حُقیا شرفُو ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر حیات ٹوانہ

0
  • 21
    Shares

وہی راہیں، وہی موڑ، وہی کھیت اور فصلیں ہیں لیکن اب کیفیات بہت بدل چکی ہیں۔ پردیس کی خاک چھانتے احساس ہوا کہ اپنا دیس بہت خوبصورت تھا۔ یہ نگاہ جو آج اردگرد پھیلے حسن کو محسوس کررہی ہے، سراہ رہی ہے یہ غریب تھی منظر غریب نہ تھا۔

حُقیا اب مجھے لگتا ہے کہ آسائش انسان کا مسکن نہیں ہوتی۔ یہ مسکن بڑی عجیب شے ہے۔ شاید آسائش سے بہت اوپر کی شے۔ میں بزرگوں سے ہجرت اور ہجرت سے پہلے اور بعد کے احوال سنتا جوان ہوا ہوں۔ ان کے لہجے میں ایک کسک سی محسوس کرتا رہا ہوں۔ ایک چھلکنے سے عاری آنسو ہمیشہ آنکھوں میں تیرتا دیکھتا رہا ہوں۔ وہ خلا میں گھورتی نگاہیں، ماضی کا منظر بیان کرتے کہیں ماضی میں ہی کھو جانا، سانسوں میں خشک پتوں سی سرسراہٹ کا در آنا۔ حُقیا مجھے ماضی سننے یا چشمِ تصور سے دیکھنے کی بجائے ماضی کا اثر دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ وجود جیسے قبر، سینہء یاد پہ نقش زندگی کا ایک حصہ جیسے کتبہ، ہجرت کہ رستا زخم جیسے طاقِ کتبہ کا دیا۔ میں نے تو بہت سوں کو ایسا پایا یا سمجھا کہ جیسے ان کا ماضی، وہ مسکن کا ہیولا، وہ جسے چاہ بھر چھونا خیال کے بس میں نہ ہو، بھگوان سا بنا بیٹھا ہے اور وہ اس کے پجاری، جب تھکے پوجنے لگے۔ حُقیا شرفُو کو بارہ سال بعد اپنا شجرہ نکلوانے واپس جانا پڑا تھا۔ اس نے جیسے وہ مسکن کا ہیولا چھو لیا تھا۔ وہ بھگوان وہ بت توڑ دیا تھا۔ بس اتنا سا کہا کرتا کہ وہاں بارہ سال بعد بھی شرفُو کو دور سے آتا دیکھ پہچاننے والوں کی کمی نہ تھی۔ یہ تسکین یہ آسائش جو مسکن ہی کی عطا تھی نے مسکن کا وہ ہیولہ وہ بُت توڑ دیا۔ شاید وہ رمز پا گیا۔ لوگ کہتے ہیں جب پہلی بار مسکن سے نکلا تھا بڑی زمین اور نعمتوں کا وارث تھا لیکن جب دوبارہ نکلا تو نواب سا نکلا۔ میں نے جہاں تک زندگی ایک دوڑ ہے کا مقولہ اس کو سامنے رکھ سمجھا بہترین عیاش ہونا منزل سا نظر آیا۔ پھر میں اپنے اردگرد نظر دوڑانے لگا۔ پیمانہ وہی رکھا۔ رنگ برنگے عیاش بھرے پڑے ہیں اس دنیا میں۔ یہ شکاری الاصل معاشرتی جانور خریدار ہے!۔

حُقیا میں نے سنا ہے تو بھلے وقتوں کا پڑھا لکھا ہے۔ کتنا کُو پڑھا لکھا ہے؟
حُقہ اپنے خاص قہقہے کے ساتھ ہنسنے لگا۔یہ خاص قہقہے وہ بہت خاص مواقع پہ ہی لگایا کرتا ہے۔

سُنڈی پڑھنا لکھنا کس طرح پیمائش یا وزن کیا جاتا ہے یہ کہیں لکھا نہیں پڑھا۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کے اس کا بیان تول میں ہوتا ہے کہ شمار میں۔
حُقیا کبھی تو عقل کی بات کر۔ہمیشہ بات کی لسی بنا دیتا ہے۔
سُنڈئیے تم سوال دودھ کرو گر دہی درکار ہے۔ گر دہی سوال کرو گے تو لسی ہی ملے گی وہ بھی بنا مکھن کی۔
یہ بات کدھر کو گئی بڈھے؟۔
پُتر یہ طبعی بہاؤ اور اصول کی باتاں ہیں پھر کبھی۔

نیچے حُقے کا دور چل رہا تھا۔ کوا اوپر کہیں بیٹھا کائیں کائیں کرتا کام دکھا اُڑتا بنا۔ حُقہ ساری دانش وری بھول لگا بلنگ بکنے۔ کوے کے رنگ روپ سے شروع ہو نسل و تاریخ تک پُن ڈالی۔

او بس کر حُقیا اسے کونسی سمجھ آنی ہے جو اثر لے گا۔ تو ایویں باؤلا ہوا جارہا ہے۔ آئی تھی بیچارے کو کر گیا۔ کیا ہوا جو تو نشانہ بنا اس کی ٹپکتی گولی کا!! ہاہاہاہا

سُنڈی یہ نسل ہی گندی ہے۔ ہمیشہ یاد رکھنا جس درخت پہ کوے کا بسیرا ہو، جس پنچائیت کا پنچائتی کوا ہو یا جس گروہ کا لیڈر کوا ہو کبھی اس کے سائے، نیائے اور اپنائے کی خواہش مت پالنا ورنہ ایسی ہی ٹپکتی بدبودار گولی مقدر ہوگی۔

واہ او بڈھیا جاگ گیا اندر کا بیوقوف۔ اچھا چل مجھے یہ بتا کہ گالی کیا ہے؟
گالی عقل و غیرت کے صاحبِ بیان و اختیار ہونے پہ دال ہے اور کچھ خاص نہیں۔
اچھی لپائی !!! بڈھے خود کو بیوقوف بنا رہا ہے یا مجھے؟
یار اس میں بیوقوف بنانے والی کیا بات ہوئی؟
اچھا تو تیری طرف ابھی بات ہوئی ہی نہیں، میری طرف تو پانی پلوں سے گزرا چاہتا ہے۔

دیکھ سُنڈی تو جو سمجھے بیٹھا ہے وہ ویسا ہی ہے لیکن وہ ہی مکمل سچ نہیں۔اس جذباتی ابھار و بہاؤ کی تفہیم میں گالی دینا اور بنانا دو بنیادی مراحل ہیں۔ تو جسے گالی سمجھے بیٹھا ہے وہ ایک طرح سے خاص مواقع کے اثرات کے تحت عام بول چال میں زبانی مشغلہ کی ہی ایک طرح سے بگڑی ہوئی صورت ہے۔ تجھے کیا لگتا ہے حضرت انسان نے پہلی گالی کونسی دی ہو گی اور کسے دی ہوگی؟

بابا جی ایک بات کہوں؟
بول پُترا۔۔۔۔
بڑا ای گندا فلسفہ ہے آپ کا۔ سیانے سچ کہتے ہیں جٹ چاہے پورا سونے کا ہو جائے تشریف پیتل کی ہی رہتی ہے۔
سیانے بول گئے تو ہی سیانے کہلائے جا رہے ہیں پُترا۔۔
پھوکی باتیں میرے سامنے نہیں چلنے کی۔ میں بھی گنا چوسنا اور تھوکنا جانتا ہوں!۔

سنڈی تم پہلے اچھی طرح سوال کرنا سیکھ لو۔ خوب سمجھ لو کہ کچھ سوال جو تمہیں سوال لگتے ہیں وہ سوال ہوتے ہی نہیں۔ وہ تمہاری بیوقوفی و کم نظری کا بیان ہوتے ہیں۔ تمہاری خصلت کا اظہار ہوتے ہیں تمہارے معلوماتی عجز یا خواہشِ تفہیم کا نہیں۔

بُڈھے یہ تم مجھے فالتو لفظی زور کے ساتھ تعلیم دینے کی عادت ترک کر دو میں بتا رہا ہوں۔ یہاں ہر بندہ دوسرے کو تعلیم دیتا ہی پایا میں نے۔ خود اس تعلیم پہ کان دھرنے کو تیار نہیں۔جیسے کل مجھے ایک بندہ سے ملنا تھا۔مجھے بس اس کے نام اور کام کی جگہ کا پتہ تھا۔ وہاں پہنچا تو پتہ چلا یہ بہت بڑی فیکٹری تھی۔ چوکیدار سے پوچھا تو جناب بولے بھائی صاحب یہاں سے سیدھے چلتے جائیے اور آخری بلڈنگ میں جا کر ”حاجی صاحب“ کا پوچھ لیں۔ باقی آپ کو ”حاجی“ بتایا ملوا دے گا۔ اب دیکھ اس بندہ کے بیان کو۔ وہ مجھے تو تعلیم دے رہا ہے ”حاجی صاحب“ پوچھنے کی۔ جب خود کہہ رہا ہے تو صرف حاجی کہہ رہا ہے۔

او ہوشیار سنڈی تجھے کیا لگتا ہے میرے پاس مثالوں یا مصالحہ جات کی کمی ہے؟۔ سن پُتری ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دکاندار نے تنگ آ کر اپنی دکان کے سامنے ایک تختی عبارت مع تیر کا نشان آویزاں کردی کہ وہاں اس کے گاہکوں کی بجائے کسی اور کے گاہک راستے پوچھنے زیادہ آنے لگے تھے۔ وہ مزید دو ایک دن بتاتا رہا پھر سوال پہ سوال ”کیا آپ پڑھنا جانتے ہیں کرنے لگا“۔پھر ایک دن ایک کمزور نظر بابا اس کی دکان پہ پہنچ گیا۔ اس دن سوال پہ اس کا سوال تھا بابا جی اندھے ہو کیا؟ یہ کیا ہے؟ باباجی نے کافی غور و فکر کے بعد جواب دیا کہ تختی ہے۔ کہتے ہیں اس دن کے بعد نہ وہاں وہ تختی نظر آئی اور نہ ہی وہ دکاندار۔

بابا جی گالی شریف کہیں درمیان میں ہی لٹک گئی بیچاری۔

تم نے خود لٹکائی ہے۔ میری منزل ڈربہ نہیں کُکڑئیے، تیری منزل ہے۔ میرا مقصد تیرے لیے ڈربے کے دروازے کے علاوہ کوئی راہ نہ چھوڑنا ہے۔ میں تو تیرے دائیں بائیں اور پیچھے ہوں۔

بابا مجھے نا اکثر حیرت ہوتی تھی یہ سوچ سوچ کے پہلے جٹ کیسے فقط لسی کے ایک جگ پہ پورا دن کام کروا لیتے تھے لوگوں سے۔ جبکہ تیرے جیسے لُنڈے جٹ کی کوئی سنتا بھی نہیں۔ بابا وہ نا سیانے ہوتے تھے۔ لوگوں کو پلانے والی لسی سے مکھن نکالنے کی بجائے مزید گھر سے تازہ مکھن ڈال لوگوں کو پیش کیا کرتا تھے۔ اور ایک تم ہو۔ جس کی پہلے جورو مکھن نکالتی ہے لوگوں کو پلانے والی لسی سے پھر وہ خود لسی میں مدھانی ڈال بیٹھ جاتا ہے کہ چلو اور کچھ نہیں تو جاتی چاٹی میں اپنی مدھانی ہی تھیندی کر لوں۔

اوئے چل نکل یہاں سے ڈنگرا۔ دوبارہ میری صف پہ نظر مت آنا۔

او کون کمبخت آتا ہے تیری صف پہ لُنڈیا۔ وہ تو تیرے حُقے کا مونہہ مارتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: