سینیٹ الیکشن ایک نئے بیانیے کی بنیاد: ثمینہ رشید

0
  • 57
    Shares
جس سینیٹ کے الیکشن کی دھوم کئی ماہ سے جاری تھی آخرکار وہ ایک ہنگامہ خیزی کے بعد اختتام کو پہنچے۔ پاکستان کی تاریخ میں سینیٹ کے کسی الیکشن کو شاید ہی اتنی توجہ نصیب ہوئی ہو یا زیر بحث لایا گیا ہو جتنا کہ اس مرتبہ یہ اہمیت حاصل ہوئی۔
خان صاحب نے اپنی سیاست کی اب تک کی بہترین چال سے سینیٹ کے الیکشن کا رخ ہی موڑ دیا تھا۔ بلوچستان سے سینیٹ چئیرمین کے لئے حمایت کا اعلان کرکے انہوں نے زرداری کو بھی اپنے نمائندے سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیا۔ اور انہیں عمران خان کی بلوچستان سے سینیٹ چئیرمین لانے کی پالیسی کی حمایت کرنا پڑگئی۔ نتیجتا اپوزیشن کے مشترکہ حمایت یافتہ صادق سنجرانی ستاون ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

بظاہر یہ اتنا آسان معلوم نہ ہوتا تھا اور ووٹ کی گنتی ہونے تک یہ فیصلہ ایک سرپرائز تھا۔  عمران خان کے لئے اس فیصلے کے بہت سے مثبت ثمرات ہیں۔ انہوں نے اس عمل سے بلوچستان کے لوگوں کے دلوں میں نہ صرف ایک اچھا امیج بنالیا ہے بلکہ ایک طرح سے آنے والے الیکشن کے کمپئین کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔ بلوچستان کی سیاست اور زمینی حقائق مختلف ہیں اور اس کا ادراک کرتے ہوئے تحریک انصاف ان کے لئے انتخابات میں ایک نیا  اور روایتی سیاستدانوں سے ہٹ کر تیسرا آپشن ثابت ہو سکتی ہے ۔ گو کچھ کہنا شاید  قبل از وقت ہو لیکن لوگوں کی جانب سے اس تیسرے آپشن کو خوش آمدید کہا جاسکتا ہے۔

اس الیکشنز کے نتیجے کے دو واضح اثرات ہیں
اس کا ایک اثر تو یہ ہے کہ جس نئے بیانئیے کا آغاز میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ کی ناکام ریلی سے کیا تھا اور جس کے بارے میں تقریبا اسی فیصد تک میڈیا، صحافیوں اور دانشوروں کا ماننا تھا کہ نیا بیانیہ تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور میاں صاحب اداروں سے براہ راست تصادم کی پالیسی کے زریعے ایک مومینٹم بناچکے ہیں اور مسلم لیگ نون کو مستقبل میں اس کا بہت فائدہ پہنچے گا وغیرہ وغیرہ۔

سینیٹ کے اس الیکشن کے نتائج نے اس غبارے کی ہوا نکال دی ہے اورِ وہ  زمین بوس ہوچکا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مومینٹم کا شور زیادہ تر پروپیگنڈے پر مبنی تھا اور اس کی کوئی منطقی بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے اس کا پردہ آج نہیں تو کل بہرحال چاک ہونا تھا لیکن سینیٹ کے الیکشن کے نتائج نے یہ کام بہت جلد اور آسانی سے کردیا ہے۔ تین ماہ سےایک پروپیگنڈہ تو یہ تھا کہ سینیٹ کے الیکشن ہونگے ہی نہیں۔ حتی کے سنئیر وفاقی وزرا اور کابینہ کے ارکان تک نے یہ بیان دیا کہ سینیٹ کے الیکشن ہوتے نظر نہیں آتے اور یہ کہ ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے۔

سینیٹ کے انتخابات ہوئے اور وقت پر ہوئے لیکن حکومت کے جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ بخوبی سامنے آئی ۔ شاید حکومت پر اپنا انجام نوشتۂ دیوار کی طرح واضح تھا اسلئے انہوں نے سینیٹ کے الیکشن سے پہلے ہی رضا ربانی کا نام لے کر خود کو بیک فٹ پر کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ الیکشن: جمہوری مروڑ اور علاج: شہزاد صدیقی

 

تیرہ مارچ کر جنرل ورکرز کنونشن میں شہباز شریف کے بلامقابلہ منتخب ہونے کی تقریب میں میاں نواز شریف کا شکست خوردہ لہجہ اس بات کا غماز تھا کہ ان کا بیانیہ منہ کے بل گر چکا ہے ان کی مایوسی اور رنجیدہ لہجہ چھپائے نہیں چھپ رہا تھا ۔ پانامہ کیس کے حوالے سے کیئے گئے غلط فیصلے اور ٹی آر اوز پر ہٹ دھرمی کا نتیجہ اسقدر خطرناک ہوسکتا ہے یہ شاید نواز شریف نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ لیکن وقت کسی کا نہیں ہوتا ۔تاریخ شاہد ہے کہ اقتدار کی بھول بھلیوں پر واپسی کا سفر مشکل اور تکلیف دہ ہی ہوا کرتا ہے ۔

ایوان بالا کے انتخابات کے نتائج کا دوسرا اہم اثر یا پہلو تحریک انصاف کو ملک کی سیاست میں مرکزی حیثیت کا حاصل ہونا ہے۔ اس وقت صرف تیرہ ووٹ رکھنے والی تحریک انصاف اپنی سیاسی حکمتِ عملی سے نہ صرف خود کو فرنٹ فٹ پر کھیلنے کی پوزیشن میں لے آئی ہے بلکہ ایک ایک ایسی جماعت بن کر ابھری ہے جو آئندہ الیکشن میں وفاق کی علامت ہوگی ۔ جس کے نمائندے بلاشبہ چاروں صوبوں میں ہونگے ۔ دو ہزار تیرہ میں پنجاب سے پہلی مرتبہ نون لیگ کو چیلنج کرنے والی اور بغیر مضبوط حکمت عملی اور روایتی داؤ پیچ کے تیس کے قریب نشستیں جیتنے والی واحد جماعت تحریک انصاف تھی۔

پانچ سال کے تجربے کے بعد اس الیکشن کے نتائج اور آنے والے دنوں میں شریف فیملی کے حوالے سے کورٹ کیسزکے فیصلوں سے تحریک انصاف کو پاکستان کی سیاست میں عموما اور پنجاب کی سیاست میں خصوصا  تقویت حاصل ہوگی۔ ہمدردی کی بنیاد پر ووٹ کی امید رکھنے کی خواہش مند نون لیگ کو اس مرتبہ ہمدردی کی بنیاد پر یہ ٹارگٹ حاصل کرنا بالکل آسان نہیں ہوگا۔

سینیٹ کے الیکشن کے نتائج سے پنجاب کے الیکٹیبلز کو ایک طرح کا ریڈ الرٹ مل گیا ہے۔  آنے والے چند ہفتوں میں پنجاب سے الیکٹیبلز کا نون لیگ سے علیحدہ ہونا بعید از قیاس نہیں۔

لیکن اس سے زیادہ روشن پہلو اس مومینٹم کا آغاز ہے جو عمران خان کی نئی حکمت عملی سے وجود میں آیا ہے اور اپنی جگہ بنارہا ہے۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے شہروں میں ممبر سازی کی کمپئین پر شاندار ریسپانس اس بات کا مظہر ہے کہ جس مومینٹم کی بنیاد ملک کے اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر رکھی گئی تھی  اسکو ایک خاص وقت کے بعد اسی طرح زمین بوس ہوجانا تھا ۔ جس طرح نواز شریف کے بیانیہ زمین بوس ہوچکا ہے۔ اور اصل بیانیہ وہی ہوگا جس کی بنیاد ملک اداروں کی مضبوطی ،ملک کی سالمیت ، قانون کی حکمرانی ، انصاف کی فراہمی اور چیک اینڈ بیلنس پر یقین رکھنے سے ہو۔اس بیانئیے کا مومینٹم خود عوام تشکیل دیں گے اور اسکو عملی شکل میں نافذ کرنے کے لئے تحریک انصاف اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: