سرسید احمد خان: ایک پرانا سوال نیا مسئلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ شمیم احمد (حصہ دوم)

0
  • 26
    Shares

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔ ظریفانہ شاعری ہر چیز اور خیال میں ایک تضاد اور کمزوری کو ڈھونڈ کر اس کے سقیم پہلو کو نمایاں کرتی ہے اور اس کی مضحکہ خیزی پر قہقہہ لگواتی ہے۔ یہ کمزوری عموماً انسان اور فطرت کی کسی فطری خامی کا مظہر ہوتی ہے۔ ظریفانہ شاعری اپنے اور غیر دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔ کیونکہ اس میں کائنات، قدرت، فطرت، عقل، جسم اور معاشرہ کا کوئی ایسا پہلو نمایاں ہوتا ہے جس میں کوئی خامی یا نقص فطری طور پر پایا جاتا ہے۔ مگر طنزیہ شاعری زاویۂ نظر سے پیدا ہوتی ہے۔ جو ظریفانہ اسلوب میں کسی چیز کو ایک مخصوص زاویہ نظر سے پیش کر کے اس کے تضاد خامی، برائی یا مضحکہ خیزی کو واضح کرتی ہے۔ یہی طنزیہ شاعری اصلاحِ معاشرہ کا بھی مفید کام انجام دے سکتی ہے۔ ظاہر ہے ہر ظراف نگار کا کام طنز نہیں ہوتا جبکہ ہر طنز نگار کے لیے ظرافت کی کسی نہ کسی مقدار کا ہونا ضروری ہے ورنہ وہ سیدھی سیدھی تضحیک یا تبلیغ بن سکتی ہے۔ جیسے مولوی نذیر احمد نے ابن الوقت میں سر سید کی طرز فکر کا خاکہ اُڑانے کی جو علامتی کوشش کی ہے وہ اس لیے ناکام ہو گئی کہ ظرافت کا عنصر کافی نہ ہونے کے باعث ابن الوقت کا کردار محض ایک ٹائپ بن جاتا ہے اور اس کا تضاد حجتہ الاسلام محض ایک مبلغ۔ طنزیہ شاعری کے لیے اہلیت اور زاویہ نظر کی گہرائی بہت ضروری ہوتی ہے۔

اکبر نے سر سید کی مضحک شخصیت کی تعمیر میں ان کے صرف ذاتی کردار اور وقتی پہلوئوں کے منفی رویہ کو نہیں پیش کیا ہے بلکہ انہیں سر سید اس لیے مضحک نظر آتے ہیں کہ وہ ایسے نظامِ فکر کے نمائندے ہیں جسے اکبر خام، سطحی اور تضادات سے پُر دیکھتے ہیں۔ یہاں اکبر کی شاعری ردِ عمل کی شاعری نہیں رہتی بلکہ اتنی قوت سے اپنی مثبت فکر کے ہتھیاروں سے سر سید پر حملہ آور ہوتے ہیں کہ سر سید اور ان کی جدید فکر ان کے سامنے خود سکڑنے کا عمل کرنے لگتی ہے۔

عام طور پر معمولی طنز نگار وہ ہوتا ہے جو کسی چیز کو اپنے نقطۂ نظر سے بُرا سمجھتا ہے لیکن یہ برائی پیش کرتے وقت اس کا زاویۂ نظر نمایاں نہیں ہوتا۔ اس کے طنز کا ہدف عموماً ہم عصر حقائق، واقعات اور شخصیات ہوتی ہیں۔ اس صورت میں اگر اس کے طنز کا رخ ماضی یا قدیم کی طرف ہے تو وہ ایک سفاک رویہ کا اظہار کرتا ہے جس میں ظرافت شگفتگی کھو کر زہریلی ہو جاتی ہے اور وہ بغیر زاویۂ نظر اُبھارے، اسے ایک قاتل کی طرح نشانہ بنا لیتا ہے اور اگر اس کا رُخ جدید کی طرف ہوتا ہے تو وہ اس کی مضحکہ خیزی پر اتنے اوچھے انداز میں روشنی ڈالتا ہے کہ اس کے اندازِ نظر کی گہرائی یا رُخ کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ ایسا طنز عموماً جدید کے سامنے چونکہ خود سکڑتا نظر آتا ہے اس لیے اس کا وار کاری نہیں ہوتا۔ البتہ وہ ایک سطحی اور اوپری اندازِ فکر کو پیش کرتا رہتا ہے۔ جس کی مدد سے جدیدیت کا کوئی کمزور اور ظریف رخ معاً علامت بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ ان دونوں اقسام کی شاعری اردو میں اکثر مل جاتی ہے۔ جوش ملیح آبادی، ظریف لکھنوی، مجید لاہوری، ظریف جبلپوری اور سید محمد جعفری تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ایک ہی کام کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ اپنے موضوع کا منفی پہلو اس طرح نمایاں کر دیں کہ وہ مضحکہ خیز نظر آنے لگے۔ یہ زاویۂ نظر خود کسی حد تک منفی ہو جاتا ہے لیکن اس سے بلند طنزیہ سطح وہ ہوتی ہے جب ایک زاویۂ نظر واضح ہو کر اپنے موضوع کے نتائج کو مضحک علامتوں، حقائق اور صورتوں میں پیش کرتا ہے۔ یہاں اس کا رویہ بظاہر منفی نظر آتا ہے مگر وہ جس چیز کو اپنا نشانہ بنا رہا ہے اس سے یہ ایک نتیجہ نکلتا ہے اور یہ نتیجہ خود زاویۂ نظر بن کر طنز نگار کے مقصد کو وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے اور پڑھنے والے کی نظر پر اس طنز کے عواقب کھل جاتے ہیں۔

ایسا طنز سودا کے یہاں بھی نظر آتا ہے اور سرشار نے تو اسے حد کمال کو پہنچا دیا ہے۔ خوجی ’’قدیم‘‘ کی وہ مضحکہ خیز شکل ہے جو پوری کائنات کو صرف اپنی خیالی اور تصوراتی سطح پر دیکھتا ہے۔ یہاں منفی نقطۂ نظر اثبات کا انداز پیدا کرتا ہے۔ طنز کی یہ سطح اردو میں بڑے ناموں کو پیدا کر سکی ہے۔ اس میں مولانا ظفر علی خاں کی سیاسی علامتوں سے لے کر فرحت اللہ بیگ، پطرس، رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی تک سب آ جاتے ہیں لیکن اکبر الہ آبادی کی شاعری ان دونوں اقسام میں کسی جگہ بھی نہیں رکھی جا سکتی۔ جبکہ اب تک ان کو دوسرے قسم کے طنزیہ ادب میں بہت فخر کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے۔ حالانکہ اکبر الہ آبادی کی طنزیہ شاعری اس لیے اس سطح سے بلند تر ہو جاتی ہے کہ ان کا زاویۂ نظر صرف ذاتی نظریہ سے نہیں اُبھرا ہے۔ بلکہ وہ ایک مکمل نظامِ فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ نظامِ فکر شاعر کے تخلیقی عمل میں اتنا کامل اور مثبت ہے کہ اس سطح پر سر سید جیسے مفکر اپنی فکری سطح پر بہت ہی خام اور ناقص نظر آتے ہیں۔ اکبر نے سر سید کی مضحک شخصیت کی تعمیر میں ان کے صرف ذاتی کردار اور وقتی پہلوئوں کے منفی رویہ کو نہیں پیش کیا ہے بلکہ انہیں سر سید اس لیے مضحک نظر آتے ہیں کہ وہ ایسے نظامِ فکر کے نمائندے ہیں جسے اکبر خام، سطحی اور تضادات سے پُر دیکھتے ہیں۔ یہاں اکبر کی شاعری ردِ عمل کی شاعری نہیں رہتی بلکہ اتنی قوت سے اپنی مثبت فکر کے ہتھیاروں سے سر سید پر حملہ آور ہوتے ہیں کہ سر سید اور ان کی جدید فکر ان کے سامنے خود سکڑنے کا عمل کرنے لگتی ہے۔ یہ چند اشعار دیکھیے جن میں صرف و محض ظرافت اور طنز ہی نہیں بلکہ ایک کامل نظام فکر کا اثبات ملتا ہے اور یہی قوت اور نظامِ فکر سر سید کے مقابلہ پر اکبر کے زاویۂ نظر کو مثبت اور کاری بنا دیتا ہے۔

ہے کامہ ہی کامہ جو پڑھے دھر کا نام
جُزِ مرگ کہیں اس میں فل اسٹاپ نہیں ہے
نئی نئی لگ رہی ہیں آنچیں یہ قوم بیگس پگھل رہی ہے
نہ مشرقی ہے نہ مغربی ہے عجیب سانچے میں ڈھل رہی ہے
مچھلی نے ڈھیل پائی لقمے پہ شاد ہے
صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی
شیخ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے
دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے
مرید دھر ہوئے وضع مغربی کر لی
نئے جنم کی تمنّا میں خود کشی کر لی
میں نے مانا کہ کلیں تیز چلی ہیں لیکن
آپ شہتیر نہیں ہیں کہ چرے جاتے ہیں
پرانی روشنی میں اور نئی میں فرق اتنا ہے
اُسے کشتی نہیں ملتی اسے ساحل نہیں ملتا
مشرقی تو سرِ دشمن کو کچل دیتے ہیں
مغربی اس کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں
سیکھ لو بدلی سے تم طرز عمل اے عاملو
جو سمندر سے لیا تھا ہم پر برسا ہی گئی
کچھ خاک میں ملیں گے تو کچھ ہوں گے جز و غیر
یہ مسئلہ صحیح ہے گو دل خراش ہے
تجربہ خود بنے گا واعظِ دیں
لیک بعد از خرابیٔ بسیار
گرچہ رک سکتی نہیں یہ نقلِ وضعِ مغربی
پھر بھی کامل طور پر ممکن نہیں ہم قالبی
اور بھی دورِ فلک ہیں ابھی آنے والے
ناز اتنا نہ کریں ہم کو مٹانے والے
متحد احساس سے ہم کو معرّا کر دیا
ٹکڑوں کو ریزے کیے ریزوں کو ذرّہ کر دیا
ذرّہ ہائے خاک کس ترکیب سے جکڑے گئے
جینے مرنے کے تماشے کے لیے پکڑے گئے

یہ اور اسی قسم کے سینکڑوں اشعار اکبر کی شاعری سے پکار پکار کر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اس زاویۂ نظر کے پیچھے ایک مبسوط نظامِ فکر ہے۔ ایک مثبت رویہ ہے جس کے معیار پر سر سید اور ان کی تحریک مضحک سے مضحک تر نظر آتی چلی جاتی ہے۔ ان کے کلام میں سر سید کی مضحک شکل و صورت جس نظامِ فکر کی علامت بن کر آتی ہے وہ اکبر کے زاویۂ نظر سے خواہ کتنی بھی جدید ہو مگر اس کے منفی ہونے میں ان کو پوری طرح یقینِ کامل ہے۔ یہ منفی اثرات کن کن چیزوں سے مل کر بنے ہیں، ان کا اندازہ کلامِ اکبر کا پورا اور گہرا مطالعہ کرنے سے ہو سکتا ہے۔ یہاں چند اشعار ملا حظہ کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔

واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مُرشد نے
کر دیا کعبہ کو گم اور کلیسا نہ ملا
رنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائم
رنگ باطن میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا
عشق و مذہب میں دو رنگی ہو گئی
دین و دل میں خانہ جنگی ہو گئی
کر گئے تھے حضرت سید عقیدوں کو درست
چرخ نے رسموں کا بھی آخر صفایا کر دیا
کہے کوئی شیخ سے یہ جا کر کہ دیکھیے آ کے بزمِ سید
اگر یہ رونق چہل پہل ہو تو کیا بُرا ہے گناہ کرنا
ہم ہوں جو کلکٹر تو وہ ہو جائیں کمشنر
ہم ان سے کبھی عہدہ براء ہو نہیں سکتے
فسردگی ہوئی پیدا اس انتشار کے بعد
ہزار حیف کہ فالج گرا بخار کے بعد
شیخ مائل ہوئے ہیں ساغر و مینا کی طرف
برکتیں لائیں گی، نشہ کی کلیسا کی طرف
کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک
سمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تک
کچھ صنعت و حرفت پہ بھی لازم ہے توجہ
آخر یہ گورنمنٹ سے تنخواہ کہاں تک

نظر ان کی رہی کالج میں بس علمی زوائد پر
گرا لیں چپکے چپکے بجلیاں دینی عقائد پر

اب تک تو کوئی بہتری ظاہر نہ ہوئی
گزرے جاتے ہیں ہم پہ سال و مہ و یوم
شاید یہ کہ یہی ترقیٔ قومی ہے
ہر شخص بجائے خود بنا ہے ایک قوم

اوروں کی کہی ہوئی جو دہراتے ہیں
وہ فونو گراف کی طرح گاتے ہیں
خود سوچ کے حسبِ حال مضمون نکال
انسان یونہی ترقیاں پاتے ہیں

رغبت جو دلائی وسعتِ مشرب کی
شامل اس میں غرض ہے بیشک سب کی
لیکن تبدیلِ وضع و نقلِ فاتح
ہے بعض کی بات او اپنے ہی مطلب کی

چیخے، چلّائے، کودے، اُچھلے، ٹہلے
ہر پھر کے وہیں رہے جہاں تھے پہلے
بار بار آتا ہے اکبر میرے دل میں یہ خیال
حضرتِ سید سے جا کے عرض کرتا کوئی کاش
درمیان قعرِ دریا تختہ بندم کردہ
باز می گوئی کہ دامن ترمکن ہشیارِ باش
ہر قدم ان کا شہیدِ لغزشِ مستانہ تھا
سر میں تھا سیّد کے قرآں زیر پا میخانہ تھا

سر سیّد کو فلک نے تننے نہ دیا
تہذیب کو پھر دوبارہ جننے نہ دیا
ملّت کی شکست میں مدد دی کامل
بننے لگی جب قوم تو بننے نہ دیا

یہاں اکبر الہ آبادی ایک ایسے طنز نگار نہیں رہ جاتے جو منفی اندازِ نظر سے اپنے ہدف کو دیکھ رہا ہو، بلکہ اسے اتنا کاری وار جو قوت بنا رہی ہے وہ دراصل ایک مثبت راویۂ نظر کا ارتکاز ہے جو شاعر کے زاویۂ نظر کو فریقِ ثانی کے زاویۂ نظر پر فوقیت دیتا ہے اور اس اعتبار سے اگر ہم سر سیّد اور حالی کی تحریر کو دیکھیں تو وہ اکبر کے رویّہ کے بالکل برخلاف اتنی ملّائیت اور رقت لیے ہوئے ہے کہ اس کے اثبات میں خود شک و شبہ ہونے لگتا ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہے کہ اب تک سر سید کے مخالفوں کو قدیم کی طرف لوٹنے کا داعی بتایا گیا ہے اور تمام ترقی پسند نقادوں نے ان کی تحریروں پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا ہے کہ وہ قوم کو ماضی کے شاندار کارناموں سے بہلانے اور تسکین کا سامان کر رہے تھے مگر بغیر پڑھے ہوئے اگر کوئی بددیانت شخص یہ بات کہتا تو مجھے حیرت نہ ہوتی۔ مگر ان حضرات پر ضرور تعجّب ہے، جنہوں نے ایک سفید جُھوٹ بولا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کے ترانے سُنا کر قوم کو بہلانے والے اور انہیں احساسِ کمتری میں مبتلا کر دینے والے خود سر سیّد اور حالی کی طرز فکر کے حامی تھے۔ ان کے وہ مخالفین جن پر تبرّا بھیجنا ہر مدرّس کا فرض ہو گیا ہے۔ انہوں نے ماضی کی طرف لوٹنے کے اس منفی رویّہ کی کبھی تائید نہیں کی۔ حتّی کہ اکبر نے بھی نہیں کی جس کا اندازہ آپ کو ان چند اشعار سے ہو سکتا ہے۔

نہیں ہاتھ آتی دولت نام رٹنے سے بزرگوں کے
ہجا سے جد کے ترکیب زبر جد ہو نہیں سکتی

اے جدّ بزرگ کے نواسو پوتو
تزئین کو تہہ کرو زمینیں جو تو
کیا رٹتے ہو اپنی ہسٹری کو ہر وقت
اللہ مدد کرے گا ویسے ہو تو

اعلیٰ مقصود چاہیے پیشِ نظر
کوششِ تری ہو گو لطف ذاتی کے لیے
فرہاد پہاڑ پر عمل کرتا تھا
شیریں کے لیے کہ ناشپاتی کے لیے

ادراک نے آنکھیں شبِ اوہام میں کھولیں
واقف نہ ہوا روشنی صبحِ ازل سے
نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے
مگر یونہی کہ گویا آبِ زمزم مئے میں داخل ہے
ایمان بیچنے پہ ہیں اب سب تُلے ہوئے
لیکن خرید ہو جو علی گڑھ کے بھائو سے
سیّد کی روشنی کو اللہ رکھے قائم
بتّی بہت ہے موٹی روغن بہت ہی کم ہے
قلعی بھی ریاکار کی کھلتی رہے اکبر
طعنوں سے مگر طرز مہذب سبھی نہ چھوڑے

اور ذرا یہ پرتیقن لہجہ دیکھیے

آپ ناحق پہ اور ہم حق پر
آپ سے ہم کبھی نہ ہاریں گے

غالباً اب ہمیں اپنی بحث کی طرف لوٹنا چاہیے۔ یہ تو بہر حال طے ہے کہ اکبر کا نقطۂ نظر منفی اور کم فہمی کا ہرگز نہیں تھا اور اکبر اس طبقے کے نمائندے کسی طرح بھی نہیں تھے جو ہر جدید چیز کو حرام قرار دیتا ہے اور جس نے اسی لیے سر سیّد پر کفر کے فتوے لگائے تھے۔ اکبر اس متوازن صاحب الرائے، خود دار اور حریتِ فکر کے حامل طبقے کے سب سے بڑے نمائندے شاعر تھے جو جدید کو اس کی خوبیوں کے لیے قبول کرنا چاہتا تھا اور اپنے منفرد کردار، طرز احساس اور زاویۂ نظر کو برقرار رکھتا چاہتا تھا اور ان خامیوں سے حذر چاہتا تھا جو قوم کو احساسِ کمتری کا شکار بنا کر غُلامانہ ذہنیت میں مبتلا اور مستقبل سے مایوس کر دے اور وہ صرف حکمران طبقے کا ایک نقّال محض بن کر رہ جائے۔ اس سلسلہ میں اکبر کا شعور اتنا ترقی یافتہ اور بالغ تھا اور ان کی فکر اتنی صحیح تھی کہ انہوں نے انگریزی حکومت کی پوری ذہنیت، اس کی سیاست کے فریب، اس کے تعلیمی منصوبوں کے اغراض و مقاصد اور معاشرتی عوامل کو اس وقت بھانپ لیا تھا جب تحریکِ آزادی کو پیدا ہونے میں بھی پچیس سال درکار تھے، لیکن انہوں نے سائنسی ترقی یا مغربی فکر کی قوتوں سے انکار ایک لمحے کے لیے نہیں کیا۔

شیخ درگور قوم دَر کالج
رنگ ہے دور آسمانی کا
انجن آیا نکل گیا زن سے
سن لیا نام آگ پانی کا
بات اتنی اور اس پہ یہ طومار
غل ہے یورپ کی جانفشانی کا
علم پورا ہمیں سکھائیں اگر
تب کریں شکر مہربانی کا

حاصل کرو علم طبع کو تیز کرو
باتیں جو بُری ہیں ان سے پرہیز کرو
قومی عزّت ہے نیکیوں سے اکبر
اس میں کیا ہے نقلِ انگریز کرو

تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروف
نیچر کی طاقتوں کو جو کر دیں مکشوف
لیکن تم سے امید کیا ہو کہ تمہیں
عہدہ مطلوب ہے وطن ہے مالوف

مخلوط کرو نہ نفس و نیچر کو بہم
گو نفس نے بھی لیا ہے نیچر سے جنم
جو بھوک لگے زباں کو وہ ٹھیک نہیں
نافع وہ طعام ہے کہ طالب ہو شکم

لامذہبی سے ہو نہیں سکتی فلاحِ قوم
ہر گزر گزر سکیں گے نہ ان منزلوں سے آپ
کعبہ سے بُت نکال دیے تھے رسولﷺ نے
اللہ کو نکال رہے ہیں دلوں سے آپ

لاکھوں کو مٹا کر جو ہزاروں کو ابھارے
اس کو تو میں دنیا کی ترقی نہ کہوں گا
جس روشنی میں لوٹ ہی کو آپ کو سوجھے
تہذیب کی میں اُس کو تجلّی نہ کہوں گا

علم اگر ہوتا زیادہ اور ہوتی حرص کم
صلح رہتی بیشتر لوگوں میں کم ہوتی نزع

کہا جو اس نے کہ اب میں پھروں گا بے پردا
منہ اس کا دیکھ کے بس رہ گئے نقاب فروش

اور کچھ اس کے سوا کر نہیں سکتے ناصح
بس چلی جاتی ہے تعلیم کی تاکید ہنوز
کس قدر حار تھے سید کے وہ اجزائے ریفارم
علماء دے رہے ہیں قوم کو تبرید ہنوز
دل تو مدّت سے تھا خاک درِ دیرائے اکبر
ہاں زباں پر ہے مگر کفر کی تردید ہنوز

مغربی رنگ و روش پر کیوں نہ آئیں اب قلوب
قوم ان کے ہاتھ میں تعلیم ان کے ہاتھ میں

بُھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کو
بس خدا سمجھا ہے اُس نے برق کو اور بھاپ کو
برق گر جائے گی ایک دن اور اُڑ جائے گی بھاپ
دیکھنا اکبر بچائے رکھنا اپنے آپ کو

مذہب کی کہوں تو دل لگی میں اُڑ جائے
مطلب کی کہوں تو پالیسی میں اُڑ جائے
باقی سرِ قوم میں ابھی ہے کچھ ہوش
غالب ہے کہ یہ بھی اس صدی میں اُڑ جائے
حصہ اول کے لیے اس لنک پر کلک کریں
حصہ سوئم کے لیے اس لنک پر کلک کریں

اگر مندر جہ ذیل اشعار کو آپ نے غور سے پڑھا ہے تو آپ کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اکبر عام خیال کے مطابق کوئی جذباتی اور خام فکر کے آدمی نہیں تھے۔ ان کی نظر، معاشرے کے بنیادی محرکات اور مسلمان قوم کے تمام معاشی، سیاسی اور معاشرتی اسباب پر بڑی گہری تھی۔ وہ سر سید جیسے ’’مصلح‘‘ اور انگریز پرستوں کے بقول ایسے ’’حقیقت پسند‘‘ نہیں تھے جو کشمیری ھاتوئوں کی حالتِ زار اور کشمیری مسلمانوں کی غربت و افلاس کو جاننے کے باوجود انہیں یہ تلقین کرنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرتے ہوں کہ وہ لندن جیسے ہندسی طریقے سے آتش دان بنا کر کیوں نہیں رہتے اور کیوں اپنے گورے گورے سینوں کو کانگڑیوں کے استعمال سے داغ دار کر لیتے ہیں۔ اللہ اکبر! مسلمان قوم کے اس مصلح لیڈر اور ہونے والے ’’پیغمبر‘‘ کو دیکھیے جو مسلمانوں کے مارٹن لوتھر بننے کی خواہش رکھتے تھے، انکی ذرا اپنی قوم کی حالت سے ناواقفیت اور اس کے زوال کے شعور کا اندازہ تو کیجیے۔ اس کے برخلاف اکبر کی نظر انگریزوں کے پورے استحصالی نظام اور برصغیر کو لوٹ کر لیجانے اور خصوصیت سے مسلمانوں کے پیشہ ور طبقات کو پامال کرنے والوں پر کتنی گہری تھی۔ جو محض چند اشعار میں اندھوں کو بھی نظر آ سکتی ہے۔ ذرا اس شعر کے طنز اور عواقب پر ہی کچھ غور کر لیا کیجیے

کہا جو اس نے کہ اب میں پھرونگا بے پردہ
منہ اس کا دیکھ کے بس رہ گئے نقاب فروش

یہ کوئی بے پردگی کے خلاف وعظ نہیں ہے بلکہ یہ وہ نظر ہے جس کی بنا پر گاندھی نے وہ مشہور جملہ بہت بعد میں کہا تھا جو تاریخِ آزادی کا سب سے موثر احتجاج بنا کہ ایسی ہڑتال کی جائے گی کہ مانچسٹر کے سارے کارخانے بند ہو جائیں گے۔


جاری ہے۔۔۔۔۔ اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔
اس مضمون کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: