سرسید احمد خان: ایک پرانا سوال نیا مسئلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ شمیم احمد

0
  • 36
    Shares

یادش بخیر ابھی چند دہائیوں قبل علمی ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی اور تخلیقی کاموں کو اجتماعی اور انفرادی باطن کی سیاحت کا سفر خیال کیا جاتا تھا۔ ماضی اور حال کی تخلیقات کو ایک دوسرے کے تقابل میں رکھ کر ان کی معنویت اور اظہار بیان کے حسن و خوبی پر روشنی ڈالی جاتی تھی۔ نقادوں کے لیے پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ اپنے ماضی کے پورے سرمایۂ نظم و نثر کو مد نظر رکھنا بھی ضروری خیال کیا جاتا تھا۔

ہمارے اردو ادب نے کیسے کیسے نقاد پیدا کیے ہیں۔ جنہوں نے شعر و ادب کی تفہیم میں اضافہ کیا اور ماضی کی بازیافت کر کے زندہ سلسلوں کو جوڑ کر دکھلایا۔ اس سلسلے کا ایک اہم نام شمیم احمد کا بھی ہے جو معروف شاعر اور نقاد سلیم احمد کے بھائی تھے۔ ان کے تنقیدی مضامین کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ 

نقاد شمیم احمد کے مضامین مختلف موضوعات پر غور و فکر کی دعوت دینے کے علاوہ قاری کی ذہنی تربیت کے ساتھ شعری اور ادبی ذوق میں اضافہ کرتے ہیں۔ پھر ان کی تحریروں میں تنوع پایا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ ان کی تحریریں پڑھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ آخری بات یہ کہ شمیم احمد ایک کھرے انسان اور سچّے ادیب تھے۔ ان کے مطالعہ کی وسعت اور ان کی صداقت ان کی تحریروں میں نمایاں نظر آتی ہے۔ شمیم احمد کی ’’کتاب زندگی سے‘‘ ان کے خاندانی پس منظر اور ان کے بچپن سے لے کر بہت بعد تک کی داستان خود ان کی کتاب میں موجود ہے۔
زیر نظر تحریر انکی ایک یادگار اور فکر افروز تحاریر میں سے ایک ہے جو دانش کے قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔ ان مضامین کو پیش کرنے کا مطلب آجکے قاری کو ان مشاہیر اور انکی فکر سے متعارف کروانا ہے۔  
سید معین الدین احمد


سر سید احمد خان اسلامیان ہند اور اردو ادب کی وہ واحد متنازعہ شخصیت ہیں جن سے ایک صدی ہونے آئی مگر آج تک اسی شد و مد سے اختلاف کیا جا رہا ہے جیسا ان کی حیات کے زمانے میں کیا جا رہا تھا اور یہ اختلاف ابتدا سے آج تک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ ان کا اپنا عہد، ان کے اپنے زمانے کی نئی نسلیں، ان کی وفات کے بعد کا عہد اور پھر عہد بہ عہد موجودہ زمانے تک ہر پھر کر سر سید احمد خان تک بات ضرور جا پہنچتی ہے۔ کم از کم میں ان کو اسی بنا پر عظیم شخصیت تسلیم کرتا ہوں کہ ان سے ایک صدی تک مسلسل ایک سے زائد سطح پر اختلاف ہوتا رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، یہ ان کی تہہ دار متنوع اور پہلو دار شخصیت کا ثبوت ہے، جس سے ان کی فکری اور ذہنی صلابت کا پتہ بھی چلتا ہے اور ان کے کردار اور استقامت کا بھی۔ لیکن اس سلسلہ میں سب سے تکلیف دہ اور مایوس کن بات یہ ہے کہ اب تک سر سید احمد خان کے اصل خدو خال دریافت نہیں کیے جا سکے۔

یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ اگر کسی شخصیت میں منفی پہلو موجود ہوں تو وہ عظیم یا مخلص نہیں ہو سکتی۔ ایک آدمی غلطیوں اور کمزوریوں کے باوجود عظیم ہو سکتا ہے۔ بلکہ آدمیت کا تو تقاضا ہی یہ ہے۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ سر سید کے تمام ناقدین عموماً یکطرفہ استدلال کے شکار رہے ہیں۔ اگر ان سے اختلاف رکھتے ہیں تو اس حد تک کہ انہیں ایک ایک سرے سے کوئی قابل ذکر آدمی ہی نہیں سمجھتے۔ اور اگر اتفاق رکھتے ہیں تو پھر ان کو رحمتہ اللہ علیہ کے درجہ تک پہنچا دیتے ہیں۔ اور کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ان کی فکری غلطیاں بھی اخلاص کے ساتھ ہو سکتی ہیں اور برطانیہ کے ساتھ ان کی وفاداری یا ان کی انتہا پسند جدیدیت مسلمانوں کی ترقی کے لیے ایک شعوری اور انفرادی کاوش کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔ ان ناقدین میں سب سے زیادہ افسوسناک ذہنیت ان حضرات کی ہے جو آج تک سر سید کی فکر سے ہر اختلافی امر کا جواز پیش کرتے رہتے ہیں۔ یہ جواز پیش کرنے کی بیماری ایسی مہلک ہے کہ اس سے سوائے منافقت کے اور کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ ان حضرات کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اگر ایک غلطی یا تضاد فکر کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے کونسی قیامت برپا ہو جائے گی اور کونسی آفت ٹوٹ پڑے گی۔ سر سید احمد خان کے لیے ہمارا یہ رویہ کہ وہ آدمی ہیں مگر دیکھنے کی تاب نہیں۔‘‘ کوئی معقول رویہ نہیں۔

سر سید احمد خان سے آج بھی سخت اختلافات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ اختلاف کوئی نئی اور ذاتی اختراع نہیں ہے بلکہ یہ اختلاف اور اس سے بھی زیادہ شدید اختلاف سر سید احمد خاں کی زندگی ہی میں شروع ہو گیا تھا اور اختلاف کرنے والوں میں عام مدرسوں کے خیال کے مطابق صرف و محض ملائے محض دینی اداروں کے علما نہ تھے بلکہ ایسے لوگ بھی تھے جو جدید علوم سے نہ صرف بخوبی آشنا تھے بلکہ ان کے پرجوش حامی بھی تھے۔ اور ان میں بعض ایسے اور اہل فکر بھی شامل تھے۔ جو انگریزی زبان و ادب اور مغرب کی فکری تحریکوں سے نہ صرف سرسید سے زیادہ اور براہ راست واقف تھے بلکہ انہوں نے یورپ میں تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ اسی کے ساتھ حکومتِ برطانیہ کے بڑے معزز اور وفادار عہدیدار بھی شمار کیے جاتے تھے او رصرف یہی نہیں کہ یہ اختلاف صرف وقتی ہو بلکہ پوری ایک صدی ہونے کو آئی مگر سر سید سے یہ اختلاف ہر دور میں جاری رہا اور ہنوز جاری ہے۔ ظاہر ہے کسی فکر یا شخصیت سے اتنا گہرا اور مسلسل ذہنی اختلاف ازراہ تفننِ طبع نہیں ہو سکتا۔ یقیناً اس فکر میں کوئی نہ کوئی ایسی خامی یا تضاد ضرور ہو گا جس کی بنیاد پر پوری ایک صدی سے سر سید کی فکر سے اختلاف ہو رہا ہے اور اسی پناء پر ہم اس تضاد یا ذہنی اختلاف کو غیر مخلص قرار نہیں دے سکتے۔

سر سید نے اسلام کی ترقی کی بہت کم اور مسلمانانِ برصغیر کی ترقی کی بہت زیادہ کاوش کی تھی۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں تک صرف مسلمانوں کا من حیث القوم تعلق ہے سر سید نے ان کی فلاح و بہبود اور ترقی کا جو راستہ متعین کیا تھا وہ برصغیر کے مخصوص حالات میں ایک نقطۂ نظر کی روشنی میں سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوا۔ اور یہی نقطہ نظر آج تک سر سید کے حامیوں کی شکل میں موجود ہے۔ لیکن اہل نظر یہ خوب جانتے ہیں کہ اسلام کی ترقی اور مذہب کا فروغ برصغیر کے مسلمانوں کی ترقی کے ہم معنیٰ نہیں ہے۔ فکری سطح پر سر سید کے پورے مشن میں یہی وہ تضاد ہے جو متضاد زاویہ نظر رکھنے والوں کو برابر نظر آتا رہا ہے اور آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ کونسا اصل نکتہ ہے جس سے یہ اختلاف یا تضاد پھوٹتا ہے۔ سر سید کے تمام ناقدین زحمت کر کے سر سید کے حامیوں اور مخالفین کی تحریروں کا باقاعدہ اور غائر مطالعہ کریں تو سینکڑوں تاویلوں متضاد طرزِ فکر، مختلف رویوں اور اس کے دلائل و براہین میں صرف ایک ہی سراغ ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سر سید کی طرز فکر سے ایک صدی تک یہ حذر اس لیے ممکن ہو سکا کہ بنیادی طور پر سر سید نے اسلام کی ترقی کی بہت کم اور مسلمانانِ برصغیر کی ترقی کی بہت زیادہ کاوش کی تھی۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں تک صرف مسلمانوں کا من حیث القوم تعلق ہے سر سید نے ان کی فلاح و بہبود اور ترقی کا جو راستہ متعین کیا تھا وہ برصغیر کے مخصوص حالات میں ایک نقطۂ نظر کی روشنی میں سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوا۔ اور یہی نقطہ نظر آج تک سر سید کے حامیوں کی شکل میں موجود ہے۔ لیکن اہل نظر یہ خوب جانتے ہیں کہ اسلام کی ترقی اور مذہب کا فروغ برصغیر کے مسلمانوں کی ترقی کے ہم معنیٰ نہیں ہے۔ فکری سطح پر سر سید کے پورے مشن میں یہی وہ تضاد ہے جو متضاد زاویہ نظر رکھنے والوں کو برابر نظر آتا رہا ہے اور آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔ اگر سر سید کی طرزِ فکر کسی تضاد یا الجھائو سے خالی ہوتی تو آج اتنا زمانہ گزر جانے کے بعد اور سر سید کے مشن کو اتنی کامیابی کے بعد یہ فکری تضاد اصولی طور پر باقی نہیں رہنا چاہیے تھا۔ گویا اسلام کو نظریۂ حیات ماننے والے حضرات (خواہ اسلام آپ کی یا میری نظر میں کتنا ہی کار از رفتہ ہو چکا ہو) سر سید کی اسلامی تاویل کو مذہبی یا صحیح اسلامی فکر نہیں سمجھتے۔ وہ سر سید کی تمام اسلامی اور مذہب کی جدید تاویلات کو برصغیر کی ایک ایسی قوم کے بچائو کے لیے جو خود کو مسلمان کہتی ہے۔ مغربی تہذیب میں پیوند کرنے کی ایک سوچی سمجھی اسکیم کا نتیجہ سمجھتے ہیں نہ کہ اسلامی فکر کی کامیابی۔ جس سے نظریاتی سطح پر یقیناً اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب بھی اسلام کو ایک حرکی تصور ماننے والوں نے اسلامی نظریہ پر سوچا ہے انہیں سر سید سے اختلاف ہوا ہے اور یہ ایک اتنا واضح اور فطری ذہنی عمل ہے جو سر سید کی زندگی سے لے کر آج تک ایک زندہ موضوع اور مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہی وہ اہم بنیادی نکتہ ہے جو آج کل کی جدید ذہنی تاویلوں اور مباحث میں مشترک ہے کہ وہ اسلام کی صحیح اور اصل فکر سے کام لے رہے ہیں، یا کسی خاص خطہ کے مسلمانوں کے مخصوص مسائل اور تضادات کو صرف جدیدیت کا جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسرا نکتہ اس سلسلے میں یہ سوچنے کا ہے کہ ان حضرات نے سر سید کی تحریک کے نتائج سے اس بنیاد یا اصل تک پہنچنے کی کوشش کی ہے جو فکری سطح پر ہمیشہ یکطرفہ استدلال کی محتاج ہوتی ہے اور اس میں غلطی کا احتمال بہر صورت رہ جاتا ہے مثلاً کچھ حضرات مسلمانوں کی اور خصوصاً تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بے عملی اور مذہب کے بنیادی ارکان سے پہلو تہی کو بعض دوسرے اہل قلم کی طرح سر سید کی اس طرز فکر کا نتیجہ سمجھ کر اسے اسلامی فکر کے لیے ایک مہلک غلطی قرار دیتے ہیں اور اکثر حضرات اس کے بر خلاف مسلمانانِ ہند کی بیداری، جدوجہد، تعلیم اور حصول پاکستان کی تحریک کو اس کا ثمرہ قرار دے کر سر سید کے مشن کی کامیابی پر مہر صداقت ثبت کر دیتے ہیں۔ حالانکہ فکری سطح پر یہ دونوں نظریات نصف صداقت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ان دونوں طرز ہائے فکر کی غلطیوں سے بچنے کے لیے اصل اور بنیادی سوال اٹھانا چاہیے کہ سر سید کا نظریہ اسلامی قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اسلامی (اسلامی سے مراد یہاں مذہب کا وہ اصل تصور ہے جو نظریہ اور عمل کی مطابقت مطابق بہ اصل قرار دیتا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اگر سر سید نے صرف قومی سطح پر مسلمانوں کو برصغیر کی دیگر اقوام کے مقابلہ پر ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کی ہے تو وہ قومی سطح پر بہت بڑا کارنامہ کہی جا سکتی ہے۔ اور یقیناً سر سید ایک بہت بڑے لیڈر قرار پاتے ہیں۔ لیکن ایسی صورت میں اسلامی فکر یا بنیادی اسلامی تصور کا واسطہ حقیقتاً اس سے ہونا ضروری نہیں اور اس طرح اس بحث سے اگر یہ ثابت کیا جا سکے کہ سر سید نے اسلامی فکر کو آگے بڑھایا ہے اور انہیں اسلام کے بنیادی تصور کے نظریاتی مفکر کا درجہ حاصل تھا تو پھر ان کی قومی خدمات اس تصور کے تابع ہو جائیں گی۔ اور اس صورت میں اس کا نتیجہ اگر اسلامی نظریۂ فکر کے خلاف برآمد ہو گا تو پھر ان کی خدمات بھی اسلامی ثابت نہیں ہو سکتیں۔ میرا خیال ہے کہ اب تک اس بات کی وضاحت بہت اچھی طرح ہو چکی ہے کہ سر سید کی فکر میں مذہب اور قوم کے بارے میں کوئی ایسا تضاد ضرور موجود ہے جس کے نتیجے میں یہ 2 متضاد ذہنی رویے پیدا ہوتے رہے ہیں اور آج بھی اسی طرح تر و تازہ ہیں جس طرح سر سید کے اپنے عہد میں تھے۔ اس پوری بحث کا نتیجہ دراصل دو طرح نکل سکتا ہے ایک یہ کہ مذہب کی صورت ہے یا نہیں؟ یا پھر سر سید کے بارے میں سچائی سے غور و فکر اور اگر یہ ممکن ہو تو اس کا اظہار یقیناً جرات سے اور ریاکاری کے بغیر ہونا چاہیے۔ ورنہ یہ تمام مباحث فضول اور بیکار ثابت ہوں گے۔۔۔۔!

یہ بھی پڑھئیے: سرسید اور مشرق و مغرب کے درمیان مکالمہ۔۔۔ شاہنواز فاروقی

 

مکاتبِ فکر اور اہلِ قلم کا مطالعہ مناسب حد تک نہیں کرتے ہیں اور صرف چند معروف باتوں پر ہی تکیہ کر کے بحث میں شرکت کرنے کے لیے بیقرار ہو جاتے ہیں جبکہ سر سید کا دور اتنے متضاد اور گوناگوں مسائل اور زاویہ ہائے نظر سے پٹا پڑا ہے کہ جس کا گہرا مطالعہ کیے بغیر اس اہم مسئلہ کا حل ممکن نہیں اس کی اہمیت ہمارے لیے اس سبب سے اور بڑھ جاتی ہے کہ یہی مباحث ایک نئی مملکت کی ذہنی اساس اور اس کے مستقبل سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں اکثریت نے سب سے بڑی غلطی یہ کی ہے کہ سر سید کے طرز فکر کو انہوں نے ان کے عہد کا واحد جدید طرز فکر خواہ مخواہ سمجھ لیا ہے اور ان کے مخالفین کو محض تنگ نظر مولوی یا خالص دینی طرز فکر کا داعی۔ جبکہ حقیقت احوال یہ ہے کہ وہ دور صرف سر سید اور خالص دینی طرز فکر کے حامل افراد کے درمیان بٹا ہوا نہیں تھا بلکہ ان کے بیج میں ایک ایسا طبقہ بھی تھا جو ایک طرف سر سید سے نظریاتی اور شدید اختلاف رکھتا تھا تو دوسری طرف خالص دینی نقطہ نظر سے بھی مختلف تھا اگر اس طبقہ کے چند جید ناموں ہی کا ذکر کیا جائے تو مولوی عبد السمیع (سب جج) مولوی نذیر احمد، منشی سجاد حسین، امداد علی ڈپٹی کلکٹر، اکبر الہ آبادی اور مولانا شبلی جیسے کتنے ہی اور نام مل سکتے ہیں جن کو خالص دینی علماء کسی طرح بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے علاوہ ایسے لوگوں کی تو کثیر تعداد ہے جو چند مضامین اور نظموں کی حد تک اپنے نظریات کا اختلاف کر کے ہمیشہ کے لیے گوشہ گمنامی میں چلے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سر سید سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں میں ان حضرات کے علاوہ اس عہد کے جدید نسل کے افراد بھی شامل ہو جاتے ہیں جو سر سید سے زیادہ مغربی علوم سے واقف اور جدید فکر کے حامل بھی تھے۔ اور سرکارِ برطانیہ کے ثناخواں بھی اور برٹش مشینری کے معزز عہدیدار بھی۔ مگر اس کا پتہ اس وقت چل سکتا ہے کہ آپ اس دور کا مطالعہ سنجیدگی، اخلاص اور دیانتداری سے کرنا چاہیں۔ صرف میٹھا میٹھا ہپ نہ کرنا چاہیں۔

فی الوقت میں سرسید کے عہد کے دو ایسے نمائندوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اس عہد کی پرانی اور نئی نسل قرار پاتے ہیں۔ میری مراد اکبر الہ آبادی اور امداد امام اثر سے ہے۔ جہاں تک اکبر الہ آبادی کا معاملہ ہے کون نہیں جانتا کہ وہ اس عہد کے تمام معروف و ممتاز لکھنے والوں مثلاً سر سید، نذیر احمد، حالی اور شبلی کے مقابلہ پر مغربی علوم اور اس کے فکر سے کچھ زیادہ ہی واقف تھے۔ اور وہ بھی انگریزی سلطنت کے ایک معزز عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو انگریزی تعلیم سے پوری طرح بہرہ ور کرایا تھا بلکہ ان کے صاحبزادے اسی عہد میں کلکٹر مقرر ہو چکے تھے۔ مگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اکبر الہ آبادی فکری طور پر سر سید کے سب سے بڑے نقاد اور مغربی اثرات کے بہت بڑے مخالف تھے۔ اکبر الہ آبادی کی اس روش پر اب تک اردو کے تمام نقادوں نے پوری سفاکی سے حملے کیے ہیں۔ لیکن مجھے یہ کہنے دیجئے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنی فکر کو تعصب سے خالی کر کے اور ہوشمندی سے استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے اکبر کے خلاف ایک ایسی غیر منصفانہ رائے قائم ہو گئی ہے جس کی تلافی عرصے تک ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں یہ حقیر ایک جگہ اور بھی اس بات کا اظہار کر چکا ہے۔ فی الوقت چند اشارات ہی کر سکتا ہوں۔ اور اگر فرصت ملی تو انشاء اللہ یہ موضوع میرے لیے ایک منصوبے کی حیثیت رکھتا ہے۔

اکبر الہ آبادی کوئی معمولی درجہ کے شاعر نہیں تھے وہ اس درجے کے شاعر تھے کہ ایک طرف انہوں نے اردو شاعری میں طنز و مزاح کا ایسا معیار قائم کر دیا جس سے برصغیر کی دوسری زبانیں آنکھ نہیں ملا سکتیں۔ اور دوسری طرف ان کی شاعری نے ایک ایسی صداقت کو پچھتر سال پہلے اتنی قوت، اعتماد، وضاحت اور تیقن کے ساتھ پیش کیا جو آج ان کے ایک ایک حرف کی صداقت پر ملہم الغیب کا ثبوت دیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ (خواہ ہمیں اس سے کتنا ہی شدید اختلاف کیوں نہ ہو) ان کا یہ انداز نظر کتنا حیرت انگیز ہے کہ موجودہ معاشرہ نہ مولانا حالی کی قومی شاعری سے کوئی واسطہ رکھتا ہے اور نہ شاعرِ مشرق اقبال کی عظیم شاعری کا آور سی نمونہ بنتا ہے۔ بلکہ اس پر صرف ایک شاعر کی گرفت نظر آتی ہے۔ اور وہ ہیں اکبر الہ آبادی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کا ایک ایک لفظ مجسم ہو کر ہمارا معاشرہ بن گیا ہے۔

یہ اندازہ انہیں کیسے ہو سکا؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر سر سید کے عہد کی چند نظریاتی صداقتیں پرکھی جا سکتی ہیں۔ نتائج سے قطع نظر بد قسمتی سے اکبر الہ آبادی کو اب تک ایک رجعت پسند شاعر اور ان کی شاعری کو رد عمل کی شاعری کہا جاتا رہا ہے لیکن یہ بہت بڑا جھوٹ ہے کیونکہ اثباتی شاعری کبھی رد عمل کی شاعری نہیں ہوا کرتی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہر بڑا طنز نگار صرف و محض منفی طرز فکر کا حامل نہیں ہوتا بلکہ ایک بڑی سطح پر اس کے پاس ایسا مثبت طرز فکر اور پیمانۂ فکر بھی ہوتا ہے جس کی بنیاد پر بہت سے فکری نظام اور ذہنی تبدیلیاں مضمک نظر آنے لگتی ہیں اور اس بات کو اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک خالص ظریفانہ طنزیہ شاعری کا فرق ذہن میں واضح نہ ہو۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: