سٹیفن ہاکنگ کا شعور اور “ایوری تھنگ ایلس” —– نعمان علی خان

0
  • 58
    Shares

کوئی بھی “تھیوری آف ایوری تھنگ” گھڑنے کی کوشش اس وقت تک درست سمت میں نہیں جا سکتی اور نہ ہی درست جوابات حاصل کرسکتی ہے، جب تک کہ وجودیت سے متعلق تمام سوالات اس کے مقدمے میں شامل نہ ہوں۔ جب دعویٰ یہ ہو کہ اِس ساری “وجودی” اور مادی حقیقت کی ابتدا، بگ بینگ سے ہوئی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بگ بینگ نے محض مادے، توانائی، مکان اور زمان ہی کو جنم نہیں دیا تھا بلکہ ہر وہ شے جو “اِس” وجودیت میں بین طور پر موجود ہے، اپنے مکمل خام مواد کے ساتھ وجود میں آئی تھی۔

یہ تمام وجودی مظہریت اور مادی کائنات قطعاً لایعنی ہے تاوقتیکہ یہ ہمارے “شعور” پر ہویدا نہ ہو۔ چنانچہ منطقی طور پر یہ نہیں ہوسکتا کہ بگ بینگ کے نتیجے میں مادہ، توانائی اور سپیس ٹائم تو وجود میں آئے ہوں لیکن ہمارا “شعور” ساڑھے تیرہ بلین سال بعد وجود میں آیا ہو۔ وجود کے ہونے کیلئیے، اس کے ہونے کے شعور کا ہونا ضروری ہے۔ یا تو بگ بینگ ہوا ہی نہیں اور اگر ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں ہماری کائنات “وجود” میں آئی ہے تو اس کے “وجود” کے اثبات کیلئیے شعور کا ہونا بھی لازم ٹہرتا ہے۔ یعنی بگ بینگ کے نتیجے میں مادہ توانائی سپیس ٹائم کے ساتھ ساتھ شعور بھی وجود میں آیا تھا۔

اگر ہم یہ بات مان لیتے ہیں تو اس نکتے کو زیادہ معقولیت کے درجے میں لانا بہت ضروری ہے۔ اگر یہ معروضی کائنات بگ بینگ کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی تو اس کا “وجود” میں آنا “شعور” کے ہونے کا محتاج ٹہرتا ہے نہ کہ “شعور” کا بھی اس کائنات کے ساتھ ہی وجود میں آنا۔ لہٰذہ زیادہ معقول سٹیٹمنٹ یہ ہوگا کہ یہ کائنات “شعور” پر ہویدا ہوئی تھی۔ سو “شعور” اس کائنات کے وجود میں آنے سے پہلے ہی موجود تھا۔

لہٰذہ کوئی بھی “تھیوری آف ایوری تھنگ” گھڑنے کی کوشش اس وقت تک درست سمت میں نہیں جا سکتی اور نہ ہی درست جوابات حاصل کرسکتی ہے، جب تک کہ سب سے اہم “تھنگ” یعنی “شعور” کی ماہیت کو زیر بحث نہ لایا جائے۔ وہ تھیوری آف ایوری تھنگ کس قدر کھوکھلی ہوگی جو مادے اور توانائی کے ایٹموں اور لہروں کو تو جاننے کا دعویٰ کرے، جو سپیس اور ٹائم کے کرویچر اور ثانیوں کو احاطہ عقل میں لانے کے افسوں میں مبتلا ہو لیکن “شعور” کے وجود کو ماننے کے باوجود اس کے امکانی ایٹموں، لہروں، زیروبم اور حیرتوں کو یہ کہہ کر، پورے فکری بیانئیے سے، بغیر کسی ثبوت کے، خارج کردے کہ “شعور” مادے ہی کی ایک خاص حالت اور اس کا عکس ہے۔

فلاسفہٰ سائنس کی “اے تھیوری آف ایوری تھنگ” قائم کرنے کی کوشش اسی بنا پر اب تک ناکامی سے دوچار ہے کہ “شعور” کی حقیقت کو بالکل اسی انداز میں مسترد اور نظر انداز کردیا جاتا ہے جس طرح روح کو۔ جبکہ “شعور” کے ہونے کو تو یہ سب مانتے ہیں اور روح محض مذہبی ایمان کا حصہ ہے۔ یعنی شعور سے اس قدر خوف ذدہ ہونے کی ضرورت ہے نہیں جس قدر روح سے، کچھ فلاسفہٰ سائنس خوف ذدہ رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: