سیاسی منافقت، سینٹ الیکشن، جمہوریت اور نواز شریف ۔۔۔ سراج احمد تنولی

0
  • 50
    Shares

دوستو ! ہماری سیاست میں در اصل منافقت کوٹ کوٹ کے بھری پڑی ہے حد نگاہ منافقت کے چمپئن نظر آتے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والے خود ہی اپنے سگے بھائی شہباز شریف کو بلا مقابلہ پارٹی کا صدر منتخب کروا دیتے ہیں۔ ایسی پارٹی جو خود کو جمہوریت پسند سمجھے وہ ایک ایسا بندہ تیار نہ کر سکے جو نواز شریف کا جان نشین بن سکے وہ کیا خاک جمہوریت کی بقا کی جنگ لڑیں گے۔

عمران خان جو اپنی ہر تقریر میں زرداری کو بیماری کہتے ہوئے نہیں کتراتے تھے آج وہ زرداری کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئے جو کہتے تھے زرداری کا ساتھ دینا ایسا ہے جیسے اپنی بیس سالہ محنت کو ضائع کرنا ہے۔

جماعت اسلامی بھی صوبائی حکومت میں وزارتوں کے مزے لوٹ رہی ہے مگر سینٹ میں ووٹ ن لیگ کو دینا کیا منافقت نہیں؟؟

کہتے ہیں سیاست بے رحم ہوتی ہے کسی پر ترس نہیں کھاتی، سیاست میں شائد منافقت کو منافقت نہیں سمجھا جاتا یہاں سب جائز ہے۔ یہاں نظریئے کو بیچنے والا بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ یہاں نظریئے کو فروخت کرنے کے لیئے منڈیاں لگانے میں بھی کوئی عار نہیں۔ یہاں انتخابات میں جیتنے کے بعد پانچ سال میں عوام کے لئے کچھ نہ کر کہ پھر منہ اٹھا کے چلے آنے میں بھی کوئی عار نہیں۔ یہاں بار بار عوام سے جھوٹ بولنے میں بھی کوئی عار نہیں، عوام کے پیسے سے عیاشی کرنے میں بھی کوئی عار نہیں۔ کس کس برائی کا ذکر کروں کہنے کو بہت کچھ ہے مگر یہاں کچھ سینٹ کے انتخابات کا تذکرہ کئے جاتے ہیں۔ سینٹ کے انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ ن لیگ اکثریت میں ہونے کے باوجود بھی الیکشن ہار گئی۔ اپوزیشن کی جانب سے شطرنج کی ایسی چال چلی گئی کہ حکمران جماعت اس میں لپیٹ دی گئی اس سے سیاسی شطرنج کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے سینٹ کے انتخابات میں بری طرح شکست یقینی طور پر ن لیگ کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی سیاست مفاہمت پر ہے۔ ان کے سیاسی کیریئر میں اصولوں کی سیاست نام کی کوئی شے نہیں، جنھوں نے ہمیشہ ممکنات کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے، بہر کیف وہ پوری شاطر دماغی سے اس میں کامیاب ہوئے۔ ن لیگ اپنا سینٹ کا الیکشن تب ہار چکی تھی جب بلوچستان کے اندر لیگی صفوں میں بغاوت کی بو آئی تھی جو پھیلتی گئی مگر ن لیگ اسے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئی۔ اس بغاوت کا نتیجہ اب جا کر ن لیگی قیادت کو سمجھ آیا کچھ اسی طرح کا کھیل صوبہ سندھ میں بھی ہوا۔ ایم کیو ایم کے ساتھ سب کچھ وہی ہوا جو بلوچستان میں ن لیگ کے ساتھ ہوا۔ 50ارکان اسمبلی میں ہوتے ہوئے مخض ایک ہی سینیٹر منتخب کروا سکے۔ اس پورے کھیل میں پاکستان تحریک انصاف کو بھرپور فائدہ حاصل ہوا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اکثریت کے ہوتے ہوئے بھی اپنا سینٹ چیئرمین نہ لا سکی۔ پی ٹی آئی کی بھر پور کاوشوں سے پاکستان کے سب سے چھوٹی آبادی والے صوبے کا سینٹ چیئرمین بننا وفاق کو مزید مضبوط کرنے کی علامت تصور کیا جائے گا۔ لازم نہیں کہ یہ دونوں جماعتیں عام انتخابات میں بھی آپس میں اتحاد کریں۔ اگر ان کے اتحاد سے پاکستانی جمہوریت کو مزید فائدہ ہو سکتا ہے تو اس بارے میں عمران خان کو اپنی حکمت عملی پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔

اگر ہم نواز شریف کی موجودہ حالت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ وہ اپنے مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ نواز شریف سمجھ چکے تھے کہ انہیں مقبولیت اور اکثریت ہی بچا سکتی ہے اس لیئے انھوں نے جلد بازی کی اور عوامی عدالت میں خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی اور عدلیہ اور فوج پرتنقید کرنی شروع کی۔ اگر ان کی حالیہ سیاسی حکمت عملی کو سمجھا جائے تو اس میں سر فہرست ان کی عدلیہ پر بے جا تنقید ہے اور دوسرا قبل از وقت اپنی مقبولیت اور پالیسی کو سب کے سامنے عیاں کرنا تھا۔ نواز شریف ہمیشہ غصے میں بہت جلدی کر دیتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کو یوں جرنیلوں اور عدلیہ پر تنقید نہیں کرنی چاہئے ورنہ آگے بہت نقصان اٹھانا پڑے گا جس کی اب ن لیگ متحمل نہیں ہو سکتی۔

تمام سیاسی جماعتیں سمجھ چکی تھیں کہ نواز شریف خود کو بچانے کے لئے شخصی ترامیم اور عدلیہ کے حوالے سے ترامیم کرنا چاہتے تھے مگر اپوزیشن نے اسے ناکام بنا دیا جو اب وہ کبھی نہیں کر سکتے۔

اگر سیاست میں آمرانہ سوچ رکھنے والوں کی جانب سے یہی سب کچھ جمہوریت کے نا م پر چلتا رہا تو غریب عوام کے حصے میں غربت، بھوک ننگ اور لاچاری ہمیشہ کی طرح پروان چڑھے گی۔ خدارا پاکستان پر رحم کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: