بچوں میں گاہے برپا ہوتی لڑائیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے نمٹا جائے؟ ہمایوں مجاہد تارڑ

0
  • 23
    Shares

بڑوں کی طرح، بچے بھی جہاں مل بیٹھیں اُن میں اختلافات کا پیدا ہوجانا فطری بات ہے۔ بروقت حل نہ نکالا جائے تو کوئی اختلاف جھگڑے کی صورت اختیار کر لے گا۔ ایسی لڑائیوں میں مختلف عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جیسے ــمزاج، ماحول، عمر، مسابقت اور دیگر سماجی رویے۔۔ آئیں دیکھتے ہیں، ایسی لڑائیاں کب اور کیسے آغاز ہوتی ہیں۔

بچوں میں لڑائیاں کب اور کیسے آغاز ہوتی ہیں؟
بچوں کے درمیان اختلافات،کسی بھی گھر میں، بچوں کے پروان چڑھنے کے عمل کا لازمی حصہ ہیں۔ بلکہ اختلافات اور مسائل ہی اُن کی شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں. لڑائی تب شروع ہوتی ہے جب کوئی اختلاف شدت اختیار کر لے۔ نتیجتاً وہ ایک دوسرے پر چیخنا چلانا شروع کردیتے ہیں، حتٰی کہ ہِٹ کرنے تک نوبت جا سکتی ہے۔ اکثر لڑائیاں اِس وجہ سے آغاز ہوتی ہیں کہ بچے اپنے حق میں ناانصافی ہوتے دیکھتے ہیں۔ یا کسی ایسی بات پر اصرار جسے وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔

بعض اوقات بچے اِس وجہ سے بھی لڑ پڑتے ہیں کہ وہ ایک ہی صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک بڑا بچہ چھوٹے بچے کو تنگ کرنے میں اپنے لیے تفریح پاتا ہے، جبکہ چھوٹے بچے کو وہ بات سخت ناگوار گزر رہی ہوتی ہے۔
پھر، کئی دفعہ بہن بھائی اس بات پر بھی لڑ پڑتے ہیں کہ ہر ایک کو والدین کی زیادہ تر توجہ یا کسی معاملہ میں اُن کی طرفداری مطلوب ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کی عمریں ایکدوسرے سے جسقدر قریب ہوں گی، اسی قدر اُن میں لڑائیاں بھی زیادہ ہوں گی۔

خود ہمارے اپنے گھر میں ٹی وی کے ریموٹ پر اکثر لڑائی ہو جاتی ہے۔ عرزم، بیٹے، کو کرکٹ میچ دیکھنا ہے تو مِشا، بیٹی، کو انگلش فلم یا کارٹون میں دلچسپی ہے۔ ایسی دلچسپی ایک ہی وقت بھڑک اٹھتی ہے حالانکہ دونوں کے پاس اپنی اپنی Tabموجود ہ ہے، اور یہ ٹیبز دلچسپ مواد سے پوری طرح لوڈڈ بھی ہیں۔

بچوں میں لڑائی سے متعلق ایک اچھی خبر
دوبارہ عرض کروں، مثبت سماجی رویوں کی تعمیر اِنہی اختلافات اور جھگڑوں کے پلیٹ فارم پر ہوتی ہے۔ وہ رویے جو آ گے چل کر بالغ عمر میں ان کے کام آئیں گے اور جن کے بل بوتے پر انہیں زندگی گزارنا ہے۔ یاد رہے، کوئی خلا رہ جانے کی صورت ان کی زندگیاں ناکام ہو جائیں گی۔ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی بڑے حادثوں کو جنم دیتی ہیں۔

بچوں کے درمیان گاہے بہ گاہے پیدا ہوتے اختلافات کو جب عمدگی سے نبٹا جائے گا، کچھ اس طورکہ انصاف بھی ہو، لیکن اُن میں سے کسی کے احساسات ہَرٹ بھی نہ ہوں تو بچے وہیں سے مسائل کو حل کرنے کی مہارت سیکھ لیں گے۔ ان میں بات کرنے کا سلیقہ راسخ ہو گا۔ وہ دوسرے شخص کے نقطہِ نظر کو اہمیت دینا، دوسرے کے احساسات اور حقوق کا احترام کرنا سیکھ لیں گے۔ دوسروں کی اشیا، ان کی دلچسپی، ان کی طبیعت اور مزاج کا خیال کیسے اور کیوں کرنا ہے، یہ سماجی رویے اِسی عمر سے اُن اندر تربیت پا جائیں گے۔

ماہرین ایسی مہارتوں کو سوشل سکِلز اور پرابلم سولوِنگ سکِلز کا نام دیتے ہیں۔
یہ وہ عمدہ عادات ہیں جو آپ کے بچے کو زندگی کے کسی میدان میں بھی ناکام ہونے سے محفوظ بنائیں گی ـــ خواہ وہ گھر میں رہتے ہوئے شریکِ حیات کیساتھ شادی شدہ زندگی کو خوشگوار بنائے رکھنے کا چیلنج ہو، یا گھر سے باہر نکل کر علم و ہنر کو آزماتے ہوئے اچھا کمانے کا معرکہ ہو، یا محلے داری کا میدان ہو جہاں لوگوں سے عمدہ تعلقات رکھنا اور اچھی شہرت، اچھا تاثر لیکر چلنا مقصود ہو۔
آپ دیکھیں گے، جوں جوں وہ بڑے ہوں گے، پروان چڑھیں گے، توں توں ان کے بیچ لڑائی جھگڑے کم ہوتے چلے جائیں گے۔

حل کیا ہے؟
آئیں اِس ضمن میں کچھ رہنما اصولوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

پہلا اصول: پہلے خود عملی نمونہ بنیں
یہ بات نوٹ کر رکھیں، بچہ اپنے ماں باپ کی زبان بولتا ہے۔ انہی کی عادات اپناتا، اور وہی کچھ بنتا ہے جو وہ گھر میں، اپنے قرب و جوار میں عملاً وقوع ہوتے دیکھتا ہے۔ یہ چڑچڑا پن، یہ کڑوے کسیلے اور تیکھے جملے، یہ عدمِ برداشت، یہ عجلت پسند ی، یہ کڑھنا اور شکایت کرنا، یہ غیر ذمہ دارانہ رویے، یہ منتشر شخصیت ــ یا ہنسنا و مسکرانا، اخلاق سے ملنا، ادب آداب برتنا، تحمل اور یکسوئی، احساسِ ذمہ داری وغیرہ سب اُنہی ماں باپ سے منتقل ہوا ہوتا ہے جن کی گود میں ایک بچہ آنکھ کھولتا، اور جن کی صحبت و نگرانی میں اپنی عمر کے ابتدائی مہ و سال پروان چڑھتا ہے۔ اِس لیے، اولین اصول یہی ہے کہ خود رول ماڈل بنیں۔ خود سے عہد کریں، اور سختی سے نبھائیں کہ:

1۔ آپ بچوں کے روبرو چیخنے چلّانے کی بجائے تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ کوئی قیمتی شے ٹوٹ جائے تو اِنا للہ پڑھیں گے، نہ کہ غصے سے بے قابو ہوئے پھریں۔

2۔ آپ بچوں پر ہاتھ نہ اٹھانے کی قسم کھا لیں۔ ہاتھ اٹھانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں کی غلطیاں معاف کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اس کے برعکس بچوں کو اعتماد دیں کہ وہ غلطیاں کر سکتے ہیں، اور ہر ہر غلطی سے انسان درست عمل کرنا سیکھتا ہے۔ غلطیاں ہی سیکھنے کا سب سے معتبر، اور تیز رفتار ذریعہ ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ کے بچے، تمام عمر، دوسروں کی غلطیاں معاف کرتے گزریں گے، نہ کہ اُن پر سیخ پا ہونے کا مظاہرہ کرتے، دوسروں پر گلا پھاڑتے ہوئے۔ ایسی متحمل مزاجی اُن کی پہچان بنی رہے گی اور نسلوں تک منتقل ہو گی۔

3۔ آپ بچوں کی پوری بات سن کر جواب دیں گے۔ بیچ میں جگہ جگہ مداخلت والا رویہ نہیں برتیں گے۔ نتیجتاً آپ کا بچہ بغیر کسی نصیحت اور لیکچر کے ہی سیکھ لے گا کہ گفتگو کے آداب کیا ہوتے ہیں۔

دوسرا اصول: پیش بندی
لڑائی یا جھگڑے کی نوبت آئے ہی کیوں؟ ایسی صورتحال پیدا ہونے سے قبل اسے راستے میں ہی روک دیں تا کہ انجامِ کار کسی کے احساسات ہَرٹ نہ ہوں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اختلاف پیدا ہوتے ہی دو میں سے ایک کی توجہ کسی اور جانب بٹا دی جائے۔

بچے ٹی وی ریموٹ پاس رکھنے پر ضد کرنے لگیں تو لڑائی تک نوبت پہنچنے سے پہلے ہی آپ ایک بچے کو پاس بلا کر اپنے موبائل پر، یا اس کی ٹیب پر کوئی دلچسپ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔ ایسی دلچسپ چیزیں جو ان کی توجہ بٹا سکتی ہیں، کا پہلے سے تھوڑا ذخیرہ رکھیں تا کہ بروقت کام آئیں۔

تیسرا اصول : پیش بندی بذریعہ اصول و ضوابط
جس شے کے استعمال پر جھگڑے کا امکان ہے، اسے برتنے کو باریاں اور اوقات مقرر کیے جائیں۔ فیملی رُولز اِسی بلا کا نام ہے کہ بچوں کو کسی ضابطے کا پابند بنانے کو تھوڑا تردد کیا جائے۔ اور ایسا تردد کسی صورتحال کے عین بیچ نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔ پہلے سے اہتمام کر لیا جائے۔ جب نارمل صورتحال ہو، الگ بٹھا کر خوشگوار موڈ میں بات کی جائے اور کچھ طے کر لیا جائے۔ وہ فی الفور اتفاق کریں گے۔

چوتھا اصول: فوری عدالت اور انصاف سے پرہیز
اگر کبھی لڑائی ہو بھی جائے، تو اس کا طریقہ یہ نہیں کہ ایک کو غلط کہنے، اور دوسرے کی طرفداری کا فی الفور اعلان کر دیا جائے۔ جی نہیں، یہ انصاف نہیں ہے۔ یہ بھی جبر ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ جو بچہ نسبتاً کم غصیلا ہو، اس کی توجہ بٹا دی جائے۔

“چھوڑو یا، آو میرے ساتھ۔ ہم باہر جا رہے ہیں ایک خاص چیز لانے۔۔۔” کسی بھی طرح اُس صورتحال کو، بغیر کسی کی طرفداری کیے، ٹال دیا جائے۔ بعد ازاں، حالات جب نارمل ہوں، تو بٹھا کر بات کی جائے، وہ بھی الگ الگ۔ جس کی غلطی زیادہ تھی، پہلے اُسے سمجھایا جایا۔ اب تھوڑا بہت ڈانٹ دینے یا رعب جمانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

بچوں کی تعلیم ایک الگ موضوع ہے، اور اس کے اپنے مسائل اور حل ہیں۔ تعلیم کا دائرہ ہنر یا سکِل سیکھنے تک محدود ہے۔ ہنر ہو، مگر رویہ و اخلاق یا اچھی عادات کا فقدان ہو تو بچے ناکام ہو جائیں گے۔ جا بجا اُن کے تعلقات بگڑیں گے. وہ رہ رہ کر زیرو سے سٹارٹ لینے پر مجبور ہو جایا کریں گے۔ یہی ناکامی ہے کہ رویوں کی اصلاح ہوتے ایک عمر گزر جائے۔

About Author

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں بھی اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ادارے کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہے ہیں۔تاہم، کسی قلبی واردات کا شکار ہو کر نئے سال 2017 کے طلوع سے ٹھیک ایک روز قبل یہ غروب ہو گئے تھے۔ پردہ نشینی کی وجوہات میں ایک خاص وجہ ان کا ایک نئے تعلیمی ماڈل کا قیام پر کام کرنا تھا، جو خاصی مقدار میں ہو بھی چکا۔اِن دنوں اس انقلاب آفریں نئے ماڈل کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحریر 'بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل' دانش ویب سائٹ پر ہی ظاہر ہو کر اچھا رسپانس وصول کر چکی۔اندرون اور بیرون ملک مقیم کچھ احباب نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، اور ان کےہمرکاب ہو جانے کا دم بھر ا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: