سہیل احمد خان کا ادبی جوہر تحریر : عزیز ابن الحسن

0
  • 207
    Shares

معروف مگر فراموش کردہ ادیب اور نقاد ڈاکٹر سہیل احمد خان کی نویں برسی کے موقع پر جناب عزیز ابن الحسن نے بھرپور انداز میں انکی شخصیت اور فن پہ یہ مضمون دانش کے قارئین کے لئے تحریر کیا ہے۔


ڈاکٹر سہیل احمد خان کی زندگی میں، اور ان کے انتقال کے بعد بھی مجھے اپنے کچھ احباب سے یہ سوال اکثر سننا پڑا کہ آخر اردو ادب میں سہیل صاحب کی حیثیت کیا ہے؟ بطور شاعر یا بطور نقاد انہوں نے آخر کون سا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کے حوالے سے انہیں ماضی قریب کی ایک مختلف ادبی شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا؟ میں نے اس سوال کا جب بھی سامنا کیا تو یقین جانیے کہ ادبی تنقید و تاریخ اور مسائل و افکار کی دنیا سے قدرے غیرمتعلق شخص کے طور پر مجھے اس کا کوئی فوری جواب نہیں سوجھتا۔ بات تو درست ہے، واقعی سہیل صاحب نے آخر کیا ہی کیا ہے؟

چلیے بات کا سرا یہاں سے پکڑتے ہیں کہ وہ ادب کے ایک بہترین استاد تھے، مگر اس پہلو پر بات کرنے کا مجھے یوں کوئی خاص حق نہیں پہنچتا کیونکہ مجھے ان کے سامنے باقاعدہ زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا کبھی کوئی موقع نہیں ملا۔ وہ کیسے استاد تھے، اس کے بارے میں میرے کچھ اندازے ضرور ہیں کیونکہ مجھے سہیل صاحب سے باتیں کرنے اور ان کی گفتگو سننے کا تھوڑا بہت موقع ملا ہے اور پھر ان کے باقاعدہ شاگردوں سے میں مسلسل اس بارے میں تفتیش بھی کرتا رہا ہوں اور میرا حاصلِ تفتیش ہمیشہ میرے تأثر اور اندازے کے مطابق رہا، اس پہلو پر بعد میں آؤں گا۔ سرِدست بنیادی سوال یہ ہے کہ سہیل صاحب کی ادبی شخصیت کا امتیازی جوہر کیا ہے؟

1987ء میں لاہور کی ادبی دنیا سے جب میرا پہلے پہل سابقہ پڑا اور میں جن حوالوں سے اس دنیا سے متعارف ہوا وہاں بالعموم سہیل صاحب کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں پائی جاتی تھی۔ اس سے کچھ عرصہ قبل پاکستان ٹیلی وژن کے ایک پروگرام میں جس کے شرکائے گفتگو احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹرسہیل احمد خاں اور سراج منیر تھے، میں جب میں نے انہیں پہلے پہل دیکھا اور سنا تھا، میرا تأثر اپنے طور پر بھی کوئی خاص اچھا نہیں تھا۔ چونکہ کسی بھی شے کے بارے میں میرا پہلا تأثر بالعموم اور لازماً درست نہیں ہوتا اس لیے میں اپنی پہلی رائے کو کبھی حتمی نہیں سمجھتا اور اسے جانچتا آنکتا رہتا ہوں، لہٰذا اس صورتحال کے باوجود سہیل صاحب کے بارے میں مجھے ہمیشہ ٹوہ رہی کیونکہ ان کی شخصیت میں کچھ نہ کچھ ایسا تھا ضرور جس کی وجہ سے انہیں بے توجہ نہیں گذارا جاسکتا تھا۔

پس میں نے پاک ٹی ہاؤس اور حلقۂ اربابِ ذوق لاہور کی محفلوں میں انہیں قریب و دور سے دیکھنے اور ملتے جلتے رہنے کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیا اور مجھ پر آہستہ آہستہ کھلا کہ ان کے بارے میں میرے بعض ابتدائی تأثرات، خواہ ان کی بنیاد دید ہو کہ شنیدہ، غلط ہیں اور میں غیرمحسوس طور پر ذہناً ان کے قریب ہوتا چلا گیا۔ لیکن ٹھہریے یہ بات پوری درست نہیں ہے۔ یہ ذہن بھی بڑی عجیب شے ہے۔ اس کے بے شمار پہلو ہوتے ہیں۔ پوری طرح درست بات یہ ہے کہ میرے ذہن کے کچھ گوشے ان سے قرب محسوس کرنےلگے اور کچھ کے اندر کشمکش اور سوالات جنم لینے لگے۔ آہستہ آہستہ میں نے ان ‘‘گوشہ ہائے کشمکش’’ کی ایک پوٹلی باندھ کر الگ رکھ دی اور گوشہ ہائے طمانیت کو وا کرکے ان سے ملتا رہا۔

1988-89ء کی بات ہےہم نے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر پروگرام پنایا کہ سہیل صاحب سے نئی نظم کے بارے میں کچھ باقاعدہ طریقے سے سیکھنا چاہیے۔ پاک ٹی ہاؤس کے سامنے طارق زیدی کے اوطاق میں یہ تدریس کی محفل ہوئی اور نصاب کے طور پر ن۔ م۔ راشد کی نظم ‘‘سبا ویران’’ کا انتخاب ہوا جو سہیل صاحب ہی نے کیا تھا۔ ایک آدھ نشست ہی میں اس نظم، بلکہ ن۔ م۔ راشد کی شاعری، بالعموم پوری نئی شاعری اور بالخصوص نظم کی شاعری سے میرا تو حشؔ بڑی حد تک کم ہو گیا۔ انہوں نے یہ نظم ہی نہیں پڑھائی بلکہ ان حالات و مسائل کی گرہ کشائی بھی کردی جنہوں نے نئے ادب کو جنم دیا تھا۔ نظم کی شاعری کے اسباق کا یہ سلسل شاید دو چار نشستوں سے آگے نہ بڑھ سکا تھا مگر اس دوران میرے لیے سہیل صاحب کی ادبی شخصیت کے بنیادی جوہر کی تعین کا مسئلہ حل ہوگیا۔

ہماری ادبی تنقید میں لسانیات کےSynchronic اور Diachronic مباحث اور ساختیات و پس ساختیات کا غلغلہ تو بہت بعد میں جا کر کہیں اس وقت مچا جب یہ تصورات داخلِ فیشن ہوگئے، محمد حسن عسکری کے دورآخر کے ادبی تصورات میں ان مسائل کا احساس ان اصطلاحات و عنوانات کے ذکر کے بغیر بھی آتا رہا ہے۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا کہ ان کے نزدیک ادبی و فکری معاملات ماقبل اور مابعد کے اَدوار کی صورت میں نہیں بلکہ سب کچھ ‘‘ہمہ وقت موجود’’ کی صورت میں ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خیالات جو فلسفیوں کے لیے ‘‘یکے بعد دیگرے’’ کی شکل میں ہوتے ہیں ان کے ادبی تجربات میں ‘‘بیک وقتٗ ٗ موجود رہتے ہیں۔ (۱) اس بات کا سہیل صاحب کے ادبی جوہر سے کیا تعلق ہے؟

اس امر میں زیادہ بحث و تمحیص کی گنجائش نہیں کہ سہیل صاحب کے ادبی رجحانات کی تعمیر عسکری کے ادبی تصوّرات کے زیرِاثر ہوئی تھی۔ عسکری کی تنقیدی فعالیت کا ایک خاص پہلو اپنے زمانے کے جدید ترین تصوّرات، مباحث، مسائل اور میلانات سے بیچ منجدھار کے نبردآزما رہنا تھا۔ ان کے اندر مختلف اور متضاد فکری لہروں کو آپس میں جوڑ کر دیکھنے اور حیرت انگیز نتائج اخذ کرنے کی جو صلاحیت تھی وہ ان کی اس مخصوص حسیت کی بنا پر تھی جو ایک طرف تو مجرّد فکری مسائل کو ادبی تجربے کی کٹھالی میں گھول دیتی تھی اور دوسری طرف گذشتہ و آئندہ کے مسائل و حوادث کو لمحۂ موجود کے تصوّر سے غافل نہیں ہونے دیتی تھی۔ عسکری کی ادبی حسیت کے یہی دو پہلو ہیں جن کے حوالے سے سہیل صاحب کا ادبی جوہر تشکیل و تعیین کے مراحل سے گزرا ہے۔

سہیل احمد خان کی ادبی شخصیت کا منفرد ترین پہلو ایک تو ان کی ادبی حسیت ہے جس نے انہیں تازندگی ادب اور صرف ادب سے وابستہ رکھا اور دوسرے نئے ادبی طرزِ احساس اور شعور سے وابستگی جس نے انہیں ایک ‘‘علم ناک نقّاد’’ بننے کی یبوست سے محفوظ رکھا۔

میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ عسکری کے ادبی طرزِ احساس کی یہ ہمہ گیری، پہنائی اور وسعت، اپنے ان تمام مضرات کے ساتھ، جسے عسکری کی تنقید کہیں، سہیل صاحب کو بھی حاصل تھی مگر میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک طرف تو مجرّد ادبی و فکری مسائل کو ادبی تجربے کے اندر رہ کر دیکھنے، سمجھنے اس سے محفوظ ہونے اور ادبی اسلوب ہی میں اسے بیان کرنے اور دوسرے لمحۂ موجود اور حاضرت وقت ادبی مسائل سے باخبر رہ کر ان سے جڑے رہنے اور ان کی تعبیر نو کرنے کے اعتبار سے سہیل صاحب ایک منفرد لکھنے والے تھے۔ اس پسِ منظر میں اب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ سہیل احمد خان کی ادبی شخصیت کا منفرد ترین پہلو ایک تو ان کی ادبی حسیت ہے جس نے انہیں تازندگی ادب اور صرف ادب سے وابستہ رکھا اور دوسرے نئے ادبی طرزِ احساس اور شعور سے وابستگی جس نے انہیں ایک ‘‘علم ناک نقّاد’’ بننے کی یبوست سے محفوظ رکھا۔ یہ دونوں خوبیاں اس اعتبار سے ایک ہی ہیں کہ ان کی مخصوص ادبی حسیت ان کے جوہر ذاتی کی متعین کردہ ہے جس کا عملی اظہار انہوں نے اپنے دور کے حاضر وقت ادبی مسائل سے وابستہ رہ کر گیا۔ ان کی یہی ادبی حسیت تھی جس کی بنا پر وہ ہمیشہ اپنے دور کے، لاہور سے لے کر کراچی تک، ہر قابل ذکر ادیب، نقّاد اور شاعر کے جلو میں نظر آتے تھے جس کا آج جدید ادب میں کوئی مقام ہے۔

جب میں سہیل صاحب کے دور کے ادبی مسائل اور جدید ادبی حسیت کی بات کرتا ہوں تو یہ خطرہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بعض حلقوں کی طرف سے مجھے فوراً اسلوبیات، لسانیات، ساختیات، پسِ ساختیات، مرگِ (منشائے) مصنّف، قاری اساسیت، متن کی لامحدودیت، تانیثیت، گلوبلائزیشن، مابعداستعماریت، مابعد جدیدیت اور سب سے بڑھ کر پیراڈائم شفٹ جیسی ‘‘مصطلحاتی تنقید’’ سے مجموعہ سہیل احمد خان کے خالی ہونے کا طعنہ سننا پڑے گا۔ ہاں واقعی! سہیل صاحب کے ہاں یہ ‘‘پیراڈائم شفٹ’’ کا سانحہ نہیں ہوا مگر سہیل صاحب کے ہاں جو کچھ ہوا وہ کیا ہے؟

اصل میں سہیل صاحب کا پیراڈائم نئے ادب، ترقی پسند ادب، جدیدیت اور لسانی تشکیلات کے دور کا تھا لیکن سچ پوچھیے تو اس دور کا بھی کہاں تھا۔ ان کی ساری تنقیدی سرگرمیوں کا نقطۂ ماسکہ عالم گیریت، کثرتیت اور اس طرح کے دیگر ادب نما مسائل کے درمیان کسی نقطۂ وحدت کی تلاش تھا۔ اشیا تصوّرات کی ظاہری، ارضی سطح سے اوپر یا نیچے کچھ تلاش کرنے کی خواہش سے ان کو خاص سروکار تھا۔ ظاہری سطح سے اوپر اٹھنے یا نیچے اترنے کے لیے انہوں نے جس روزن کا انتخاب کیا وہ ان کی تمام ادبی سرگرمیوں کا مرکزی اصول ہے۔ اس کا نام علامتیت یا رمزیتSymbolism ہے۔
مرکزی اصول کی تلاش اور علامتیت! بات اگر صرف اسی حد تک ہو تو یہ سہیل صاحب کی نہ انفرادیت تھی نہ وجۂ شرف! ان کے اکثر معاصرین اس حوالے سے کچھ نہ کچھ کہہ لکھ رہے تھے۔ سہیل صاحب نے علامتی طرزِ اظہار کی تعبیر جس مرکزی اصول کے تحت متعین کرنے کی کوشش کی اس کی سب سے بڑی امتیازی خصوصیت اس کا ‘‘غیرشخصی پن’’ تھا۔ آج جبکہ ہر ایک کے پاس علامت کا ایک ذاتی و شخصی نظریہ موجود ہوتا ہے۔ سہیل صاحب کے تصوّرِ علامت کا امتیاز یہ ہے کہ ان کے ہاں علامت کا مفہوم انفرادی و شخصی نہیں، شعوری و لاشعوری بھی نہیں بلکہ ان معنی میں اجتماعی لاشعوری بھی نہیں کہ اجتماعی لا شعور کے قائلین عموماً جس اسطوریات پر اجتماعی لا شعور کی بنیاد رکھتے ہیں وہ ارضی و ثقافتی مظاہر سے ماخوذسمجھا جاتا ہے۔ جبکہ سہیل احمد خان جس تصوّرِ علامت کے نمائندہ ہیں وہاں علامت عالمِ طبعی سے آگے مابعدالطبیعیاتی عوالم تک جاتی ہے۔

مارٹن لنگز نے اپنی کتاب Symbols and Archetypes میں قدیم حکمت و دانش کی روشنی میں علامتیت (Symbolism) اور اس کی تعمیر کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ روایتی دانش میں علامت خودکفیل متصوّر نہیں ہوتی تھی بلکہ خود سے ماورا کسی اور عالم کے اظہار کا وسیلہ تھی۔ وہ عالم جو اپنی اصل میں ناقابل اظہار ہے، اس کے متعلقات کو حیطہ اظہار میں لانے کے لیے کسی ایسے وسیلے کی ضرورت پڑتی ہے جو ادراک کے لیے قریب الفہم بھی ہو اور حواس کے لیے جمالیاتی معنویّت بھی رکھتا ہو۔ اس ناممکن الاظہار عالم کو ‘‘عین’’ (Archetypes) اور وسیلۂ اظہار کے طور پر استعمال ہونے والے جمالیاتی پیکر کو ‘‘علامت’’ (Symbol) کہا جاتا ہے۔ (2) یہ تو ہوا علامتیت کا قدیم روایتی نظریہ جسے دنیا کی ہر اس تہذیب میں سند قبولیت کا درجہ حاصل تھا جو عالمِ نفس و ناسوت سے اوپر کسی اور عالم کے اثبات پر اپنی بنا رکھتی ہے۔ ایسی تہذیب میں علامتیں شخصی و ذاتی نہیں ہوتیں بلکہ معروضی و آفاقی ہوتی ہیں۔ اور ان کی شناخت اورمعنویّت پر بالعموم اتفاق ہوتا ہے اس لیے ان کے ابلاغ میں کوئی ابہام نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس جدیدیت پسند علامت نگاری کا بھی ایک نظریہ ہے جسے غیرروایتی یعنی موجود مغربی تہذیب نے جنم دیا ہے۔ اس تہذیب اور اس میں پیدا ہونے والے ادب و فن میں علامتوں کا منبع عالمِ نفس سے باہر نہیں ہوتا بلکہ وہ فن کار کی ذاتی اُلجھنوں، نفسی و ذہنی اختلال اور مریضانہ اعصاب زدگی سے پھوٹتی ہیں۔ ان کا خالق انہیں انتہائی شخصی مفہوم میں استعمال کرتا ہے۔ وہ اگر کوئی اسطورہ (Myth) بھی تخلیق کرتا ہے تو اسے بھی کسی بڑےنظام علم اور عالم سے کاٹ کر ایک ‘‘ذاتی’’ کائنات کا بیان بنا دیتا ہے، لہٰذا ان کی تفہیم اور جمالیاتی معنویت کے حوالے سے طرح طرح کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مجھے احساس ہے کہ میں علامت نگاری کے حوالے سے کچھ زائد از ضرورت سادہ بیانی کا مرتکب ہو رہا ہوں لیکن آسان اورقابل فہم لفظوں میں بات کچھ ایسی ہی ہے۔

سہیل احمد خان کے تمام تحریری سرمائے پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے ہاں یا تو واضح اور کھلے طور پر علامت کے عنوان کے تحت اشخاص و مسائل کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ ان اصلاحات و لفظیات کے ادبی معاملات کی تعبیر کی گئی ہے جو کسی نہ کسی صورت میں رمزی معنویّت کی حامل ہیں مثلاًان کی کتابوں کے عنوان ہی دیکھئے ‘علامتوں کے سرچشمے، اور ‘داستانوں کی علامتی کائنات، تو بڑے واضح عنوانات ہیں۔ اور پھر ‘طرزیں’، ‘طرفیں’، ‘تعبیریں’ وغیرہ کے عنوانات ہیں جن کی رمزیت محتاجِ تشریح نہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں جو مطالعات کیے ہیں ان کا بڑا حصّہ علامت نگاری کی معنویّت، تعبیر اور تفہیم پر مشتمل ہے۔ مجموعہ سہیل احمد خان کی پہلی کتاب ہی میں ہمیں ان کا یہ جملہ نظر آتا ہے کہ ‘‘پچھلے چند برسوں سے علامتوں کا مسئلہ میری ادبی اور تنقیدی کاوشوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ’’ وہ سوال کرتے ہیں کہ ‘‘یہ علامتیں آٓتی کہاں سے ہیں۔ ’’ اس سلسلے میں جدید ادیبوں اور دانش وروں کے ہاں جو گھڑے گھڑائے جواب ہوتے ہیں وہ ان کی رد و قدح کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اصل میں علامتیں وجود کی جملہ سطحوں سے مربوط ہوتی ہیں کیونکہ ان کے ذریعے ہم وجود کی اعلیٰ سطحوں کا ادراک کر سکتے ہیں۔ (3)

علامت کا یہ تصوّر کسی ذاتی تصوّرِ علامت سے ماخوذ نہیں بلکہ روایتی دانش سے آیا ہے جہاں علامت صرف اپنے ‘‘عین’’ سے چھوٹی مگر ‘‘ہم’’ یعنی فنکار سے اس معنی میں بڑی ہوتی ہے، اس کا سرچشمہ اس کے ذاتی شعور، لاشعور بلکہ ارضی ثقافتی تصورِ اساطیر پر مبنی اجتماعی لاشعور تک میں نہیں ہوتا بلکہ اعلیٰ مراتب وجود میں ہوتا ہے۔ وہاں سے آغاز ہو کر یہ علامتیں وجود کے اسفل مراتب تک ایک ربط نہانی رکھتی ہیں۔

سہیل صاحب لکھتے ہیں کہ:

‘‘علامتوں کا یہ روایتی اور حقیقی تصوّر فی زمانہ بے حد نامقبول ہے۔ روایتی علامتوں کے معانی گم ہوچکے ہیں اور ان کی بعض کٹی پھٹی شکلیں باقی رہ گئی ہیں۔ ’’ (4)

انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آج کے شعر و ادب میں علامتوں کو ادیب کی ‘‘انفرادیت’’ سے وابستہ کردیا گیا ہے اور عموماً ایک ادیب کا تصوّر دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ (5) سہیل صاحب کو اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے علامتوں کا کوئی ذاتی اور انفرادی نظریہ پیش نہیں کیا بلکہ روایتی دانش کی روشنی میں اس کی تشریح کی ہے۔ سہیل صاحب نے خواہ شاعری پر لکھا ہو یا افسانہ، ناول اورداستان یا فکشن کی کسی اور صنف پر، انہوں نے ایک مربوط، مکمل تہذیب اور کائنات کا تصور ضرور سامنے رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے صرف انتظار حسین کے مطالعات ہی گواہی کے لیے ہیں۔ ‘‘طوفان، مچھلی اور کشتی’’(6) کے زیرِعنوان انہوں نے انتظار حسین کا جو تجزیہ کیا ہے وہ اُردو کی حد تک بے مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتظار حسین کی فنی و معنوی جہت کو اگر کسی نے پوری طرح کھولا ہے تو وہ عسکری کے دو شاگردوں نے۔ میری مراد ہے سہیل احمد خان اور سراج منیر ورنہ خود عسکری صاحب نے تو انتظار حسین کو کم و بیش اردو فکشن کے مرکز کے بجائے کنارے پر ہی رکھا تھا۔ اصل میں وہ عسکری کی اس جدیدیت کا زمانہ تھا جب وہ بھی جدید فنکاروں کی طرح علامت کو کسی بڑے پسِ منظر سے مربوط کر کے دیکھنے کے بجائے ایک شخصی پینترہ بازی ہی سمجھتے تھے۔ علامت اور اس سے متعلقہ مباحث کے بارے میں بعد میں انہوں نے جو نقطہ نظر اختیار کیا یہ اسی کا شاخسانہ تھا کہ عسکری یونگ کی نفسیاتی تعبیرات کے، خواہ وہ سمبل ازم کی تشریح ہی کے حوالے سے ہوں، سخت خلاف تھے۔

معروف نفسیات دان ڈاکٹر محمد اجمل جو عسکری کے گہرے دوست تھے، ہمیشہ فرائیڈ کے مقابلے میں یونگ کے زیادہ قائل رہے اور سہیل احمدخان جو ان دونوں کے نیازمند تھے، یونگ پر ایک عمدہ تعارفی کتاب لکھنے اور اسے فرائیڈ کے مقابلہ میں گہرا نفسیات دان سمجھنے کے باوجود علامت کے بارے میں اس کی تعبیرات کو، عسکری ہی کے تتبع میں، مابعدالطبیعیاتی مشمولات کو عالمِ ارضی و سفلی میں گھسیٹ لانے کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔

مضمون کے شروع میں میں نے سہیل صاحب کو جدید حسیت اور نئے ادبی طرزِ احساس کا نقّاد کہا تھا۔ سوال یہ کہ علامتی طرزِ احساس کی اس تعبیر کے ساتھ، جو جدید نقّادوں کو شاید قبول نہ ہو، سہیل صاحب جدید ادب میں کہاں فٹ بیٹھتے ہیں؟ اس کے جواب میں مجھے پھر ایک طویل تمہید باندھنی پڑے گی جس کا ارادہ فی الحال ترک کرکے میں صرف اتنا اشارہ کروں گا کہ سہیل صاحب اپنی دانش ورانہ معنویّت میں روایتی مگر اپنے حسی و ادبی طریقہ اظہار میں جدید نقّاد ہیں۔ اس لیے انہوں نے مطالعے کے لیے زیادہ تر معاصر شاعروں اور ادیبوں کو منتخب کیا ہے۔ مگر ان کی تعبیر جس نقطۂ نظر سے کی ہے وہ رمزی اور علامتی ہے۔ احمدمشتاق کا یہ شعر شاید انہیں کے حسبِ حال ہے:

اگرچہ دل وہی رجعت پسند ہے اپنا
مگر زبان ترقی پسند رکھتے ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: