زندہ ہے بھٹو زندہ ہے — مگر کیسے؟ ڈاکٹر فرحان کامرانی

2
  • 233
    Shares

یہ نعرہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ پیپلز پارٹی والے اپنے بانی قائد کی عظمت، ان کے نظریے اور مشن کے اب تک قائم ہونے کے اظہار کے طور پر لگاتے ہیں اور کئی لوگ پی پی کی سیاست کا مذاق اڑانے یا ان کی کرپشن کی نشاندہی کرنے کے لیے لگاتے ہیں۔ لیکن جس بھی رخ سے دیکھو دراصل یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے سچا نعرہ ہے، مگر یہاں وضاحت کی ضرورت ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو صاحب ایوب خان کے روحانی بیٹے تھے اور انہیں ’ڈیڈی‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ڈیڈی نے ان کو ملک کا وزیر خارجہ بنایا، ڈیڈی نے ان کو بہت بڑے خواب دیکھنے سکھائے اور بعد میں انھوں نے ڈیڈی سے غداری کی اور اپنی ذاتی سلطنت اور سیاسی جاگیر قائم کی۔ اس حساب سے جب بھی کوئی اپنے اس نوع کے ڈیڈی کو چھوڑ جائے، چاہے ڈیڈی مشرف ہو یا ڈیڈی الطاف حسین، تو دراصل ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘

بھٹو صاحب نے انتخابات لڑے تو مغربی پاکستان میں ان کو اکثریت مل گئی لیکن مشرقی پاکستان میں مجیب کو اکثریت حاصل ہوئی۔اب کوئی ایسی صورت نہیں تھی کہ یہ وزیر اعظم بن سکتے تو انھوں نے ’’ادھر ہم اُدھر تم‘‘ اور ’’جو ڈھاکا پارلیمنٹ کے اجلاس میں جائے ون وے ٹکٹ لے کر جائے‘‘ اور ’’وہاں جانے والوں کی ہم ٹانگیں توڑ دیں گے‘‘ کے نعرے بلند کیے اور مشرقی پاکستان کو بغاوت میں جھونک دیا جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا اور لاکھوں انسان اپنی جانوں سے گئے۔ اس لیے اِس ملک میں جب جب اپنے اقتدار کے لیے ملک توڑنے کی بات ہوتی ہے اور جب بھی اپنے مزے ختم ہونے پر پاکستان کے خلاف نعرے بلند کر دیے جاتے ہیں تو ایسے ہر ہر موقع پر دراصل ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘

بھٹو صاحب نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا مگر ان کی پالیسیوں سے ملکی معیشت کا بھٹہ ہی بیٹھ گیا۔ وہ ملک جہاں بے پناہ بیرونی سرمایہ کاری جاری تھی بھٹو صاحب کی نجی اداروں کو قومیانے کی پالیسی سے یہاں آنے والا سارا سرمایہ ملیشیا، سنگاپور، متحدہ عرب امارات کی طرف چلا گیا اور یہ ملک کہاں سے کہاں پہنچ گیا تو جب بھی غلط پالیسیوں کی وجہ سے معیشت ڈوبتی ہے تو دراصل ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

بھٹو صاحب وہ پہلے پاکستانی سیاست دان تھے جنہوں نے اپنی تقریروں کی بنیاد عقل کی جگہ جذبات کو بنایا۔ وہ ایسے پہلے پاکستانی سیاستدان تھے جنہوں نے اپنی تقریروں میں مادر زاد گالیاں بکیں اور چیخ چیخ کر بات کی۔ تو جب بھی ہم تقریروں میں گالیاں سنتے ہیں یا چیختا چنگھاڑتا انداز سنتے ہیں تو دراصل ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

بھٹو صاحب دیہی سندھ کو نوازنا چاہتے تھے مگر یہاں سرکاری نوکریاں بانٹنا اس لیے مشکل ہو رہا تھا کہ تعلیم کم تھی۔ بھٹو صاحب نے اس کا ایک آسان حل نکالا، انہوں نے اندرون سندھ کے میٹرک، انٹر بورڈ اور جامعات کو تعلیمی اسناد کے چھاپے خانوں میں تبدیل کر دیا اور سرکاری اداروں میں سیاسی بھرتیوں کا ایک ریلا لے آئے تو جب بھی جعلی ڈگریوں اور سیاسی بھرتیوں کی بات کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ہوتی ہے تو پاکستان میں اس کے بانی کے طور پر ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

بھٹو صاحب نے بدقسمتی سے کوٹہ سسٹم متعارف کرایا جس میں سندھ کو سندھ شہری اور سندھ دیہی کی اکائیوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اب چاہے میڈیکل یا انجینئرنگ جامعات کے داخلے ہوں یا سرکاری نوکریاں، دیہی علاقوں کا کوٹہ زیادہ تھا حالانکہ تعلیم وہاں کم تھی۔ نتیجہ ہوا کہ شہر کا لڑکا 80 فیصد لے کر میڈیکل میں داخل ہوتا اور گائوں کا لڑکا 45 فیصد اور یہی معاملہ نوکریوں میں بھی ہوتا۔ تو جب بھی میرٹ کے قتل عام اور لسانی بنیاد پر اقربا پروری کی بات اس ملک میں ہو گی تو دراصل ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔ کوٹہ سسٹم کی وجہ سے شہری علاقوں کے اردو بولنے والوں میں احساس محرومی پیدا ہوا جس کی وجہ سے اُس تلخ سیاست اورخون آشام باب کا آغاز ہوا جس نے ہزاروں انسانوں کی جان لی اور تشد د کو سندھ کی سیاست کا لازمی جزو بنا دیا۔ دراصل جب بھی سندھ میں لسانی تشدد ہوتا ہے تو دراصل ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

بھٹو صاحب نے پاکستان میں اپنے سیاسی مخالفین کو قتل کروا دینے کی روایت برپا کی اور احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملہ کروایا جس میں ان کے والد جاں بحق ہو گئے۔ اسی طرح اور بھی ان گنت افراد ان کی ہلاکت خیزی کا شکار ہوئے۔ تو جب بھی اس ملک میں اپنے سیاسی مخالفین یا اپنے باغی لیڈرز پر قاتلانہ اقدامات کیے جاتے ہیں تو دراصل ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

بھٹو صاحب نے اپنی صاحبزادی کو اپنی سیاسی جانشین قرار دیا اور یوں انھوں نے پاکستان میں موروثی سیاست کی بنیاد ڈالی تو جب بھی یہاں سیاسی بادشاہت کی بات ہوتی ہے تو دراصل ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

بھٹو صاحب نے بلوچستان میں ایک ہولناک فوجی آپریشن کروایا اور جب ان کے ڈیڈی ایوب بھی اسی نوع کے کام بلوچستان میں کر رہے تھے تو یہ اس میں بہت پیش پیش تھے۔ بلوچستان کا احساس محرومی جو اب شاید ایک کینسر ہے، اس کی ابتداء میں بھٹو صاحب کا بھی بڑا ہی بنیادی اور کلیدی کردار ہے اس لیے جب بھی مسئلہ بلوچستان زیر بحث آتا ہے تو دراصل اس میں بھی کسی نہ کسی حد تک ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی میں یہ عنصر موجود تھا کہ جب ان کی حکومت گرائی گئی تو اس پارٹی کے ایک حصے نے دہشت گردی شروع کر دی جس میں طیارے کے اغواء اور اس میں سوار افراد میں سے چند کا قتل بھی شامل ہے تو جب بھی سیاسی جماعتوں کے دہشت گرد ونگز کی بات ہوتی ہے تو اس رجحان کی اولین پاکستانی پارٹی کے بانی کی حیثیت سے ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

بھٹو صاحب کے دور اقتدار میں انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی جس کے نتیجے میں ملک گیر مظاہرے برپا ہوئے جن کو روکنے کے لیے بدترین سیاسی قوت کا مظاہرہ ہوا، یادش بخیر! آزادی کے بعد یہ پاکستان کی تاریخ کے دوسرے انتخابات تھے۔ پہلے انتخابات جو فوجی آمر جنرل یحییٰ خان نے کرائے تھے آج تک ان کی شفافیت پر کبھی انگلی نہ اٹھی۔لیکن جب جمہوری طاقت کے ہاتھوں انتخابات ہوئے تو ان میں بدترین دھاندلی کی گئی۔ تو جب بھی جمہوری قوتیں انتخابات میں دھاندلی کرواتی ہیں تو اس روایت کے بانی کی حیثیت سے ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

بھٹو صاحب کی سیاست سے ہی پاکستان میں شخصیت پرستی کی سیاست نے جنم لیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب منشور اور پروگرام پس پشت چلے گئے اور صرف بھٹو بھٹو کے نعرے لگنے لگے۔ عملی طور پر بھی پیپلز پارٹی کسی بھی نظریے، کسی بھی منشور کی جگہ صرف بھٹو پرستی کرنے لگی جس کو بڑے فخر سے ــ’’بھٹو ازم‘‘ کا نام دیا گیا تو پھر جب بھی شخصیت پرستی کی سیاست اس ملک میں ہو گی، جب بھی جو بھی یہ نعرہ لگائے گا کہ’’ ہم کو منزل نہیں رہنما چاہیے‘‘ تو دراصل ہر ہر ایسے موقع پر ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

اور جب بھی اس ملک میں کسی کے محض کسی غیر معمولی حالات میں مر جانے سے وہ ’’معصوم‘‘ بن جائے گا اور ان پر بات کرنا، ان کے اقدامات پر تنقید کرنا یا ان کا تجزیہ کرنا شجر ممنوعہ قرار پائے گا تو دراصل ایسے ہر موقع پر ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے!‘‘۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. This article is full of baised. Unfortunately we expecting some logical discussion on this page but day by day there is some writer are expressing their eternal jelaicy.

Leave A Reply

%d bloggers like this: