جمہوری کوچنگ سینٹرز، جمہوری سلیبس اور مستقبل کے مواقع — شہزاد صدیقی

0
  • 13
    Shares

حاکمِ وقت کے کاسۂ لیسوں کی تاریخ، بوٹ پالیشیوں سے کئی صدی پرانی ہے۔ بوٹ پالشی تو عمومی طور پر “گناہِ بے لذت” کے زمرے میں آتا ہے جبکہ حکومت وقت کی کاسۂ لیسی میں متوقع کمائی کی تو خود تاریخ گواہ ہے۔

کاسۂ لیس پہلے بھی موجود تھے، آج انکی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے میڈیا سیلز کے وجود میں آنے کے بعد اس پروفیشن میں explosive گروتھ ہوئی ہے۔ خاص کر حکومتی میڈیا سیل، جس کے سلیبس کے تحت جمہوریت کا جاتی امرائی ورژن سلیبس سوشل میڈیا پر زور و شور سے پڑھایا جارہا ہے۔ کئی مایہ ناز دانشور اور اپنی فیلڈ کے کامیاب و ناکام صحافی حضرات نے ان علوم پر متعدد شارٹ کورسز کا باقائدہ آغاز کردیا ہے جو انکی وال پر باآسانی قسط وار دستیاب ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے حضرات اس سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے مستقبل کے لیے اچھی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔

دلچسپی رکھنے والے حضرات کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ سیاستدانوں کی جی حضوری کی تعلیم دینے اور اسکی افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے کئی اصحاب نے سوشل میڈیا کے گلی کوچوں میں جابجا کوچنگ سینٹرز کھول رکھے ہیں۔ ان کوچنگ سینٹرز کے بارے میں چیدہ چیدہ معلومات درج ذیل ہیں!

اپنی فیلڈ میں ناکامی کے بعد ایک صحافی اپنا ذاتی کوچنگ سینٹر فیس بک پر کامیابی سے چلا رہے ہیں جس کے طلباء کی تعداد اس وقت ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔ اس مایا ناز کوچنگ سینٹر کا منشور ہے کہ ایسے “جمہوریے” پیدا کیے جائیں جو سیاستدانوں کے پھیلائے ہوئے گند کو نہ صرف جانفشانی سے صاف کرسکیں بلکہ انکا ہر ممکن طریقے سے دفاع کرنے کے قابل بھی ہوسکیں۔ صاحب سینٹر نے کچھ ہی عرصے پہلے اورنج لائن ٹرین کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے میاں صاحب کو پرفارمنس کے اعلیٰ ایوارڈ سے نوازا تھا۔ ایک لمحے کو تو میں بھی چکر کھا گیا کہ میاں صاحب ملک کے تین بار کے وزیراعظم تھے یا پنجاب کے کچھ علاقوں کے مئیر؟

صاحب یہ بتانا بھول گئے کہ پنجاب بشمول لاہور کے کئی علاقوں میں ایسا پانی بھی آتا ہے جس کو اورنج لائن ٹرین میں بطور ڈیزل بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسکو کہتے ہیں دور رس پلاننگ!

خیر، اس کوچنگ سینٹر کے مروجہ اصولوں کے مطابق اختلاف کرنے اور سوال کرنے پر صریحاً پابندی ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو فی الفور Rusticate کردیا جاتا ہے تاکہ کوچنگ میں موجود دوسرے “جمہوریوں” کے مورال پر منفی اثر نہ پڑسکے اور وہ واہ واہ کے فلک شگاف نعرے مارتے ہوئے جمہوری معرفت کی بلندیوں کو جلد سے جلد چھو سکیں۔ سینٹر کے روح رواں آج کل اپنی پوسٹوں پر احباب کے لائکس اور کمنٹز کو شدومد سے گنتے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں۔ صاحب سینٹر کے ایک بھائی بھی ایک کامیاب کوچنگ سینٹر کے مالک ہیں۔ انکے سینٹر میں ملکی سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ بڑی طاقتوں اور انکے نظریات کا فکری سپاہی بننے کا چھ ماہ کا ڈپلومہ کروایا جارہا ہے۔

اسی طرز پر ایک اور معروف سینٹر ہے جہاں نہ صرف ملکی حکمرانوں کی جی حضوری کی ٹریننگ دی جاتی بلکہ سیکولر اقدار کی مدح سرائی کے فوائد بھی سکھائے جاتے ہیں۔ ایسے کوچنگ سینٹرز کے فارغ التحصیل نہ صرف قائدِ اعظم کی “تصویر والےحکومتی سرٹیفیکیٹ” سے بہرہ مند ہوسکتے ہیں بلکہ کورس کامیابی سے مکمل کرنے پر انھیں غیر ملکی شہریت سے بھی نوازا جاسکتا ہے۔ اس سینٹر کے روح رواں، جو کہ ایک بڑے اخبار میں صحافی بھی ہیں، حال ہی میں امریکہ یاترا سے تشریف لائیں ہیں۔ یاترا کے بعد سے انکا نصاب جمہوریت کا سفر کرتے ہوئے، براستہ سیکولرزم، اب الحاد کو چھونے لگا ہے۔ انکا کوچنگ سینٹر ٹوئیٹر کی گلیوں میں واقع ہے۔

دوسرے درجے کہ ایک معروف سینٹر میں پرفارمنس کی بجائے براہ راست شخصی معرفت پر توجہ مذکور کیے رکھنے پر زور دیا جاتا ہے۔ یہاں آپ کو معروف سیاستدانوں کی اولادوں کی تصاویر بمعہ انکے سنہری اقوال پر ذیادہ فوکس ملے گا۔ خبر ہے کہ یہ کوچنگ سینٹر ابھی تک حکومتی میڈیا سیل سے باقائدہ الحاق شدہ نہیں لیکن امید ہے کہ صاحب سینٹر کے بے قابو ہوئے جذبۂ جمہوریت کو دیکھتے ہوئے الحاق کا فیصلہ جلد ہی کیا جائے گا۔

سینٹرز کی بڑھتی ہوئی اہمیت و افادیت کے پیش Distance learning میں بھی پیشرفت ہوئی ہے جس کے تحت ایک اعلیٰ پائے کا سینٹر، مذہبی تشخص رکھنے والی ایک معروف شخصیت کے زیر انتظام، براہ راست ابو ظہبی سے چلایا جارہا ہے۔

صالحین، جو ہمیشہ سے غیر جمہوری قوتوں کا ہراول دستہ رہے، وہ بھی اب تیزی سے مشرف با جمہوریت ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب انکی طرف سے بھی دھڑا دھڑ جمہوری کوچنگ سینٹرز کھولے جارہے ہیں۔ صالحین گروپ آف کوچنگ سینٹرز کا ایک مسئلہ ہے۔ چونکہ انکے نصاب میں جاتی امرائی جمہوری اسباق حال ہی میں دوبارہ شامل کیے گئے ہیں، اس لیے انکے طالبعلم یکسو نظر نہیں آتے۔ سیکنڈری جماعتوں کے طالبعلم حکومتی کرپشن کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں جبکہ پرائمری کے طلباء حکومت کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ مجموعی طور پر صورتحال چوں چوں کا مربہ ہے جس کا اظہار ہر طرح کے الیکشنز میں صالحین کی ہار کی صورت میں نظر آتا دکھائی دے رہا ہے۔ انکے لیے مشورہ ہے کہ اپنے نصاب میں متعدد “تعلیمی بورڈز” کا نصاب شامل کرنے کی بجائے کسی ایک ہی بورڈ پر توجہ مرکوز رکھیں۔ وہ ایک مشہور کہاوت ہے نا گھر اور گھاٹ والی۔۔۔چلیں چھوڑیے۔

سینٹرز نہ صرف بہت ہیں بلکہ انکی تعداد میں بھی روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ انکی دیکھا دیکھی کچھ نوزائیدہ دانشوران بھی اس فیلڈ میں اپنے کیرئیر کا آغاز کرچکے ہیں۔ جمہوریت کا چورن زور و شور سے بیچا جارہا ہے۔ لوگوں کو باور کرایا جارہا ہے کہ ووٹ ڈالو اور اگلے پانچ سال کے لیے اپنے اپنے گھروں میں خاموشی سے بیٹھ جاؤ۔

تو حضرات، دیر نہ کیجیے۔ اپنی آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے ابھی سے جمہوریت کوچنگ سینٹرز کے بزنس ماڈل پر سرمایا کاری کیجیے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: