سینٹ الیکشن اور ہماری سیاست کا گھناونا چہرہ : ثناء غوری

0
  • 250
    Shares

جی جناب تو وہی ہوا جس کا ہونے کا یقین تھا سینٹ انتخابات کا سلسلہ ختم ہوا اور آخر جو لوگ پیسے دے کر آئے تھے وہ اپنے پیسے وصول کرکے اپنی مستقبل کی زندگی کو محفوظ بنا گئے اور یوں سکھ اور شانتی سے اپنے راستے ہو لیے۔ خرید و فروخت کا گرم ہونے والا بازار ابھی بظاہر ٹھنڈا ہوتا نظر آتا ہے لیکن دراصل یہ اگلے الیکشن کے نتائج کا پیش خیمہ ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ہونے والی نئی ہل چل کی یہ شروعات ہے ظاہر ہے نون لیگ کی سیاست کو پہلا سیاسی روگ ملا اور وہ ہار گئے۔ راجا ظفر الحق کو چھیالیس ووٹ ملنا حیرت کی بات تھی۔ امید کی جارہی تھی کہ راجا صاحب پچاس ووٹ لیں گے اور ایک بہتر صورتحال سے خود کو منوالیں گے لیکن افسوس مسلم لیگ نون کے ووٹرز بری طرح انھیں دھوکہ دے گئے۔ اب یہ دھوکہ انھیں فاٹا سے ملا یا جے یوآئی نے دیا یہ تو رب ہی جانے۔ مسلم لیگ نون کو شکست ہوئی اوربڑے ایوان کی سب سے بڑی نشست صادق سنجرانی کے حصہ میں آئی۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ صادق سنجرانی صاحب کی بھرتی ہوئی ہے وہ قرار واقعہ منتخب ہوئے ہیں۔ جوڑ توڑ کی سیاست ہمیشہ سے ہی پاکستان کی سیاست کا خاصہ رہی ہے لیکن اس دفعہ اس جوڑ توڑ نے ایک نہایت عجیب موڑ مڑا۔ اب اِسے عجیب صورتحال کیجئے یا مسلم لیگ کو شکست دینا کا مشن لیکن اس کی شروعات کراچی سے ہوئی کراچی سے ہوتے ہوئے مشن بلوجستان پہنچا اور یوں سینٹ الیکشن پر ختم ہوا۔

پیپلزپارٹی اپنا کھیل کھیلنے میں کامیاب ہوئی اور کیوں نہ ہو زرداری صاحب سے اچھی ہارس ٹریڈنگ اس ملک میں کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔ صادق سنجرانی کے چئیرمین سیٹ منتخب ہونے پر عمران خان صاحب کا مبارک باد کا پیغام دینا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ یو ٹرن ماسٹر پہلے ہی اپنی تیرہ کی تیرہ سیٹیں آپ پر وار چکے تھے ایسے میں سینٹ میں گونجتی ایک زرداری سب پر بھاری کی صدا تو یقینی تھی۔ بہرحال اپوزیشن نے نون لیگ کو شکست سے دے دی ہے اور ساتھ ہی پیغام بھی اب وہ بہت جلد جنرل الیکشن کے موڈ میں ہے۔ جلد ہی نگراں حکومت کی بات ہوگئی اور پھر ایک نئی گہماگہمی منظر پر آئی گی۔ اس قوم کو تو پی ایس ایل میں الجھا دیا گیا ہے اس معصوم قوم کو کیا علم کے اس ملک کے ایوانِ بالا میں کیسے انوکھے کھیل کھیلے جارہے ہیں عوام بے خبر ہیں اور اسی بے خبری کے نتائیج وہ آئیدہ پانچ سال بھگتے گے۔ سیدھی سی بات ہے جب آپ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں اس کا مطلب آپ اپنے اصول تبدیل کرتے ہیں۔ اور یہ ہمارے کیسے لیڈر ہیں جن کی وفاداریا ں چند سکوں کے عوض تبدیل ہوجاتی ہے۔ درحقیقت سینٹ الیکشن ارکان ِ اسمبلی کے لئے عید کا موقع ہوتا جس میں اپنی انتخابی مہم پر خرچ کی جانے والی رقم وہ سود سمیت وصول کرتے ہیں۔ کیا ایسے لوگ اسمبلی میں بیٹھنے کا قابل ہیں! ہرگز نہیں لیکن یہ ہم عوام ہی ہیں جو ان لوگوں کو اپنا لیڈر رہنما بنا کر اپنے سروں کا تاج بناتے ہیں۔ آخر ان لیڈروںنے پاکستان کی عوا م کو بھوک افلاس، بے روزگاری، نفرت، تعصب اور خود خوکشی کے تحفے کے سوا دیا ہی کیا ہے۔ ناقص سڑکیں اور الیکشن سے پہلے سڑکوں کی تعمیر کو پورا کرنے کا سہرا اپنے سر پر سجانے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان ایک دوڑ لگی ہوئی اور اس دوڑ میں عوام صبح سے شام بد حالی میں جب گھر پہنچے ہیں تو نفسیاتی عوارض کی گٹھری اپنے سر پر سجائے ہوتے ہیں۔ اس میں کسی کا قصور نہیں اگر قصور ہے تو صر ف اور صرف اس ملک کی عوام کا جو یا تو ووٹ کے حق کو استعمال نہیںکرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو ان لوگوں کے لئے جو گدی فکس ہے کہ اصول کے تحت موروثی سیاست کی بین بجائے ہمارے سروں پر ناچ رہے ہیں۔

اس ملک کا مقدس ترین ادراہ سیٹ اب امیر طبقے کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ وہ ادرہ جو اپنی حیثیت کی وجہ سے ایوانِ بالا کہلاتا ہے آج امیر طبقے کا کلب بن کر رہ گیا ہے۔ جنھیں اس ملک کی عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دو کروڑ سے بتیس کروڑ تک سودے بازیاں ہوں گی تو پاکستان کی عوام کا کس کو خیال ہوگا۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دو ہزار ایک سے اب تک سینیٹ الیکشن میں بکاؤ سودے چل رہے ہیں، اور ابھی کی صورت حال یہ ہے کہ رواں سال سینیٹ کی خالی ہونے والی باون نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ الیکشن کمیشن جتنے بھی ضابطۂ اخلاق جاری کرلے پاکستان کے سیاست دانوں نے آخر وہی کیا جو وہ کرتے آرہے ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ ہماری سیاست پر بدنما داغ ہے، تمام اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر ہمارے سیاست داں جن کے ہاتھوں میں اس قوم کا مستقبل ہے، اس گھناؤنے فعل میں ملوث نظر آتے ہیں۔ کہیں کسی کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کہیں دو اہم رہنما آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔

یہ ساری صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے اور میرا قلم یہ لکھتے ہوئے شرمندہ ہے ہم بحیثیت قوم اخلاقی طور پر کس حد تک گر چکے ہیں کہ اب ایسی صورت حال ہمیں اس ملک کے مقدس ترین ایوان، ایوانِ بالا میں ہونے والے الیکشن میں نظر آئی۔ سینیٹ الیکشن کم ہمیں یہ خرید و فروخت کا بازار زیادہ نظر آیا۔ دولت کی چمک اپنا کام کر دکھاتی رہی اور ہمدریاں خریدی گئی۔ سوال یہ کہ آخر پارٹی ٹکٹ کا معیار ہے کیا۔ کس اصول کے تحت سینیٹ کے الیکشن کا ٹکٹ دیا جاتا ہے۔ سینٹ ہال میں ہاتھا پائی کے مناظر اس قوم کی بدحالی کا ثبوت ہیں۔

پاکستان میں ووٹ کا تقدس بری پامال ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے دوہزار اٹھارہ کے الیکشن اس بات کا فیصلہ سنائے گے کہ آخر اس قوم کی تقدیر ہمارے سیاست دانوں کو ہی لکھنی ہے یا اب عوام اپنا حق خو د منوائے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: