قوم کی بقا اخلاق کی بقا میں ہے : منیر احمد خلیلی

0
  • 16
    Shares

دستور میں شق 62/63 کے تحت صادق اور امین کی اصطلاحیں ڈالی گئی تھیں۔مقصد یہ تھا کہ سیاست میں صداقت اور ایمانداری و امانت داری کی اقدار کو یقینی بنایا جائے۔ اخلاقیات میں لفظ صادق اور امین کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ان دو لفظوں کو دستور کا حصہ بنانے والوں کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے ذہن میں ان کا کیا مفہوم تھا۔ پارلیمنٹ نے کبھی ان کی تعریف متعین کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ عدلیہ کے فیصلوں میں بھی کہیں ان کی تشریح نہیں کی گئی ہے کہ ان کا اطلاق کہاں کہاں ہوتا ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جب عدلیہ اور عسکریہ دو مستقل دستوری ادارے ہیں لیکن ان کے ادنیٰ و اعلیٰ ارکان کے پیشہ ورانہ کردار کا جائزہ لینے کے لیے ان دو دستوری شقوں کو پیمانہ نہیں بنایا جاتا۔ گویا ان کے صادق و امین ہونے کو جانچنے کا کوئی اور معیار ہے۔

خیر، ابھی حال ہی میں ارکانِ سینیٹ کا انتخاب ہوا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں سینیٹ کا حلقہ ٔ ِ انتخاب (electoral college) تھیں۔ ان کے ارکان ایسے بِکے جیسے مویشیوں کی منڈی میں جانور بِکتے ہیں۔ انہیں گھوڑوں گدھوں کے نام ملے۔ ایک ایک نشست پر کروڑوں لگائے گئے۔ماضی میں جو خفیہ تال میل صرف شاہی محلّات میں ہوا کرتے تھے اور جنہیں محلاتی سازشیں کہا جاتا تھا اب بڑے بڑے فارم ہائوس ان کا مرکز بن گئے۔ جھوٹ، فریب اورجوڑ توڑکے مظاہرے ہوئے۔ عیاری اور مکّاری کے مقابلے ہوئے۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کے چنائو کا مرحلہ آیا تو شرافت دَم سادھ گئی۔ معقولیت ہوش کھو بیٹھی۔ سچائی کے حواس ٹھکانے نہ رہے۔ اصولوں کا جنازہ نکل گیا۔ دعوے ہوا میں اڑ گئے۔ وعدے خاک میں اٹ گئے۔ضمیر سو گئے۔ایمان مر گئے۔جو ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے کے جو روادار نہ تھے، سینے ملانے پر مجبور ہو گئے۔جنہیں ایک سٹیج پر بیٹھنا گوارا نہ تھا وہ ایک ہی بارات کے باراتی بن گئے۔ایک دوسرے کوڈاکو اور چور کے لقب چسپاںکرنے والے مل کر مال مارنے لپکے۔ ایک دوسرے کو زہر لگنے والے شیر و شکر ہو گئے۔ کوئی ووٹ دینے والا اٹھا ایک کیمپ سے اور اس کا ووٹ پڑا دوسرے کیمپ والوں کے ڈبّے میں۔ بے ضمیری اور بے غیرتی کے ایسے مناظر تھے کہ بڑے بڑے پاپی بھی توبہ توبہ کر اٹھے۔ ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ راتوں رات وفاداریاں بدلی گئیں۔ صادق سنجرانی کی سینیٹ چیئرمینی اور سلیم مانڈیوالا کی ڈپٹی چیئرمینی کی صورت میں جو ڈش پک کر تیارہوئی اس مرحلے تک پہنچنے میں کئی مہینے لگے۔

سیاست کے چولہے میں آگ جلانے اور اپنی روحانی پھونکوں سے اس کا شعلہ بلند رکھنے کا کام شیخ الاسلام حضرت علّامہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور شیخ الحدیث حضرت علّامہ خادم حسین رضوی اوراعلیٰ حضرت پیر سیال شریف نے نومبر دسمبر سے شروع کر رکھا تھا۔خاص سائز اور وضع کی ہانڈی کی فراہمی پیپلز پارٹی کے de facto سربراہ آصف علی زرداری، عمران خان، گجرات کے چودھری برادران کے ذمہ تھی جو انہوںنے بلوچستان اسمبلی میں اچانک ایک ‘coup d’tat’ اور حکومت کو گرانے کی صورت میں کی۔مسالے سارے CSD سے آئے۔پکناکیاہے، اس کا فیصلہ کچھ اصل پوشیدہ قوتوں نے کیا۔تیار ڈش کی تقسیم بھی ان قوتوں کی مرضی پر ہی ہوئی۔ ہمارے سیاست دانوں میں 95% سے بھی زیادہ ایسے ہیں جن کو نہ علم سے رغبت ہے،نہ کتاب سے تعلق اور نہ مطالعہ کا کوئی شوق۔ ان میں سے اکثر نے شاید چوتھی صدی قبل مسیح کے چانکیا (جو کوٹلیا اور وشنو گپتا کے ناموں سے بھی مشہور تھا) کی کتاب ارتھ شاستر اور سولھویں صدی کے میکیاولی کی The Prince کا نام بھی نہ سنا ہو۔لیکن مکر کی ایسی چالیں سیکھ رکھی ہیں، فریب کے سارے گُر نکالے ہوئے ہیں، جھوٹ کے ایسے رنگ ایجاد کیے ہوئے ہیں، عوام کو بے وقوف بنانے کے ایسے طریقے تلاش کیے ہوئے ہیں، ووٹ لینے کی ایسی تدبیریں کرتے اور لوٹ مار کے ایسے ڈھنگ جانتے ہیں کہ آج میکیاولی ہو تو ان کے پائوں دھو دھو کر پیے اور چانکیا زندہ ہو جائے تو ان کے ہاتھ چومے۔ان کی شاطریت نے جمہوریت کی روح سلب کر رکھی ہے اور یہ اس کے لاشے پر ہیپ ہیپ ہُرّا کا رقص کرتے ہیں۔  ذمہ دارقومی اداروں کا یہ حال ہے کہ سینیٹ الیکشن میں پیسے کے کھیل کی کہانیاں بچے بچے کی زبان پر ہیں لیکن اتنے بڑے پیمانے پربے ایمانی اوردھاندلی کے مظاہرے ہوئے نہ الیکشن کمیشن کے کان پر جوں رینگی اور نہ پانی کے نلکے اور دودھ کی بوتلیں چیک کرنے والے بابا رحمتے نے انگڑائی لی۔ الیکشن کمیشن نے سب کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے۔ سب نے حلف اٹھا لیے۔کہیں کسی کے صادق اور امین نہ ہونے کا سوال نہیں اٹھا۔دولت اخلاق اور اہلیت کی دلیل نہیں مانی جا سکتی۔ ایوانِ بالا کی کروڑوں میں خریدی ہوئی ممبریوں نے اخلاقی اعتبار سے ہماری قوم کا کھوکھلے پن کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اہلیت کے لحاظ سے ہمارے منتخب اداروں کی پست فکری عیاں ہو گئی۔ جس کرپشن کے ہر زبان پر چرچے ہیں اس کا تعلق صرف مال سے نہیں ہے۔ مال سے محبت اور اس کی خاطر سب کچھ دائو پر لگا دینا اس کا صرف ایک مظہر ہے۔

کرپشن کا سرچشمہ اجتماعی اخلاقی فساد ہے۔ اخلاقی فساد کا دائرہ زندگی کے ہر شعبے تک پھیلا ہوا ہے۔حرص و ہوس، مادہ پرستی،معیارِ زندگی میں مسابقت،بلا لحاظِ اہلیت و قابلیت،بلا استحقاق پر کشش ملازمتوں اوراونچے منصبوں کی بندر بانٹ، اقربا پروری، دوست نوازی،مفاد پرستی، خود غرضی،رشوت، سفارش،خلافِ قانون مراعات طلبی، سستی، کاہلی، غفلت،کام چوری قومی وسائل کا ضیاع ہماری بیوروکریسی اور سرکاری و غیرسرکاری چھوٹی بڑی دفتری مشینری کا کلچر ہے۔سرکاری محکموں میںمال، پولیس، تحصیلِ محاصل (taxation) اور کسٹم کے محکمے تو کرپشن کے گڑھ ہیں۔کاروباری دنیا میںایک ریڑھی والے سے لے کر ملوں اور فیکٹریوں کے مالکان تک دونمبری، دغابازی، گراں فروشی،چوربازاری، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، ناپ تول میں ڈنڈی اورملاوٹ جیسی بے شمار خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ اوپر جن برائیوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے یہ قومی وجود کو اس طرح کھاتی ہیں جیسے دیمک لکڑی کو یا زنگ لوہے کو۔ یہ لاحق ہوں تو حرکت بظاہرکیسی ہی تیز ترنظر آتی ہو، قومی ترقی کا سفرایک دائرے میں رہتا ہے۔ طاقت و اقتدار کے مراکز اور سیاست کے جسد میں جب بدعنوانی کے مہلک جراثیم پروان چڑھنے لگیں توسفر ہی میں تعطل نہیں آتا بلکہ قومی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ سرکاری اورعوامی حلقوں کا چمن اسی وقت خزاں گَزیدہ ہوتا ہے جب وہ بااثر اور فیصلہ ساز بالائی طبقوں کے فساد اور بگاڑ کی بادِ سموم کے جھونکوں کی زد میں آتا ہے۔عربی کے ایک حکیمانہ قول اَلنَّاسُ عَلٰی دِینِ مَلُوْکِھِمْ میں یہی سچائی بیان ہوئی ہے کہ عوام النّاس بالائی طبقات کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔عوام انہی طبقات کی حرکات و عادات، ان کے ثقافتی مظاہر اور ان کے سماجی رویوں کی نقل کرتے ہیں۔اخلاق کی موت معاشروں، قوموں اور تہذیبوں کی موت پر منتج ہوتی ہے۔تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اخلاق کی موت کا المیہ پہلے مرفّہ حال اور بااثر و مقتدر طبقوں میں واقع ہوتاہے۔ ان میں بھی حکمران اور سیاست دان کرپٹ ہو جائیں تو یہ وائرس عوام میں بھی کرپشن کی وبا پھیلا دیتاہے۔یہ طبقے دِین و اخلاق سے انحراف کرتے ہیں تو عوام بھی ان کے قدم بقدم چلنے لگتے ہیں۔

قُرآن پاک ہمیں قوموں اور بستیوں کی تباہی کا یہی اصول بتاتاہے۔ ارشادِ باری ہے: وَ اِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُھْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَ مَّرْنٰھَا تَدْ مِیْرًا٭ (بنی اسرائیل: 16)  ’جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو (کچھ ) حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اُس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اس بستی کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔‘‘ لفظ قریہ کا انطباق بستی، قصبے اور شہر پر بھی ہوتا ہے اورکسی قوم اور انسانی گروہ پر بھی۔ اَرَدْنَا سے یہ مرادہر گز نہیں کہ اللہ تعالیٰ بیٹھے بٹھائے بلا وجہ کسی بستی کی تباہی کا ’اِرادہ‘ یا فیصلہ کر لیتا ہے۔یہاںارادہ اور فیصلہ کے معنی مشیت اِلٰہی اور اِرادہ ٔ ِ کونیہ اور مشیت ِ اِلٰہی ہیں۔ یہ ارادہ اس وقت لاگو ہوتا ہے جب بستی والوں کا اجتماعی مزاج فساد آلود ہو جاتا ہے اور اس کے ماحول میں ہر طرف اخلاقی برائیاں پھیل جاتی ہیں۔ان برائیوں کا آغاز مُتْرِفِیْن یعنی کھاتے پیتے اور خوش حال لوگوں سے ہوتا ہے۔وہ فسق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لفظ فسق کے معنی بدکاری، عیاشی، اوباشی، عیش و عشرت، لہو و لعب اور شراب و شباب کی لذتوں میں ڈوب جانے کے ہیں۔زیادہ سے زیادہ بے ہودہ مشاغل اور حرام کاریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مالِ حرام درکار ہوتا ہے۔چنانچہ وہ کرپشن کو حرام مال کا ذریعہ بناتے ہیں۔ غصب و نہب اور لوٹ مار کرتے ہیں۔لوگوں کے حقوق مارتے اور دوسروں کی زمینوں جائدادوں پر قبضے کرتے ہیں۔ اپنی طبقاتی حیثیت کو دوام بخشنے کے لیے آگے کی نسلوں تک کے لیے حرام مال کے خزانے چھوڑ مرنے کی تدبیریں کرتے ہیں۔یہ تصویر ہمیں مسلمان ملکوں اور خاص طور پر اپنے وطن پاکستان کے اکثر سیاست دانوں اور حکمرانوں میں ملتی ہے۔صرف اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ دوبئی،ملائشیا، لندن، پیرس اور نیویارک تک ان کی جائدادیں اور ملکی اور غیر ملکی بنکوں میں ان کا پیسہ پڑا ہوا ہے۔صرف ان کے اپنے نام پر ہی نہیں بلکہ ان کے بیٹوں بیٹیوں اور بیویوں کے نام پر بھی کروڑوں کی دولت اور اربوں کی پراپرٹی درج ہوتی ہے۔ دستور کی شق 62/63 دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ عدالتیں یابے بس ہوجاتی ہیں یا ان کے جج خود اس حمام میں ان طبقات کی طرح ننگے ہوتے ہیں۔

کرپشن اور حرام کاریوں کایہ ناسور جب خوب پھول جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشتر چلتا ہے۔ایک بڑا آپریشن ہوتا ہے۔اور بدعنوانوں اور بدکاروں کی بستیاں تلپٹ کر دی جاتی ہیں۔ اَمَرْنَا کامطلب بھی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ خود بستی والوں کو نافرمانی کا حکم دیتا ہے۔ لغتِ فصیحہ کی رو سے اَمَرْنَا کا ایک مطلب اَکْثَرْنَا ہے۔ یعنی ہماری مشیت سے اس بستی کی اکثریت فسق و فجور میں ڈوب جاتی ہے۔ایسی قوم کی اکثریت جب بغاوت و سرکشی پر اتر آتی ہے تو اس کا فطری اور کونی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس کے دوسری قوموں کے لیے برائی کا قابلِ تقلید نمونہ بننے اور اسی راہ پر ان کی حوصلہ افزائی سے پہلے اسے مٹا کر عبرت کا نشان بنادیا جائے اور رہتی نسلوں پر واضح کر دیا جائے کہ قوم و ملک اعلیٰ اخلاقی اقدار سے عاری ہو کر اس مقصد کے لیے بے کار ہو جاتے ہیں جس مقصد کے تحت انسان کی بطورِ خلیفہ تخلیق ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ کوئی چیز بھی بے کار اور فضول پیدا نہیں کی اس لیے جب ایک قوم اپنے آپ کو بے کار اور فضول ثابت کرتی ہے تو وہ اپنی بقا کا جواز کھو بیٹھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سنبھلنے کی مہلت عطا کرے اور ہماری قوم کو اس انجام سے دوچار ہونے سے اپنی پناہ میں رکھے۔ مجمع ُ الزّوائد میں رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اِسلام کی ابتدا ہوئی تو(اعتقادی، فکری اور اخلاقی بگاڑ کے ماحول میں) اسے اجنبی اور عجیب چیز سمجھا گیا۔وہ وقت ایک بار پھر آئے گا جب سماج میںفساد اور بگاڑ اس حد تک پہنچ جائے گا کہ اس دِین کی تعلیمات اوراس کے اصول لوگوں کو عجیب محسوس ہوں گے۔ فطُوبیٰ لِلْغُرَبَائِ، (خوشخبری ہے غُرَبا کے لیے)۔رسول پاک ﷺسے پوچھاگیا کہ وہ غرباء کون ہیں؟ تو آپؐ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو عقیدہ و فکر اور اخلاق کی خرابیوں کے اندر اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ دِین کے محاذ پر مغرب نوازتجدد پسند، رُوحانیت کے نام پر اس کی اصل صورت مسخ کرنے والے، اسے سیاسی مفادات و مصلحتوں کی زنجیریں پہنانے والے طبقات قوم و ملت کو غلط راہ پر ڈال رہے ہیں۔ڈاکٹر علی شریعتی سے مستعار تلمیحات و تشبیہات میں بات کی جائے تو اُمت مجموعی طور پر فرعون، قارون اور بلعم باعورا کے نرغے میں ہے۔طاقور مقتدر قوتیں ہیں، بااثر سرمایہ دار گروہ ہیںاور نام نہاد مذہبی و روحانی عناصر ہیں جنہوںنے اسے یرغمال بنایا ہوا ہے۔انہی طبقات کی ملی بھگت سے فسق و فجور کا سیلِ بے پناہ قوم کو وہاں پہنچاتا ہے جس کا ذکر محوّلہ بالا آیت میں آیا ہے۔ اس وقت شدید ضرورت ہے کہ دعوت و اصلاح، تذکیر و اِنذار، تزکیہ و تربیت کی مہم لے کر وہ ’غُرَبَاء‘ اٹھیں جن کو رسول اکرم ﷺ نے ’طُوْبٰی‘ کی نوید سنائی تھی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: