قابل مذمت یا قابل تعریف: ابن اسرار

0
  • 6
    Shares

سابق تاحیات نا اہل وزیر اعظم نواز شریف جوتا کلب کے ممبر بن گئے، بلکہ ممبر کے ساتھ ساتھ صدر ہی بن گئے کیوں کہ ماضی میں جن شخصیات کی جانب جوتا اچھالا گیا وہ ان کے قریب سے گزرا۔ گو کہ یہ بھی کم بے عزتی کی بات نہیں تھی اور اس عمل کو ان تمام شخصیات نے بہت واضح محسوس کیا۔ بقول شاعر!

عشق اتنا قریب سے گزار
میں سمجھا ! ہو گیا مجھ کو

حالیہ صدی میں جوتا پھینکنے کے عمل کا آغاز سابق امریکی صدر جارج بش سے ہوا جن پر زبردستی جنگ مسلط کرنے پر ایک مسلمان صحافی نے جوتا اچھالا تھا۔ عوامی خواہشات کی بجائے بزور طاقت فیصلے مسلط کرنے پر صدر جارج بش کے بعد یہ سلسلہ پوری دنیا میں چل نکلا اور دنیا کے کئی ممالک میں سربراہان مملکت اس فہرست میں شامل ہوتے گئے۔
چلتے چلتے یہ سلسلہ مملکت خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان ( جس کے باگ ڈور اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے لہذا میں تو ایلیٹ جمہوریہ پاکستان ہی کہتا ہوں) میں بھی پہنچا۔ جوتا کلب کے پہلے ممبر پاکستان میں 2008 میں وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم بنے، جن پر آغا جاوید پٹھان نامی شخص نے جوتا اچھالا تھا۔

بعد ازیں 2017 میں جب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے لاہور پہنچے تو ریلوے اسٹیشن پر فقیر محمد نامی بزرگ شہری نے شیخ رشید کو جوتا کلب کا ممبر بنادیا۔

رواں برس وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اپنے آبائی حلقے نارووال میں اسٹیج خطاب فرما رہے تھے کہ بلال حارث نامی شخص نے احسن اقبال کو جوتا کلب کا باقاعدہ ممبر بنا دیا۔

11مارچ 2018 کو جس دن نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا اسی دن فیصل آباد جلسے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر بھی جوتا پھینکنے کی کوشش کی گئی مگر کپتان کے ٹائیگرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کپتان کی جوتا کلب میں ممبر شپ نہ ہونے دی۔

پاکستان میں سیاسی شخصیات صرف جوتا کلب کی ہی ممبر نہیں بنی بلکہ چند ایک شخصیات کے حصے میں منہ کالا کرانے کی سعادت بھی آئی ہے۔

24ستمبر 2007 کو ایک شخص نے سپرے کر کے احمد رضا قصور کا منہ کالا کر دیا تھا جبکہ 10 مارچ 2018 کو اپنے ہی حلقے میں وزیر خارجہ پاکستان خواجہ محمد آصف حارث نامی نوجوان کے ہاتھوں اپنا منہ کالا کروا بیٹھے۔

کسی معزز شخص پر جوتا پھینکنا بے شک ایک قابل مزمت فعل ہے مگر سوال ہے یہ کہ کیا قابل مزمت فعل صرف جوتا اچھالنا ہے، جب ایک ہی رات میں پٹرول کی قیمت آسمان کو چھونے لگتی ہے، جب لاہور کے جنرل اور جناح ہسپتال میں خواتین سردی میں ٹھٹھرتی برآمدوں میں بچوں کو جنم دیتے ہیں یہ قابل مزمت افعال نہیں ہیں۔

نواز شریف کو جوتا پڑنے کے بعد مریم نواز شریف نے جلسے میں کہا کہ آج مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے۔ جب نواز شریف کی جی ٹی روڈ سے واپسی کے دوران ایک بچہ پروٹول کی گاڑی کی زد میں آکر جان کی بازی ہار گیا تب کسی کو تکلیف نہیں ہوئی۔

کچھ عرصہ قبل ترکی کی عوام نے فوج کی جانب سے مارشل لاء نافذ کرنے کی چال کو جان پر کھیل کے روک دیا۔ اور ترکی کے عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے، ہمارے حکمرانوں نے بھی ترک جمہوریت ڈے بڑے زور و شور سے منا کر عوام کو ترغیب دینے کی کوشش کی اور زبردستی زہن نشین کروانے کی کوشش کی کہ اگر آئندہ ہمیں نکالا گیا تو عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ جائیں۔

الغرض عوام کو ترک عوام بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر خود کسی لیڈر نے ترک لیڈر بننے کی کوشش نہ کی۔ اور عیش و عشرت کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ جے آئی تی بننے پر پہلے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں بعد ازاں فیصلہ خلاف آنے پر پہلے جے آئی ٹی اور پھر عدالتوں کی تضحیک کی گئی۔ بھرے جلسوں میں ججز اور ان کے اہل خانہ پر زمین تنگ کرنے تک کی دھمکیاں دے کر جمہوریت کے حسن کو گہنایا گیا۔

جوتا پھینکنا ایک قابل مزمت فعل ہے مگر اب اقتدار کے ایوانوں میں براجمان موٹی تنخواہوں اور پروٹوکول لینے والوں کو سوچنا ہوگا کہ عوام ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ اور انہیں خود کو عوام کی عدالت میں کیسے کلیئر کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: