عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عمیر

0
  • 4
    Shares

عورت معاشرے کی پہچان کے نام سے ایک پروگرام میں بطور فوٹو گرافر شرکت ہوئی انتہائی شائستہ پرخلوص اور باآدب مرد و خواتین سے آراستہ یہ پروگرام اپنی مثل آپ تها، فخر پاکستان قابل تعریف اور تمغہ امتیاز حاصل کیے ہوئے ڈاکٹر دردانہ آپا اپنی ضعیف العمری کے باعث پروگرام میں شریک ہوئی اور اپنی قیمتی باتوں سے نوجوان نسل کو خوب مستفید کیا۔ ایک بہترین بات جو مجھے انتہائی گراں لگی جو انہوں نے خاص کر لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میری اسکارف اور برقع پہنے پیاری بیٹیوں یہ برقع یہ اسکارف کبھی ڈر سے نہ پہننا ہمیشہ محبت اور شوق سے اسے پہننا، اس قیمتی بات کو اگر لڑکیاں اپنے پلو سے باندھ لیں تو شاید کبهی رسوائی کا سامنا نہ ہو

پروگرام میں کچھ مقرر لڑکیوں نے ایسی صریح غلطیاں کی جس پر یہی کہوں گا انسان خطا کا پتلا ہے بہت سی عورتوں کو سنا جن سے کافی حد تک اتفاق بهی کرتا ہوں اور اختلاف بهی کیونکہ جہان اختلاف ہوگا وہی کچھ سیکھنے کو ملے گا اور پروگرام عورت معاشرے کی پہچان کے نام سے منسوب تها اس زمن میں معاشرہ مشرقی ہونا قدر ضروری ہے، مغرب نے عورت کو یہ کہہ کر گمراہ کر دیا کہ وہ آزادی کا حق رکهتی ہے اور مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے یہ محض ایک نعرے کی حد تک محدود رہا اور رہے گا –

جن گروئوں نے یہ نعرہ لگایا وہ خود عورت کو ہر جگہ اپنے ماتحت ہی رکهتا تها اور رکهتا ہے اور مسلمانوں کو اس کشمش میں لاکر کهڑا کردیا عورت مرد کے برابر ہے ایسی بہت سی مثالیں موجود ہے جن کو بیان کروں تو حقائق آپکی آنکھیں کھول دیں گے۔ ایک ادنٰی سی مثال لیجیے کہ وہ مغرب جو عورت عورت کرتا ہے وہ عورت کے جو حقوق ادا کرتا ہے اسے ایک دفتری ملازمہ عورت نے امریکہ میں دورہ سفر پر ایک بزرگ کے بیان میں یہ کہتے ہوئے غمزدہ کیا کہ آپ صرف ٹیلیفون کر کے یہ پوچھ لیا کرے کہ کیسی ہو میں جب تھوڑی عمر کو پہنچی تو مجھے دفتر سے یہ کہہ کر نکال دیا گیا کہ کسی کام کی نہیں اور میرے بچوں میرے رشتہ داروں سب نے مجھ سے ناطے توڑ دیئے یہ رہا مغرب کا عورت کے لیے فروغ جسے وہ یہ کہہ کر ابھارتا ہے عورت آزاد ہے –

جہاں اسلامی معاشرے میں عورت کے حقوق کی بات کی جائے تو وہاں عورت کے ساتھ پردے کو بهی لازم سمجها جائے کیونکہ ایک اسلامی معاشرہ عورت کے جو بنیادی حقوق بتاتا ہے شاید ہی کوئی دوسرا معاشرہ ایسے بنیادی حقوق بتاتا ہو کیونکہ پردہ ہی عورت کا اصل زیور ہے جو اسے حسن بخشتا ہے –

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا سب سے بڑا فتنہ عورت اور مال ہے، اگر حالات دنیا پر محض طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ کہیں بھی کتنا بھی کیسا بھی گناہ ہو رہا ہو اسکا باعث بالواسطہ یا بلاواسطہ یہی دو عناصر ہیں-

ہمارا معاشرہ ایک اسلامی ریاست پر مبنی ہے لہٰذا مشرقی عورت کے ساتھ پردہ ہی اچھا لگتا ہے اور پردے میں اسکی ترقی اسے زیب دیتی ہے پروگرام میں سوال سیشن نہ ہونے کی وجہ سے مقررین سے سوال نہ کر سکا البتہ اشکالات وہ شبہات تھے وہ یہاں ضرور عرض کروں گا اس حقیقت کو آپ کڑوے گھونٹ سمجھ کر ہی پی لیجیے گا کیونکہ ان حقائق سے آپ بهی آشنا ہے کیونکہ یہی رائٹ والوں کا نظریہ ہے، عورت کا تصور اور حقیقت میری نگاہ عاجز میں بس یہی ہے –

عورت ایک ایسا لفظ ہے جسے سنتے ہی اذہان کے مطابق مختلف خیالات وارد ہوتے ہیں۔

کچھ کے مطابق یہ تصویر کائنات کے رنگوں کی وجہ ہے تو کچھ لوگوں کے مطابق سارا فساد ہی اس عورت کے باعث برپا ہے۔

ہر کسی کی اپنی سوچ ہے جس کے مطابق وہ عورت کو پرکھتا ہے۔

بلا شک و شبہ عورت ہی سے تصویر کائنات میں رنگ ہے مگر یہ بھی بعینہ سچ ہے کہ تصویر کائنات میں گند بھی اسی ذات کی وجہ سے ہے۔

عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے پاکیزہ رشتوں کا نام بھی ہے مگر عورت طوائف اور وحشہ جیسی گالی بھی ہے۔

عورت ٹھیک چلے تو ایک قوم کی معمار ہے کہ قوم کے مستقبل کی پہلی درسگاہ ہے، مگر یہی عورت اگر بگاڑ پیدا کرنے پہ آئے تو پوری کی پوری اقوام کا تخت بھی الٹ سکتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ عورت کی کارستانیوں نے اقوام کی تقدیر میں رنج و غم کے نہ ختم ہونے والے ادوار لکھے ہیں. کتنی ہی نسلیں عورت کے جوش انتقام کی بھینٹ چڑھیں، کتنی ہی آباد بستیاں عورت کے مکر و فریب سے ویرانوں میں تبدیل ہوئیں، کتنی ہی خوبرو جوان عورت کے مکر و فریب سے تلوار کی دھار کے نیچے آئے۔

الغرض عورت ایک ایسی ذات ہے جسے سمجھنا ہمارے ذہن کے مطابق تو تقریباً محال ہے کہ “پل میں ماشہ پل میں تولہ” کی مانند یوں رنگ بدلتی ہے کہ بندہ سوچتا رہتا ہے کہ کیا ہوا۔

خیر میرا مشورہ مانیے تو عورت کو عورت یعنی پردے میں ہی رکھیے کہ یہ پیاز کی طرح اتنی پرتوں پر مشتمل ہے کہ جتنی پرتیں اتارو گے اتنے ہی آنکھیں آنسوؤں سے بھرتی جائیں گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: