میری ہوئی تو سیتا، ورنہ بھاڑ میں جائے لولِیٹا : شہزاد صدیقی

2
  • 23
    Shares

اگر کوئی بہت بولڈ، فرینڈلی اور لوگوں میں گھلنے ملنے والی لڑکی آپ سے دوستی کرلے، آپ کے ساتھ وقت گزارے، آپ سے اپنی باتیں شئیر کرے تو آپ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ کوئی اس لڑکی کے کریکٹر پر کوئی بات کردے تو آپ غصے سے بپھر جاتے ہیں، اسکا ہر ممکن طریقے سے دفاع کرتے ہیں۔ اسکو روشن خیال اور جدید ذہنیت رکھنے والی شخصیت ثابت کرنے کے کیے اپنا پورا زور لگادیتے ہیں۔۔۔

لیکن اگر وہی لڑکی آپ کو بلکل لفٹ نہ کروائے اور آپ کی بجائے کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ گھومے پھرے اور وقت بتائے تو آپ کا ضمیر کسی 10 KVA کے جنریٹر کی سی گڑگڑاہٹ کے ساتھ اسٹارٹ ہوجاتا ہے۔ وہی بولڈ اور روشن خیال لڑکی آپ کو گھٹیا اور گری ہوئی لڑکی لگنے لگتی ہے۔ آپ اپنے سرکل میں اسکے خلاف انتہائی فحش زبان استعمال کرنے سے زرا نہیں چوکتے۔ اس کو چلتا پرزہ، عوامی پراپرٹی، غرض کے کون سا غلیظ خطاب ہوگا جس سے آپ اسکو نہیں نوازیں گے۔۔۔

بعینہ یہی رویہ ن لیگ اور جمہوری نونہالان، پیپلز پارٹی کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اگر کسی بھی سیاسی مشکل میں ن لیگ کے ساتھ کھڑی ہوجائے تو آصف زرداری جمہوری روایات کا علمبردار، معاملہ فہم قرار پاتا ہے۔ اسکو سیاسی مفاہمت کا سرتاج بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو سب کو ساتھ لے کر چلنے والی جماعت قرار دے کر اسے خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہی پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ساتھ نہ دے تو پیپلز پارٹی کی وہ کردار کشی کی جاتی ہے کہ الامان حفیظ۔ زرداری کرپشن کی ہوشربا داستانیں قبروں کو ایسے پھاڑ کر نکالی جاتیں ہیں کہ مائیکل جیکسن کی مشہورِ زمانہ وڈیو Thriller کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ غرض کے ہر جمہوریہ حلق پھاڑ پھاڑ کر پیپلز پارٹی کو انواع اقسام کی گالیوں سے نواز رہا ہوتا ہے۔۔۔

حضرات، یہ کس قسم کی منافقت آپ کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے؟ ہمارے لیے پیپلز پارٹی اگر کل کرپٹ تھی تو تحریک انصاف سے سینیٹ الیکشن میں اتحاد کے باوجود کرپٹ ہی ہے۔ ہم آج بھی کہتے ہیں کہ سینیٹ میں اتحاد خالصتاً سیاسی نوعیت کا تھا جس کے اپنے مخصوص سیاسی dynamics تھے۔ آپ کتنی ہی سیاسی کدورت کا مظاہرہ کرلیجیے، حقیقت یہی ہے کہ سینیٹ الیکشن میں، عمران خان کا اولین مقصد ن لیگ کے چیئرمین کا راستہ روک کر اپنی پانامہ پر کی گئی جدوجہد اور ججز کی محنت اور انکے اختیارات کو بدنیتی سے کی جانے والی ممکنہ آئینی ڈکیتی سے بچانا تھا۔ پیپلز پارٹی یا کسی بھی اپوزیشن جماعت کے ساتھ سینیٹ الیکشن کا اتحاد ثانوی اہمیت کا حامل تھا۔ تحریک انصاف کی اپنے مقصد میں بھرپور کامیابی کے بعد سینیٹ الیکشن کا ہنگامہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

ضرورت پڑنے پر پیپلز پارٹی کے پاؤں پڑ کر اور ضرورت پوری نہ ہو تو اسی پارٹی کے گریبان پر ہاتھ ڈال کر آپ کن جمہوری روایات کا پاس کررہے ہیں؟ اسٹبلشمنٹ کا ہوّا اڑا کر نون مخالف جماعتوں کو مطعون کرتے ہوئے اپنی سنگین مس مینیجمینٹ اور بدترین پرفارمنس پر پردہ ڈالنا آپ کا پرانا طریقہ واردات ہے۔

سینٹ الیکشن کے دو تین دن بعد ہی ایک جلسے سے خطاب کے دوران عمران خان نے پوری شدومد سے اپنے سابق مؤقف کو دھراتے ہوئے نواز شریف کے ساتھ ساتھ آصف زرداری کا نام لیتے ہوئے اسے پھر سے قومی دولت کا چور قرار دیا جبکہ نازک اندام جمہوریے پچھلے دنوں عمران و زرداری کے “ان دیکھے” گٹھ جوڑ کا “آنکھوں دیکھا” حال سنا سنا کر ادھ موئے ہوئے جارہے تھے۔ سوشل میڈیا پر بھی کسی بھی انصافی کی طرف سے نہ ہی پیپلز پارٹی کا، کسی بھی قسم کا دفاع کیا گیا اور نہ ہی آصف زرداری کو جمہوری انقلابی کے القابات سے نوازا گیا۔ سب کچھ ویسے کے ویسا ہی ہے، جیسا کہ پہلے تھا۔ یارانِ جمہوریت یہ پھبتی کستے ہوئے بھی پائے گئے تھے کہ اب تحریک انصاف کے سپورٹر آصف زرداری کی کرپشن کا دفاع کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔ جمہوری ارسطوؤں کی دوسری امیدوں کی طرح اس امید کا بھی دھڑن تختہ ہوا۔ لگتا ہے جمہوریے اس وقت گوئبلز کے طریقۂ واردات کو اپنائے ہوئے ہیں یعنی کہ اتنا جھوٹ بولو اور اتنی شدت سے بولو کہ سچ کا گمان ہونے لگے۔ ڈھٹائی و بے شرمی کا عالم یہ ہے کہ وقت کا ڈنڈا جوں ہی انکے ایک جھوٹ کے ٹائٹینک کو ڈبوتا ہے، یہ آناً فاناً دوسرا تراش لیتے ہیں کہ اپنی غلطیوں سے رجوع کرنا بےضمیروں کی سرشت میں نہیں۔

آپ پیپلز پارٹی کے متعلق اپنے متعدد یوٹرنز پر غور کیجیے، آپ کو منافقت اور مطلب پرستی کا پورا دیوان نظر آئے گا۔ ضرورت پڑنے پر پیپلز پارٹی کے پاؤں پڑ کر اور ضرورت پوری نہ ہو تو اسی پارٹی کے گریبان پر ہاتھ ڈال کر آپ کن جمہوری روایات کا پاس کررہے ہیں؟ اسٹبلشمنٹ کا ہوّا اڑا کر نون مخالف جماعتوں کو مطعون کرتے ہوئے اپنی سنگین مس مینیجمینٹ اور بدترین پرفارمنس پر پردہ ڈالنا آپ کا پرانا طریقہ واردات ہے۔ ان فرسودہ tactics کو اب دنیا خوب سمجھتی ہے۔ کسی ایک حقیقی جمہوری ملک کا نام بتادیں جہاں اس طرح کی دھونس نما جہوریت رائج ہو۔ ہم شاید آپ سے بھی بڑھ کر جمہوریت کے حامی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جاتی امراء کے منظور شدہ “جمہوری سلیبس” کے ہم قطعی قائل نہیں۔ یہ کام شریفوں کے کاسۂ لیسوں کو ہی مبارک ہو۔

آخر میں جمہوریوں کہ لیے پیغام ہے کہ اتنے واشگاف یوٹرن لینے سے پرہیز کیجیے۔ آپ کی سیاسی اخلاقیات کی کمر انتہائی نازک ہے، کہیں زوردار موچ آپ کا فکری کبڑا پن مزید نمایاں نہ کربیٹھے۔۔۔!!!

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: