پی ایس ایل، امید کی کرن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سراج احمد تنولی

0
  • 17
    Shares

پی ایس ایل کی صورت میں پاکستان میں کرکٹ کی واپسی خوش آئند ہے۔ اس مرتبہ ایک کے بجائے تین میچز پاکستانی گرؤنڈز میں کھیلے جائیں گے۔ مقام شکر ہے کہ خوشیوں کو ترسی ہوئی قوم کو ایک لمبے عرصے بعد ایک بڑی خوشی ملنے والی ہے، جس کا منہ بولتا ثبوت چند منٹوں میں ساڑھے چھبیس ہزار کے ٹکٹس کا فروخت ہونا ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کرکٹ کو دیکھنے کے لئے کس قدر بے تاب ہیں۔ دکھ، دردوں، غموں سے نڈھال اور محرومیوں کا شکار لوگ چند لمحوں کے لئے خوشیوں کو سینے سے لگا دیں گے اور دنیا کو بتا دینگے کہ ہم پر امن لوگ ہیں۔ نوجوانوں کی رگوں میں اپنی پسندیدہ ٹیموں کے لئے خون دوڑے گا۔ اس سیزن کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس مرتبہ پانچ کے بجائے چھٹی ٹیم ملتان سلطان بھی حصہ لے رہی ہے اور دوسرا پی سی بی حسب وعدہ اس دفعہ فائنل کراچی میں کرائے گی جبکہ ایلیمینٹر راؤنڈ کے دو میچز لاہور میں کرائے گی، انشاء اللہ یہ اقدام پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لئے سنگ میل ثابت ہو گا۔

تمام لوگ نجم سیٹھی کی بھر پور کاوشوں کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ کرکٹ کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں۔

پی ایس ایل نوجوان لڑکوں کو کھیلنے کا بھر پور موقع مل رہا ہے جسکی وجہ سے نیا ٹیلنٹ بھی سامنے آرہا ہے۔ کرکٹ آہستہ آہستہ بہت تیزی آرہی ہے۔ اسی تیزی کی وجہ سے کرکٹ میں پیسوں کی فراوانی بھی بڑھ رہی ہے۔ ہمارے نوجوان جو سالہا سال کھیل کر اتنانہیں کما سکتے تھے جتنا لیگ میچز کھیل کر کما رہے ہیں۔

پی ایس ایل کی بدولت پاکستان کرکٹ میں واپس لوٹ رہی ہے۔ گزشتہ سال بھی پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہوا تھا جو مقبولیت کے ساتھ کامیاب رہااور چند غیر ملکی کھلاڑی بھی پاکستان آئے تھے۔ جس کے بعد ورلڈ الیون اور سری لنکن ٹیم کی صورت میں بین الاقوامی میچز پاکستان میں کھیلے گئے تھے۔ اس سیزن میں مزید پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ آئندہ ماہ کے اوائل میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی ٹی 20 سیریز کھیلنے پاکستان کا دورہ کرنے والی ہے۔

جبکہ ادھر بری خبر یہ کہ انگلینڈ کی ون ڈے اور ٹی20 ٹیم کے کپتان اور کراچی کنگز کے نائب کپتان اوئن مورگن نے پاکستان میں آ کر کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے قبل کیون پیٹر سن بھی پاکستان میں آکر کھیلنے سے انکار کر چکے ہیں۔ جبکہ آسٹریلوی آل راؤنڈر شین واٹسن نے پاکستان جانے کے بارے میں حتمی فیصلے کو اپنی فیملی سے مشاورت سے مشروط کر رکھا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے فل پروف سیکورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے تو ضرور تمام کھلاڑیوں کو آنا چاہیئے۔

بہر کیف پی ایس ایل کے اس سیزن میں دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملے۔ سب سے بہترین اور سنسنی خیز میچ اب تک کراچی کنگز اور لاہور قلندر کے مابین کھیلا گیا۔ مگر لاہور قلندر کی بد قسمتی نے ان کا ساتھ اس مرتبہ بھی نہ چھوڑا۔ کراچی کنگز کی ٹیم نے بھی گزشتہ سال کی بنسبت اچھا پر فارم کیا۔ جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹر اور اسلام آباد کی ٹیمیں اس بار بھی پی ایس ایل کی بہترین ٹیمیں ہیں اور پشاور زلمی نے بھی گزشتہ تینوں میچز میں بہترین پرفارم کیا، ہم زلمی الیون کو ممکنات کی ٹیم بھی کہہ سکتے ہیں۔

چونکہ میری فیورٹ ٹیم پہلے سیزن سے ہی کراچی کنگز ہے اس لئے میں اسی کی حمایت کر رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس بار کراچی کنگز پی ایس ایل کی چمپین بنے۔ آخر میں یہی کہوں گا جیت چاہے کسی کی بھی ہو جس کا نصیب ہو خوشی کی بات ہے کہ کافی عرصے بعد پاکستانی عوام کو کراچی میں بھی اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ میں اس موقع پر دعا ہوں کہ اللہ پاک ان میچز کو ہر طرح کہ سانحات سے محفوظ رکھیں۔۔۔آمین
پاکستان زندہ باد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: