ایک پرانا سوال نیا مسئلہ (حصہ سوئم) ۔۔۔۔۔۔۔۔ شمیم احمد

0
  • 15
    Shares

آخر میں اکبر نے حالی اور سر سیّد کے پیدا کردہ جس احساسِ کمتری کو اور آنے والی نسلوں کو پیشِ نظر رکھ کر جو کچھ کہا ہے اُس کا بنیادی نکتہ یہ ہے۔

سوچو کہ آگے چل کر قسمت میں کیا لکھا ہے
دیکھو گھروں میں کیا تھا اور آج کیا رہا ہے
ہوشیار رہ کے پڑھنا اس جال میں نہ پڑنا
یورپ نے یہ کہا ہے یورپ نے وہ کہا ہے

ان اشعار کی روشنی میں دیانت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ آپ بھی تسلیم کر لیں کہ اکبر کا نقطۂ نظر سر سیّد کے طرز فکر سے کہیں زیادہ بالغ اور صحتمند تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ سر سیّد کا طرزِ فکر چونکہ برطانوی سیاست اور حکومت کے لیے زیادہ سود مند تھا اسی لیے اُس نے پوری قوت سے اس کے اثر و نفوذ کو پھیلنے کے مواقع بہم پہنچائے اور ہر ممکن امداد کی۔ سر سیّد کی طرزِ فکر کو کامیابی کی دلیل بنانے والے حضرات اگر ایمانداری سے اس پوری تحریک کے پسِ منظر کا مطالعہ کریں تو انہیں خود یہ معلوم ہو جائے گا کہ اس طرزِ فکر کی کامیابی میں نظریہ کی صداقت کو بہت کم اور اس دور کی صاحبِ اقتدار قوت اور حکومت کی مصلحتوں اور امداد کا بہت بڑا دخل تھا جس کا ثبوت اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ سر سیّد کی مخالفت صرف و محض (ترقی پسند ادیبوں کے نقطۂ نظر سے) ملّائوں اور دینی اداروں کے مدرسوں اور بقول سر سیّد ’’قل آعوذیوں‘‘ کی طرف سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کی شدید مخالفت اس طبقہ کی طرف سے ہوئی تھی جس نے سر سیّد کی طرح خود مغربی تعلیم اور انگریزی حکومت کو ہندوستان کے لیے ایک نعمت قرار دیا تھا اور یہ سب سر سیّد کے ہم عصر اور ان کے شریکِ کار قرار دے جا سکتے ہیں۔

اکبر کا نقطۂ نظر سر سیّد کے طرز فکر سے کہیں زیادہ بالغ اور صحتمند تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ سر سیّد کا طرزِ فکر چونکہ برطانوی سیاست اور حکومت کے لیے زیادہ سود مند تھا اسی لیے اُس نے پوری قوت سے اس کے اثر و نفوذ کو پھیلنے کے مواقع بہم پہنچائے

اسی جگہ یہ بات بھی صاف کر دینے کی ہے کہ ہم بیک آواز اور بیک سانس جن علماء کو مُلّا اور قدامت پسند کہہ کر سر سید کو جدید فکر کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ یہ علماء وہ ہیں جنہوں نے ہندوستان کو غلامی سے نجات دلانے کی ایسی طویل جدوجہد کی اور ایسی قربانیاں دی ہیں جن کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوئے جاتے ہیں اور یہ بات آج کے تمام مفکرین کے لیے ان کی دیانت کا سب سے بڑا امتحان ہے کہ تحریک آزادی مثبت ہوا کرتی ہے یا نہیں؟ تاریخ میں غلامی سے نجات حاصل کرنے اور آزادی کی جدوجہد کو کبھی منفی قرار نہیں دیا گیا ہے (یہ شرف بھی ہمیں کو پہلی بار حاصل ہوا ہے) اس لیے اس سوال کا جواب جدید مفکرین پر قرض ہے کہ ہندوستان کو انگریزی کی غلامی سے بچانے کے لیے، تحریکِ آزادی کو تیز تر کرنے کے لیے علماء سر بکف میدان میں اُترے ہوئے تھے یا سر سیّد احمد خاں؟ میں یہ ماننے کے لیے تیار ہوں کہ ہندوستان کے پیچیدہ اور مخصوص حالات میں شاید سر سید کی طرز فکر ہی اس وقت کی سب سے مفید طرز فکر ہو مگر ایک آزاد قوم اور ملک کی تعمیر کے پہلے مرحلے میں سر سید کے عہد کی پیچیدہ اور ’’مفید‘‘ طرز فکر سے نہیں بلکہ اس مثبت طرز فکر سے رشتے جوڑنے کی ضرورت ہے جس نے حریّت فکر کو، تحریکِ آزادی کو اور غلامی سے نجات کو اپنا مقصود بنایا تھا نہ کہ ان سے جنہوں نے غلامی کی طرف بلایا تھا اور اس پر صبر و شکر کرنے پر مجبور کیا تھا۔

سر سیّد کی مخالفت صرف و محض (ترقی پسند ادیبوں کے نقطۂ نظر سے) ملّائوں اور دینی اداروں کے مدرسوں اور بقول سر سیّد ’’قل آعوذیوں‘‘ کی طرف سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کی شدید مخالفت اس طبقہ کی طرف سے ہوئی تھی جس نے سر سیّد کی طرح خود مغربی تعلیم اور انگریزی حکومت کو ہندوستان کے لیے ایک نعمت قرار دیا تھا

سر سید کی ہم عصر مگر اس زمانے کی نئی نسل ان بزرگوں سے بھی دو ہاتھ آگے تھی اور اسی نسل کے لوگ سر سید کے مقابلے پر انگریزی علم و ادب سے براہ راست واقف تھے۔ اور مغربی علوم کی ان خوبیوں اور اس کے پیچھے کام کرنے والی اس قوت کے مصرّف تھے جس نے سائنس کی عظیم فتوحات کو جنم دیا تھا۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ یہی وہ لوگ تھے جنہیں پیدا کرنا انگریزی تعلیم کا مقصد بھی تھا اور وہ حکومت کے ذمہ دار عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے مگر ہمیں یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوتی ہے کہ ان میں سے تمام قابل ذکر اہلِ قلم سر سید کی طرز فکر کے سب سے بڑے مخالف اور ناقد ہیں۔ ان میں سے میں صرف ایک ہی صاحب کا ذکر کروں گا۔

نوابِ امداد امام اثر مصنف ’’کاشف الحقائق‘‘ جن کی یہ کتاب اردو ادب میں جدید مغربی طرزِ فکر کی غالباً سب سے پہلی اور باقاعدہ کتاب شمار ہوتی ہے۔ یہ اس لیے کہ مولانا حالی خود انگریزی سے اصلاً واقف نہ تھے جن کا مقدمہ اردو ادب میں سنگ میل مانا گیا ہے۔ مقدمہ دیوانِ حالی 1893ء میں پہلی بار شائع ہوا۔ اور ’’کاشف الحقائق‘‘ اس کے بعد چھپنے والی وہ پہلی اور مکمل تصنیف ہے جو 1897ء میں شائع ہوئی۔ ان صاحب نے جدید طرزِ فکر اور تاریخ کے شعور کو اس وقت کے مغربی تعلیم کے مذاقِ سخن کو سامنے رکھ کر اردو ادب پر ایک گہری نظر ڈالی ہے۔ اس کے نامقبول ہونے کا ایک سبب اس کتاب میں ان کے شیعی نقطہ نظر کا بہت واضح اور تبلیغی انداز فکر ہو سکتا ہے یا شاید تحریک سر سید کی کامیابی۔ نواب امداد اثر کے خیالات کی تلخیص انہی کے کم از کم الفاظ میں درجہ ذیل ہے۔

’’مگر اس زمانے میں ایک نئی بیماری پیدا ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اکثر ادھورے انگریزی خوانوں کے دماغ میں اس خیالِ فاسد نے جگہ کر لی ہے کہ ساری خوبیاں یورپ پر ختم ہو گئی ہیں۔ ایشیا کو خوبی کا کوئی حصہ ملا ہی نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس زمانے میں یورپ نے مادیات میں بڑی ترقی کی ہے یہاں تک کہ اکابر علمائے یورپ خدا سے بھی مستغنی نظر آتے ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ علوم مادیات کا یہی تقاضا ہے کہ انسان تداہر اختیار کر لے۔ چنانچہ یہ امر محقق ہے کہ انسان جس قدر مادیات میں ترقی کرتا جاتا ہے روحانیت سے دور پڑتا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ آخر کار خدا اور تمام روحانیت سے منکر ہو بیٹھنا ہے۔ خیر جو کچھ یورپ تدہر کی کی حالت میں مبتلا ہو رہا ہے اس کی مادی ترقیوں سے انکار نہیں کا جا سکتا ہے مگر اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے کہ اگر یورپ ساری خوبیوں سے معمور ہے تو ایشیا ساری خوبیوں سے محروم ہے۔ قصور معاف اکثر ہماری نئی روشنی والے حضرات کا تو ایسا ہی خیال معلوم ہوتا ہے۔ وہ ایشیائی خیالات، اوضاع اور معاملات کو قابل نفرت سمجھتے ہیں۔

یورپ کے ہر امر پر عام اس سے کہ معقول ہو کہ غیر معقول جان دیے دیتے ہیں اور اپنے اقوال و افعال سے عجیب طرح کی نادانستگی ظاہر کرتے ہیں۔ جاد بیجا ہر قدم پر اہلِ یورپ کے تتبع پر مستعد رہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہر ماخذ ماصفا و دع ماکدر کا مضمون ان کے گوش مبارک تک کبھی پہنچا ہی نہیں۔ ان حضرات کی دل دادگیاں معاملات یورپ کی نسبت اس درجہ کو پہنچ گئی ہیں کہ ایشیائی شاعری بھی ان کی نظر میں ذلیل اور محقر معلوم ہوتی ہے۔ اہلِ یورپ اس کے مقر ہیں کہ ابھی تک انہیں ایشیائی خیالاتِ شاعرانہ سے آشنائی پیدا نہیں ہوئی ہے اور بہت کچھ ان کو معلوم کرنا ہے۔ چنانچہ اس وقت تک ان کو ایشیائی شاعری سے اطلاع کی شکل پیدا ہوئی ہے وہ پایہ اعتبار نہیں رکھتی ہے۔ بدانست راقم اس تنگ چشمی کا سبب نادانستگی ہے یا یہ کہ یورپین شاعری بہ سبب ایک امر جدید ہونے کے پُر لذت معلوم ہوتی ہے اس میں شک نہیں کہ یورپین شاعری کی آگاہی سے ہم ایشیائیوں کی شاعری کو بہت کچھ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے نئے نئے مضمون دستیاب ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ فائدہ یورپین شاعری کو ہماری ایشیائی شاعری سے پہنچ سکتا ہے۔ اس واسطے کے بہت نازک خیالیاں ایشیائی شاعری میں ایسی ہیں جن سے شعرائے یورپ کے دماغ کو ابھی آشنائی پیدا نہیں ہوئی ہے اس امر سے اعتراف خود اہل یورپ اور اہل امریکہ کو ہے۔ بہر حال اہلِ یورپ کو ایشیائی خیالات سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یا توپوری طرح عربی، فارسی، اردو سیکھیں یا ان زبانوں کے شعراء کی تصانیف کو نہایت صحت کے ساتھ ترجمہ کر ڈالیں۔

اس طرح ہم لوگوں کو ترقی فن شاعری کے لیے دو امر درکار ہیں۔ ایک یہ کہ جو معائب ایشیائی شاعری کے ہیں ان سے متنبہ ہو کر ان کے ازالہ کی فکر کریں۔ دوم یہ کہ جو جو خوبیاں یورپین شاعری میں ہیں ان کو حسبِ ضرورت اپنی شاعری میں داخل کرنے کی صورتیں نکالیں۔ ’’(صفحہ 88 ۔ 84)

مولانا حالی نے جن سنی سنائی باتو ں پر اردو شاعری کا بیج مارنے کی کوشش کی تھی اور پوری قوم کو جس درجہ احساس کمتری میں مبتلا کر دیا تھا وہ اپنے ہم عصر نافذ کی نظر میں کیا درجہ رکھتا تھا اس کا اندازہ آپ کو مندر جہ ذیل اقتباس سے ہو سکتا ہے:۔

’’اب غزل سرائی کے مادے میں آخر عرض راقم یہ ہے کہ اس زمانے میں تقاضائے سلطنت سے انگریزیت نے ایسی تاثیر پھیلائی ہے کہ ہر شئے پر جو ملکی وضع، ترکیب، ساخت، روش وغیرہ کی ہے تنگ چشموں کی آنکھوں میں ذلیل و خوار نظر آتی ہیں۔ جن حضرات نے علوم یورپ حاصل کیے ہیں ان کا انقلاب مذاق خیز اتنا حیرت انگیز نہیں ہے مگر تعجب ان حضرات سے ہے جو انگریزی جانتے ہیں، نہ فرانسیسی مگر صحت و عدم صحتِ مذاق پر بحث کرنے کو مستعد ہو جاتے ہیں۔ اور ہندوستانی علوم و فنون کی مذمّت بے دھڑک کرنے لگتے ہیں۔ ایسے حضرات کے نزدیک ہر شئے جو ہندوستان سے تعلق رکھتی ہے بقنوائے یقین متروح و مذموم ہے منجملہ دیگر اشیائے ملکی کے ملکی شاعری بھی ان کے خیال میں پُر از عیوب متصور ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ملکی شاعری میں معائب ہیں مگر یورپین شاعری بھی عیوب سے پاک نہیں ہے۔ یورپین شاعری کے معائب ایسے حضرات کو سجھائی نہیں دیتے اور حقیقت یہ ہے کہ انہیں یورپین شاعری کے عیوب کیونکر نظر آئیں جب ان کی اطلاع کوٹ، پتلون، کرسی میز، چھری کانٹے وغیرہ کے اندر ہے ایسے حضرات کو ہومر، ورجل، ہوریس، دانتے، شیکسپیئر، ملٹن، شیلے، بائرن اور ٹینی سن وغیرہ ہم کے حسن و قبح سے کیا خبر ہے، جو یورپین شاعری کا دم بھرتے ہیں اور شاعری جیسے امراہم میں رائے زنی کرنے کو مستعد ہو جاتے ہیں۔

ایسے حضرات غزل سرائی کے مادّے میں جو جو صورتیں اصلاح کی بتاتے ہیں ان کی نسبت یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غزل سرائی کی خوبیوں کو عجز لطف کے باعث درک نہیں کیا ہے یا ان پر انگریزی کا جہل مرکب ایسا سوار ہو رہا ہے کہ جب تک ان کے خیال کے مطابق انگریزی مذاق کے ساتھ غزل سرائی نہ کی جائے، تب تک غزل سرائی مطبوع پیدا نہیں کر سکتی۔ ان حضرات سے بعض فرماتے ہیں کہ غزل میں ہمیشہ عشقیہ مضامین باندھے جاتے ہیں۔ جو مخرب تہذیب ہوا کرتے ہیں۔ لازم ہے کہ ایسے مضامین کے عوض وعظ، پند نصیحت، اخلاق، تمدن اور نیچرل سیزیوں کی باتیں موزوں کی جائیں۔ نیچرل سیزیاں عبارت ہیں۔ جبال بحور، صحرا، میدان، کشتِ زار، حیوانات، نباتات، ہوا، برق، باراں وغیرہ وغیرہ کی نمود سے۔ ایسے معترضین کی خدمت میں عرض راقم یہ ہے کہ غزل وہ صنفِ شاعری ہے کہ جو مضامین عشقیہ کے لیے موضوع کی گئی ہے۔ اس کا تقاضا ہی یہ ہے کہ اس میں اعلیٰ درجہ کے واردات قلبیہ، معاملات روحیہ اور امورِ ذہنیہ حوالۂ قلم کیے جائیں۔ اگر واقعی کسی غزل سرا کو ایسے مضامین کی بندش کی قدرت ہے تو اس کی غزل سرائی مخرب تہذیب ہو نہیں سکتی بلکہ اس کی غزل سرائی سے بہت کچھ اصلاح قلب و روح کی امید کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح وعظ و پند کی نسبت یہ عرض ہے کہ غزل سرائی کو پند و موعظت سے عداوت نہیں ہے البتہ بھونڈے طور کی پند گوئی اور وعظ فرمائی کو غزل جیسی نازک صنفِ شاعری سے کیا علاقہ‘‘ (صفحہ 66 ۔ 64)

یہ خیالات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آج لکھے گئے ہوں اور اس متوازن زاویۂ نظر کو پیش نظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہتر 72، سال پہلے اس مذاق سخن کا بیج اگر سر سید کی تحریک اور حالی کی مقبولیت نہ مار کر رکھ دیتی تو آج ہماری فکر صحیح میں کچھ زیادہ ہی اضافہ ممکن ہوتا۔ مولانا حالی پر جو صحیح اندازِ نظر آج بھی پیدا نہیں ہو سکا ہے اس کو ان کا ایک ہم عصر 1997ء میں کتنے صحیح زاویہ سے دیکھ رہا تھا اس کا اندازہ اگر جدید نقادوں کو ہو سکے تو شاید وہ اردو ادب کے زوال اور اس کی موجودہ حالت پر زیادہ بہتر طور پر سوچ سکیں گے۔ تو لیجیے ملا حظہ کیجیے اور فیصلہ کیجیے کہ یہ صداقت زیادہ مثبت اور متوازن تھی یا حالی کا منفی نقطہ نظر۔

’’ایسی تنگ چشمی کا عارضہ انہی حضرات کو لاحق دیکھا جاتا ہے جن کی وسعتِ نظر بہت کم ہے اور اس کی وسعتِ نظر کے ساتھ اپنے کو بلند نگاہ، بالا بین اور حقیقت آگاہ سمجھتے ہیں۔ نعوذباللہ اس زمانے میں شائستگی کا مرض ایسا پھیلا ہے کہ خدا تیری پناہ۔ ایسے حضرات جہاں کچھ ادھوری یورپین وضع کر کے پابند ہو گئے، اپنے کو شائستہ سمجھنے لگے، اگر ظاہری وضع نہیں بدلی تو اپنے نکمے خیالات کو عین حکماء و علمائے یورپ کے خیالات جاننے لگے۔ یہ مرض طاعون، چیچک، ہیضہ، سیاہ بخار وغیرہ سے زیادہ مضرِ قوم ہے اور کیوں نہ ہو ایسے لوگ زبان و علوم سے بے بہرہ رہ کر نقل و کمالات یورپ کی راہ کے خضر اپنے آپ کو بتاتے ہیں۔‘‘ (صفحہ 366 ۔ 365)

بقول اکبر
دوستوں نے انہی حضرت کو خضرِ سمجھا ہے
ان کی چالیں تو لیے جاتی ہیں اعداء کی طرف

غالباً مندر جہ بالا حقائق کے بعد یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ سر سیّد کو ان کے ہمعصر زمانہ بھی جس میں اس زمانے کے جدید اہلِ فکر بھی شامل تھے۔ جس نظر سے دیکھ رہے تھے اور سر سیّد کی تحریک جس بناء پر کامیابی سے ہمکنار ہوئی اس کا بنیادی نکتہ ایک ہی تھا اور وہ یہ ہے

زبانی کہتے ہیں سب کچھ مگر حقیقت میں
وہ صرف قوّتِ فرمانروا کو مانتے ہیں

اور یہ خیالات دیوبند، لکھنٔو، بریلی اور پنجاب کے غریب ’’ملائوں‘‘ کے نہیں یا بقول سر سید اور ان کے جدید مفسرین دینی مدارس اور اداروں کے ’’قل اعوذیوں‘‘ کے نہیں بلکہ سر سیّد کے عہد کی ان ممتاز شخصیتوں کے تھے جن سے اس وقت کی جدیدفکر اور جدید شعور عبارت تھا۔ دراصل سر سیّد کی فکر بھی خالص علماء کی فکر کی طرح منفی فکر تھی۔ جس طرح علماء جدید فکر، جدید علوم اور سائنسی ترقی سے اپنی قوم کو محروم رکھنا چاہتے تھے اسی طرح سر سید اس کے بر خلاف انگریزی حکومت کی غلامی اور مغرب کی نقّالی پر اپنا سب کچھ اور خصوصیت سے مذہب کو قربان کر دینا چاہتے تھے۔ ان دونوں انتہا پسندانہ رویوں کے درمیان ہمیں ایک متوازن، محبِ وطن، خوددار اور باغیرت قوم کے ایسے سوچنے والوں کا طبقہ ملتا ہے جس کی نظر میں تعلیم کے معنی نہ ذہنی غلامی تھے اور نہ جہالت بلکہ وہ اس کو ایک قوم کی ترقی اور آزادی کے لیے ایک آلہ کار سمجھتا تھا اور جانتا تھا کہ اپنے قومی ورثہ اور انفرادیت کے بغیر کوئی قوم صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتی، یہی وہ تعلیم تھی جس کو اس نے براہِ راست مغربی علوم اور مغربی فکر سے اخذ کیا تھا مگر آج کے نقال مدرّس اور ان کے پڑھائے ہوئے طالب علم صرف نصابی کتابوں میں لکھے ہوئے حروف کو ہی حرفِ آخر سمجھتے ہیں۔ اس لیے عرض ہے کہ وہ پہلے اپنے موضوع کا غیر جانبداری اور دیانتداری سے پورا مطالعہ کریں۔ یکطرفہ معلومات پر ایمان رکھنا ویسے بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے۔

دراصل سر سیّد کی فکر بھی خالص علماء کی فکر کی طرح منفی فکر تھی۔ جس طرح علماء جدید فکر، جدید علوم اور سائنسی ترقی سے اپنی قوم کو محروم رکھنا چاہتے تھے اسی طرح سر سید اس کے بر خلاف انگریزی حکومت کی غلامی اور مغرب کی نقّالی پر اپنا سب کچھ اور خصوصیت سے مذہب کو قربان کر دینا چاہتے تھے۔

اب صرف اتنی بات رہ جاتی ہے کہ آخر سر سیّد ہی کی طرزِ فکر کو غلبہ اور کامیابی کیوں حاصل ہوئی تو یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ اگر کسی نظریہ کی پشت پناہی کوئی صاحبِ اقتدار طبقہ یا حکومت کر رہی ہو تو اس کے مقابلے پر ایسے افراد کی کاوشیں جو حکومت کے مفاد کے خلاف اور اس کے مقاصد کے لیے مضر ہوں یقیناً کسمپرسی کے عالم میں سسک سسک کر دم توڑ دیتی ہیں۔

سر سید کو انگریزی حکومت جس لیے استعمال کر رہی تھی اس کا مقصد ذہنی غلامی کو ایک صاحبِ کردار اور جرات مند قوم میں اس طرح پیدا کرنا تھا کہ اس کی تمام انفرادی قوتیں مفلوج ہو کر رہ جائیں۔ اس لیے برٹش گورنمنٹ نے اس مہم میں ہر اس تحریک کی پشت پناہی کی جس کا مقصد حکومت سے مرعوبیت اور مغرب کی برتری ثابت کرنا ہو، اسی کے ساتھ علی گڑھ کالج اور یونیورسٹی کو نہ بھولیے جس نے اپنی قوم کو حکومتِ برطانیہ کے ان مقاصد کے لیے بڑی حد تک تیار کیا۔ اگر علی گڑھ یونیورسٹی سے تحریکِ آزادی کے چند بڑے نام بھی وابستہ ہیں تو یہ علی گڑھ کی کسی خوبی کا ثبوت نہیں، بلکہ یہ اس قوّت کا اظہار ہے جو باطنی طور پر سر سید تحریک کے خلاف پورے معاشرے میں جاری و ساری تھی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انگلیوں پر گنے ہوئے چند ناموں کے علاوہ علی گڑھ یونیورسٹی کے تیار کیے ہوئے ننانوے فیصد ذہن آخر حکومت کی ملازمت اور محض کلرکی کے کام ہی آئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی کامیابی کے اس نتیجہ کو دیکھ کر آج پاکستان میں بھی سر سیّد فکر کے ایک جدید مفسر مسٹر غلام احمد پرویز کی تعلیمات کےلیے سنا ہے کہ ایسی ہی یونیورسٹی کی اسکیم زیر غور ہے۔

اگرچہ پولی ٹیکل بحث میں ہوئے ہیں شریک
جناب پنڈت جے چند و بابو آشو توش
مگر ہمیں تو ہیں بالکل سکوت اس مَد میں
سمجھا گئے ہیں یہ مضمون سیّدِ ذی ہوش
رموزِ مملکتِ خویش خسرداں دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش

ختم شد

حصہ اول کے لیے اس لنک پر کلک کریں
حصہ دوئم کے لیے اس لنک پر کلک کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: