ادھورا کلمہ: اسٹیفن ہاکنگ کی یاد میں —– فاروق بھٹی

0
  • 168
    Shares

“کوئی خدا نہیں ہے۔ ۔ ۔ بِگ بینگ سے پہلے تک وقت کا بھی کوئی وجود نہیں تھا۔ ۔ ۔ کائنات میں دور تک کھوج لگا لیا، جنت بھی نہیں ہے اور موت کے بعد زندگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا” اُس نے مزید ریسرچ کی اور کہا “سیاسی اور ماحولیاتی بحرانوں کا شکار یہ سیارہ اگلے 100 سال میں انسانوں سے خالی ہو جائے گا، گلوبل وارمنگ یا اچانک چھڑ جانے والی ایٹمی جنگ یا کسی جنیٹیکل وائرس سے اس کرہ ارض پر زندگی ختم ہو سکتی ہے۔ کائنات میں قابل رہائش نئے سیارے دریافت کرنا ہوں گے، لاکھوں کروڑوں نوری سالوں پر پھیلی اس کائنات کا سرا تلاش کرنا مشکل ہے، کئی سیاروں پر ہمارے جیسی مخلوق ہو سکتی ہے، ایلینز کو سے رابطہ خطرناک ہو سکتا ہے، اگر وہ زمین تک پہنچ گئے تو وہی کریں گے جو کولمبس نے امریکہ دریافت ہونے پر ریڈ انڈینز کے خلاف کیا تھا، کائنات کا بنانے والا کوئی نہیں، یہ سائنسی اصولوں پر قائم ہے اور رہے گی” فلکیات اور طبعیات پر اس کے عقائد نے دھوم مچا دی، 1966ء میں اس کو آدمز ایوارڈ ملا، اس کی کتاب “وقت کی مختصر تاریخ” نے 237 ہفتے تک مسلسل بیسٹ سیلنگ بک کا اعزاز حاصل کیا۔ اس نے Theory of Relativity & Quantum Mechanics کے ذریعے سوچ کو نئے زاویئے دیئے۔ وہ گلیلیو نہیں تھا کہ چرچ کے ہتھے چڑھ جاتا، وہ سقراط نہیں تھا کہ زہر پیالہ پی جاتا، وہ منصور حلاج نہیں تھا کہ سُولی جھول جاتا۔ ۔ ۔ ہاں وہ بیسویں صدی کا سٹیفن ویلیم ہاکنگ تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دنوں میں لندن بمباری کے بعد آکسفورڈ بھاگ آنے والے ازابیل اور فرانک کا پہلا بچہ، 8 جنوری 1942ء کو پیدا ہونے والا یہ سٹیفن آج 14 مارچ 2018ء کو امریکی صدارتی ایوارڈ سمیت بیسیوں انعامات لئے دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ اس کی سوچ “There is No God” کا بڑا تذکرہ سُنا تھا، سوچا کہ آج پتہ نہیں کہاں گیا ہو گا۔ ۔ ۔ کیونکہ Rest in Peace یا Rest in Paradise کہنا بھی ذرا عجیب سا لگتا ہے۔ میڈیکل سائنسز میں اس کی بڑی خدمات ہیں۔ بگ بینگ سے بلیک ہولز ریڈیئشن پر اس کی ریسرچ بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ صرف اکیس سال کی عمر میں Amyotrophic Lateral Sclerosis یعنی ALS کا شکار ہو رفتہ رفتہ مفلوج ہوتا ہوا سٹیفن 76 سال جی گیا، اس کے گال کا ایک اعصاب متحرک تھا جس کے ساتھ بولنے والی مشین لگا دی جاتی اور وہ بڑے بڑے شوز سے خطاب کرتا۔ بلاشبہ صحت کی جس حالت میں سٹیفن نے یہ کارہائے نمایاں انجام دیئے وہ اپنی جگہ معجزہ ہیں۔

مجھے اس کے مذہبی خیالات جان کر پہلے بھی حیرت ہوتی تھی، آج تفصیلاً جان کر زیادہ دکھ ہوا۔ ۔ ۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ کوئی مسلم، کوئی عیسائی، کوئی یہودی یا کوئی اہل مذہب۔ ۔ ۔ کوئی بھی اس کو خدا کا تعارف ہی نہیں کرا سکا۔ ۔ ۔ پنڈت، پیر، مولوی، ربی یا کوئی پادری۔ ۔ ۔ اُس بیچارے پیدائشی عیسائی کی الجھن کو سلجھن میں نہ بدل سکا۔ حیرت ناک صدمہ ہوا ہے۔ ۔ ۔ علامہ اقبال نے سٹیفن کی پیدائش سے بہت پہلے کہا تھا،

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گُم اُس میں ہیں آفاق

علاوہ ازیں بیشمار مدلل لٹریچر بھی موجود تھا جو اس کو اس کی ڈومین میں رہتے ہوئے ہی اُس کا کلمہ پورا کروا سکتا تھا۔ 1981ء میں ایک کتابچہ ہاتھ آیا تھا “سلامتی کا راستہ” کل کوئی 32 صفحات۔ ۔ ۔ شستہ اردو میں لکھا ہوا۔ میرا گمان غالب یہ ہے کہ میرے دوست انجینئرنگ یونیورسٹی کے طالب علم قیصر جاوید شیخ نے یہ کتابچہ مجھے تحفتاً دیا تھا۔ ۔ ۔ عرصہ گذر گیا لیکن اللہ کے وجود بارے کبھی کسی تشکیک کا شائبہ تک نہیں ہوا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کا لکھا یہ مختصر کتابچہ تلاش کیا تو ایک سائٹ پر PDF فارمیٹ میں مل گیا۔ ۔ ۔ دوستوں کی خدمت میں اس میں سے چند سطریں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ ۔ ۔ وجہ صرف یہ ہے کہ سٹیفن ہاکنگ تک اگر اس کا ترجمہ پہنچ جاتا تو غالب امکان ہے کہ وہ اہنا کلمہ پورا کر لیتا کیونکہ وہ کہتا ہے There is No God جو کہ کلمہ طیبہ کا بالکل ابتدائی حصہ ہے یعنی ” لا الہ ” اگلا حصہ “الا اللہ” But Allah بھی اس پر اُتر ہی آتا۔ ۔ ۔ پھر یقیناً “محمد رسول اللہ” بھی وہ دریافت کر لیتا آخر ریسرچ کا بندہ تھا کسی تحقیق کو ادھورا کب چھوڑنا تھا اس نے۔

مودودی صاحب لکھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
“صاحبو! اگر کوئی شخص آپ سے کہے کہ بازار میں ایک دکان ایسی ہے جس کا کوئی دکان دار نہیں ہے، نہ کوئی اس میں مال لانے والا ہے، نہ بیچنے والا اور نہ کوئی اس کی رکھوالی کرتا ہے، دکان خود بخود چل رہی ہے، خود بخود اس میں مال آ جاتا ہے اور خود بخود خریداروں کے ہاتھوں فروخت ہو جاتا ہے، تو کیا آپ اس شخص کی بات مان لیں گے؟ کیا آپ تسلیم کر لیں گے کہ کسی دکان میں مال لانے والے کے بغیر خود بخود بھی مال آ سکتا ہے، مال بیچنے والے کے بغیر خود بخود فروخت بھی ہو سکتا ہے؟ حفاظت کرنے والے کے بغیر خود بخود چوری اور لوٹ سے محفوظ بھی رہ سکتا ہے؟ اپنے دل سے پوچھئے ایسی بات آپ کبھی مان سکتے ہیں؟ جس کے ہوش و حواس ٹھکانے ہوں کیا اس کی عقل میں یہ بات آ سکتی ہے کہ کوئی دکان دنیا میں ایسی بھی ہو گی؟

فرض کیجئے۔ ایک شخص آپ سے کہتا ہے کہ اس شہر میں ایک کارخانہ ہے جس کا نہ کوئی مالک ہے، نہ انجینئر، نہ مستری۔ سارا کارخانہ خود بخود قائم ہو گیا ہے۔ ساری مشینیں خود بخود بن گئی ہیں، خود ہی سارے پرزے اپنی اپنی جگہ لگ گئے ہیں، خود ہی سب مشینیں چل رہی ہیں اور خود ہی ان میں سے عجیب عجیب چیزیں بن بن کر نکلتی رہتی ہیں۔ سچ بتائے جو شخص آپ سے یہ بات کہے گا۔ آپ حیرت سے اس کا منہ نہ تکنے لگیں گے! آپ کو یہ شبہ نہ ہو گا کہ اس کا دماغ تو کہیں خراب نہیں ہو گیا ہے؟ کیا ایک پاگل کے سوا ایسی بے ہودہ بات کوئی کہہ سکتا ہے؟

دور کی مثال کو چھوڑئیے، یہ بجلی کا بلب جو آپ کے سامنے جل رہا ہے کیا کسی کے کہنے سے آپ یہ مان سکتے ہیں کہ روشنی اس بلب میں آپ سے آپ پیدا ہو جاتی ہے؟ یہ کرسی جو آپ کے سامنے رکھی ہے، کیا کسی بڑے سے بڑے فاضل فلسفی کے کہنے سے بھی آپ یہ باور کر سکتے ہیں کہ یہ خود بخود بن گئی ہے؟ یہ کپڑے جو آپ پہنے ہوئے ہیں، کیا کسی علامہ دہر کے کہنے سے بھی آپ یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں کہ ان کو کسی نے بنایا نہیں ہے، یہ خود بن گئے ہیں؟ یہ گھر جو آپ کے سامنے کھڑے ہیں اگر تمام دنیا کی یونیورسٹیوں کے پروفیسر مل کر بھی آپ کو یقین دلائیں کہ ان گھروں کو کسی نے نہیں بنایا ہے بلکہ یہ خود بن گئے ہیں، تو کیا ان کے یقین دلانے سے آپ کو ایسی لغو بات پر یقین آ جائے گا؟

یہ چند مثالیں آپ کے سامنے کی ہیں۔ رات دن جن چیزوں کو آپ دیکھتے ہیں انہیں میں سے چند ایک میں نے بیان کی ہیں۔ اب غور کیجئے، ایک معمولی دکان کے متعلق جب آپ کی عقل یہ نہیں مان سکتی کہ وہ کسی قائم کرنے والے کے بغیر چل رہی ہے، جب ایک ذرا سے کارخانے کے متعلق آپ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے کہ وہ کسی بنانے والے کے بغیر بن جائے گا اور کسی چلانے والے کے بغیر چلتا رہے گا تو یہ زمین و آسمان کا زبردست کارخانہ جو آپ کے سامنے چل رہا ہے، جس میں چاند اور سورج اور بڑے بڑے ستارے گھڑی کے پرزوں کی طرح حرکت کر رہے ہیں، جس میں سمندروں سے بھاپیں اٹھتی ہیں، بھاپوں سے بادل بنتے ہیں، بادلوں کو ہوائیں اُڑا کر زمین کے کونے کونے میں پھیلاتی ہیں، پھر ان کو مناسب وقت پر ٹھنڈک پہنچا کر دوبارہ بھاپ سے پانی بنایا جاتا ہے، پھر وہ پانی بارش کے قطروں کی صورت میں گرایا جاتا ہے، پھر اس بارش کی بدولت مردہ زمین کے پیٹ سے طرح طرح کے لہلہاتے ہوئے درخت نکالے جاتے ہیں۔ قسم قسم کے غلے، رنگ برنگ کے پھل اور وضع وضع کے پھول پیدا کئے جاتے ہیں، اس کارخانے کے متعلق آپ یہ کیسے مان سکتے ہیں کہ یہ سب کچھ کسی بنانے والے کے بغیر خود بن گیا اور کسی چلانے والے کے بغیر خود چل رہا ہے؟ ایک ذرا سی کرسی، ایک گز بھر کپڑے، ایک چھوٹی سی دیوار کے متعلق کوئی کہہ دے کہ چیزیں خود بنی ہیں تو آپ فوراً فیصلہ کر دیں گے کہ اس کا دماغ چل گیا ہے۔ پھر بھلا اس شخص کے دماغ کی خرابی میں کیا شک ہو سکتا ہے جو کہتا ہے کہ زمین خود بن گئی، جانور خود پیدا ہو گئے، انسان جیسی حیرت انگیز چیز آپ سے آپ بن کر کھڑی ہو گئی۔

آدمی کا جسم جن اجزاء پر مل کر بنا ہے ان سب کو سائنس دانوں نے الگ الگ کر کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ کچھ لوہا ہے، کچھ کوئلہ کچھ گندھا، کچھ فاسفورس کچھ کیلشیم، کچھ نم، چند گیسیں اور بس ایسی ہی چند اور چیزیں جن کی مجموعی قیمت چند روپوں سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ چیزیں جتنے جتنے وزن کے ساتھ آدمی کے جسم میں شامل ہیں، اتنے ہی وزن کے ساتھ انہیں لے لیجئے اور جس طرح جی چاہے ملا کر دیکھ لیجئے۔ آدمی کسی ترکیب سے نہ بن سکے گا۔ پھر کس طرح آپ کی عقل مان سکتی ہے کہ ان چند بے جان چیزوں سے دیکھتا، سنتا، بولتا، چلتا پھرتا انسان، جو ہوائی جہاز اور ریڈیو بناتا ہے، کسی کاریگر کی حکمت کے بغیر خود بخود بن جاتا ہے؟

کبھی آپ نے غور کیا کہ ماں کے پیٹ کی چھوٹی سی فیکٹری میں کس طرح آدمی تیار ہوتا ہے؟ باپ کی کارستانی کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ ماں کی حکمت کا اس میں کوئی کام نہیں۔ ایک ذرا سی تھیلی میں دو کیڑے جو خوردبین کے بغیر دیکھے تک نہیں جا سکتے، نہ معلوم کب آپ میں مل جاتے ہیں۔ ماں کے خون ہی سے ان کو غذا پہنچنی شروع ہو جاتی ہے۔ وہیں سے لوہا، گندھک، فاسفورس وغیرہ تمام چیزیں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے ایک خاص وزن اور خاص نسبت کے ساتھ وہاں جمع ہو کر لوتھڑا بنتی ہیں۔ پھر اس لوتھڑے میں جہاں آنکھیں بننی چاہئیں وہاں آنکھیں بنتی ہیں، جہاں کان بننے چاہئیں وہاں کان بنتے ہیں، جہاں دماغ بننا چاہیے وہاں دماغ بنتا ہے، جہاں دل بننا چاہیے وہاں دل بنتا ہے…. ہڈی اپنی جگہ پر، گوشت اپنی جگہ پر، غرض ایک ایک پرزہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک بیٹھتا ہے۔ پھر اس میں جان پڑ جاتی ہے۔ دیکھنے کی طاقت، سننے کی طاقت، چکھنے اور سونگھنے کی طاقت، بولنے کی طاقت، سوچنے اور سمجھنے کی طاقت اور نہ جانے کتنی بے حد و حساب طاقتیں اس میں بھر جاتی ہیں۔ اس طرح جب انسان مکمل ہو جاتا ہے تو پیٹ کی وہی چھوٹی سی فیکٹری جہاں نو مہینے تک وہ بن رہا تھا خود زور کر کے اسے باہر دھکیل دیتی ہے۔ اس فیکٹری سے ایک ہی طریقے پر لاکھوں انسان روز بن کر نکل رہے ہیں۔ مگر ہر ایک کا نمونہ جدا ہے۔ شکل جدا، رنگ جدا، آواز جدا، قوتیں اور قابلیتیں جدا، طبیعتیں اور خیالات جدا، اخلاق اور صفات جدا۔ ایک ہی ماں کے پیٹ سے نکلے ہوئے دو سگے بھائی تک ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ یہ ایک ایسا کرشمہ ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس کرشمے کو دیکھ کر بھی جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ کام کسی زبردست حکمت والے زبردست قدرت وال، زبردست علم اور بے نظیر کمالات والے خدا کے بغیر ہو رہا ہے یا ہو سکتا ہے، یقینا اس کا دماغ درست نہیں اس کو عقل مند سمجھنا عقل کی توہین کرنا ہے۔ کم از کم میں تو ایسے شخص کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ کسی معقول مسئلے پر اس سے گفتگو کروں۔”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: