نئے چیرمین سینٹ اور جوڑ توڑ کی سیاست ۔۔۔۔۔۔۔۔ انوار احمد

0
  • 45
    Shares

ایک ایسے شخص کو چیئرمین سینیٹ بنادیاگیا جس کا نہ تو کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے انکا تعلق ہے لیکن محض جوڑ توڑ اور مایا دیوی کی آشیرواد سے وہ اس منصب پہ فائض کیے گئے۔ سیاست کے طالبعلم حیران اورششدر ہیں کہ کیا سیاست اس قدر بے بس اور بےتوقیر بھی ہوسکتی ہے۔

‏پاکستانی جمہوریت کا ’’صادق اور امین‘‘ سے لے کر ’’صادق سنجرانی‘‘ تک کا سفر سب کو مبارک ہو۔

بھٹو مرحوم اور بینظیر جیسی شخصیت کی حامل انتہائی لبرل اور روشن خیال جماعت ’’مرحوم پی پی پی‘‘ نے اپنے عظیم رہنمائوں کے نظریہ کی جس طرع تذلیل کی اس کی مثال نہیں۔ رضا ربانی، فرحت اللہ بابر یا تاج حیدر جیسے زیرک اور جہاندیدہ اور اچھی شہرت کے حامل افراد کے بجائے ایک مستند لوٹے کو چیئرمین سینٹ منتخب کرا دیا جو پارٹیاں بدلنے اور موقع پرست ہونے کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔

عمران خان جو طالبان اور جماعت اسلامی کے اتحادی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اور جنہوں نے حالیہ مہینوں میں مولانا سمیع الحق (فادر آف طالبان) کو ایک خطیر رقم انکے مدرسے کے لیے دی۔ پی پی اور پی ٹی آئی نے اس ’’سیاسی شادی‘‘ یا حلالہ کرکے رجعت پسندوں اور انتہا پسندوں کو تقویت دی۔

میں بحیثیت ایک غیر سیاسی لیکن باشعور اور روشن خیال شہری اپنا احتجاج ریکارڈ کرا تا ہوں۔ میرے اندازے کے مطابق یہ غیر منطقی اور مفادات پر مبنی رشتہ زیادہ چلنے والا نہیں اور اسکی ایک بڑی وجہ خان صاحب کی پارہ صفت شخصیت اور ضد بھی ہوسکتی ہے۔

ان حقائق کے باوجود جناب زرداری کی سیاسی سوجھ بوجھ اور نت نئی چال چلنے کی صلاحیت کا بھی معترف ہوں کہ کس کمال سے انہوں نے اپنے ایک بڑے مخالف کو جال میں پھنسایا اور بقول مشہور دانشور چانکیہ ’’دشمن کے دشمن سے دوستی کرلو‘‘ وہ دن بھی دور نہیں دکھائی دیتا جب خان صاحب کو زرداری بابا ایسی جگہ لیجا کے مارے گا کہ جہاں پانی بھی نہ ملے۔

ثابت ہوا کہ نظریہ اور فلسفہ کچھ نہیں سب کچھ مفادات اور اس سے جڑی منافقت ہی ہے۔ نیا پاکستان کا نعرہ لگانے والے اپنے سب سے بدترین مخالف کی گود میں جاکر بیٹھ گئے شاید انکی پیرنی بیگم کا آشیرباد بھی اس کارخیر میں شامل ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: