ربا اور سود میں فرق (دوسری/ آخری قسط) ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد انور عباسی

1
  • 201
    Shares

(۲) معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مفاسدعلمائے کرام نے لُغوی اور اصطلاحی تعریفوں کے علاوہ معاشی، معاشری اور اخلاقی مفاسد بھی گنوائے ہیں، جو ان کے خیال میں ’ربا‘ میں تو پائے جاتے ہیں لیکن بینک انٹرسٹ میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہاں ہم ان دلائل کا جائزہ لیں گے جن کے سہارے بینک انٹرسٹ کو ربا قرار دے کر حرام کیا گیا ہے۔

(الف) معاشی دلائل: ٭سود (ربا) چیزوں کی لاگت میں شامل ہو کر مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ ٭دولت کا رخ غریبوں کی طرف سے امیروں کی طرف ہوتا ہے۔  ٭امیروں کی طرف دولت کے بہاو کی وجہ سے دولت کا ارتکاز ہوتا ہے۔

(الف۔۱) مہنگائی کا مسئلہ:دولت کی پیدائش میں بنیادی طور میں چار عوامل (Factors of Production)، زمین، محنت، سرمایہ اور تنظیم شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب عوامل تقسیمِ دولت میں اپنے معاوضے کی صورت میںحاصل کرتے ہیں۔ زمین کرائے کے نام سے، محنت اُجرت کے نام سے، سرمایہ سود اور تنظیم منافع کے نام سے اپنا اپنا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک میز کی لاگت میں عاملینِ پیدائش پر مصارف اس طرح آئے: (زمین)  کرایہ: ۲۰ روپے  (محنت) اُجرت: ۲۵   روپے (سرمایہ)  سود: ۲۰ روپے (تنظیم)  منافع: ۳۵ روپے کل لاگت: ۱۰۰ روپے

اس مثال میں کسی بھی عامل کا معاوضہ اگر بڑھ جائے تو لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ محض سود ہی کی خاصیت نہیں۔ کرایہ بھی پہلے سے متعین ہوتا ہے اور اُجرت بھی۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ چونکہ سود پہلے سے متعین ہوتا ہے وہ تو لاگت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے لیکن اُجرت اور کرایہ  اضافے کا سبب نہیں بن سکتے۔ بلکہ منافع پہلے سے متعین نہیں ہوتا وہ بھی اگر بڑھ جائے تو مہنگائی کا سبب جائے گا۔ یہ محض پروپیگنڈہ ہے اور بس۔

علمی تحقیق اور عقل کی میزان اس دلیل کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ اگر سود محض اس وجہ سے ربا بن کر حرام ہو جاتا ہے کہ وہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کرایہ، اُجرت اور منافع بھی ربا نہ بن جائے۔

(الف۔۲) دولت کا بہائو امراء کی طرف: ابتدا میں ہی اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ علمائے کرام نے جتنے بھی مفاسد گنوائے ہیں وہ کم و بیش الحقیقت ’الربوٰ‘ میں پائے جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کا اطلاق بینک کے سود پر بھی ہو سکتا ہے یا نہیں۔

علمائے کرام بالعموم ’ربا‘ کی دو قسمیں قرار دیتے ہیں۔ ایک اہلِ حاجت کے قرضوں پر منافع یا بڑھوتری لینا دوسرا بینک کے قرضوں پر اضافہ ۔ اس کی عمدہ تشریح مولانا مودودیؒ نے ان الفاظ میں کی ہے: ’’دنیا میں سب سے بڑھ کر سود خواری اس کاروبار میں ہوتی ہے جو مہاجنی کاروبار (Money Lending Business) کہلاتا ہے۔ یہ بلا صرف بر عظیم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایک عالم گیر بلا ہے جس سے دنیا کا کوئی ملک بچا ہوا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ دنیا میں کہیں بھی یہ انتظام نہیں ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو ان کی ہنگامی ضروریات کے لیے آسانی سے قرض مل جائے۔۔۔۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک قلیل المعاش آدمی اپنی کسی فوری ضرورت کے لیے بینک تک پہنچ سکے اور اس سے قرض حاصل کر سکے۔ ان وجوہ سے مزدور، کسان، کم تنخواہوں والے ملازم اور غریب لوگ ہر ملک میں مجبور ہوتے ہیں کہ اپنی بُرے وقت پر ان مہاجنوں سے قرض لین جو اپنی بستیوں کے قریب ہی ان کو گدھ کی طرح شکار کی تلاش میں منڈلاتے ہوئے مل جاتے ہیں۔

یہ وہ بلائے عظیم ہے جس میں ہر ملک کے غریب اور متوسط الحال طبقوں کی بڑی اکثریت بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے قلیل المعاش کارکنوں کی آمدنی کا بڑا حصہ مہاجن لے جاتا ہے۔ شب و روز کی ان تھک محنت کے بعدجو تھوڑی سی تنخواہیں یا مزدوریاں ان کو ملتی ہیں ان میں سے سود ادا کرنے کے بعد ان کے پاس اتنا بھی نہیں بچتا کہ وہ دو وقت کی روٹی چلا سکیں۔۔۔۔۔ اس لحاظ سے سودی کاروبار کی یہ قسم ایک ظلم ہی نہیں ہے بلکہ اجتماعی معیشت کا بھی بھاری نقصان ہے۔‘‘ (سود؛ ص ۔۱۰۷ تا ۱۱۰)

ان افکار کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرضوں کی دو قسمیں ہیں۔ ذیل میں دو خاکے سامنے رکھ کر علمائے کرام کے بیان کردہ مفاسد کا اطلاق کر کے دیکھیں گے کہ وہ کس خاکے میں فٹ بیٹھتے ہیں:

خاکہ نمبر ۱

اس خاکے میں فاضل آمدنی والے افراد اہلِ حاجت یعنی غریب طبقے کو (مثلاً) ۱۰  فیصد شرح بڑھوتری پر قرض دیتے ہیں۔ یہ پسا ہوا طبقہ مجبوراً اپنی غمی خوشی کے موقع پر یا علاج معالجے کے لیے یا روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فاضل آمدنی والے افراد سے قرض کا طلب گار ہو تا ہے ۔ یہ پسا ہوا طبقہ بقول مولانا مودودیؒ ہر سال سود ادا کرنے کے بعد اس قابل نہیں ہوتا کہ دو وقت کی روٹی بھی چلا سکے۔ اس خاکے سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہر سال یہ غریب لوگ اپنے پلے سے زیر بار ہوتے رہتے ہیں اور امیر لوگ اپنی جیبیں بھرتے رہتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اس صورتِ حال میں دولت کا بہائو غریب سے امیر کی طرف جاری رہتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب پہلے سے زیادہ غریب ہو جائے اور امیر پہلے سے زیادہ امیر۔ جب یہ صورتِ حال ہوتی ہے تو دولت کا ارتکاز امیر طبقے کے ہاں ہوتا رہتا ہے۔

خاکہ نمبر ۲

خاکہ (ب) کا تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فاضل آمدنی والے افراد اپنی بچتیں بینک میں (مثلاً) ۵  فیصد شرح سود کے حساب سے جمع کرواتے ہیں۔ بینک آگے طبقہ امراء کو (مثلاً) ۱۵  فیصد شرح سود پر قرض دیتے ہیں۔ بینک کسی غریب فرد کو قرض نہیں دیتے۔ یہ طبقہِ امراء بالعموم اس قرض کو تجارتی غرض کے لیے استعمال کرتا ہے۔ فرض کریں ان کو کاروبار میں ۳۰  فیصد منافع ہوا۔ یہ بینک کو ۱۵ فیصد ادا کرکے باقی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ بینک اسی طرح اپنے کھاتے داروں کو ۵ فیصد دے کر ۱۰ فیصد اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔

اس خاکے میں نہ تو دولت کا بہائو غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے (کیونکہ کہ اس پورے کھیل میں غریب کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا) اور نہ دولت کا ارتکاز ہوتا ہے۔ اس خاکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر طبقے میں دولت کا پھیلائو ہوا۔ اگر لوگ بینک میں اپنی بچتیں جمع نہ کرواتے یا بینک آگے قرض نہ دیتے تو دولت ایک ہی جگہ سکڑی سی رہتی ۔ کسی کو بھی کچھ فائدہ نہ ہوتا۔ ضمنی طور پر غریب کو اس لحاظ سے فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اس طرح کاروبار وسیع پھیلائو کے نتیجے میں روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔

(ب) اخلاقی اور معاشرتی مفاسد:(۱) ظلم: خاکہ ( الف ) اور (ب) کو ایک غیرجانبدارانہ نگاہ سے دیکھیں تو خاکہ (الف) میں ظلم صاف دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ مولانا مودودیؒ تو صریحاً اس کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’کاروبار کی یہ قسم صرف ظلم ہی نہیں ہے بلکہ اسی میں اجتماعی معیشت کا بھی بڑا بھاری نقصان ہو۔‘‘ خاکہ (ب) میں تو سب کا فائدہ ہے، ظلم کہیں بھی نہیں۔

(۲)دوسری خرابی یہ بتائی گئی ہے کہ اس کے نتیجے میں آدمی خود غرض، بخیل، تنگ دل اور سنگدل بن جاتا ہے۔ یہ ساری خرابیاں خاکہ (الف) میں ملیں گی۔ ظاہر ہے کہ فاضل آمدنی والے افراد اگر اپنے سے کم تر حیثیت والے افراد کی حقیقی مشکل میں مدد کو نہیں آتے تو وہ انتہائی خود غرض، بخیل اور تنگ دل ہی ہو سکتے ہیں۔ خاکہ (ب) میں تو فاضل آمدنی والے بینک کے ذریعے اپنے سے کم حیثیت والے افراد کو نہیں، بلکہ طبقہِ امراء کو ہی قرض فراہم کر رہے ہوتے ہیں، جو اس قرض کو اپنے کاروبار کو وسیع کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔ یہاں سود کھانے والے (یعنی بینک کے کھاتے دار) پر بخیل، خود غرض، تنگ دل اور سنگ دل جیسے القابات پکارا جانا انتہائی مشکل ہے۔ لہذا ہم یہ برائی خاکہ (الف) میں تو دیکھتے ہیں، لیکن خاکہ (ب) میں اس کا اطلاق درست نہیں۔

(۳) ایک اور خرابی یہ بتائی جاتی ہے کہ بے محنت اور بے مشقت کمائی کی قدر نہیں ہوتی اور آدمی اسراف و تبذیر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لگتا ہے اس جزیئے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ اوپر کہا گیا تھا کہ ’سود‘ کی کمائی کھانے والا بخیل ہوتا ہے، اور یہا ں کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ انتہائی فضول خرچ ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسراف و تبذیر اور بخیلی جیسی اخلاقی برائیاں سود کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتیں۔ ہم نے کتنے ہی ایسے دولت مند دیکھے ہیں جن کا بینک انٹرسٹ سے کوئی لین دین ہی نہیں لیکن ان میں سے بعض انتہائی کنجوس اور پرلے درجے کے بخیل ہیں اور بعض انتہائی فضول خرچ۔ اس کے برعکس کئی افراد جو سود میں تو ملوث ہیں لیکن انتہائی فیاض پائے گئے ہیں۔ بل گیٹس، کمپیوٹر کی دنیا کا ایک اہم نام، یقیناً جو سود کے لین دین میں شریک ہے لیکن کئی قسم کے خیراتی کاموں میں پیش پیش نظر آتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ مضاربت وغیرہ کی بے محنت و مشقت کمائی بھی کیا انسان کو اسراف و تبذیر اور فضول خرچی میں مبتلا کرتی ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ وہ بھی بغیر محنت و مشقت کے حاصل ہونے والی کمائی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سود کے نام سے حاصل ہونے والی بے محنت آمدنی تو انسان کو اسراف میں مبتلا کردے لیکن مضاربت کی بے محنت کمائی یہ کام نہ کر سکے۔

درج بالا سطور میں علمائے کرام کے ان تمام دلائل کا جائزہ لیا گیا جن کے بل بوتے پر بینک انٹرسٹ کو ’ربا‘ قرار دے کر حرام کیا جاتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ جب تک کوئی مضبوط اور ٹھوس دلائل موجود نہ ہوں اس وقت تک ہمیں کسی چیز کو حرام قرار دینے کی جرائت نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔ جب یہ حرکت ہم سے سرزد ہو جاتی ہے تو پھراسی طرح کی غیر متعلق بحث جنم لیتی ہے جس کا ہم نے شروع میں ذکر کیا تھا۔

علمائے کرام کے دلائل سے قطع نظر جب ہم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں تو اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یقیناً ’ربا‘ حرام ہے اور اسے حرام ہونا ہی چاہیے تھا۔ یہ وہ منافع ہے جو اہلِ حاجت ، غریب و مسکین فرد کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کو قرض کے بوجھ تلے دبا کر ان سے وصول کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے زبان فہمی کا ایک عام اصول ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی متن کا صحیح مفہوم متعین کرنے کے لیے اس کے سیاق و سباق (Context) کو اگر سامنے نہ رکھا جائے تو اس کا الٹا مطلب لیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصولِ تفسیر میں اس کو بہت اہم مقام دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے جس کو علّامہ جاوید احمد غامدی صاحب نے بڑی خوبصورتی سے یوں بیان کیا ہے: ’’اس کے (یعنی قرآن کے) عام و خاص میںامتیاز کیا جائے۔ قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر الفاظ عام ہیں، لیکن سیاق و سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ ان سے مراد عام نہیں۔ قرآن الناس کہتا ہے، لیکن ساری دنیا کا توکیا ذکر بارہا اس سے عرب کے سب لوگ بھی اس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔ یہ قرآن کا عام اسلوب ہے جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح و وضاحت میں متکلم کا منشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ اس معاملے میں قرآن کے عرف اور اس کے سیاق و سباق کی حکومت اس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے۔‘‘ (اصول و مبادی؛ ص۔۲۲)

مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اصولِ تفسیر کا یہ قاعدہ یوں بیان کرتے ہیں: ’’ نقد صحیح کا تیسرا قاعدہ ہمارے سامنے آتا ہے یعنی یہ کسی آیت کی جو تفسیر بیان کی جا رہی ہو اسے دیکھا جائے کہ آیا قرآن کا سیاق و سباق بھی اسے قبول کرتا ہے یہ نہیں۔‘‘ ( تفہیم القرآن، جلد سوم، سورہ الحج، حاشیہ ۱۰۱)۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: ’’یہ بات اصولاً غلط ہے کہ ایک عبارت کے اپنے سیاق و سباق سے اس کے کسی لفظ کا جو مفہوم ظاہر ہوتا ہو اسے نظر انداز کر کے ہم اپنی طرف سے کوئی معنی اس کے اندر داخل کریں۔‘‘ ( سود، ص۔۳۰۹)۔ اس اصول کی مزید تشریح اس طرح کرتے ہیں: ’’لوگ ایک آیت کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے بے تکلف جو معنی چاہتے ہیں اس کے الفاظ سے نکال لیتے ہیں، حالانکہ ہر آیت کے صحیح معنی صرف وہی ہو سکتے ہیں جو سیاق و سباق سے مناسبت رکھتے ہوں۔‘‘ (تفہیم القرآن، جلد سوم، سورہ الانبیاء، حاشیہ، ۹۹)۔

اس اصول سے صاف ظاہر ہے کہ اگر کسی متن کی تشریح کرتے ہوئے اس کے سیاق و سباق کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ تشریح تحریف کے زمرے میں آئے گی۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر آئیے دیکھیں سورہ البقرہ میں ’ربا‘ یعنی قرض پر اضافہ جو ممنوع کیا جا رہا ہے وہ کس قرض پر اضافہ ہے۔ آیات نمبر ۲۶۱ سے ۲۸۰ کا خلاصہ یہ ہے: ٭یقینا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے اجر کو ایک دانے کی سات بالیاں اور ہر بالی کے سو دانے کی طرح بڑھاتا ہے۔ ٭یقینا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے خوف اور غم کا نام و نشان نہ ہو گا۔ ٭ لہذا اللہ کی راہ میں صدقات ادا کرو اور لوگوں پر احساسن نہ دھرنا۔ ٭ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اس کے چکر میں نہ آنا۔ ٭ محتاج و غریب کو صدقات دو تو خفیہ دو تو زیادہ بہتر ہے۔ ٭ ایسے لوگو کو بالخصوص جو سفید پوش ہیں اور لپٹ لپٹ کر نہیں مانگتے، ان پر خرچ کرو کہ صدقات ان ہی کا حق ہے۔ ٭ ان کو علانیہ اور خفیہ صدقات دو ٭ (اگر قرض ہی دینے کی نوبت آگئی ہو تو) قرضدار اگر تنگدست ہو تو اسے مہلت دو، اگر معاف کر دو تو زیادہ بہتر ہے۔ ٭ نہ کہ قرض پر منافع یعنی ’ربا‘ لو کہ یہ تو اللہ نے حرام کر دیا ہے۔کن لوگوں کو قرض دے کر ان سے اضافہ لینے کو منع کیا گیا ہے؟کیا ان آیاتِ کریمہ میں طبقہِ امراء کی بات کی گئی ہے؟ ہرگز نہیں۔قرآن مجید کی ان آیات مبارکہ نے کسی قسم کا کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیا کہ کس نوعیت کے قرض پر اضافہ ممنوع و حرام ہے۔ متن کے سیاق و سباق نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ غربا و مساکین کو اول تو صدقات سے مدد کرو، اور اگر کسی وجہ سے قرض ہی دینے سے مدد کر سکتے ہو تو کرو لیکن اس قرض پر اضافہ نہ لو ۔ ’ربا‘ یعنی محض کسی بھی قرض پر اضافہ م حرام نہیں، بلکہ ’الف لام‘ لگا کر ’الربوٰ‘  معرفہ بنا کر ان قرضوں پر اضافے کے لیے خاص کر دیا ہے جو محتاج و غریب افراد  ہوں اور ہماری توجہ و مدد کے مستحق ہوں۔

خلاصہِ کلام: O بینک انٹرسٹ کو ذہن میں رکھ کر ’ربا‘ کی تمام تعریفیں نہ صرف متضاد ہیں بلکہ بسا اوقات ایک ہی مفکر کی تعریفیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ O لُغوی لحاظ سے ’الربوٰ‘ کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر درست نہیں۔ O علمائے کرام کے بیان کردہ مفاسد کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر نہیں ہوتا، بلکہ اہلِ حاجت یعنی غریب افرادکو قرض دے کر فائدہ اٹھانے پر ہوتا ہے۔  O سیاق و سباق کا لحاظ رکھا جائے تو قرآن مجید میں ’الربوٰ‘ کا اطلاق اس بڑھوتری پر ہوتا ہے جو اہلِ حاجت کو قرض دے کر حاصل کیاجائے۔

بعض لوگ کرنسی، سونا چاندی، گندم، جو اور کھجور وغیرہ کو خلط مبحث کر کے بیچ میں لے آتے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو اس پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ ہم نے لوگوں کے تبصروں سے صرفِ نظر کر کے اپنا نقطہِ نظر پیش کر دیا ہے۔ اہلِ علم سے درخواست ہے کہ ان دلائل پر نقد کیا جائے۔

ختم شد ۔۔۔۔  پہلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کریں


کتاب کے حصول کے لئے اس لنک پہ رابطہ کیا جاسکتا ہے

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. میں ان کی کتاب خریدنے والا تھا۔ اچھا ہوا نہیں لی۔ زور اس بات پر لگایا گیا ہے کہ کسی بہت ہی غریب ادمی کو اگر قرض دے کے اس سے بڑھوتی کا مطالبہ کیا جائے تو وہ ناجائز ہے۔ اگر امیر سے لے لیا جائے تو کوئ مضائقہ نہیں۔ بنک جو پرسنل لون دیتے ہیں ان کو امیر ادمی کو دینے کا نام دیا گیا ہے ۔ جس کو کہیں سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ بنک کریڈیٹ کارڈ پر کمپاوئنڈ انٹرسٹ لیتا ہے۔ اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ جو امیر لوگ قرض پر رقم لے کر اس پر سود دیتے ہیں اور اس سود کو اپنی تجارتی اخراجات میں شامل کر کے اشیاء کو دگنا تگنا بیچتے ہیں۔ اس پر بھی بات نہیں کی گئ۔ ملینز کے قرضوں کو مکان کے کرایہ سے میچ کیا گیا ہے جو چیز کے استعمال پر اس کا کرایہ ہے۔ اللہ رحم فرمائے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: