اس وقت ہوا جب نا اہل ہونے والے نون لیگ کے موجودہ تاحیات قائد نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرٔ مین سینٹ جن کی مدد پوری ہوچکی تھی لیکن وہ پی پی کی جانب سے دوبارہ سینیٹر بھی منتخب ہو چکے تھے کے لیے میڈیا پر یہ فرمایا کہ اگر پیپلز پارٹی رضا ربانی کو چیرٔ مین نامزد کرے تو نون لیگ اسے سپورٹ کرے گی۔حالانکہ دونوں جماعتوں کے درمیان کافی عرصہ سے فاصلہ پید ہوچکا تھا، دونوں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی کررہے تھے۔ اس کے باوجود میان صاحب نے ترپ کا پتہ چلا۔ یہ نقطہ آغاز تھا سیاسی چال چلنے کا،ادھر ایک زرداری سب پر بھاری نے جوں ہی یہ سنا میڈیا پر فوری طور پر میاں صاحب کی پیش کش پر کہا مجھے یہ قبول نہیں۔ کہتے ہیں نا کہ ’’سیر کو سوا سیر‘‘ میاں صاحب سیاست میں سیر ہیں تو زرداری سوا سیر، سینٹ میں جس قسم کی بھی ہارس ٹریڈنگ ہوئی، میاں صاحب کی پارٹی کے لوگ لوٹا بنے،تحریک انصاف کے لوگ بھی بکے اس کے باوجود نون لیگ کے پاس سب سے زیادہ ووٹ تھے پھر انہیں رضا ربانی کو چیرٔمین بنا نے خواہش کیوں تھی، اسے کہتے ہیںسیاست، پی پی کی خیر خواہی ، جمہوریت سے محبت ، رضاربانی کی صلاحیت و قابلیت سے لگاؤ نہیں تھا بلکہ اپنے اندر کوئی وننگ ہارس نظر نہیں آرہا تھا، دوسرے قوم کو یہ باور کرانا تھا کہ وہ زرداری سے کتنی محبت رکھتے ہیں ۔ زرداری کوئی کم سیاست داں ہیں انہوں نے ایسا ٹکا کے جواب دیا کہ میاں صاحب چاروںخانے چت ہوگئے۔ باوجود اس کے کہ رضاربانی کی شہرت بہت نیک نام تھی، وہ اگر امیدوار ہوتے تو کوئی ان کے مقابلے میں نہ ہوتا لیکن سیاست اسی کا نام ہے۔ زرداری صاحب نے وننگ ہارس کی قربانی دی ، میاں صاحب کی سیاست کو دیکھتے ہوئے۔ گو پارٹی میں بھی کچھ سینئر رہنما رضا ربانی کے حق میں تھے لیکن زرداری صاحب کی پارٹی پر گرفت مضبوط ہے، ابھی ان کے احکامات کا سکہ چل رہا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا، رضاربانی کی جگہ انہوں نے چیرٔ مین شپ کی قربانی دی، ڈپٹی چیرٔ مین پر اکتفا کیا، عمران خان اور بلوچستان کے آزاد اراکین کو ساتھ ملایا اور نون لیگ کے کچھ باغی جنہوں نے ابھی تک اعلانیہ بغاقت نہیں کیا ملا کر نواز شریف کے عمر رسیدہ بزرگ سیاست داں راجہ ظفر الحق کو شکست دلوادی اور بلوچستان کے آزاد اراکین عمران خان اور زرداری صاحب متفق ہوئے کچھ ادھر ادھر کے سینیٹر ساتھ مل گئے اور اس طرح راجہ صاحب کوچت کر دیا۔ راجہ ظفر الحق نے 46 اور صاددق سنجرانی کو 57 ووٹ ملے۔اسی طرح ڈپٹی چیر ٔ مین کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی ، عمران خان اور دیگر کے امدوار سلیم مانڈوی والا فاتح قرار پائے۔ دراصل میاں صاحب کے پاس کوئی وننگ ہارس نہیں تھا۔ شروع میں پرویز رشید کا نام آیا پھر مشاہد اللہ خان نے فارم حاصل کیا، ایک نام نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کا بھی تھا ۔جب یہ نام پہنچے میاں شریف کی عدالت میں تو تینوں کے بارے میں اس حوالے سے کچھ اچھی رائے نہ سامنے آئی،حاصل بزنجو کی مخالفت تو اتحادیوں نے ہی کردی۔ اچھا ہی ہواپرویز رشید یا مشاہداللہ خان نہ کو نہ اتارا گیا میدان میں، ورنہ نون لیگ کو جتنے ووٹ ملے یہ بھی نہ ملتے۔ راجہ صاحب کی بزرگی کام آگئی، ویسے بھی راجہ صاحب سب کے قریب ہیں اسٹیبلشمنٹ سے بھی اچھے مراسم رہے ہیں وہ بھی فائدہ میاں صاحب کے ذہن میں تھا ۔ لیکن زرداری اور عمران کا گٹھ چوڑ جو کہ غیر فطری تھا میاں صاحب کے نمائندے کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا۔

عمران زرداری ملاپ لوگوں کے لیے حیران کن تھا لیکن اسی کا نام سیاست ہے۔ عمران خان سے اس قسم کی سیاست کی امید نہیں تھی لیکن انہوں نے میاں صاحب کو چت کرنے کے لیے زرداری کڑوی گولی نگلی اور سیاست کر دکھائی۔ بعض تجزیہ نگاروں کو کہنا ہے کہ نون لیگ کو سینٹ میں شکست ہضم نہیں ہورہی۔ یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے، کسی کی رشوت خور کا ٹرانسفر دوسری جگہ کردیا جائے تو اس کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔یہ تو سالوں پر محیط اقتدار پیروں تلے سرکتا دکھائی دے رہا ہے، سینٹ میں سبکی کے بعد اب آگے بھی کچھ ایسا ہی منظر اسکرین پر چل رہا ہے۔ اس وقت تو یہی صورت ہے لیکن سیاست بڑی بری چیز ہے اس پر ایک منٹ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ زرداری صاحب کا میاں صاحب سے ملاپ کب میں ہوجائے کچھ نہیں کہا جاسکتا، عمران خان نے تو ابھی سے ہی زرداری پر گولا باری شروع کردی ہے۔ نون لیگ ٹوٹ پھوٹ کے فیز میں داخل ہوچکی ہے کسی بھی وقت اعلان عام ہوسکتا ہے ۔لیکشن کمیشن نے سینٹ میں ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی ہے۔ ہونی بھی چاہیے، بلا تفریق یہ کام ہونا چاہیے۔ ویسے میاں صاحب کو زیادہ غم نہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ ماضی میں میاں صاحب بھی اسی طرح کے اچھے کام از خود کرتے رہے ہیں، وہ تو اس کھیل کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں، مری اور چھانگا مانگا سب کو یاد ہے۔ اتحادی بھی سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

سینٹ کے لیے اراکین کا انتخاب اور پھر چیرٔمین و ڈپٹی چیرٔمین کا انتخاب عمل میں آگیا۔ اب کیئر ٹیکر حکومت کے فارمیشن کے بعد عام انتخابات 2018ء کا مرحلہ ہے۔ انتخابات 2018ء وقت مقررہ پر ہوں گے یا نہیں ، ابھی تک تو یہی سننے میں آرہا ہے کہ انتخابات کا التوا نہیں ہوگا۔ وہ مرحلہ تو بعد کا ہے اس سے قبل کیئر ٹیکر حکومتوں کا قیام ایک دوسرا میدان سجنے جارہا ہے۔ آئین کی روسے وزیر اعظم کو کیئر ٹیکر وزیر اعظم کے لیے اپو زیشن لیڈر سے مشاورت کے بعد نام فائنل کرنا ہے، جب کہ صوبائی وزرائے اعلیٰ پنی اپنی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف سے مشورہ کے بعد نام فائنل کریں گے۔ سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ البتہ پنجاب میں صورت حال مختلف ہوگی۔ ممکن ہے کہ شہباز شریف اور تحریک انصاف کے قائد حزب اختلام کے درمیان معاملا طے نہ ہوسکے اسی طرح سید خورشید شاہ وزیر اعظم سے اختلاف کریں۔ ایسی صورت میں تجویز کردہ نام قومی اسمبلی کی کمیٹی کے پاس جائیں گے ، وہاں بھی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے اراکین ہوں گے اگر وہاں بھی مسئلہ حل نہ ہوا تو یہ معاملہ الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ جا سکتا ہے۔ جس دن نون لیگ کی حکومت مرکز اور پنجاب میں اپنی مدت پورے کرنے کے بعد زمین بوس ہوگی اسی دن کتنے ہی نون لیگی پارلیمنٹیرین علیحدگی کا اعلان عام کر دیں گے ، اور نون لیگ کمزور سے کمزورتر ہوتی چلی جائے گی۔ عمران خان کا اتحاد پاکستان پیپلز پارٹی سے نہیں ہوگا یہ الگ الگ الیکشن لڑیں گے۔ سندھ میں لگتا ہے کہ یہی نتیجہ ہوگا جو اب ہے متحدہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے ، مستقبل میں اور زیادہ شگاف پڑنے کی توقعہ ہے ۔ پختونخواہ عمران خان کے پاس ہی رہے گا، بلوچستان میں یہی صورت حال ہوگی ، آزاد اراکین عمران خان اور کچھ پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں گے۔ اصل معرکہ پنجاب میں ہوگا ، دنگل پنجاب میں سجے گا ۔ نون لیگ اور عمران خان کے مابین مقابلہ ہوگا کہیں کہیں پی پی بھی مقابلہ کرے گی۔ تاہم نظر ایسا آتا ہے کہ مرکز میں عمران خان اور زرداری نظریہ مجبوری کے تحت چھوٹے گروپس کو ساتھ ملا کر حکومت بنائیں گے۔ پنجاب میں بھی یہی صورت ہوگی۔ نون لیگ بہت اقتدار میں رہ چکی اب اس کے اقتدار میں رہنے کے آثار کم کم دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن سیاست پھر سیاست ہے اسی میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: