اسٹیفن ہاکنگ کی کائنات ۔۔۔۔۔۔۔۔ مطربہ شیخ

2
  • 106
    Shares

اس نے کہا
خدا نہیں ہے

قوس قزح کے رنگوں والا فرشتہ مسکرا یا اور لکھ لیا
جب وہ سو گیا تو فرشتہ اڑ گیا اوپر بہت اوپر آسمانوں سے پرے
وہاں بہت سارے فرشتے اور خدا کا تخت تھا
سردار فرشتے نے پوچھا آج کے دن کی نئ بات
دھنک رنگ فرشتے نے اپنی کتاب کھول دی
سارے فرشتے پڑھنے لگے
سبحان اللہ رب العرش العظیم، لا حول ولا قوتہ الا باللہ العظیم
خدا نے سنا اور دیکھا کیونکہ وہ سمیع البصیر ہے
پھر اس نے ایک بہت سے پروں والے فرشتے کو اشارہ کیا

وہ مسکرایا اور زمین پر اتر گیا
اس نے سنا وہ کہہ رہا تھا کہ یہ سب مسٹری ہے
فرشتہ مسکرایا اور آہستہ سے اپنا پر اسکے ساتھ مس کر دیا
وہ ایک دم گر گیا

اسکو ہسپتال لے گئے
فرشتہ آہستہ سے اسکے کان میں گنگنایا
یہ سب مسٹری ہی ہے لیکن تم اس کو جان سکتے ہو
اگر تم جاننا چاہو

وہ کہنے لگا، میں جان لوں گا ایک دن تم دیکھنا
فرشتہ لہرایا ٹھیک ہے ہم انتظار کریں گے
خدا نے فرمایا ہے تم کو مہلت دی جاتی ہے ایک مخصوص وقت تک کی
اگر تم جاننا چاہو تو جان لو، خدا بہت مہربان ہے
اور اپنے بہت سے پروں کو پھیلائے عرش کی طرف پرواز کر گیا
اس نے پڑھنا شروع کیا، جاننا شروع کیا، مگر مانا نہیں
فرشتے منتظر کہ خدا کا اگلا حکم کیا ہوگا

لیکن خدا نے کہا ابھی مہلت باقی ہے اور خدا بہت خلیق ہے
سال ہا سال گزر گئے وہ آزاد ہو گیا وقت کی قید سے
ایک دن خدا نے دربار لگایا اور فرشتے عزرائیل کو اشارہ کیا
عزرائیل پلک جھپکتے میں زمین پر آ گئے اور اسکے سامنے کھڑے ہو گئے
وائو، سو یو آر ہیئر، اس نے کہا
عزرائیل نے کہا، بتا تیری رضا کیا ہے

میں نے اپنا کام مکمل کیا ہے پوری ایمانداری اور ذمہ داری سے
تو پھر چلو میرے ساتھ بلیک ہولز سے پرے، خلا سے بھی اوپر
خدا تم سے ملنا چاہتا ہے اور خدا کا ایک نام العلیم ہے
کیا تم کو معلوم ہے اے خدا کے بندے
اس نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے اسکے بہت سارے نام ہیں

ایک نام الرحیم بھی ہے
ایک نام الکریم بھی ہے
اک نام القادر بھی ہے
میں جان لوں گا سارے نام

جب اس سے ملوں گا مجھے لے چلو پلیز
اور وہ لے جانے ہی تو آئے تھے

پلک جھپکتے میں وہ دونوں خدا کے دربار میں پہنچے
وہ سسکنے لگا، کہنے لگا، میں نے بہت تکلیف اٹھائی ہے، مجھے بہت درد رہا ہے سال ہا سال
خدا نے اشارہ کیا موتیوں کے پروں والا فرشتہ آگے بڑھا

اور آہستگی سے اسے تھام کر کھڑا کر دیا
وہ خوشی سے گول گول گھومنے لگا چیخنے لگا
خدا مسکرایا اور فرمایا وہ دیکھو میرا عرش
اس نے دیکھا اور سجدے میں گر گیا اور کہا
لا الٰہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین

About Author

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: